Breaking

نومبر 1979ء

Views
نومبر 1979ء کے شمارے کا سرورق



روحانی ڈائجسٹ کا بارہواں شمارہ نومبر 1979ء میں شائع ہوا۔ یوں روحانی ڈائجسٹ کی ایک جلد مکمل ہوئی۔ اس شمارے کے سرورق پر شعور اور لاشعور کی کارفرمائیاں دکھائی گئی ہیں۔ شعور مثلث اور لاشعور دائرہ ہے۔ انسان جب اپنے شعور، مادّی حواس یعنی گوشت پوست سے بلند ہوکر اپنی روح یعنی اپنی اصل سے واقفیت حاصل کرلیتا ہے تو وہ مثلث سے نکل کر دائرے میں داخل ہوجاتا ہے۔ یہاں پر ایسے حقائق کا انکشاف ہوتا ہے جن کی بدولت آدم کو نیابت وخلافت عطا کی گئی۔ وہ آسمانی دنیا میں ایسے بروج کا بھی مشاہدہ کرتا ہے جن سے اﷲ پاک نے آسمان کو زینت بخشی ہے۔ قرآن پاک کی سورئہ الحجر کے مطابق یہ بروج مشاہدہ کرنے والوں کے لئے ہیں اور شیطان اور اُن کے ہم نشین اُسے نہیں دیکھ سکتے۔۔۔۔


========================================================================
مضامینلکھاریموضوع
نور الٰہی------
نور نبوت------
رباعیاتقلندر بابا اولیاء---
آوازِ دوستمدیرِ اعلیٰ ---
تاثراتقارئین کرام---
وارداتادارہ---
لوح و قلمقلندر بابا اولیاء---
آنکھیںسید عابد علی---
محبوبِ الٰہیسہیل احمدخواجہ نظام الدین اولیاءؒ
عورت کے حقوقبیگم قدوائی---
پراسرار ہیولاصادق الاسرار---
جواہرات اور رنگنسیم احمد---
سید ابو الاعلٰی مودودی ادارہ---
محفلِ مراقبہاحمد جمال عظیمی---
سمیّہ------
بندر کا بدلادیپک---
آپ بیتیانیس احمد صدیقی---
حضرت محمد یوسف شاہ تاجیؒمحمد شوکت علی---
عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہےشمس النساء عباسی---
آپ کے مسائلخواجہ شمس الدین عظیمی---
ٹیلی پیتھیادارہ---
متفرقات------
---------
---------
---------
---------
---------
---------
---------
========================================================================

رباعیات


پتھّر کا زمانہ بھی ہے پتھّر میں اسیر
پتھّر میں ہے اس دَور کی زندہ تصویر
پتھّرکے زمانہ میں جو انسان تھا عظیم
وہ بھی تھا ہماری ہی طرح کا دیگر
--
مٹی سے نکلتے ہیں پرندے اُڑ کر
دُنیا کی فضا دیکھتے ہیں مُڑ مُڑ کر
مٹی کی کشش سے اب کہاں جائیں گے
مٹی نے انھیں دیکھ لیا ہے مُڑ کر
--
معلوم ہے تجھ کو زندگانی کا راز
مٹی سے یہاں بن کے اڑا ہے شہباز
اس کے پَر و پُرزے تو یہی ذرّے ہیں
البتہ کہ صنّاع ہے اس کا دَمساز
--
مٹی کی لکیریں ہیں جو لیتی ہیں سانس
جاگیر ہے پاس اُن کے فقط اک قیاس
ٹکڑے جو قیاس کے ہیں مفروضہ ہیں
ان ٹکڑوں کا نام ہم نے رکھا ہے حواس
--

========================================================================

آوازِ دوست

ہم ایک لباس  بناتے ہیںوہ سوتی  کپڑے کا ہو، اون کا ہو، یا نائیلون کے تاروں کا، مقصد یہ ہوتاہے کہ ہم لباس کے ذریعے خود کو چھپائیں۔ اسی طرح رُوح نے خود کو پسِ پردہ رکھنے کے لئے ایک لِباس اختراع کیاہے اور یہ لباس گوشت پوست اور ہڈیوں سے مرکّب ہمارا جسم ہے۔ جس طرح جسم کے بغیرلباس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور نہ ہی لباس کی اپنی کوئی ذاتی حرکت ہے اسی طرح رُوح کے لباس کی اہمیت اسی وقت تک ہے جب تک رُوح اس لباس کو اہمیت دیتی ہے۔ ہم کوٹ یا شیروانی زیب تن کرتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوٹ ہمارے جسم پر ہو اور ہم ہاتھ ہلائیں اور آستین نہ ہلے۔ یہ بھی قرین قیاس نہیں ہے کہ کوٹ کو کھونٹی پر لٹکا دیا جائے یا چار پائی پر ڈال دیاجائے اور اس کے اندر اسی طرح حرکت پیدا ہو جس طرح جسم کے اوپر رہتے ہوئے ہوتی ہے۔۔۔۔۔ لباس کی حیثیت اُسی وقت تک ہے جب تک وہ جسم کے اوپر ہے۔ گوشت پوست سے مرّکب لباس(جسم) کی تمام حرکات و سکنات کا دارومدار اونی یا سوتی لباس کی طرح رُوح کے اوپر ہے۔ رُوح جب تک جسم میں موجود ہے، جسم چلتا پھرتا ہے اور اِس میں زندگی کے آثار پائے جاتے ہیں۔ رُوح اس جسم سے جب اپنا رشتہ منقطع کرلیتی ہے تو جسم کی حیثیت کھونٹی پر لٹکے ہوئے کوٹ کی ہوجاتی ہے۔
کسی عاقل بالغ باشعور آدمی کو اگر یہ معلوم نہ ہو کہ اس کے ماں باپ کون ہیں تو وہ کتنا ہی ذہین اور قابل کیوں نہ  ہو اس کے اوپر ایک احساسِ محرومی مسلط رہتا ہے اور احساسِ محرومی انسانی زندگی میں اتنا بڑا خلا ہے کہ بالآخر ایسا بندہ دماغی مریض بن جاتاہے۔ پاگل پن زیادہ ہو یا کم بہرحال اس کانام پاگل کے علاوہ کچھ نہیں رکھا جاتا۔
صورتِ حال یہ ہے کہ ہم اس بات سے تو وقوف رکھتے ہیں کہ ہمارا وجود ہے لیکن اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ ہمارا پیدا کرنے والاکون ہے؟۔۔۔۔۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہمیں پیدا کرنے والااﷲ ہے، تو یہ ایسی ہی بات ہوگی کہ ہم گوشت پوست کے جسم کو اصل آدمی سمجھتے ہیں جبکہ اس آدمی کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ آدمی روح کے تابع ہے اور روح ہماری جسمانی آنکھوں سے چھپی ہوئی ہے۔ محض زبانی طور پر یہ کہہ دینا کہ ہمارا خالق اﷲ ہے، اعترافِ خالقیت کا تقاضہ پورا نہیں کرتا۔ وہ آدمی جس کو کچھ پتہ نہیں کہ اس کے ماں باپ کون ہیں یہی کہتاہے کہ مجھے ماں باپ نے جنم دیاہے۔ اگر ہم اپنی رُوح سے واقف نہیں ہیں تواﷲ تعالیٰ کی خالقیت اور رّبانیت کا تذکرہ محض مفروضہ حواس پر مبنی ہوگا۔ کتنی ستم ظریفی ہے کہ معاشرے میں ایسے شخص کو کوئی مقام نہیںدیا جاتاجس کے ماں باپ کا پتہ نہ ہو اور ہم اﷲتعالیٰ کا زبانی تذکرہ کرکے خودکو اشرف المخلوقات سمجھتے ہیں۔ اﷲ وہ ہے جس کی سماعت سے ہم سنتے ہیں، جس کی بصارت سے ہم دیکھتے ہیں اور جس کے فواد سے ہم سوچتے ہیں اور اس بات کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ اس اﷲ کی جو ہمیں پیدا کرتا ہے، اپنے خاص کرم و فضل سے ہماری پرورش کرتا ہے، ہماری حفاظت کرتاہے، اس کو پہچاننے کی کوشش کریں جبکہ اﷲ تعالیٰ نے خود ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ اور  وہ لوگ جو ہمارے لئے جدو جہد کرتے ہیں ہم اُن کے اوپر ہدایت کے راستے کھول دیتے ہیں‘‘۔
تمام انبیائے کرام علیم الصلوٰۃ والسلام اور اولیاء اﷲ کا یہی مشن ہے کہ بندہ جس طرح اپنے والدین سے وقوف رکھتاہے۔ اسی طرح اپنے خالق کا عرفان حاصل کر کے تخلیق کا منشاء کرے۔ بصورتِ دیگر وہ ہر گز اشرف المخلوقات کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔
========================================================================

جواہرات اور رنگ


نسیم احمد

ہیرے، لعل، یاقوت، نیلم، پکھراج یہ چمکتے ہوئے پتھر ہمیشہ انسانوں کے لئے دل کشی کا باعث رہے ہیں۔
کیا آنکھوں کو اپنی طرف کھینچنے والے ان پتھروں میں رنگ اور چمک کے علاوہ کوئی اور بھی خوبی ہے؟۔۔۔۔۔ کرلین فوٹو گرافی کے چند حالیہ تجربات سے معلوم ہواہے کہ ہاں اور کچھ بھی ہے۔ پر اسرار علوم کے جاننے والوں نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ انسانوں کے گرد نورانی ہالہ دیکھ سکتے ہیں اور اس ہالہ کا رنگ بتاسکتے ہیں۔ مگر اب کرلین فوٹو گرافی کے ذریعے جس میں اشیاء کو ہائی فریکوئنسی فیلڈ میں رکھا جاتاہے، یہ عجیب و غریب رنگ کوئی بھی دیکھ سکتا ہے، ایک عام آدمی بھی!۔۔۔۔۔ جب کرلین طریقے سے فوٹو لیا جاتاہے جسم کے مختلف اعضا ء کے گردمختلف رنگ کا ہالہ نظر آتاہے۔ سر کے اُبھار کے پاس گہرا جامنی، پیشانی کے پاس جامنی، کھوپڑی کی جڑ کے پاس نیلا، دل کے اطراف میں سبز، پیٹ کے آس پاس زرد، کمر کے پاس نارنجی اور ریڑھ کی ہڈی کے ارد گرد سُرخ۔ غور سے دیکھنے پر معلوم ہوتاہے کہ یہ سات مراکز قوس قزح کے ساتوں رنگ منتشر کرتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ یوگا میں جن سات چکروں کا ذکر ہے جہاں قوتِ حیات موجود رہتی ہے ان کا مقام بھی یہی ہے۔
اب عجیب و غریب اتفاقات کی ایک اور مثال دیکھئے۔ جب کرلین طریقے سے ہاتھ کی تصویر اتاری جاتی ہے تو وہ بھی قوس قزح کے سات رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ انگشت ِ شہادت کے گرد جسے پامسٹری میں انگشتِمشتری کہاجاتاہے نیلے رنگ کا ہالہ ہوتاہے۔ درمیانی انگلی یعنی انگشت ِ زحل کے گرد گہرے جامنی رنگ کا ہالہ ہوتا ہے۔ اس کے برابر والی انگلی یعنی انگشتِشمسی کے گرد سُرخ رنگ کا ہالہ ہوتاہے۔ چھنگلیا یعنی انگشتِعطارد کے گرد سبز رنگ کا ہا لہ ہوتاہے۔ انگوٹھے کے نیچے زہرہ کا اُبھار ہوتاہے اور اس کے ہالے کا رنگ جامنی ہوتاہے۔ زہرہ کے ابھار کے مقابل اور چھوٹی انگلی کے نیچے قمر کا ابھار ہے جس کے گرد نارنجی رنگ کا ہالہ ہوتاہے۔ اسی طرح مریخ کے ابھار کے گرد زرد رنگ کا ہالہ ہوتاہے۔
پامسٹری کے ماہرین نے صدیوں پہلے ہر ایک انگلی کو ایک سّیارے سے منسوب کردیا تھا۔ آج جب جدید سائنسی آلات خصوصاً اسپیکٹرو اسکوپ کے ذریعہ ان سّیاروں کا مشاہدہ کیاجاتاہے تو ہر سّیارہ سے ایک مخصوص رنگ منتشر ہوتا نظر آتا ہے اور یہی رنگ اس انگلی کے اطراف میں ہوتاہے جو اس سّیارے سے منسوب ہے۔ مثلاً انگشت ِ عطارد کے گرد ہالہ کا رنگ اور عطارد کا رنگ دونوں نیلے ہوتے ہیں۔ یہی حال باقی انگلیوں اور اُبھاروں کا بھی ہے۔ ہر اُنگلی اور اُبھار کے گرد اُسی رنگ کا ہالہ  ہوتاہے جو اس سے منسوب سّیارے کے گرد ہوتاہے۔
یہ بھی عجیب بات ہے کہ سنسکرت میں ہفتے کے دنوںکے نام بھی سّیاروں کے نام پر رکھے گئے ہیں مثلاً روی وار، روی یعنی اتوار اور وار یعنی دن، اسی طرح سوموار یعنی چاند کا دن، منگل یعنی مریخ، بدھ یعنی عطارد، گرو یعنی مشتری، شُکرّ یعنی زہرہ اور شنی یعنی زحل۔۔۔۔۔
مگر ان سب باتوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟۔۔۔۔۔
 بہت دلچسپ تعلق ہے۔ علمِ نجوم کا دعویٰ ہے کہ لفظ روی سُرخ رنگ کا نمائندہ ہے۔سورج کا رنگ سُرخ ہے اور اس سے منسوب انگشت شہادت کا رنگ بھی سُرخ ہے۔ سوم نارنجی رنگ کانمائندہ ہے۔ یہی رنگ چاند کا ہے اور یہی رنگ چاند سے منسوب  اُبھار کا ہے۔ یہی حال ہفتے کے دیگر ایام کا ہے۔
 نظامِِ شمسی میں بھی قوس قزح کے ان رنگوں کی حکومت ہے۔ جب اسپیکٹرو اسکوپ کے ذریعے کسی برج کے اہم ستاروں (سب سے زیادہ روشن) کو دیکھا جاتاہے تو اس بُرج کا ایک مخصوص رنگ نظر آتاہے۔ جو اس روشن ستارے کا رنگ ہوتاہے۔ مثلاً بُرج اسد کا رنگ سُرخ ہے اور اس کے خاص ستارے ریگویس کا رنگ بھی سُرخ ہے۔ بُرج سرطان کا رنگ نارنجی ہے۔ بُرج حمل اور عقرب کا رنگ پیلا ہے، سنبلہ اور جوزہ کا رنگ سبز ہے، حوت اور قوس کا رنگ نیلا ہے، ثور اور میزان کا رنگ جامنی ہے اور جدی اور دلو کا رنگ گہرا جامنی ہے۔
اب اگر ان جواہرات کا معائنہ کیا جائے جو مخصوص بُرج کے تحت پیدا ہونے والے افراد پہنتے ہیں تو معلوم ہوگاکہ ان جواہرات کا رنگ بھی وہی ہے جو ان سے منسوب بُرج کاہے مثلاً JADEکا اسپیکٹرو اسکوپ رنگ ہرا ہے۔ نجومیوں کے مشورے کے مطابق جو افراد برُج کینا کے تحت پیدا ہوئے ہیں انہیں یہ پتھر پہننا چاہئے۔ بُرج کنیا  کا رنگ بھی ہرا ہے۔ یہی حال دیگر جواہرات کا بھی ہے۔ جو  جواہر جس برج سے منسوب ہے اس کا رنگ وہی ہوتاہے جو اس بُرج کاہوتاہے۔ بُرجوں کے رنگ اوپر درج کئے جاچکے ہیں۔یہاں یہ بات واضح کردی جائے کہ عام طور پر جواہرات کا جو رنگ نظر آتاہے یعنی جو رنگ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں وہ اس کے اسپیکٹرو اسکوپ رنگ سے قطعاً مختلف ہوتاہے۔ مثلاً ہیرا بظا ہر سفید رنگ کا ہوتاہے مگر اس کا اسپیکٹرو اسکوپ رنگ جامنی ہوتاہے اور یہ بُرج ثور اور میزان سے منسوب ہے۔ جس کا رنگ جامنی ہوتاہے۔ بُرج ثور کا مالک ہے سّیارہ زہرہ، اس کا بھی رنگ جامنی ہوتاہے۔ یہی حال دیگر بُرجوں، سّیاروں اور جواہرات کاہے۔
ہر جگہ قوس قزح کے رنگوں کی حکومت ہے۔ جواہرات کے سلسلے میں ایک بات یہ بھی ہے کہ وہ مختلف انگلیوں سے منسوب ہیں۔ جو جواہر انگشتِ شہادت پر پہننا چاہئے وہ اسی اُنگلی پر اپنا بھر پور اثر دکھائے گا۔دوسری کسی انگلی پر اس کی تاثیر میں کمی آجائے گی کیوں کہ اس کا رنگ اور اس انگلی کا رنگ یکساں ہوتاہے اور دونوں مل کر طاقتور  ہوجاتے ہیں۔
رنگوں کے ذریعے علاج بھی کیا جاتاہے۔ نظریہ  یہ ہے کہ جسم میں ساتوں رنگ ایک مخصوص تناسب میں موجود ہیں۔ جب تک یہ تناسب قائم ہے جسم تندرست رہتاہے اور جہاں یہ تناسب بگڑا کہ تندرستی رخصت ہوئی۔ رنگوں کے ذریعے علاج کرنے والے پہلے تو اس بات کی تشخیص کرتے ہیں کہ جسم میں کس رنگ کی کمی ہے۔ پھر اس رنگ کو بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے مختلف طریقے ہیں۔ کہیں مخصوص رنگ کے پھل یا اناج کھانا، کپڑے پہننا یا جواہرات پہننا۔ جواہرات کو اس معاملے میں فوقیت حاصل ہے کیوںکہ ان سے منتشر ہونے والے رنگ خالص ہوتے ہیں یعنی یک رنگی ہوتے ہیں۔ ان میں کوئی دوسرا  رنگ موجود نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ یہ رنگ زیادہ قوی ہوتے ہیں۔
جن افراد کے زائچے میں کوئی سّیارہ کمزور ہوتاہے  تو اس کے اثرات کو قوت بخشنے کے لئے اس سے منسوب قیمتی پتھر پہننا چاہئے۔ 
ایک بات اور۔۔۔۔۔ اگر آپ میں اتنی استطاعت نہیں ہے کہ آپ جواہرات خرید سکیں تو کسی سے مانگ کر الکحل کی بوتل میں ڈال دیجئے اور سات سے بارہ دن تک بوتل کو کسی تاریک مقام پرر کھئے۔ اس کے بعد مانگی ہوئی یہ دولت واپس کردیجئے۔ اس الکحل کو ہومیو پیتھی کی گولیوں پر چھڑک دیجئے بالکل اسی طرح جس طرح دیگر دوائیں چھڑکی جاتی ہیں۔ دن میں 3مرتبہ2 ,2گولیاں استعمال کی جائیں تو ان سے بھی وہی فائدہ حاصل ہوتاہے جوا س قیمتی پتھر سے حاصل ہوتاہے۔
کرلین فوٹو گرافی نے رنگوں کی دنیا کے پوشیدہ گوشوں کو بے نقاب کیاہے۔ آج ہمیں معلوم ہوتاہے کہ صدیوں پیشتر بتائی جانے والی باتیں مثلاً مخصوص انگلیوں میں مخصوص بیماریوں کے دوران مخصوص جواہرات پہننا محض تو ہم پرستی نہیں تھی۔ ان کے مشورے تک تو ہم پہنچ گئے مگر ان کے درمیان کی کڑی ہمیں نہ مل سکی۔ لہٰذا ہم ان کے مشوروں کو توہّمات سمجھنے لگے۔ مگر آج جدید سائنس بھی تجربات کے بعد ان توہمات کو حقیقت سمجھنے پر مجبور  ہے۔
رنگ اور روشنی کے علاج اور پتھروں کے خواص کے سلسلہ میں حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کی تصنیف ’’ رنگ اور روشنی سے علاج‘‘ نہایت اہم اور مفید کتاب ہے۔

========================================================================
لوح و قلم



========================================================================




========================================================================
یہ اس ماہ کے ڈائجسٹ کے محض چند تعارفی صفحات ہیں۔
کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت اس ڈائجسٹ کے مضامین  بلا اجازت شائع نہیں کیے جاسکتے۔
 مضمون کا کوئی حصہ کسی کتاب میں شامل یا انٹر نیٹ پر شئیر کرتے ہوئے روحانی ڈائجسٹ کا حوالہ ضرور تحریر کریں۔  
========================================================================

Like us On Facebook

Powr