Breaking

دسمبر 1979ء

Views

دسمبر 1979ء کے شمارے کا سرورق


دسمبر 1979ء میں روحانی ڈائجسٹ کا تیرہواں شمارہ شائع ہوا۔ روحانی ڈائجسٹ نے کامیابی کا ایک سال مکمل کیا۔ اس ماہ کے ٹائٹل پر سیاہ رنگ حصّے سے خواب اور بیداری کے حصے کو ہلکے آسمانی رنگ سے ظاہر کیا گیا ہے۔ خواب اور بیداری زندگی کے دُورخ ہیں۔ خواب میں واہمہ، خیال، تصور، احساس کے حصوں کو گہرے رنگوں اور واضح نقوش کے ساتھ جب کہ بیداری کے حصے میں ان کو ہلکے رنگوں اور مدہم نقوش سے واضح کیا گیا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے خواب میں انسانی ذہن پر وارد ہونے والے خیال میں معنویت اور گہرائی ہوتی ہے۔ جب کہ اسی اطلاع کا عکس جب بیداری میں منتقل ہوتا ہے تو اس کی معنویت کم ہوجاتی ہے۔ خواب یا بیداری کی مثال LENSE کی سی ہے۔ لینس کی پاور کم ہو تو زیادہ دور تک نظر آتا ہے اور کم ہو کم فاصلے تک نظر آتا ہے یا لینس دھندلا ہو تو پھر نظر ہی نہیں آتا۔۔۔۔۔



========================================================================
مضامینلکھاریموضوع
نور الٰہی------
نور نبوت------
رباعیات قلندر بابا اولیاء ---
آوازِ دوستمدیرِ اعلٰی---
تاثراتقارئینِ کرام---
امام مہدیادارہ---
لوح و قلم قلندر بابا اولیاء---
روشنی کا پیکرسہیل احمدشاہ عبدالعزیز دباغؒ
دماغ میں سوراخثوبان فاروقی---
---------
آپ بیتی غلام رسول قادری---
بخار کیوں ہوتا ہے؟ ڈاکٹر داؤد صالح---
حضرت اُم عمارہؓفرزانہ نگہت---
ہاتھی اور خرگوشدیپک---
درندہ تفسیر فاروقی---
خواب کی تعبیر حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی---
سید عبدالباری شاہ ؒسید اکبر علی کاظمی---
پراسرار ہیولا (12)صادق الاسرار---
محفلِ مراقبہاحمد جمال عظیمی---
سُمیّہ------
آپ کے مسائل خواجہ شمس الدین عظیمی---
ٹیلی پیتھی سیکھیےادارہ---
متفرقات------
---------
---------
---------
---------
---------
---------
========================================================================

اس شمارے سے اقتباس پیش خدمت ہے۔
========================================================================

رباعیات

ہر چیز خیالات کی ہے پیمائش
ہیں نام کی دنیا میں غم و آسائش
تبدیل ہوئی جو خاک گُورستاں میں
سب کوچہ و بازار کی تھی زیبائش

--

ساقی کا کرم ہے میں کہاں کا مئے نوش
مجھ ایسے ہزارہا کھڑے ہیں خاموش
مئے خوار عظیم برخیا حاضر ہے
افلاک سے آرہی ہے آوازِ سروش

--

یہ جانتی ہے کیوں ہیں فرشتے روپوش
یہ جانتی ہے کیا فرشتوں کا ہوش
یہ جانتی ہے ضرور قدرت کے راز
سوسن ہے زباں دَراز پھر ہے خاموش

--

بے بادہ رہوں اور میں واللہ غلط
ساقی کے سوا اور کی ہو چاہ غلط
ہے میکدہ محراب و پرستش میری
میں میکدہ چھوڑ دوں یہ افواہ غلط

--
========================================================================

آوازِ دوست

اس مادی ترقی یافتہ، پرآشوب، احساسِ عدم تحفظ کے عفریت، بے اطمینانی، ڈر اور خوف کے شجر اور روحانی اقدار سے دُور زمانے میں بھی ایسے پاکیزہ نفس حضرات موجود ہیں جن کے قلوب میں اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے مشن کی شمع روشن ہے۔
رحمتیں ہوں ان پروانوں پر جنہوں نے رحمتاللعالمین صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے روحانی ڈائجسٹ کو ایک گھر سے دوسرے گھر تک پہنچایا۔۔۔۔۔ مساجد میں خانقاہوں میں۔۔۔۔۔ مجلسوں اور لائبریریوں میں اپنے اور اپنے احباب کے ڈرائنگ رومز میں اس رسالہ کی نورانی اور روحانی تحریروں کی ضوفشانی سے لوگوں کے دل منور کئے۔۔۔۔۔ یہ آپ کی پرخلوص کوشش، ایثار اور دل میں اﷲ کے دین کی تڑپ کا نتیجہ ہے کہ ایک سال کی مختصر مدت میں آپ کا روحانی ڈائجسٹ دنیا کے ہر خطے میں نبی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کے جانشین اہلِ اﷲ کے ’’پیغامِ سعید‘‘ کو عام کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔۔۔۔۔ مشائخ اور ان علماء حضرات کے ہم سب اراکین ادارہ اور قارئین شکر گزار ہیں، جو اس کی اشاعت میں کمر بستہ ہیں، جو ممبر رسول صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم پر اس کا تذکرہ کرتے ہیں اور مجالس حسنہ میں اس کی تحریریں پڑھ کر یہ بتاتے ہیں کہ انسان کا مقصدِحیات اپنی روح سے واقفیت حاصل کرنا ہے۔
ہم اپنے قارئین کے گرانقدر مشوروں سے ایسے دلچسپ اور فکرانگیز اضافے کرنا چاہتے ہیں جن سے سسکتی ہوئی انسانیت پر یہ بات منکشف ہوجائے کہ قرآن سائنسی فارمولوں کی ایک دستاویز ہے۔ اس کی مقدس آیات میں تفکر کیا جائے تو ہم خلائی تسخیر میں ایک ایسا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے جہاں سائنس داں کھربوں ڈالر خرچ کر کے بھی نہیں پہنچ سکے ہیں۔ 
قرآن پاک کے ارشاد کے مطابق ’’تسخیر کائنات‘‘ ہمارا ورثہ ہے۔ جس پر قدغن لگا کر دبیز پردے ڈال دیئے گئے ہیں۔ ہماری برابر کوشش ہے کہ ہم اذہان تیار کر کے بتدریج وہ بات منظر عام پر لے آئیں جو ’’فی الارض خلیفہ‘‘ کی حیثیت سے ہمیں چار دانگ عالم میں نمایاں اور ممتاز کردے اور اﷲتعالیٰ کے قانون کے مطابق زمین و آسمان پر ہماری حکمرانی قائم ہوجائے۔۔۔۔۔ آپ سے درخواست ہے کہ بدستور سابق، نور سے مرکب ان تحریروں کو زیادہ سے زیادہ متعارف کراتے رہیں۔۔۔۔۔ رسالے پڑھے لکھے لوگوں کی خدمت میں پیش کریں۔۔۔۔۔ کم تعلیم یافتہ بہنوں، بھائیوں اور بزرگوں کو خود پڑھ کر سنائیں۔۔۔۔۔ مسائل و مشکلات میں اﷲ کی مخلوق کی خدمت کریں۔۔۔۔۔ پریشانیوں، مصیبتوں، الجھنوں اور لاعلاج بیماریوں کے سدباب کے لئے جہاں میری ضرورت ہو مجھے مطلع کریں۔۔۔۔۔ انشاء اﷲ ہم سب سرخرو ہوں گے، ہمارے اوپر اﷲ کے کریم اور رحیم نبیصلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کا سایہ ہے۔


========================================================================

خواب کی تعبیر

یاحـی یا قـیوم کا کـرشمہ۔ 

آنـسہ، لـطیف آبـاد

آپ کے کہنے کے مطابق میں یاحی یا قیوم کا ورد کرتی رہتی ہوں۔ خدا کا شکر ہے کہ پہلے جیسی بے چینی نہیں ہے۔ دل مطمئن رہتا ہے۔ نہ مجھے اب کوئی TRINQUALIZER لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ کا بتایا ہوا عمل بھی پڑھ رہی ہوں۔ خدا کی ذات پر بھروسہ ہے کہ انشاء اﷲ میری پریشانی دور ہوجائے گی۔ آپ کی دعاؤں کی طلب گار ہوں۔
عظیمی صاحب!۔۔۔۔۔ میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ ہوا یوں کہ تقریباً 12 بجے مریض دیکھ کر میں سوگئی۔ دیکھا کہ کچھ سی رہی ہوں کہ کسی نے مجھ سے کہا کہ اُٹھو وضو کرو۔ رسولِ خدا ( صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم) نظر آئیں گے۔ ایک دم میری آنکھ کھل گئی۔ گھڑی دیکھی تو تین بج کر بیس منٹ ہوئے تھے۔ کمرے کی لائٹ بھی چلی گئی تھی۔ میں نے اُٹھ کر وضو کیا اور درود شریف پڑھتے پڑھتے پھر آنکھ لگ گئی۔ خواب میں دیکھا کہ آسمان پر بادل چھائے ہوئے ہیں اور ایک حصے پر بادل نہیں ہیں اور وہاں پر المقتدر اور شاید الاحد یا پھر محمد کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں اور یہ الفاظ بڑے بڑے حروف میں لکھے ہوئے ہیں۔ یوں لگ رہا ہے گویا چاند کو کاٹ کر لکھے گئے ہیں اور چاند کی طرح روشن ہیں۔ اور ان کے چاروں طرف بادل ہیں۔ ساتھ میں بارش بھی ہورہی ہے۔ پھر مجھے جیسے اُٹھا کر کسی نے سجدے میں ڈال دیا اور میری پشت پر کچھ وزن محسوس ہوا۔ دل میں خیال آیا کہ ہمارے رسولِ خدا صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کا قدمِ مبارک ہے اور پھر میں سیدھی ہو کر جیسے داہنی کروٹ لیٹی ہوں لیکن مجھے یوں محسوس ہورہا ہے کہ میں بہت ہلکی ہوگئی ہوں اور میرے جسم میں سے لہریں نکل رہی ہیں۔ یہ بھی دیکھا کہ ہماری ایک سسٹر شیطان کا نام لے رہی ہے تو میں اسے منع کررہی ہوں کہ اس کا نام نہ لو اور میں خواب میں ہی لاحول پڑھتی ہوں۔ پھر یہ دیکھا کہ کوئی ڈرامہ اسٹیج کیا گیا ہے لڑکیاں مختلف لباس پہن پہن کر آرہی ہیں۔ اتنے میں شور ہوتا ہے کہ بھینس آگئی۔ میں امی سے کہتی ہوں کہ بھینس آگئی۔ چھوٹی بھانجی کو اُٹھالیں۔ اس بھینس کا رُخ ہمارے کمرے کی طرف ہوتا ہے لیکن اندر نہیں آتی۔ باہر چلی جاتی ہے۔ 

تعبیر:

وظیفہ پڑھتی رہیں۔ انشاء اﷲ بیماریوں اور پریشانیوں سے نجات مل جائے گی۔ بھینس کا کمرہ کی طرف رُخ نہ کرنا اور دوسری طرف چلے جانے میں یہ راز پوشیدہ ہے کہ بیماری بھاگ گئی ہے اور یہ سب اس وظیفہ کی برکت سے عمل میں آیا ہے۔ آپ کی پشت پر سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مقدس و مطہر پیر کا دبائو وظیفہ کی قبولیت کی علامت ہے۔

پـیر و مــرشد کا کـرم۔

 عـبدالـرشـید انـجم قلندری، لانڈھی۔ کـراچی

 میں اکثر خواب میں ایک انجانی شکل کی کم عمر لڑکی کو دیکھتا ہوں، جو مجھے نئے مقامات پر لے جاتی ہے اور سیر و تفریح کراتی ہے۔ کبھی کھانا اور دوسری کھانے کی اشیاء دیتی ہے۔ کسی خواب میں تو جنسی تعلقات سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ صبح  اُٹھتا ہوں تو طبیعت بہت بھلی معلوم ہوتی ہے۔ اپنے آپ کو بہت اچھا محسوس کرتا ہوں۔ یہ کیفیت کافی دیر قائم رہتی ہے۔ اس خواب سے کوئی پریشانی یا حیرت نہیں ہوتی۔ اﷲ کے فضل سے میرے پیر و مرشد کا کرم ہے مجھ پر اور انشاء اﷲ رہے گا۔ 
روحانیت سے دلچسپی کی بناء پر یہ خواب جو اکثر نظر آتا رہتا ہے لکھ رہا ہوں کہ دیکھوں آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟۔۔۔۔۔

تعبیر:

 یہ خواب محض ان خیالات کی فلم ہے جو دماغ میں گشت کرتے رہتے ہیں۔ خیالات کی پاکیزگی کی طرف بطورِ خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مــحفلِ سـماع۔ 

مـحمد اکـرم قـریشی، مـیرپورخـاص

مجھے محفلِ سماع کا شوق ہے اور بعض اوقات کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ خاص کر آنسوئوں کا سیلاب ہوتا ہے جو رُکنے کا نام نہیں لیتا۔ گزشتہ جمعہ یعنی 31 اگست کو ٹیِوی پر غلام فرید صابری قوّال پیش ہوئے۔ حضورﷺ کی شان میں اُنہوں نے سماع شروع کیا۔ جوں جوں کلام سنتا رہا، روتا رہا۔ محفلِ سماع کے اختتام پر کافی دیر تک ہچکیاں لے کر روتا رہا۔ اس کے بعد دل نے چاہا کہ کشف المحجوب کا مطالعہ کروں جو میرا روزانہ کامعمول ہے۔ پڑھتے پڑھتے غنودگی سی طاری ہوگئی اور میںنے کشف المحجوب سینہ پر رکھ دی، اسی دوران خواب دیکھا۔۔۔۔۔
ایک مزار ہے جس کے ساتھ ایک مسجد ہے اور اس مسجد سے ایک راستہ بھی نکل رہا ہے۔ میں اس راستہ پر کھڑا ہوں اور میرے ہاتھ میں کچھ کاغذات ہیں۔ اسی دوران چند لڑکے اور ایک بوڑھی عورت سامنے آکر کھڑے ہوجاتے ہیں اور نعت و سلام پڑھتے ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ یہ راستہ ہے۔ ازراہِ کرم اندر جاکر اطمینان سے اور اچھے طریقہ سے سلام پیش کریں وہ میری درخواست قبول کرلیتے ہیں اور اندر جاکر میرے کہنے کے مطابق سلام پیش کرنے لگتے ہیں۔
اس کے بعد ایک گوشہ نظر آتا ہے۔ نہایت تیز روشنی ہے اور خوبصورت گوشہ ہے۔ نہایت ہی خوبصورت رنگ و روغن کیا ہوا ہے۔ ایک بزرگ کے سامنے دوزانو بیٹھا ہوں۔ لیکن بزرگ کی شبیہہ مبارک یاد نہیں ہے۔ کاغذات میرے پاس ہیں۔ میرے ساتھ ایک اور صاحب ہیں۔۔۔۔۔ ہمارے سامنے روٹیاں رکھی ہیں، بڑے قطر کی تندوری روٹیاں اور بہت اچھی طرح سے سینکی ہوئی ہیں۔ میںان بڑے قطر والی روٹیوں میںسے ٹکڑے جمع کرکے اپنے پاس رکھتا ہوں۔ بزرگ صاحب بہت خوشی سے فرماتے ہیں۔۔۔۔۔ بیٹا یہ روٹی کھالو۔۔۔۔۔ میںنے تم سے نہیں کہا تھا کہ اس کے پاس جائو۔ بہت اچھا کیا جو چلے گئے۔۔۔۔۔ میں روٹی کا نوالہ توڑ کر منہ میں رکھ لیتا ہوں۔ لیکن وہ ذرا سخت ہے۔ میںاسے کھا جاتا ہوں۔ پھر یکایک ایک اور صاحب جو میرے دوستوں میں سے ہیں اور سلوک کی راہ پر گامزن ہیں پلیٹ میں سالن نما کوئی چیز لاتے ہیں۔ میں بزرگ سے کہتا ہوں حضور! اس میں سے کچھ مجھے بھی عنایت کردیں۔ بزرگ نہایت خوشی سے ان صاحب سے کہتے ہیں ہاں بھئی اس کو بھی دے دو۔ ان کا بھی تو اس میں حصّہ ہے۔۔۔۔۔ اس کے بعد اچانک آنکھ کھل جاتی ہے اور میرے سینے پر کشف المحجوب پڑی ہوتی ہے۔ شدت کی پیاس محسوس کرتا ہوں۔ اُٹھ کر جاتا ہوں اور مٹکے سے پانی پیتا ہوں۔ پھر بھوک کی طلب ہوجاتی ہے۔ باورچی خانہ جاکر دیکھتا ہوں تو آدھی روٹی پڑی ہوتی ہے۔ وہ کھالیتا ہوں اور پانی پی کر سوجاتا ہوں۔ وقت رات کے تقریباً ڈیڑھ بجے کا ہوتا ہے۔

تعبیر:

 آپ کی روح عالمِ بالا کی سیر کرنا چاہتی ہے کیونکہ اس میں قوتِ پرواز بہت زیادہ ہے۔ کسی مردِ حق آشنا سے رجوع کریں اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرلیں۔

مقبولِ بارگاہ بچہ۔

سائرہ

میں نے خواب میں رسول پاکﷺ کو یوں دیکھا کہ آپﷺ کھڑے ہوئے ہیں۔ آپﷺ سے کچھ فاصلہ پر حضرت عائشہ صدیقہؓ اور سیّدہ فاطمہؓ بیٹھی ہوئی ہیں۔ پھر حضرت عائشہؓ آپﷺ کے پاس آتی ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک تھیلی ہے جس میں کچے چاول ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا عائشہ اسے چاول پکاکر اپنے ہاتھ سے کھلادو۔ یہ سن کر میں حضرت عائشہؓ کے ہاتھ سے تھیلی لے لیتی ہوں اور ان کے قدموں میں گرکر کہتی ہوں کہ میں خود پکالوں گی۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔
دیکھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک حوض کے کنارے کھڑے ہیں۔ دوسرے کنارے پر میں کھڑی ہوں۔ آپﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ میں تم سے خوش ہوں۔ پھر میری آنکھ کھل گئی۔
میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اﷲ تمہیں ایسا لڑکا دے گا جو دین دار اور فرمانبردار ہوگا۔ بڑے لڑکوں کے لئے صبر کرو۔ یہ تمہارے نہیں ہوں گے۔ اس کے بعد میں جاگ گئی۔
خواب میں دیکھا کہ آسمان پر تیز بجلی چمکی اور بل کھاتی ہوئی میرے پیٹ کے اندر  داخل ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی ہوا میں معلق ایک تصویر سامنے آئی جو ایک کمزور سے بچے کی تھی۔ میں اسے دیکھنے لگی تو آواز آئی اس بچے کا نام دنیا میں اور آسمان پر روشن ہوگا۔ ذہن نے محسوس کیا یہ لڑکا میرا ہے۔ ساتھ ہی خیال پیدا ہوا کہ یہ لڑکا اتنا کمزور ہے، یہ بھلا کیا کرے گاـ۔ پھر آواز آئی خدا  ایسا ہی کرے گا۔
میں آسمان کی سیر کرتے کرتے ایک مقام پر پہنچ گئی ہوں۔ وہاں میں فرشتے سے سوال کرتی ہوں کہ یہ کون سی جگہ ہے، کیا یہاں فرشتے رہتے ہیں؟۔۔۔۔۔ پھر مجھے بہت سے فرشتوں کو دکھایا گیا اور کہا گیا یہ اعراف ہے۔

تعبیر:

 آپ نے جو کچھ خواب میں دیکھا وہ بجائے خود تعبیر ہے۔ آپ کے اندر طبیعت کی پاکیزگی، دین سے لگائو، قرآن پاک میں تفکر کرنے کی عادت بدرجۂ اتم موجود ہے۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ اﷲتعالیٰ نے آپ کو مستجاب الدّعوات بنایا ہے۔ جب آپ کسی کے لئے یقین اور خلوصِ دل سے دعا کرتی ہیں تو اﷲتعالیٰ اُسے قبول کرلیتے ہیں۔ انشاء اﷲ آپ کے خاندان میں اﷲتعالیٰ کوئی ایسا بندہ پیدا فرمائیں گے جس کو آپ کی نیک طبیعت کا ورثہ ملے گا اور وہ بچہ مقبولِ بارگاہ ہوگا۔ آپ کے لئے اس فقیر کا مشورہ یہ ہے کہ آپ کسی صاحبِ روحانیت کے زیرِ نگرانی تصّوف کی راہوں میں آگے بڑھنے کا پروگرام بنائیں۔ انشاء اﷲ کامیابی آپ کا مقدر ہے۔ 



========================================================================

لوح و قلم


گذشتہ سے پیوستہ

مثلاً:
سونا =نسمہ نمبر ۳ + ۳۵ + ۳۱ + ۵۰ + ۵۱
گیرو = نسمہ نمبر ۵ +۳۱+۳۵+۴۹
سیب =نسمہ نمبر ۳ +۲+۵+۳۲+۳۶+۴۵+۲۰+۲۱+۲۹
گلاب کا پھول =نسمہ نمبر۵ +۳۶+۳۱+۴۳+۲۹+۲۴
تمباکو =نسمہ نمبر۳+۳۶+۴۳+۳۴+۳۵+۳۰+۳۱+۲۸+۲۲
پانی =نسمہ نمبر ۲+۳۶+۵۳+۴۹+۵۲+۲۳+۲۷+۱۹+۵۵+۴۰+۳۹+۳۸+۵۸+۶۱+۶۰+۴۸
پارہ =نسمہ نمبر۱+۵۰+۵۴+۳۶+۵۳+۴۲+۳۹+۲۴+۲۹+۵۲+۵۸+۴۸
شیشہ =نسمہ نمبر۱+۵۰+۳۵+۳۱+۵۵+۴۹+۴۸+۵۹+۶۱+۳۹+۵۲+۵۳+۴۲+۵۴
لکڑی =نسمہ نمبر۳+۳۶+۴۲+۵۳+۶۲+۴۸+۲۷
لوہا(فولاد) =نسمہ نمبر۱+۳۵+۴۲+۳۰+۴۸+۲۴+۵۹+۶۲
ٹماٹر =نسمہ نمبر۵+۳۶+۵۰+۴۵+۳۲+۶۲+۳۱+۴۲+۳۴+۲۱+۲۹
آلو =نسمہ نمبر۲+۴۶+۳۶+۲۵+۲۹+۴۲+۳۲+۳۵+۵۴
مندرجہ بالا نقشہ کی رُو سے ہم نسمہ کی اجتماعیت اور اجتماعیت کے مدارج کا قدرے اندازہ لگا سکتے ہیں۔
واضح ہو کہ جس چیز کا نام حس رکھا جاتا ہے اس کے دو اجزاء ہوتے ہیں۔ ان دو اجزاء کو ہم دو رخ بھی کہہ سکتے ہیں۔ کسی ایسے جسم میں جس کو مادی کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں رخ ایک دوسرے سے ملحق ہوتے ہیں۔ عام نظریات میں کوئی چیز ان ہی دو رخوں کا مجموعہ سمجھی جاتی ہے۔ لوح محفوظ کا یہی قانون ہے۔ کوئی چیز مجرو ہو یا مادی، غیر مرئی ہو یا مرئی بہرحال اس قانون کی پابند ہے۔ یہ دونوں رخ کسی بھی چیز میں ضرور پائے جاتے ہیں۔ مرئی اشیاء میں تو یہ چیز مشاہدہ میں ہوتی ہے لیکن غیر مرئی اشیاء میں اگرچہ جسمانی آنکھ اس حالت کا مشاہدہ نہیں کرتی پھر بھی حقیقت اس کے سوا نہیں ہے۔ چنانچہ غیر مرئی چیزوں میں بھی جب کسی طرح مشاہدہ کیا جاتا ہے تو یہی قانون وہاں بھی جاری و ساری نظر آتا ہے۔ مرئی چیزوں میں جس طرح یہ دونوں رخ ایک دوسرے سے ملحق ہوتے ہیں اس ہی طرح
غیر مرئی چیزوں میں بھی یہ دونوں رخ ایک دوسرے سے وابستہ پائے جاتے ہیں۔ خواہ وابستگی کی نوعیت کچھ بھی ہو۔ اس ہی قانون کے تحت ’’احساس‘‘ یا ’’حس‘‘ کے بھی یہی دو رخ یا دو مراتب ہیں۔
ایک رخ یا ایک مرتبہ وہاں پایا جاتا ہے جہاں مشاہدہ کرنے والی قوت موجود ہے اور محسوس کرتی ہے اور دوسرا رخ وہاں پایا جاتا ہے جہاں مشاہدہ کرنیوالی قوت کی نگاہ پڑ رہی ہے یعنی جہاں محسوس کرنے والی حس مرکوز ہے۔
لوح محفوظ کے قانون کی رو سے یہ دونوں مراتب ملا کر کسی ماہیت کا فعل یا حکم بنتے ہیں اور ایک ہی قالب گنے جاتے ہیں مثلاً ہم سیاہ رنگ کو تختۂ سیاہ پر دیکھتے ہیں۔ اس کا تجزیہ اس طرح ہو سکتا ہے۔ تختۂ سیاہ =نسمہ نمبر۳۱+۳۵۔
اس مثال میں تختہ کا سیارہ رنگ ’’حس‘‘ کا ایک مرتبہ ہے اور دیکھنے والی آنکھ کا احساس ’’حس‘‘ کا دوسرا مرتبہ ہے۔ اس طرح یہ دونوں مرتبے مل کر ایک مخصوص ماہیت کا ایک فعل، یا ایک حکم، یا ایک حرکت بنتے ہیں۔ تصوف کی زبان میں حس کے ان دونوں مرتبوں کی یک جائی کا نام تمثل ہے۔ گویا یہ ایک قالب ہے جہاں دو مراتب کی شکل اپنی پوری صفات کے ساتھ مجتمع ہو گئی ہے۔ مشاہدات یہ بتاتے ہیں کہ کوئی چیز مرئی ہو یا غیر مرئی بغیر شکل و صورت کے نہیں ہو سکتی کیونکہ بغیر شکل و صورت کے کسی چیز کا قیام حقیقت کی رو سے ناممکن ہے۔ تصوف کی زبان میں جس جگہ دو مراتب کی شکل و صورت جمع ہو کر ایک وجود کی تخلیق کرتی ہے۔ اس وجود کو تمثل کہتے ہیں۔ اگرچہ اس وجود کو جسمانی آنکھ نہیں دیکھ سکتی لیکن روح کی آنکھ اس وجود کو اس ہی طرح دیکھتی ہے جس طرح کہ جسمانی آنکھ کسی مادی قالب کو دیکھتی اور محسوس کرتی ہے۔
جسم کی طرح تمثل میں بھی ابعاد یعنی DIMENSIONSہوتے ہیں اور روحانی آنکھ ان ابعاد کے طول و عرض کو مشاہدہ ہی نہیں کرتی بلکہ ان کی مکانیت کو محسوس بھی کرتی ہے۔ صوفیا حضرات اس ہی تمثل کو ہیولیٰ کہتے ہیں۔ دراصل یہ محسوسات کا ڈھانچہ ہے جس میں وہ تمام اجزائے ترتیبی موجود ہوتے ہیں جن کا ایک قدم آگے بڑھنے کے بعد جسمانی آنکھ باقاعدہ دیکھتی اور جسمانی لامسہ باقاعدہ احساس کرتا ہے۔
کسی چیز کی موجودگی پہلے ایک تمثل یا ہیولیٰ کی شکل وصورت میں وجود پذیر ہوتی ہے۔ یہ ہیولیٰ نسمۂ مفرد کی ترکیبی ہیئت ہے۔ اس کے بعد دوسرے مرحلہ میں یہ نسمۂ مفرد جب نسمۂ مرکب کی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کی حرکت میں انتہائی سستی اور جمود پیدا ہو جاتا ہے۔ اس ہی سستی اور جمود کا نام ’’ٹھوس حس‘‘ ہے۔
ہم نے اوپر نسمہ کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ مفرد اور مرکب۔ یہاں اس کی تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے۔ دراصل نسمۂ مفرد ایسی حرکات کا مجموعہ ہے جو ایک سمت سے دوسری سمت میں جاری و ساری ہیں۔
ایک خاص تنزل کی حد تک نسمہ کی حرکت مفرد وضع پر رہتی ہے۔ یہ وضع یا تنزل بالکل ایک پردہ کی طرح ہے یعنی ایک ایسا پردہ پڑا ہوا ہے جو ایسی بے رنگ شعاعوں سے مل کر بنا ہے جن کا رخ ایک سمت سے دوسری سمت کی طرح حرکت کر رہاہے۔ یہ بے رنگ شعاعیں گویا متحرک لکیریں ہیں جو کپڑے کے تانے کی طرح اگرچہ ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں مگر ایک دوسرے میں پیوست بھی ہیں۔ یہ کپڑا جب تک اس حالت میں بغیر بانے کے یعنی اکہرا رہا اس وقت تک یہ نسمۂ مفرد کی کیفیت پر قائم ہے۔ اس کپڑے کے اندر جتنے نقش و نگار بنائے جائیں گے ان کا نام جنات اور جنات کی دنیا ہے۔
لیکن جب یہ کپڑا ایسے تنزل کی حدوں میں داخل ہوتا ہے جہاں اس کے اوپر کپڑے کے بانے کی طرح ایک دوسری حرکت جو پہلی حرکت کی خلاف سمت میں جاری و ساری ہے، آ کر پیوست ہو جاتی ہے نیز اس کپڑے کے اندر بہت سے نقش و نگار بن جاتے ہیں تو ان نقش و نگار کا نام انسان اور انسان کی دنیا ہے۔ گویا نسمۂ مفرد یا حرکت ِمفرد جنات کی دنیا ہے اور نسمۂ مرکب یا حرکتِ مرکب انسان کی دنیا ہے۔ ہم نے جس کا نام ’’حرکت‘‘ رکھا ہے یہ وہی ’’احساس‘‘ ہے جس کے ہیولیٰ کو ہم اوپر تمثل کہہ چکے ہیں۔ جب تک یہ حرکت غیر محسوس دائرے میں رہتی ہے تمثل کہلاتی ہے اور جب یہ حرکت محسوس دائرے میں آ جاتی ہے تو اس کا نام جسم ہو جاتا ہے۔ اس ہی جسم کو ہم ٹھوس مادیت کا نام دیتے ہیں۔

حرکت

پچھلے صفحات میں ہم نے گراف بنا کر ان کے اندر ایک فرضی جن اور ایک فرضی آدمی کا نقش دیا ہے۔ اس نقش کو غور سے دیکھا جائے تو اس بات کا اندازہ ہو جائے گا کہ یہ لکیریں جو ایک سمت سے دوسری سمت میں رخ کئے ہوئے ہیں دراصل حرکات کی شبیہ ہیں۔ ان حرکات میں صرف حرکات کا طول تمام قسم کی صفات کا نمونہ بنتا ہے۔ مثلاً ایک حرکت جس کی طوالت مخصوص ہے اس کی صفات بھی مخصوص ہیں۔ لوح محفوظ کے قانون میں جو طوالت کے پیمانے کسی صفت کے لئے معین ہیں وہ کسی ساخت اور نقش کا بنیادی اصول ہے۔ کائنات میں جتنی چیزیں، جتنے رنگ روپ، جتنی صلاحیتیں ہوتی ہیں ان میں سے ہر ایک کے لئے مخصوص طول حرکت مقرر ہے۔ مشاہدات یہ بتاتے ہیں کہ اگر حرکت کی پیمائش’الف‘ ہے تو اس ’الف‘ پیمائش کی حرکت سے جو ظہور بھی تخلیق پائے گا وہ ازل سے ابد تک ایک ہی طرز پر ہو گا۔اس نقش یا ظہور کی شکل، اس کا رنگ، اس کے ابعاد، اس کی صلاحیتیں ہمیشہ معین اور مقرر ہوں گی۔ نہ ان میں کوئی چیز کم ہو سکے گی نہ زیادہ اور ان ہی حرکات کی ایک مخصوص آمیزش کا نتیجہ کسی نوع کے فرد کی شکل وصورت میں برآمد ہوتا ہے خواہ وہ نوع انسانی دنیا کی نباتات، جمادات، حیوانات ہو یا جنات کی دنیا کی نباتات، جمادات یا حیوانات ہو۔ یہ پہلی صورت میں وہ نسمۂ مرکب یعنی دو متضاد حرکات کا نتیجہ ہو گی جس کو ہم دوہری حرکت کہہ سکتے ہیں اور دوسری صورت میں وہ صرف ایک طرفہ حرکت کا نتیجہ ہو گی جس کو ہم اکہری حرکت بھی کہہ سکتے ہیں۔


========================================================================

ٹیلی پیتھی سیکھیے

 محمد ارشد، کراچی 
سوال : میں آپ سے چند سوالات کے جوابات چاہتا ہوں۔ آپ ان سوالات کے جوابات قرآن ِ کریم کی روشنی میں دیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان سوالات کے جوابات سے روحانیت کے بعض گوشوں پر روشنی پڑے گی اور ایسے لوگ جن کے ذہنوں میں اس قسم کے سوالات پیدا ہوتے ہیں وہ بھی مطمئن ہوجائیں گے۔ 
اگر ہم ٹیلی پیتھی کے ذریعے اپنے خیالات دوسروں تک پہنچاسکتے ہیں اور دوسروں کے خیالات معلوم  کرسکتے ہیں تو ہم ٹیلی پیتھی  کو پوچھ گچھ  کے سلسلے میں کیوں استعمال نہیں کرتے اور جاسوسوں کے اہم منصوبوں سے کیوں واقف نہیں ہوجاتے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی روحانی استاد کی نگرانی میں مراقبہ کرنے سے دل کی آنکھ کھل جاتی ہے تو ہم یہ کیوں نہیں پتہ کرلیتے کہ اہرامِ مصر کب اور کیوں تعمیر ہوئے اور ان میں استعمال ہونے والے اتنے وزنی پتھر کس طرح لائے گئے؟
جواب: دنیا میں رائج علوم کی اگر درجہ بندی کی جائے تو ہم انہیں تین حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ وہ یہ ہیں :
-1طبیعات  Physics
-2نفسیات Psychology
-3مابعد النفسیات  Para Psychology
علم طبیعات کے ضمن میں زندگی کے وہ اعمال و اشغال آتے ہیں جن سے کوئی آدمی محدود دائرے میں رہ کر مستفیض ہوتا ہے یعنی اس کی سوچ کا محور مادّہ Matter اور صرف مادّہ ہوتا ہے۔ مادّی دنیا کے اس خول سے وہ باہر نہیں نکلتا۔ 
نفسیات وہ علم ہے جو طبیعات کے پس پردہ کام کرتے ہیں۔ خیالات و تصورّات اور احساسات کا تانا بانا اسی علم سے مرکب ہے۔ خیالات اگر تواتر کے ساتھ علم الطبیعات کے دائرے میں منتقل ہوتے رہیں تو آدمی صحت مند خیالات  کا پیکر ہوتا ہے اور اگر خیالات کے اس لامتناہی سلسلے میں کوئی رخنہ در آئے اور علم ِ طبیعات کا دائرہ اس خیال میں مرکوز ہوجائے تو آدمی نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔ 
علم مابعد النفسیات ، علم کی اس بساط کا نام ہے جس کو روحانیت میں مصدرِ اطلاعات یعنی  Source of Information کہا جاتا ہے۔ علمی حیثیت میں یہ ایک ایسی ایجنسی ہے جو لاشعور کے پسِ پردہ کام کرتی ہے۔ 
اس اجمال کی تفصیل یہ ہوئی کہ آدمی تین دائروں سے مرکب ہے۔ شعور، لاشعور اور دورائے لاشعور۔ جب ہم کسی مظاہراتی خدوخال میں داخل ہوتے ہیں تو ہمیں ان تین دائروں میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ یعنی پہلے ہمیں کسی چیز کی اطلاع ملتی ہے، پھر اس اطلاع میں تصوراتی نقش و نگار بنتے ہیں اور پھر یہ تصوراتی نقش و نگار مظہر کا روپ دھار کر ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔ اسی بات کو ہم دوسری طرح بیان کرتے ہیں تاکہ بات پوری طرح واضح ہوجائے۔ 
کائنات میں پھیلے ہوئے مظاہر میں اگر تفکر کیا جائے تو یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ خیالات یعنی اطلاع (Information) تمام موجودات میں قدرِ مشترک رکھتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ پانی کو ہر آدمی، ہر حیوان اور نباتات  و جمادات پانی سمجھتے ہیں اور اسی طرح اس سے استفادہ کرتے ہیں جس طرح ایک آدمی کرتا ہے۔ جس طرح  پانی کو پانی کہا جاتا ہے اسی طرح آگ ہر مخلوق کے لیے آگ ہے۔ آدمی اگر آگ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے تو بکری ، کبوتر، شیر اور حشرات الارض بھی آگ سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک آدمی مٹھاس پسند کرتا ہے، دوسرا طبعاً میٹھی چیزوں کی طرف مائل نہیں لیکن یہ ہر دو اشخاص میٹھے کو میٹھا اور نمک کو نمک کہنے پر مجبور ہیں۔ پتہ یہ چلا کہ جہاں آدمی خیالات اور تصورّات میں قدرِ مشترک رکھتے ہیں وہاں وہ خیالات  میں اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق معانی پہنانے پر قدرت رکھتے ہیں۔ آپ کا یہ سوال کہ کیا ہم اپنے خیالات دوسروں تک پہنچاسکتے ہیں اور کیا دوسروں کے خیالات معلوم کرسکتے ہیں، کے جواب میں عرض ہے کہ آپس میں خیالات کی منتقلی کا نام ہی زندگی ہے۔ ہم اپنے سے علاوہ دوسرے فرد کو صرف اس لیے پہچانتے ہیں کہ اس کے تشخص کے خیالات میں ہمیں منتقل ہورہے ہیں۔ اگر زید کے خیالات اور خیالات کا مجموعہ زندگی، بکر کے دماغ کی اسکرین پر نہ ہو تو بکر، زید کو نہیں پہچان سکتا۔ درخت کی زندگی میں کام کرنے والی وہ لہریں جن کے اوپر درخت کا وجود قائم ہے۔ اگر آدمی کے اندر منتقل نہ ہو تو آدمی درخت کو نہیں پہچان سکے گا۔ 
شاہد اور مشہود : دیکھنے اور سمجھنے کی طرزیں دو رُخ پر قائم ہیں ۔ ایک براہِ راست اور دوسری بالواسطہ۔ بالواسطہ دیکھنے کی طرز یہ ہے کہ ہم علمی اعتبار سے دو وجود کا تعین کرتے ہیں۔ ایک وجود شاہد یعنی دیکھنے والا ، دوسرا وجود مشہود جو دیکھا جارہا ہے۔ ایک آدمی جب بکری کو دیکھتا ہے تو بہ الفاظِ دیگر وہ یہ کہہ رہا ہے کہ میں بکری کو دیکھ رہا ہوں۔ یہ بالواسطہ دیکھنا ہے۔ دوسری طرز یہ ہے کہ بکری ہمیں دیکھ رہی ہے اور ہم بکری کے دیکھنے کو دیکھ رہے ہیں یعنی بکری کی زندگی کو قائم کرنے والی لہریں  ہمارے دماغ کی اسکرین پر بصورتِ اطلاع وارد ہوئیں۔ دماغ نے ان لہروں کو نقش ونگار میں تبدیل کیا اور جب یہ نقش و نگار شعور کی سطح پر نمودار ہوئے تو بکری کی صورت میں مظہر بن گئے۔ قانون روحانیت کی رو سے فی الواقع براہِ راست دیکھنا ہی صحیح اور بالواسطہ دیکھنا محض مفروضہ  (Fiction) ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بہت زیادہ توجہ طلب ہے۔ اللہ تعالیٰ حضور ؐ سے ارشاد فرماتے ہیں :
’’اور تو دیکھ رہا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں، تیری طرف، وہ کچھ نہیں دیکھ رہے ‘‘۔ 
آیت مقدسہ کے مفہوم پر غور کیجیے۔ اللہ تعالیٰ یہ فرمارہے ہیں کہ وہ دیکھ رہے ہیں لیکن باوجود دیکھنے کے وہ کچھ نہیں دیکھ رہے۔ حاصل ِ کائنات ، فخرِ موجودات سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قدسی نفس تشخص میں اللہ تعالیٰ کی جو تجلیّات اور انوار کام کررہے ہیں وہ لوگوں کی آنکھوں سے مخفی ہیں اور ان تجلیّات اور انوار کو نہ دیکھنا اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد کے بموجب کچھ نہ دیکھنا ہے۔ 
اپنی حدود میں رہتے ہوئے براہِ راست دیکھنے کی طرز رکھنے والے جن بندوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اندر موجود انوار و تجلیّات کا مشاہدہ کیا وہ حضور ؐ کے ہم خیال بن گئے۔ یہ بات الگ ہے کہ براہِ راست دیکھنا کسی بندے میں قلیل تھا اور کسی بندے میں زیادہ ۔ 
ٹیلی پیتھی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان جدّوجہد اور کوشش کرکے براہِ راست دیکھنے کی طرز سے قریب ہوجائے۔ جن حدود میں وہ براہِ راست طرزِ نظر سے وقوف حاصل کرلیتا ہے اسی مناسبت سے وہ لہریں جو خیال بنتی ہیں اس کے سامنے آجاتی ہیں۔ یہ عجیب سربستہ راز ہے کہ پوری کائنات  کے افراد اطلاعات اور خیالات میں ایک دوسرے سے ہم رشتہ ہیں۔ البتہ اطلاعات میں معنی پہنانا الگ الگ وصف ہے۔ بھوک کی اطلاع  شیر اور بکری دونوں میں موجود ہے لیکن بکری اس اطلاع کی تکمیل میں گھا س کھاتی ہے اور شیر بھوک  کی اس اطلاع کو پورا کرنے کے لیے گوشت کھاتا ہے۔ بھوک کے معاملے میں دونوں کے اندر قدر مشترک ہے۔ بھوک کی اطلاع کو الگ الگ معانی پہنانا دونوں کا جداگانہ وصف ہے۔ 
آپ کا یہ سوال کہ ٹیلی پیتھی کو جاسوسی میں کیوں استعمال نہیں کیا جاتا اور یہ کہ ٹیلی پیتھی کے ذریعے سربستہ راز کیوں نہیں معلوم کیے جاتے ۔ اس کے بارے میں ایسے شواہد موجود ہیں کہ ہپناٹزم کے ذریعے یورپ میں بڑے بڑے آپریشن کردیے جاتے ہیں اور مریض کو تکلیف کا احساس بالکل نہیں ہوتا، وغیرہ وغیرہ۔ ہپناٹزم اور ٹیلی پیتھی ایک ہی قبیل کے دو علم ہیں۔ ان کا منبع اور مخزن ایک ہے یعنی خیالات کے اوپر گرفت کا مضبوط ہونا۔ 
ایسے صاحبِ روحانیت جو ٹیلی پیتھی کے قانون سے واقفیت ہیں وہ  آزاد ذہن ہوتے ہیں۔ انہیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ جاسوسوں کو پکڑتے پھریں اور پولیس کا کردار انجام دیں۔ البتہ یہ بات عام طور پر مشاہدے میں آئی ہے کہ کوئی بندہ کسی صاحبِ روحانیت کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بندے کے دماغ میں جو کچھ تھا وہ انہوں نے دانستہ ، غیر دانستہ طور پر بیان کردیا۔ 
اہرامِ مصر کب اور کیوں قائم ہوئے اور ان کو تیس لاکھ تراشے ہوئے پتھروں سے کس طرح بنایا گیا جب کہ ہر چتان کا وزن ستر ٹن ہے اوریہ زمین سے تیس چالیس فٹ کی بلندی پر نصب ہیں۔ اور ان اہرام کا فاصلہ کم سے کم پندرہ میل اور زیادہ سے زیادہ پانچ سو میل ہے یعنی جن پتھروں سے اہرامِ مصر کی تعمیر ہوئی وہ پانچ سو میل دور سے لائے گئے تھے۔ 
میرے بھائی ! کسی صاحبِ مراقبہ کو یہ بات کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے لیکن ان کے سامنے اس سے بہت زیاعدہ ارفع و اعلیٰ رموز ہوتے ہیں اور وہ ان رموز کی تجلیّات میں محوِ استغراق رہتے ہیں۔ 
ایک بزرگ رمپا (Rampa) خیالات کی لہروں کے علم سے وقوف رکھتے ہیں۔ انہوں نے ماہرینِ آثار قدیمہ کے اصرار پر یہ انکشاف کیا ہے کہ بیس ہزار سال پہلے کے وہ لوگ جنہوں نے اہرامِ مصر بنائے ہیں آج کے  سائنس دانوں سے زیادہ ترقی یافتہ تھے اور وہ ایسی ایجادات میں کامیاب ہوگئے تھے جن کے ذریعے پتھروں میں سے کششِ ثقل ختم کردی جاتی تھی۔ کششِ ثقل ختم ہوجانے کے بعد پچاس یا سو ٹن وزنی چٹان ایک آدمی اس طرح اُٹھا سکتا ہے جیسے پروں سے بھرا ہوا ایک تکیہ۔ 
اسی طرح سائنس کی دنیا میں ایک اور بزرگ جناب ایڈگرکیسی کے مطابق ان پتھروں کو ہوا میں تیرا کر Float موجودہ جگہ بھیجا گیا ہے۔ 
اہرامِ مصر کے سلسلے میں ان دانشور بزرگوں نے جو کچھ فرمایا ہے  وہ لہروں کی منتقلی کے اس قانون کے مطابق ہے جو کو ٹیلی پیتھی کہا جاتا ہے۔ 

ہمارے اسلاف میں ایک بزرگ شاہ ولی اللہ ؒ  گزرے ہیں۔ ان کے ہاتھ اس جرم میں توڑ دیے گئے تھے کہ انہوں نے قرآن پاک کا ترجمہ کیا تھا۔ شاہ صاحبؒ نے بتایا ہے کہ جسمِ انسانی کے اوپر ایک اور انسان ہے جو روشنیوں کی لہروں سے مرکب ہے جس کا اصطلاحی نام انہوں نے نسمہ رکھا ہے۔ 
شاہ ولی اللہ ؒ نے یہ بات واضح دلیل کے ساتھ بتائی ہے کہ اصل انسان نسمہ یعنی  Aura ہے۔ جتنی بیماریاں ، الجھنیں  اور پریشانیاں انسان کے اوپر آتی ہیں وہ نسمہ میں ہوتی ہیں۔ گوشت پوست سے مرکب خاکی جسم میں نہیں ہوتیں۔ البتہ نسمہ کے اندر موجود کسی بیماری یا پریشانی کا مظاہرہ جسم پر ہوتا ہے یعنی جسم دراصل ایک اسکرین ہے اور نسمہ فلم ہے۔ فلم میں سے اگر داغ دھبوں کو دور کردیا جائے تو اسکرین پر تصویر واضح اور صاف نظر آتی ہے۔ بالفاظ دیگر اگر نسمہ کے اندر بیماری کو نکال دیا جائے تو جسم خود بخود صحتمند ہوجائے گا۔ 
شاہ ولی اللہ ؒ نے اس بات کی بھی تشریح کی ہے کہ آدمی اطلاعات  ، انفارمیشن  یا خیالات کا مجموعہ ہے۔ صحت مند خیالات پر سکون زندگی کا پیش خیمہ ہیں۔ اس کے برعکس  اضمحلال، پریشانی، اعصابی کشاکش، دماغی کشمکش  اور نت نئی بیماریاں خیالات میں پیچیدگی،پراگندگی اور تخریب کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں۔ ٹیلی پیتھی چونکہ انفارمیشن ، خیالات یا اطلاع کو جاننے کا علم ہے اس لیے یہ علم سیکھ کر کوئی بندہ خود بھی اُلجھنوں اور پریشانیوں سے محفوظ رہتا ہے اور اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ 
ٹیلی پیتھی کی علمی توجیہہ کے سلسلے میں ہم نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ کائنات میں موجود ہر شے کا قیام لہروں پر ہے۔ بالفاظِ دیگر کائنات میں موجود ہر شے کی زندگی  لہروں پر رواں دواں ہے اور ان لہروں کی معین مقداروں سے الگ الگ مخلوق تخلیق پاتی ہے۔ معین مقداروں کے ساتھ کہیں یہ لہریں لکڑی بن جاتی ہیں ، کہیں لوہا، کہیں پانی۔ 
مثال : ہم پانی کو دیکھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ پانی ہے جبکہ ہمارے دماغ پر یا جسم پر پانی کا کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔ یعنی ہمارا دماغ بھیگتا نہیں ہے۔ اسی طرح ہم پتھر کو پتھر کہتے ہیں جبکہ پتھر کا وزن ہمارا دماغ محسوس نہیں کرتا۔ بات وہی ہے کہ پانی کے اندر کام کرنے والی لہریں ٹیلی پیتھی کے اصول پر جب ہمارے دماغ میں منتقل ہوتی ہیں تو ہم اس کو پانی کہہ دیتے ہیں۔ 
کسی چیز سے فائدہ اُٹھانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس چیز کے اندر کام کرنے والے اوصاف ، اس کی حقیقت اور اس کی ماہیت سے وقوف حاصل ہو اور وقوف سے مراد یہ ہے کہ ہمیں ناصرف لہروں کے علم سے واقفیت ہو بلکہ ہم یہ بھی جانتے ہوں کہ لہریں منجمد نہیں ہوتیں، وہ متحرک ہوتی ہیں  اور ان کی ہر حرکت زندگی کے اندر کام کرنے والا ایک تقاضہ ہے۔ اور ان تقاضوں سے زندگی کے اجزاء مرتب ہوتے ہیں۔ ہر لہر اپنے اندر ایک وصف رکھتی ہے اور وصف کا نام ہم طاقت Frequency رکھتے ہیں۔ کسی طاقت سے فائدہ اُٹھانا اس وقت ممکن ہے جب ہم اس کے استعمال سے واقف ہوں۔ اسی وقوف کو اللہ تعالیٰ نے حکمت کا نام دیا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’اور ہم نے لقمان کو حکمت دی تاکہ وہ اسے استعمال کرے اور جو لوگ اس سے استفادہ کرتے ہیں انہیں فائدہ پہنچتا ہے اور جو لوگ اس کا کفران کرتے ہیں وہ خسارے میں رہتے ہیں ‘‘۔ 
قرآن پاک پوری نوعِ انسانی کے لیے منبعِ ہدایت ہے ۔ جو لوگ حکمت کے قانون میں تفکر کرتے ہیں اور اس کی ماہیت میں اپنی تمام ذہنی صلاحیتیں مرکوز کردیتے ہیں ان کے اوپر طاقت کے استعمال کا قانون منکشف ہوجاتا ہے اور نئی سے نئی ایجادات مظاہر بن کر سامنے آتی رہتی ہیں۔ کبھی استعمال کا یہ قانون ایٹم بم بن جاتا ہے اور کبھی ریڈیو اور ٹی وی کے روپ میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ 
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’اور ہم نے لوہا نازل کیا اور اس کے اندر لوگوں کے لیے بے شمار فوائد رکھ دیے‘‘۔ 
غور و فکر کا تقاضہ ہے اور اپنی بے بضاعتی پر آنسو بہانے کا مقام ہے کہ موجودہ سائنس کی ہر ترقی میں لوہے کا وجود زیر، بحث آتا ہے۔ جن لوگوں نے لوہے کی خصوصیات اور اس کے اندر کام کرنے والی لہروں کو تلاش کرلیا۔ ان کے اوپر یہ راز منکشف ہوگیا کہ بلاشبہ لوہے میں نوعِ انسانی کے لیے بے شمار فوائد مضمر ہیں۔ 
المیہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو محض ایصالِ ثواب اورحصول ِ برکت کا ذریعہ بنالیا ہے اور قرآن پاک میں تسخیرِ کائنات سے متعلق جو فارمولے بیان ہوئے ہیں ان کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ جن لوگوں نے تسخیرِ کائنات سے متعلق فارمولوں کے رموز و نکات پر ریسرچ کی اور اس کوشش میں اپنی زندگی کے ماہ و سال صرف کردیے انہیں اللہ تعالی نے کامیابی عطا کی   ؎
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں 
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں 

========================================================================
یہ اس ماہ کے ڈائجسٹ کے محض چند تعارفی صفحات ہیں۔
کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت اس ڈائجسٹ کے مضامین  بلا اجازت شائع نہیں کیے جاسکتے۔
 مضمون کا کوئی حصہ کسی کتاب میں شامل یا انٹر نیٹ پر شئیر کرتے ہوئے روحانی ڈائجسٹ کا حوالہ ضرور تحریر کریں۔  
========================================================================

Like us On Facebook

Powr