Breaking

اکتوبر 1979ء

Views

اکتوبر 1979ء کے شمارے کا سرورق



روحانی ڈائجسٹ کا گیارہواں شمارہ اکتوبر 1979ء میں شائع ہوا۔ اس شمارے کا سرورق سورہ نور کی 35 ویں آیت کو اُجاگر کر رہا ہے۔ جس میں اﷲتعالیٰ نے اپنے نور کی مثال طاق، چراغ، زیتون کے درخت اور چمکتے ہوئے ستارے کے ذریعے بیان کی ہے۔ سرورق پر یہ تمام اشکال پیش کی گئی ہیں۔ یہاں اس شمارے کے دو مضامین سے اقتباس پیشِ خدمت ہے۔

========================================================================
مضامینلکھاریموضوع
نورِ الٰہی------
نورِ نبوت------
رباعیاتقلندر بابا اولیاء---
آواز دوستمدیر اعلیٰ---
تاثراتقارئین کرام---
وارداتادارہ---
لوح وقلمقلندر بابا اولیاء---
قلندر ذوالنون ؒوقار صدیقی---
آپ بیتیعبدالحمید نظامی---
پراسرار مخلوقنسیم احمدلاک نیس کا عفریت
شاہراہِ صحتایڈورڈ برنڈت---
دوسرا طوفانِ نوحجاوید احمدسائنس فکشن
مغرور ہاتھیدیپک---
محفلِ مراقبہاحمد جمال عظیمی---
سمیّہعرفان غازی---
خواتین اور تبلیغ دینعفت انصاری---
حضرت دائم الحضوریخورشید کمالوی غلام محی الدین قصوریؒ 
شریک موتفریڈرک کاؤلس---
حکمت لُدّنیوقار یوسف عظیمی---
آپ کے مسائلخواجہ شمس الدین عظیمی---
خواب کی تعبیرخواجہ شمس الدین عظیمی---
چونٹیوں کی ملکہنعیم الحسن نقوی---
ٹیلی پیتھیادارہ---



========================================================================

رباعیات

ساقی ترے قدموں میں گزرنی ہے عُمر
پینے کے سِوا کیا مجھے کرنی ہے عُمر
پانی کی طرح آج پلا دے بادہ
پانی کی طرح کل تو بِکھرنی ہے عمُر
--
آدم کا کوئی نقش نہیں ہے بیکار
اس خاک کی تخلیق میں جلوے ہیں ہزار
دستہ جو ہے کوزہ کو اٹھانے کے لئے
یہ ساعدِ سیمیں سے بناتا ہے کمہار
--
جب تک ہے چاندنی میں ٹھنڈک کی لکیر
جب تک کہ لکیر میں ہے غم کی تصویر
جب تک کہ شبِ مہ کا ورق ہے رَوشن
ساقی نے کیا مجھے ساغر میں اسیر
--
حق یہ ہے کہ بیخودی خودی سے بہتر
حق یہ ہے کہ موت زندگی سے بہتر
البتہ عدَم کے راز ہیں سربستہ
لیکن یہ کمی ہے ہر کمی سے بہتر
--

========================================================================

واردات

پندرہ سال سے میرا یہ معمول ہے کہ میں ہفتہ میں ایک رات حضور داتا گنج بخشؒ کے دربار میں گزارتا ہوں۔ ایک روز  درودشریف پڑھتے پڑھتے دیکھا کہ یہ ناچیز بندہ حضور داتا صاحبؒ کے روبرو  بیٹھا ہے۔ میں نے عرض کیا آپؒ کے درجے اتنے بلند اور ارفع ہیں کہ آپ ؒ کے دربار میں حضرت خواجہ غریب نوازؒ نے بھی اکتسابِ فیض کیا ہے۔
داتا صاحبؒ نے فرمایا ’’مجھے اﷲتعالیٰ نے ایک جگہ بٹھادیا، یہ خاص و عام کی گزرگاہ ہے۔ میں بسم اﷲکرکے اور اﷲ کے بھروسے پر بیٹھ گیا۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنے کرم سے نوازا۔ یہ ان کی رحمت ہے‘‘۔۔۔۔۔ 
ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ حضور خواجہ غریب نوازؒ تشریف لائے۔ کچھ دیر پاکستان کے بارے میں گفتگو فرماتے رہے پھر ارشاد ہوا ’’میں پاکستان دیکھنا چاہتا ہوں‘‘۔۔۔۔۔یہ کہہ کر حضور داتا صاحبؒ کھڑے ہوگئے۔ مجھے بھی ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔ ہم تینوں نے پرواز کی اور ہوا میں معّلق ہوگئے۔ فضا میں     بے شمار فرشتے گروہ در گروہ بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ فرشتوںکے جسم سے ٹیوب لائٹ کی طرح روشنیاں پھوٹ رہی تھیں یا  یوں کہئے کہ ایسے نظر آرہے تھے جیسے ٹیلی وژن پر روشنیوں میں ڈھلے ہوئے انسان نظر آتے ہیں۔ یہ محض تشبیہہ ہے ورنہ فرشتوں کے اندر سے پھوٹنے والی روشنی میں چاندنی جیسی لطافت ہوتی ہے۔ ایک خاص بات میں نے یہ دیکھی کہ جب میں نے فرشتوں کو غور سے دیکھا تو ان کے جسم کی لہریں مجھے اپنے اندر منتقل ہوتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ ان بزرگانِ عظام کا جہاں جہاں گزر ہوا یہ سب فرشتے آداب بجا لائے اور مصافحہ کیا۔ حضور خواجہ غریب نوازؒ نے فرشتوں سے استفسار فرمایا ’’جو کام تمہارے سپرد کیا ہے اس کے بارے میں ہمیں تفصیل بتائو‘‘۔
ایک فرشتہ آگے بڑھا، اور عرض کیا ’’ہمیں یہ پروگرام دیا گیا ہے کہ ہم اہلِ پاکستان کو ترغیب دیں کہ وہ برائیوں کو چھوڑ کر انسانیت کا چلن اختیار کریں۔ مگر ہمارے ترغیبی پروگرام میں ان کا ذہن مرکوز نہیں ہوتا۔ اب تک ہماری سب کوششیں لاحاصل رہی ہیں‘‘۔
حضور گنج بخش داتا صاحبؒ اور حضور خواجہ غریب نوازؒ نے فرشتوں سے ترغیب کے اسلوب پر گفتگو کی اور رُخصت ہوگئے۔ 
حضور خواجہ غریب نوازؒ کے جسمِ اطہر سے لہریں پھوٹ کر نکل رہی تھیں اور یہ نورانی لہریں سارے علاقے کو سیراب کر رہی تھیں۔ گشت ختم ہونے کے بعد دونوں بزرگوں نے گفتگو فرمائی جو میرے حافظہ میں محفوظ نہیں رہی۔ احساس یہی ہے کہ پاکستانی عوام کے بارے میں صلاح مشورہ کیا گیا ہے۔ 
یہاں سے میں خواجہ غریب نوازؒ کی معیت میں اجمیرشریف گیا۔ وہاں محبوب الاولیاء حضرت خواجہ نظام الدینؒ اور حضور علی احمد صابر کلیریؒ سے شرفِ باریابی حاصل ہوا۔ کچھ دیر ان بزرگوں کی خدمت میں حاضر رہا۔ پھر سلام کرکے اپنی جگہ واپس آگیا اور کیفیت ٹوٹ گئی۔

========================================================================

دوسرا طوفانِ نوح

جاوید احمد

دنیا کا موسم تبدیل ہوچکا ہے۔ گرمی کی شدّت بڑھ گئی ہے۔ یہاں تک کہ قطب شمالی اور قطب جنوبی کے برفانی علاقے تپتے ہوئے ریگستان میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ آندھی اور طوفانوں کے ساتھ زلزلوں کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے، کبھی کبھی اس میں اتنی شدّت ہوجاتی ہے کہ زمین ایک جہاز کی طرح ہچکولے کھانے لگتی ہے۔
سائنسدان اور ماہرینِ فلکیات اس صورتِ حال سے پریشان ہیں اور اس کے اسباب کا کھوج لگانے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ رصد گاہوں میں طاقتور  دُور بین کام کر رہی ہیں اور سورج میں پیدا ہونے والے دھبّوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔کچھ عرصہ بعد اطلس کی بلند چوٹی پر قائم ایک رصدگاہ سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ آسمان پر چکر  لگانے والے سیاروں کے درمیان ایک ہلکی سی نیلی روشنی نظر آرہی ہے جو روزانہ تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ دنیا کی دوسری رصدگاہوں نے اس کی تردید کی ہے اور نہ تائید۔ چاروں طرف خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ اس عالم میں کئی ماہ گزر چکے ہیں اور پھر ڈاکٹر چارلس کا ایک مضمون شائع ہوا جس میں اُس نے تازہ ترین مشاہدات بیان کئے ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ ’’نیلی روشنی جو چند ماہ پہلے نظر آئی تھی، اب واضح ہوگئی ہے۔ یہ روشنی ایک سیارے کی ہے جو برق رفتاری سے زمین کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کی رفتار تقریباً سات سو میل فی سیکنڈ ہے۔ یہ سیارہ ہماری زمین سے صرف چند کھرب میل کے فاصلے پر ہے۔ جسامت کے اعتبار سے سورج کے چوتھائی حصے کے برابر اور  زمین سے تین لاکھ گناہ بڑا ہے۔ اس کی موجودہ رفتار  برقرار رہی تو چند سالوں میں ہماری زمین سے آٹکرائے گا۔
چند سال بعد یہ سیارہ ہمارے آسمان کا ایک روشن ستارہ بن جائے گا اور اس کی حدت بھی محسوس ہونے لگے گی اور پھر ایک دن ایسا بھی آئے گا جب اس کی حدّت سے زمین پر تباہی پھیل جائے گی۔ ہمارے نظامِ شمسی میں غیرمعمولی اور حیرت انگیز واقعات ہوں گے۔ سمندروں میں ایسے طوفان اُٹھیں گے کہ ساحلی علاقے میلوں تک پانی میں ڈوب جائیں گے۔ گرمی کی شدّت سے قطب شمالی اور قطب جنوبی کی برف پگھل جائے گی۔ ایٹمی ہتھیار اپنے پوشیدہ ذخیروں میں اس گرمی کی وجہ سے پڑے پڑے پھٹ جائیں گے اور زمین پر تباہی کا دائرہ اور زیادہ پھیل جائے گا۔ ممکن ہے کہ یہ نیا سیارہ، زمین اور سورج آپس میں ٹکرا جائیں گے اگر نہ بھی ٹکرائے تو بھی اس دوران اور سیارہ گزر جانے کے بعد ہماری زمین قیامت کی حالت سے دوچار رہے گی، پانی خشک ہوجائے گا۔ ہریالی کا نام و نشان باقی نہیں رہے گا۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے، زمین جگہ جگہ سے پھٹ جائے گی اور اس قدر  وسیع شگاف پڑجائیں گے کہ بڑے بڑے شہر اس کے اندر سماکر نیست و نابود ہوجائیں گے‘‘۔۔۔۔۔
اپنے مضمون کے آخر میں ڈاکٹر چارلس نے لکھا ہے کہ اس ہولناک تباہی سے بچنے کے لئے انسان کے پاس صرف ایک صورت باقی ہے اور وہ یہ کہ زمین کی گہرائیوں میں مکانات تعمیر کئے جائیں اور ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے تباہ کردئیے جائیں تاکہ وہ سیّارے کی لائی ہوئی تباہی میں معاون نہ بن سکیں۔
ڈاکٹر کے اس مضمون کا مختلف اثر ہوا ہے۔ بعض نے اسے سستی شہرت کا ذریعہ سمجھا اور بعض نے اُسے بیسویں صدی کے روشن خیال انسان کے توہمات قرار دئیے ہیں۔ چار پانچ ماہ تک تو اس موضوع پر خوب بحث ہوتی رہی اور  اب پھر خاموشی چھا چکی ہے۔ دنیا ایک بار پھر اپنے راستے پر چلنے لگی ہے۔
دس برس بیت چکے ہیں۔ اب سیارہ نظر آنے لگا ہے۔ شمال کی جانب ہر شام کو نمودار ہوتا ہے۔ اس کی روشنی زہرہ سے بھی زیادہ تیز ہے اور اس میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اخبارات میں اس سے متعلق خبریں شائع ہونے لگی ہیں۔ ماہرینِ فلکیات اور سائنسدانوں نے اپنی پوری توجہ اُس کے مشاہدے پر لگادی ہے۔ اب اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں رہ گیا ہے کہ وہ سیارہ غیرمعمولی رفتار سے سیدھا زمین کی طرف آرہا ہے۔ موسم میں پہلے سے زیادہ حدّت پید اہوچکی ہے اور لوگوں کو اب خطرہ محسوس ہونے لگا ہے۔ ہر جگہ یہ مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے کہ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کی تدبیر کی جائے اور زمین دوز بستیاں تعمیر کی جائیں۔ بہت سے ممالک میں عوام اور حکومت کے درمیان جھگڑے بھی ہوچکے ہیں۔ انہی حالات میں مزید چار سال گزر گئے اور اب صرف چار سال باقی رہ گئے ہیں۔ ہر جگہ زمین دوز مکانات بنانے کی فکر ہونے لگی ہے۔ ترقی یافتہ قوموں نے اپنی ساری طاقت اور وسائل اس کام میں جھونک دئیے ہیں اور منصوبوں پر تیزی سے عمل ہورہا ہے۔
سیارہ زمین کی طرف بڑھتا جارہا ہے اور ساتھ ساتھ اس سے بچنے کی تیاریاں بھی ہورہی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک آدھا کام مکمل کرچکے ہیں۔ باقی دنیا سر توڑ جدوجہد کر رہی ہے۔ زمین کا حال یہ ہے کہ دن میں سورج چمکتا ہے اور  رات کو یہ سیارہ۔۔۔۔۔ اب تو سیارہ بھی ایک چھوٹا سا سورج لگنے لگا ہے اور زمین سے اس کا فاصلہ ستر ارب میل سے بھی کم رہ گیا ہے۔
اس دوران ڈاکٹر چارلس کا ایک اور مقالہ اخبارات میں شائع ہوا جس میں اُنہوں نے لکھا کہ سورج میں ہولناک طوفان برپا ہے اور اس میں آتشی سیال کی بڑی بڑی لہریں اُٹھ رہی ہیں، جن سے بخارات کے بادل بن رہے ہیں۔ اگر یہ بادل زمین تک پہنچ گئے تو زمین جل کر خاک ہوجائے گی۔ 
دوربینی مشاہدے سے یہ عجیب منظر دیکھنے میں آیا ہے کہ سیارے کی شعاعوں نے جو سیدھی سورج پر پڑ رہی ہیں گیس کے ان بادلوں کو روک لیا ہے۔ سورج اور سیارے کی اس کشمکش کے نتیجے میں زمین پر زلزلے ، آندھیاں اور طوفان بڑھ جائیں گے۔
ڈاکٹر چارلس کا مشاہدہ درست نکلتا ہے۔ زلزلوں، آندھیوں اور طوفانوں کی تباہ کاریاں روز کا معمول بن گئی ہیں۔ دنیا کے مختلف حصّوں سے زمین پھٹنے اور بڑے بڑے غاروں اور آبادیوں کے سمانے کی خبریں آنے لگی ہیں۔ ایٹمی ہتھیار پہلے ہی ناکارہ کئے جاچکے ہیں۔ ورنہ یہ تباہی لاکھوں گنا بڑھ سکتی تھی۔ بڑے بڑے شہر صفحۂ ہستی سے اس طرح مٹ چکے ہیں جیسے ان کا کبھی نام و نشان بھی نہیں تھا۔ زلزلوں کی شدّت کی وجہ سے برف کے بڑے بڑے ٹکڑے  پہاڑوں کی چوٹی سے جُدا ہوکر آبادیوں کو نگل چکے ہیں۔ برف کے ان سیلابوں نے چند منٹوں میں جیتے جاگتے شہروں کو ایسے چٹیل میدانوں میں تبدیل کردیا ، جہاں سوائے کیچڑ اور گدلے پانی کے کچھ نظر نہیں آتا۔
پھر سمندر نے یکایک جوش مارا اور شہر پر یورش کردی اور بڑے بڑے بازار دیکھتے ہی دیکھتے دریا بُرد ہوگئے۔ زمین جگہ جگہ سے شق ہوگئی اور مکانات، دکانیں، انسان، حیوان سب اس کے اندر غائب ہوگئے۔خشکی پر جہاں تک لہروں کی رسائی ہوسکی، تمام عمارتیں صاف ہوگئیں۔ 
اب سیارہ اتنا زیاہ قریب آچکا ہے کہ اس کی سطح صاف دکھائی دیتی ہے۔ تباہ کاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ زمین پر زندگی ناممکن نظر آتی ہے۔ لوگ زمین دوز پناہ گاہوں میں پناہ لے چکے ہیں۔ مواصلاتی نظام تباہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے ممالک ایک دوسرے سے کٹ چکے ہیں۔ رصدگاہوں سے آلات زمین دوز پناگاہوں میں اس طرح منتقل کردئیے گئے ہیں کہ اُوپر رونما ہونے والے حالات  و  واقعات ریکارڈ کرتے جائیں۔
ایک روز ڈاکٹر چارلس خوشی سے اُچھل پڑا  اور زور سے چیخا۔۔۔۔۔’’ ہم بچ گئے!!‘‘۔۔۔۔۔ رصدگاہ کے کارکن دوڑے دوڑے پہنچے تو اس نے زمین کے مدار کی تبدیلی کی خبر سنائی اور کہا کہ ’’زمین سیارہ کی دسترس سے باہر نکل چکی ہے‘‘۔۔۔۔۔ اور پھر چند گھنٹوں کے بعد دوربین کی آنکھ سے ایک عجب منظر دکھائی دیا۔ مشتری اُس سیارے کی راہ میں حائل ہوگیا اور پھر ان کا ٹکرائو ہوا۔ سیارے کا رُخ مزید تبدیل ہوگیا۔۔۔۔۔ اب مشتری کاایک بڑا حصہ آگ کی لپیٹ میں آچکا تھا۔ سورج کی تمازت اور مشتری کی شعاعوں نے زمین پر قیامت برپا کردی ہے اور زیرِ زمین کا درجہ حرارت ناقابلِ برداشت ہوگیا۔ 
شدید گرمی کی وجہ سے زمین جگہ جگہ سے پھٹ گئی۔ بعض زمین دوز پناہ گاہیں عُریاں ہوگئیں اور ان  میں پناہ لینے والے ہلاک ہوگئے۔ 
کہاں تو قیامت کی گرمی پڑ رہی تھی اور کہاں اچانک موسم تبدیل ہوگیا۔ موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔ ڈاکٹر چارلس اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ موسم کی یہ تبدیلی اور بے پناہ  بارش سورج اور سیارے کے درمیان اس جنگ کا نتیجہ ہے جو چند سال پہلے شروع ہوئی تھی اور ایک سال پہلے پورے عروج پر پہنچی۔ خدا کا شکر ہے کہ زمین تباہ ہونے سے بچ گئی اور ہم جو اتھاہ گہرائیوں میں چھپے ہوئے ہیں اس داستان کو سنانے کے لئے زندہ بچ گئے۔ حملہ آور سیارہ تین کروڑ میل کے فاصلے سے گزر چکا ہے۔
طوفان تھم چکے ہیں، زلزلوں کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے، آندھیوں کا زور ٹوٹ چکا ہے۔ لیکن زمین کی فضا   کو صاف ہونے میں کئی سال لگ جائیں گے اور جب  بچے کُھچے لوگ غاروں اور زمین دوز پناہ گاہوں سے نکل کر باہر آئیں گے تو ایک نئی دنیا ان کے سامنے ہوگی۔ زمین کا نقشہ بدل چکا ہے، جہاں پہاڑ تھے، اب وہاں سمندر لہریں مار رہا ہے، جہاں میدان تھے وہاں پہاڑ سر اُٹھائے کھڑے ہیں۔ بے شمار جزیرے غائب ہوچکے ہیں۔ فلک بوس عمارتیں اور شہر نیست و نابود ہوچکے ہیں۔ لوگ موٹروں اور ہوائی جہازوں کو بُھول چکے ہیں۔ سائنس کی ساری ترقیاں، ریڈیو، ٹی وی، لاسلکی نظام!۔۔۔۔۔ سب کے سب صفحۂ ہستی سے مٹ چکے ہیں اور انسان پھر اس جگہ کھڑا ہے جہاں سے اس نے ترقی کا آغاز کیا تھا۔ خود زمین کی گردش میں بہت تبدیلی آچکی ہے۔ دن رات برابر ہوچکے ہیں۔ گردش میں تیزی آچکی ہے اور اب یہ گردش چوبیس کے بجائے بائیس گھنٹوں میں پوری ہوجاتی ہے اور سال صرف 312 دن کا رہ گیا ہے۔
ان تبدیلیوں کے علاوہ ایک تبدیلی انسان کی زندگی میں بھی آجائے گی۔ وہ پہلے سے اب کہیں زیادہ خوش ہوگا کیونکہ وہ تمام جھگڑے، بین الاقوامی مسائل جن سے زندگی اجیرن تھی سب کے سب ختم ہوچکے ہیں۔


========================================================================

لوح و قلم

سالک مجذوب، مجذوب سالک

القاء دو علم پر مشتمل ہے۔ تصوف میں ایک کا نام حضوری اور دوسرے کا نام علم حصولی ہے۔
جب کوئی امر عالم تحقیق یعنی واجب، کلیات یا ’’جُو‘‘ کے مرحلوں میں ہوتا ہے اس وقت اس کا نام علم حضوری ہے۔ علم حضوری قرب فرائض اور قرب نوافل دونوں صورتوں میں سالک یا مجذوب کی منزل ہے۔ اکثر اہل تصوف کو سالک اور مجذوب کے معنی میں دھوکا ہوتا ہے۔ سالک کسی ایسے شخص کو سمجھا جاتا ہے جو ظاہری اعمال یا ظاہری لباس سے مزین ہو۔ یہ غلط ہے۔ کسی شخص کا واجبات اور مستحبات ادا کر لینا جن میں فرائض اور سنتیں بھی شامل ہیں۔ سالک ہونے کے لئے بالکل ناکافی ہے۔ صاحب سلوک ہونے کے لئے باطنی کیفیات کو بصورت افتادطبعی طورپر موجود ہونا یا بصورت اکتساب لطائف کا رنگ محبت اور توحید افعالی کا رنگ قبول کرنا شرط اول ہے۔ اگر کسی شخص کے لطائف میں حرکت نہیں ہے اور وہ توحید افعالی سے رنگین نہیں ہوئے ہیں تو اس کا نام سالک نہیں رکھا جا سکتا۔ کوئی شخص یہ سوال کر سکتا ہے کہ یہ رنگینی اور کیفیت کسی کے اپنے اختیار کی بات نہیں ہے۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ چیز اختیاری نہیں۔ اس لئے جو لوگ سلوک کو اختیاری چیز سمجھتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ البتہ سلوک کی راہوں میں کوشش امر اختیاری ہے۔
بادئ النظر میں اپنی کوشش کا نام سلوک رکھا جاتا ہے۔ لوگ اس شخص کو سالک کہتے ہیں جو اس راہ میں کوشاں ہو۔ فی الواقع سالک وہی ہے جس کے لطائف رنگین ہو چکے ہیں۔ اگر کسی کے لطائف رنگین نہیں ہوئے ہیں۔ اس کا نام سالک رکھنا صرف اشارہ ہے۔ لوگ منزل رسیدہ کو شیخ اورصاحب ولایت کہتے ہیں۔ حالانکہ منزل رسیدہ وہ ہے جس کے لطائف رنگین ہو چکے ہیں اور جس کے لطائف رنگین ہو چکے ہیں وہ صرف سالک کہلانے کا مستحق ہے۔ ایسا شخص شیخ یا صاحب ولایت کہلانے کا حق ہرگز نہیں رکھتا۔ شیخ یا صاحب ولایت اس شخص کو کہتے ہیں جو توحید افعال سے ترقی کر کے توحید صفائی کی منزل تک پہنچ چکا ہو۔
لفظ مجذوب کے استعمال میں اور اس کی معنویت اور تفہیم میں بھی اس ہی قسم کی شدید غلطیاں واقع ہوتی ہیں۔ لوگ پاگل اور بدحواس کو مجذوب کہتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں کسی پاگل یا دیوانہ کا نام ہی غیر مکلف اور مجذوب ہے۔ یہ ایسی غلطی ہے جس کا ازالہ القاء کے تذکرے میں کر دینا نہایت ضروری ہے۔ عام طور سے لوگ مجذوب سالک یا سالک مجذوب کے بارے میں بحث و تمحیص کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مجذوب سالک سے افضل اور اُولیٰ ہے لیکن وہ یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ مجذوب سالک کون ہے اور سالک مجذوب کون ہے۔ یہاں اس کی شرح بھی ضروری ہے۔
مجذوب صرف اس شخص کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کھینچ لیا ہو۔ مجذوب کو جذب کی صفت قرب فرائض یا قرب و جود کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اس صفت کے حصول میں قرب نوافل کو ہرگز کوئی دخل نہیں۔
جذب کسی ایسے شخص کی ذات میں واقع ہوتا ہے جو توحید افعالی یعنی لطائف کی رنگینی سے جست کر کے یک بیک توحید ذاتی کی حد میں داخل ہو جائے اسے توحید صفاتی کی منزلیں طے کرنے اور توحید صفاتی سے روشناس ہونے کا موقع نہیں ملتا۔
جس شخص کی روح میں فطری طور پر انسلاخ واقع ہوتا ہے اس کو لطائف کی رنگین کرنے کی جدوجہد میں کوئی خاص کام نہیں کرنا پڑتا یعنی کسی خاص واقعہ یا حادثہ کے تحت جو محض ذہنی فکر کی حدود میں رونما ہوا ہے، اس کے باطن میں توحید افعالی منکشف ہو جاتی ہے۔ وہ ظاہری اور باطنی طور پر کسی علامت کے ذریعے یا کوئی نشانی دیکھ کر یہ سمجھ جاتا ہے کہ پس پردہ نور غیب میں ایک تحقق موجود ہے اور اس تحقق کے اشارے پر عالم مخفی کی دنیا کام کر رہی ہے اور اس عالم مخفی کے اعمال و حرکات و سکنات کا سایہ یہ کائنات ہے۔ قرآن پاک میں جہاں اس کا تذکرہ ہے کہ اللہ اسے اُچک لیتا ہے وہ اس ہی کی طرف اشارہ ہے۔
ذات باری تعالیٰ سے نوع انسانی یا نوع اجنہ کا ربط دو طرح پر ہے۔ ایک طرح جذب کہلاتی ہے اور دوسری طرح علم۔ صحابۂ کرامؓ کے دور میں اور قرون اُولیٰ میں جن لوگوں کو مرتبۂ احسان حاصل تھا، ان کے لطائف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت سے رنگین تھے۔ انہیں ان دونوں قسم کے ربط کا زیادہ علم نہیں تھا۔ ان کی توجہ زیادہ تر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق غور و فکر میں صرف ہوتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے روحانی قدروں کے جائزے زیادہ نہیں لئے کیونکہ ان کی روحانی تشنگی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اقوال پر توجہ صرف کرنے سے رفع ہو جاتی تھی۔ ان کو احادیث میں بہت زیادہ شغف تھا۔ اس انہماک کی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ان لوگوں کے ذہن میں احادیث کی صحیح ادبیت، ٹھیک ٹھیک مفہوم اور پوری گہرائیاں موجود تھیں۔ احادیث پڑھنے کے بعد اور احادیث سننے کے بعد وہ احادیث کے انوار سے پورا استفادہ کرتے تھے۔ اس طرح انہیں الفاظ کے نوری تمثلات کی تلاش کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ وہ الفاظ کے نوری تمثلات سے، بغیر کسی تعلیم اور بغیر کسی کوشش کے، روشناس تھے۔
جب مجھے عالم بالا کی طرف رجوع کرنے کے مواقع حاصل ہوئے تو میں نے یہ دیکھا کہ صحابۂ کرامؓ کی ارواح میں ان کے ’’عین‘‘
قرآن پاک کے انوار اور احادیث کے انوار یعنی نور قدس اور نور نبوت سے لبریز ہیں۔ جس سے میں نے اندازہ لگایا کہ ان کو لطائف کے رنگین کرنے میں جدوجہد نہیں کرنا پڑتی تھی۔ اس دور میں روحانی قدروں کا ذکر و فکر نہ ہونا اور اس قسم کی چیزوں کا تذکروں میں نہ پایا جانا غالباً اس ہی وجہ سے ہے۔ البتہ تبع تابعین کے بعد لوگوں کے دلوں سے قرآن پاک کے انوار اور احادیث کے انوار معدوم ہونے لگے۔ اس دور میں لوگوں نے ان چیزوں کی تشنگی محسوس کر کے وصول اِلی اللہ کے ذرائع تلاش کئے۔ چنانچہ شیخ نجم الدین اور ان کے شاگرد مثلاً شیخ شہاب الدین سہروردیؒ ، خواجہ معین الدین چشتیؒ ایسے لوگ تھے جنہوں نے قرب نوافل کے ذریعے وصول اِلی اللہ کی طرزوں میں لاشمار اختراعات کیں اور طرح طرح کے اذکار و اشغال کی ابتدا کی۔ یہ چیزیں شیخ حسن بصریؒ کے دور میں نہیں ملتیں۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے وہ ربط تلاش کیا جس کو علمی ربط کہا جا سکتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات کے جاننے میں ان لوگوں نے انہماک حاصل کیا اور پھر ذات کو سمجھنے کی قدریں قائم کیں۔ اس ہی ربط کا نام صوفی لوگ ’’نسبت علمیہ‘‘ کہتے ہیں کیونکہ اس ربط یا نسبت کے اجزاء زیادہ تر جاننے پر مشتمل ہیں۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ کی صفات کو سمجھنے کے لئے کوئی صوفی فکر کا اہتمام کرتا ہے۔ اس وقت وہ معرفت کی ان راہوں پر ہوتا ہے جو ذکر کے ساتھ فکر کے اہتمام سے لبریز ہوتی ہیں۔ اس حالت میں کہہ سکتے ہیں کہ کسی ایسے سالک کو
’’نسبت علمیہ‘‘ حاصل ہے۔ یہ راستہ یا نسبت، جذب کے راستے یا نسبت سے بالکل الگ ہے۔ اس ہی لئے اس راستے کو قرب نوافلکہتے ہیں۔
خواجہ بہاؤالدین نقشبندیؒ اور حضرت غوث الاعظمؒ کے علاوہ جذب سے اس دور کے کم لوگ روشناس ہوئے۔

نسبت کا بیان

نسبت اویسیہ

نسبت اویسیہ کا انکشاف پہلے پہل حضرت غوث الاعظمؒ کے طریق میں ہوا جس کی مثال پانی کے ایسے چشمے سے دی جا سکتی ہے جو کسی پہاڑ کے اندر یا کسی میدان میں یکایک پھوٹ پڑے اور کچھ دور بہہ کر پھر زمین میں جذب ہو جائے اور مخفی طور پر زمین کے اندر بہتے بہتے پھر کسی جگہ فوارہ صفت پھوٹ نکلے۔ علیٰ ہذالقیاس حضرت غوث الاعظمؒ کے بعد یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔ لوگ اس ہی نسبت کو نسبت اویسیہ کہتے ہیں۔ اس نسبت کا فیضان مخفی طور سے یا تو ملاء اعلیٰ کے ذریعے یا پھر انبیاء کی ارواح کی معرفت یا قرب فرائض کے اولیائے سابقین کی روحوں کے واسطے سے ہوتا ہے۔

نسبت سُکینہ

یہ نسبت اول جذب، پھر عشق اور پھر سُکینہ کی نسبتوں کے مجموعے پر مشتمل ہے۔ سکینہ وہ نسبت ہے جو اکثر صحابہ کرامؓ کو حاصل تھی۔ یہ نسبت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت کے ذریعے نور نبوت کے حصول سے پیدا ہوتی ہے۔

نسبت عشق

جب قلب انسانی میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور احسان کا ہجوم ہوتا ہے اور انسان قدرت کے عطیات میں فکر کرتا ہے، ا س وقت نور اللہ کے تمثلات بار بار طبیعت انسانی میں موجزن ہوتے ہیں۔ یہاں سے اس ربط یا نسبت عشق کی داغ بیل پڑ جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ اس نسبت کے باطنی انہماک کی کیفیتیں رونما ہونے لگتی ہیں پھر ان لطیفوں یا روشنی کے دائروں پر جو انسانی روحوں کو گھیرے ہوئے ہیں روشنی کا رنگ چڑھنے لگتا ہے۔ یعنی ان دائروں میں انوار الٰہیہ پے در پے پیوسط ہوتے رہتے ہیں۔ اس طرح نسبت عشق کی جڑیں مستحکم ہو جاتی ہیں۔

نسبت جذب

اس نسبت کا تیسرا جزو نسبت جذب ہے۔ یہ وہ نسبت ہے جس کو تبع تابعین کے بعد سب سے پہلے خواجہ بہاء الحق والدین نقشبندی نے نشانِبے نشانی کا نام دیا ہے۔ اس ہی کو نقشبندی جماعت یادداشت کا نام دیتی ہے جب عارف کا ذہن اس سمت میں رجوع کرتا ہے جس سمت میں ازل کے انوار چھائے ہوئے ہیں اور ازل سے پہلے کے نقوش موجود ہیں۔ تو یہی نقوش عارف کے قلب میں بار بار دور کرتے ہیں اور صرف ’’وحدت‘‘ فکرِ عارف کا احاطہ کر لیتی ہے۔ اور ہر طرف ’’ہوئیت‘‘ کا تسلط ہو جاتا ہے تو یہاں سے اس نسبت کی شعاعیں روح پر نزول کرتی ہیں۔ جب عارف ان میں گھر جاتا ہے اور کسی طرف نکلنے کی راہ نہیں پاتا تو عقل و شعور دست بردار ہو کر خود کو اس نسبت کی روشنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔


========================================================================

ٹیلی پیتھی

طفیل اے۔ شیخ، لاہور۔ 
سوال : میری عمر اس وقت ساٹھ برس ہے۔ ٹیلی پیتھی اور دیگر مخفی علوم پر میری گہری نظر ہے ۔ اور ان علوم پر میں نے تمام ملکی اور غیر ملکی مصنفین کو کھنگال ڈالا ہے لیکن ٹیلی پیتھی کے عنوان کے تحت جو کچھ آپ نے تحریر کیا ہے اتنی مدلل، اتنی جامع اور ایسی روشن تحریر آج تک میری نظر سے نہیں گزری۔ 
اب جب کہ میں محاورۃً نہیں بلکہ حقیقتاً قبر میں پیر لٹائے بیٹھا ہوں میں آپ سے ایک مشورہ طلب کرنا چاہتا ہوں کہ میں اس عمر میں ٹیلی پیتھی کی مشقیں کیا کرسکتا ہوں؟ آپ جانتے ہیں کہ اس عمر کو پہنچتے پہنچتے  کوئی شوق برقرار نہیں رہتا۔ میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے لیکن اگر کوئی چیز نہیں ہے تو وہ ذہنی سکون ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ ٹیلی پیتھی کی مشقوں سے دماغی خلیوں کی شکست و ریخت کم ہوجاتی ہے۔ خیالات خود بخود سدھر جاتے ہیں اور بے اطمینانی ختم ہوجاتی ہے۔ کیا یہ اثرات عمر کے ہر حصہ میں مرتب ہوسکتے ہیں ؟ نیز یہ کہ ساٹھ برس کی عمر میں یہ مشقیں  دل و دماغ کے لیے نقصان دہ تو نہیں ہوں گی؟ للہ آپ مجھے ان مشقوں کی اجازت مرحمت فرمادیں۔ 
ایک سوال اور پوچھنا چاہتا ہوں۔ 
کیا ہمارے خیالات کا تبادلہ  انسانوں کی طرح جنات، فرشتوں اور حیوانات سے بھی ہوتا ہے، نیز کیا ہم اپنے تفکر سے عالمِ اسباب کے علاوہ دوسرے نظام ہائے شمسی میں بھی تصرف کرسکتے ہیں اور کیا روشنیاں (خیالات) اپنی الگ الگ طبیعت، ماہیئت اور رجحانات رکھتی ہیں؟

جواب: بابا تاج الدین ناگپوری ؒ صرف خصوصی مسائل ہی میں نہیں بلکہ عام حالات میں بھی گفتگو کے اندر ایسے مرکزی نقطے بیان کرجاتے تھے جو براہِ راست قانونِ قدرت کی گہرائیوں سے ہم رشتہ ہیں۔ بعض اوقات اشاروں اشاروں ہی میں وہ ایسی بات کہہ جاتے ہیں جس میں کرامتوں کی علمی توجیہہ ہوتی  اور سننے والوں کی آنکھوں  کے سامنے یکبارگی کرامت کے اصولوں کا نقشہ آجاتا ۔ کبھی کبھی ایسا معلوم ہوتا کہ ان کے ذہن سے تسلسل کے ساتھ سننے والوں کے ذہن میں روشنی کی لہریں منتقل ہورہی ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ بالکل خاموش بیٹھے ہیں اور حاضرین من و عن ہر وہ بات اپنے ذہن میں سمجھتے  اور محسوس کرتے جارہے ہیں جو نانا ؒ کے ذہن میں اس وقت گشت کررہی ہے۔ بغیر توجہ دیے بھی ان کی غیر ارادی توجہ لوگوں کے اوپر عمل کرتی رہتی تھی۔ بعض لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ ہم نے بابا صاحب کے اس طرزِ ذہن سے بہت زیادہ فیضان حاصل کیا ہے۔ یہ بات تو بالکل ہی عام تھی  کہ چند آدمیوں کے ذہن میں کوئی بات آئی اور نانا ؒ نے اس کا جواب دے دیا۔ 

انسان ، فرشتے اور جنات :

مرہٹہ راجہ راگھو راؤ ان سے غیر معمولی عقیدت رکھتا تھا۔ ان کی خدمت میں حاضر ہوتا اور کوئی درخواست کرتا تو اس طرح جیسے دیوتاؤں کے حضور میں۔ یہاں وہ چند باتیں پیش کی جاتی ہیں جو میری موجودگی راجہ اور نانا رحمۃ اللہ علیہ میں ہوا کرتی تھی۔ ان اوقات میں کوئی اور صاحب بھی سوال کرلیا کرتے تھے اور پوری مجلس جواب سے مستفیض ہوتی۔ ایک مرتبہ مہاراجہ نے سوال کیا ’’بابا صاحب! ایسی مخلوق جو نظر نہیں آتی مثلاً فرشتے  یا جنات، خبر متواتر حیثیت رکھتی ہے۔ جتنی آسمانی کتابیں ہیں میں اس قسم کی مخلوق کے تذکرے ملتے ہیں ۔ ہر مذہب میں بدروحوں کے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ کہا گیا ہے لیکن عقلی اور علمی توجیہات نہ ہونے سے ذی فہم انسانوں کو سوچنا پڑتا ہے۔ وہ یہ کہتے ہوئے رُکتے ہیں کہ ہم سمجھ گئے۔ تجربات جو کچھ زبان زد ہیں  وہ انفرادی ہیں، اجتماعی نہیں۔ آپ اس مسئلہ پر ارشاد فرمائیں۔ 
نانا رحمۃ اللہ علیہ نے اس باب میں جو کچھ فرمایا وہ فقط تبصرہ نہیں بلکہ میرے اندازے میں ایسے الہامات کا مجموعی ہے، قدرت نے ان کی ذات کو جن کا مرکز بنایا تھا۔ صاحبِ فراست  انسانوں کے لیے یہ ملفوظات حد درجہ محفلِ تفکر ہیں ۔ ان کے جواب سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ قدرت اوران کے ذہن کی سطح قریب قریب ایک ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ مسئلہ کی وضاحت جن خیالات  کے ذریے کی گئی ہے وہ قدرت کے رازوں میں کس طرح سمائے ہوئے ہیں ۔ جس وقت یہ سوال کیا گیا نانا تاج الدین ؒ لیٹے ہوئے تھے۔ ان کی نگاہ اوپر تھی ۔ فرمانے لگے میاں رگھو راؤ! ہم سب جب سے پیدا ہوئے ہیں ستاروں کی مجلس کو دیکھتے رہتے ہیں۔ شاید ہی کوئی رات ایسی ہو کہ ہماری نگاہیں آسمان کی طرف نہ اُٹھتی ہوں۔ بڑے مزے کی بات ہے، کہنے میں یہی آتا ہے کہ سارے ہمارے سامنے ہیں، ستاروں کو ہم دیکھ رہے ہیں، ہم آسمانی دنیا سے روشناس ہیں۔ لیکن ہم کیا دیکھ رہے ہیں اور ماہ و انجم کی کون سی دنیا سے روشناس ہیں اس کی تشریح ہمارے بس کی بات نہیں۔ جو کچھ کہتے ہیں قیاس آرائی سے زیادہ نہیں ہوتا۔ 
پھر بھی سمجھتے یہی ہے ہیں کہ ہم جانتے ہیں۔ زیادہ حیرت ناک بات یہ ہے کہ جب ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ انسان کچھ نہ کچھ جانتا ہے تو یہ قطعاً نہیں سوچتے کہ اس دعوے کے اندر حقیقت ہے یا نہیں۔ فرمایا جو کچھ میں نے کہا، اُسے سمجھو، پھر بتاؤ کو انسان کا علم کس حد تک مفلوج ہے۔ انسان کچھ نہ جاننے کے باوجود اس کا یقین رکھتا ہے کہ میں بہت کچھ جانتا ہوں۔ یہ چیزیں  دو پرے کی ہیں۔ جو چیزیں ہر وقت انسان کے تجربے میں ہیں ان پر بھی ایک نظر ڈالتے جاؤ۔ دن طلوع ہوتا ہے۔ دن کا طلوع ہونا کیا شے ہے، ہمیں نہیں معلوم۔ طلوع ہونے کا مطلب کیا ہے ہم نہیں جانتے۔ دن رات کیا ہیں ان کے بارے میں اتنی بات کہہ دی جاتی ہے کہ یہ دن ہے اور اس کے بعد رات آتی ہے۔ نوعِ انسانی کا یہی تجربہ ہے۔ 
میاں رگھو راؤ! ذرا سوچو کیا سنجیدہ طبیعت انسان اس جواب پر مطمئن ہوجائے گا؟ دن رات فرشتے نہیں ہیں، جنات نہیں ہیں۔ پھر بھی وہ مظاہر ہیں جن سے ایک فرد واحد بھی انکار نہیں کرسکتا۔ تم اتنا کہہ سکتے ہو کہ دن رات کو نگاہ دیکھتی ہے۔ اس لیے قابلِ یقین ہے۔ لیکن یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ نگاہ کے ساتھ فکر بھی کام کرتی ہے۔ اگر نگاہ کے ساتھ فکر کام نہ کرے تو زبان نگاہ کے بارے میں کچھ نہیں بتاسکتی۔  نگاہ اور فکر کا عمل ظاہر ہے۔ دراصل سارے کا سارا عمل تفکر ہے۔ نگاہ محض ایک گونگا ہیولا ہے۔ فکر ہی کے ذریعے تجربات عمل میں آتے ہیں۔ تم نگاہ کو تمام حواس پر قیاس کرلو۔ سب کے سب گونگے، بہرے اور اندھے ہیں ۔ تفکر ہی حواس کو سماعت اور بصارت دیتا ہے۔ سمجھا یہ جاتا ہے  کہ حواس تفکر سے الگ کوئی چیز ہیں۔ حالانکہ تفکر سے الگ ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ انسان محض تفکرہے۔ فرشتہ محض تفکر ہے، جن محض تفکر ہے۔ علی ٰ ہذاالقیاس ہر ذی ہوش تفکر ہے۔ 
فرمایا کہ اس گفتگو میں ایک ایسا مقام آجاتا ہے جہاں کائنات کے کئی راز منکشف ہوجاتے ہیں۔ غور سے سنو۔ ہمارے تفکر میں بہت سی چیزیں اُبھرتی رہتی ہیں۔ دراصل وہ باہر سے آتی ہیں۔ انسان کے علاوہ کائنات میں اور جتنے تفکر ہیں جن کا تذکرہ اوپر کیا گیا ہے، فرشتے اور جنات ، ان سے انسان کا تفکر بالکل اسی طرح متاثر ہوتا رہتا ہے جس طرح انسان خود اپنے تفکر سے متاثر ہوتا ہے۔ قدرت کا چلن یہ ہے کہ وہ لامتناہی تفکر سے تناہی تفکر کو فیضان پہنچاتی رہتی ہے۔ پوری کائنات میں اگر قدرت کا یہ فیضان  جاری نہ ہو تو کائنات کے افراد کا درمیانی رشتہ کٹ جائے۔ ایک تفکر کا دوسرے تفکر کو متاثر کرنا بھی قدرت کے اس طرزِ عمل کا ایک جزو ہے۔ انسان پابہ ِ گل ہے، جنات پابہ ہیولیٰ ہیں۔ فرشتے پابہ نور۔ یہ تفکر تین قسم کے ہیں اور تینوں کائنات ہیں۔ اگر یہ تینوں مربوط نہ رہیں اور ایک تفکر کی لہریں دوسرے تفکر کو نہ ملیں تو ربط ٹوٹ جائے گا اور کائنات منہدم ہوجائے گی۔ 
ثبوت یہ ہے کہ ہمارا تفکر ہیولیٰ اور ہیولیٰ قسم کے تمام جسموں سے فکری طور پر روشناس ہے۔ ساتھ ہی ہمارا تفکر نور اور نور کی ہر قسم سے بھی فکری طور پر روشناس ہے۔ حالانکہ  ہمارے اپنے تفکرات کے تجربات پابہ گل ہیں۔ اب یہ بات واضح ہوگئی کہ ہیولیٰ اور نور کے تجربات اجنبی تفکر سے ملے ہیں۔ 
عام زبان میں تفکر کو انا کا نام دیا جاتا ہے۔ اور انا یا تفکر ایسی کیفیات کا مجموعہ ہوتا ہے جن کو مجموعی طور پر فرد کہتے ہیں۔ اس طرح کی تخلیق ستارے بھی ہیں اور ذرّے بھی ۔ ہمارے شعور میں یہ بات یا تو بالکل نہیں آتی  یا بہت کم آتی ہے کہ تفکر کے ذریعے ستاروں ، ذرّوں اور تمام مخلوق سے ہمارا تبادلۂ خیال ہوتا رہتا ہے۔ ان کی انا یعنی تفکر کی لہریں ہمیں بہت کچھ دیتی ہیں اور ہم سے بہت کچھ لیتی ہیں ۔ تمام کائنات اس وضع کے تبادلۂ خیال کا ایک خاندان ہے۔ مخلوق میں فرشتے اور جنات ہمارے لیے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ تفکر کے اعتبار سے ہمارے زیادہ قریب ہیں اور تبادلہ ٔ خیال کے لحاظ سے ہم سے زیادہ مانوس ہیں۔ 
نانا تاج الدین ؒ اس وقت ستاروں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کہنے لگے کہکشانی نظاموں اور ہمارے درمیان بڑا مستحکم رشتہ ہے۔ پے درپے جو خیالات ہمارے ذہن میں آتے ہیں وہ دوسرے نظاموں اور ان کی آبادیوں سے ہمیں موضوع ہوتے رہتے ہیں۔ یہ خیالات روشنی کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں۔ روشنی کی چھوٹی بڑی شعاعیں خیالات کے لاشمار تصویرخانے لے کر آتی ہیں۔ ان ہی تصویر خانوں کو ہم اپنی زبان میں توہم، تخیل، تصور اور تفکر وغیرہ کا نام دیتے ہیں۔ سمجھا یہ جتا ہے کہ یہ ہماری اپنی اختراعات  ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ بلکہ تمام مخلوق کی سوچنے کی طرزیں  ایک نقطہ ٔ مشترک رکھتی ہیں۔ وہی نقطۂ مشترک تصویر خانوں کو جمع کرکے ان کا علم دیتا ہے۔ یہ علم نوع اور فرش کے شعور پر منحصر ہے۔ شعور جو اسلوب اپنی انا کی مقدار کے مطابق قائم کرتا ہے تصویر خانے نے اس ہی اسلوب کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔ 
اس موقع پر یہ بتادینا ضروری ہے کہ تین نوعوں کے طرزِعمل میں زیادہ اشتراک ہے۔ ان ہی کا تذکرہ قرآن پاک میں انسان، فرشتہ اور جنات کے نام سے کیا گیا ہے۔ یہ نوعیں کائنات کے اندر سارے کہکشانی نظاموں میں پائی جاتی ہیں۔ قدرت نے کچھ ایسا نظام قائم کیا ہے جس میں یہ تینوں تخلیق کا رُکن بن گئی ہیں۔ ان ہی کے ذہن سے تخلیق کی لہریں معین مسافت طے کرکے معین مقدار پر پہنچتی ہیں تو کائناتی مظاہر کی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔ 
ایک انسان ہزاروں جسم :
میں یہ کہہ چکا ہوں کہ تفکر، انا اور شخص ایک ہی چیز ہے۔ الفاظ کی وجہ سے ان میں معنی کا فرق نہیں کرسکتے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخریہ انا، تفکر اور شخص ہیں کیا؟ یہ وہ ہستی ہیں جو لاشمار کیفیات کی شکلوں اور سراپا سے بنی ہیں۔ مثلاً بصارت، سماعت ، تکلم، محبت، رحم ، ایثار، رفتار، پرواز وغیرہ۔ ان میں ہر ایک کیفیت ایک شکل اور ایک سراپا رکھتی ہے۔ قدرت نے ایسے بے حساب سراپا لے کر ایک جگہ اس طرح جمع کردیے ہیں کہ الگ الگ پرت ہونے کے باوجود ایک جان ہوگئے ہیں۔ ایک انسان کے ہزاروں جسم ہوتے ہیں۔ علی القیاس جنات اور فرشتوں کی بھی یہی ساخت ہے۔ یہ تینوں ساخت اس لیے مخصوص ہیں کہ ان میں کیفیات کے پرت دوسری انواع سے زیادہ ہیں۔ 
انسان لاشمار سیّاروں میں آباد ہیں اور ان کی قسمیں کتنی ہیں اس کا اندازہ قیاس سے باہر ہے۔ یہی بات جنات اور فرشتے کے بارے میں کہہ سکتے ہیں۔ انسان ہوں، جنات یا فرشتے ، ان کے سراپا کا ہر فرد ایک پائندہ کیفیت ہے۔ کسی پرت کی زندگی جلی ہوتی ہے یا خفی۔ جب پرت کی حرکت جلی ہوتی ہے تو شعور میں آجاتی ہے۔ خفی ہوتی ہے تو لاشعور میں رہتی ہے۔ جلی حرکت کے نتائج کو انسان اختراع و ایجاد کہتا ہے لیکن خفی حرکت کے نتائج شعور میں نہیں آتے۔ حالانکہ وہ عظیم الشان اور مسلسل ہوتے ہیں۔ یہاں یہ راز غور طلب ہے کہ ساری کائنات خفی حرکت کے نتیجے میں رونما ہونے والے مظاہر سے بھری پڑی ہے۔ البتہ یہ مظاہر محض انسانی لاشعور کی پیداوار نہیں ہیں۔ انسان کا خفی کائنات کے دور دراز گوشوں سے مسلسل ربط قائم نہیں رکھ سکا۔ اس کمزوری کی وجہ انسان کے اپنے خصائل ہیں۔ اس نے اپنے تفکر کو کسی مقصد کے لیے پابہ گل کیا ہے، یہ بات اب تک نوعِ انسان کے شعور سے ماورا ہے۔ کائنات میں جو تفکر کام کررہا ہے اس کا تقاضہ کوئی مخلوق پورا نہیں کرسکی جو زمانی، مکانی فاصلوں کی گرفت میں بے دست و پا ہو۔ 
کائنات زمانی مکانی فاصلوں کا نام ہے۔ یہ فاصلے اَنا کی چھوٹی بڑی مخلوط لہروں سے بنتے ہیں۔ ان لہروں کا چھوٹا بڑا ہونا ہی تغیر کہلاتا ہے۔ دراصل زمان اور مکان دونوں اسی لہر کی صورتیں ہیں۔ دخان جس کے بارے میں دنیا بہت کم جانتی ہے اس مخلوط کا نتیجہ اور مظاہر کی اصل ہے۔ یہاں دخان سے مراد دھواں نہیں ہے۔ دھواں نظر آتا ہے اور دخان ایسا دھواں ہے جو نظر نہیں آتا۔ انسان مثبت دخان کی اور جنات منفی دخان کی پیداوار ہیں۔ رہا فرشتہ ، ان دونوں کے ملخص سے بنا ہے۔ عالمین کے یہ تین اجزائے ترکیبی غیب و شہود کے بانی ہیں۔ ان کے بغیر کائنات کے گوشے امکانی تموّج سے خالی رہتے ہیں۔ نتیجہ میں ہمارا شعور اور لاشعور حیات سے دور نابود میں گم ہوجاتا ہے۔ ان تین نوعوں کے درمیان عجیب و غریب کرشمہ برسرِ عمل ہے ۔  مثبت دخان کی ایک کیفیت کا نام مٹھاس ہے۔ اس کیفیت کی کثیر مقدار انسانی خون میں گردش کرتی رہتی ہے۔ دخان کی منفی کیفیت نمکین ہے۔ اس کیفیت کی کثیر مقدار جنات میں پائی جاتی ہے۔ ان ہی دونوں کیفیتوں سے فرشتے بنے ہیں۔ اگر ایک انسان میں مثبت کیفیت کم ہوجائے اور منفی بڑھ جائے تو انسان میں جنات کی تمام صلاحیتیں  بیدار ہوجاتی ہیں اور وہ جنات کی طرح عمل کرنے لگتا ہے اگر کسی جن میں مثبت کیفیت بڑھ جائے تو اس میں ثقلِ وزن پیدا ہوجاتا ہے۔ فرشتہ پر بھی یہی قانون نافذ ہے۔ اگر مثبت اور منفی کیفیات معین سطح سے اوپر آجائیں تو مثبت کے زور پر وہ انسانی صلاحیت پیدا کرسکتا ہے اور منفی کے زور پر جنات کی۔ بالکل اسی طرح اگر انسان میں مثبت اور منفی کیفیات اور معین سطح سے کم ہوجائیں تو اس سے فرشتوں کے  اعمال صادر ہونے لگیں گے۔ 
طریقِ کار بہت آسان ہے۔ مٹھاس اور نمک کی معین مقداریں کم کرکے فرشتوں کی طرح زمانی مکانی فاصلوں سے وقتی طور پر آزاد ہوسکتے ہیں۔ محض مٹھاس کی مقدار کم کرکے جنات کی طرح زمانی  مکانی فاصلے کم کرسکتے ہیں۔ لیکن ان تدبیروں پر عمل پیرا ہونے کے لیے کسی روحانی انسان کی رہنمائی اشد ضروری ہے۔ 

شیر کی عقیدت:

 ایک دن واکی شریف کے جنگل پہاڑی بٹے پر چند لوگوں کے ہمراہ چرھتے چلے گئے۔ نانا رحمۃ اللہ علیہ مسکرا کر کہنے لگے ’’ یہاں جس کو شیر کا ڈر ہو وہ چلا جائے ۔ میں تو یہاں ذرا سی دیر آرام کروں گا۔ خیال ہے کہ شیر ضرور آئے گا۔ جتنی دیر قیام کرے اس کی مرضی۔ تم لوگ خواہ مخواہ انتظار میں مبتلا نہ  رہو۔ جاؤ، کھاؤ ، پیو اور مزہ کرو‘‘۔ 
بعض لوگ اِدھر اُدھر چھپ گئے اور زیادہ چلے گئے۔ میں نے حیات خاں سے کہا کیا ارادہ ہے۔۔۔۔؟ پہلے تو حیات خان سوچتا رہا۔ پھر زیرِ لب مسکرا کر خاموش ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے پھر سوال کیا ’’ چلنا ہے یا تماشہ دیکھنا ہے؟‘‘۔ 
’’بھلا بابا صاحب کو چھوڑ کر میں کہاں جاؤں گا؟‘‘ حیات خاں بولا۔ 
گرمی کا موسم تھا۔  درختوں کا سایہ اور ٹھنڈی ہوا میں خمار کے طوفان اُٹھا رہی تھی۔ تھوڑی دور ہٹ کر میں ایک گھنی جھاڑی کے نیچے لیٹ گیا۔ چند قدم کے فاصلے پر حیات خاں اس طرح بیٹھ گیا کہ نانا تاج الدین ؒ کو کن انکھیوں سے دیکھتا رہے۔ 
اب وہ دبیز گھاس پر لیٹ چکے تھے۔ آنکھیں بند تھیں۔ فضا میں بالکل سناٹا چھایا ہوا تھا۔ چند منٹ گزرے ہی تھے کہ جنگل بھیانک محسوس ہونے لگا۔ آدھا گھنٹہ، پھر ایک گھنٹہ۔ اس کے بعد کچھ وقفہ ایسے گزرگیا جیسے شدید انتظار ہو۔ یہ انتظار کسی سادھو، کسی جوگی، کسی ولی، کسی انسان کا نہیں تھا بلکہ ایک درندہ کا تھا جو کم از کم میرے ذہن میں قدم بقدم حرکت کررہا تھا۔ یکایک نانا رحمۃ اللہ علیہ  کی طرف نگاہیں متوجہ ہوگئیں۔ ان کے پیروں کی طرف ایک طویل القامت شیر ڈھلان سے اوپر چڑھ رہا تھا۔۔۔۔ بڑی آہستگی خرامی سے ، بڑے ادب کے ساتھ۔ 
شیر نیم وا آنکھوں سے نانا تاج الدین ؒ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ذرا دیر میں وہ پیروں کے بالکل قریب آگیا۔ 
نانا گہری نیند میں بے خبر تھے۔ شیر زبان سے تلوے چھورہا تھا۔ چند منٹ بعد اُس کی آنکھیں مستانہ داری سے بند ہوگئیں۔ سر زمین پر رکھ دیا۔ 
نانا تاج الدین ؒ ابھی تک سو رہے تھے۔ 
شیر نے اب زیادہ جرأت کرکے تلوے چاٹنے شروع کردیے اس حرکت سے نانا کی آنکھ کھل گئی۔ اُٹھ کر بیٹھ گئے ۔ شیر کے  سر پر ہاتھ پھیرا۔ 
کہنے لگے ’’ توآگیا۔ اب تیری صحت بالکل ٹھیک ہے۔ میں تجھے تندرست دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اچھا اب سوجاؤ‘‘۔
شیر نے بڑی ممنونیت سے دُم ہلائی اور چلاگیا۔ میں نے ان واقعات پر بہت غور کیا۔ یہ بات کسی کو معلوم نہیں کہ شیر پہلے کبھی ان کے پاس آیا تھا۔ مجبوراً اس امر کا یقین کرنا پڑتا ہے کہ نانہ اور شیر پہلے سے ذہنی طور پر ایک دوسرے سے روشناس تھے اور روشناسی کا طریقہ ایک ہی ہوسکتا ہے ۔ انا کی جو لہریں نانا اور شیر کے درمیان ردّوبدل ہوتی تھیں۔ وہ آپس کی اطلاعات کا باعث بنتی تھیں۔ عارفین میں کشف کی عام روش یہی ہوتی ہے لیکن اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ جانوروں میں بھی کشف اسی طرح ہوتا ہے۔ کشف کے معاملے میں انسان اور دوسری مخلوق یکساں ہیں۔ 
لہروں میں ردّوبدل کا قانون:
یہ قانون بہت فکر سے ذہن نشین کرنا چاہیے کہ جس قدر خیالات ہمارے ذہن میں دور کرتے رہتے ہیں ان میں بہت زیادہ ہمارے معاملات سے غیر متعلق ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق قریب اور دُور کی ایسی مخلوق سے ہوتا ہے جو کائنات میں کہیں نہ کہیں موجود ہو۔ اس مخلوق کے تصورّات لہروں کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں۔ جب ہم ان تصورّات کا جوڑا اپنی زندگی سے ملاتے ہیں تو ہزار کوشش کے باوجود ناکام رہ جاتے ہیں۔ اَنا کی جن لہروں کا ابھی تذکرہ ہوچکا ہے ان کے بارے میں بھی چند باتیں فکر طلب ہیں۔ سائنس داں روشنی کو زیادہ سے زیادہ رفتار قرار دیتے ہیں۔ لیکن وہ اتنی تیز رفتار نہیں ہے کہ زمانی مکانی فاصلے کو منقطع کردے۔ البتہ انا کی لہریں لامتناہیت میں بیک وقت موجود ہیں۔ زمانی مکانی  فاصلے ان کی گرفت میں رہتے ہیں۔ بہ الفاظِ دیگر یوں کہہ سکتے ہیں ’’ان لہروں کے لیے زمانی مکانی فاصلے موجود ہی نہیں ہیں‘‘۔ روشنی کی لہریں جن فاصلوں کو کم کرتی ہیں اَنا کی لہریں ان ہی فاصلوں کو بجائے خود موجود نہیں جانتیں۔ 
انسانوں کے درمیان ابتدائے آفرینش سے بات کرنے کا طریقہ رائج ہے۔ آواز کی لہریں جن کے معنی معین کرلیے جاتے ہیں سننے والوں کو مطلع کرتی ہیں۔ یہ طریقہ اس ہی تبادلے کی نقل ہے جو اَنا کی لہروں کے درمیان ہوتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ گونگا آدمی اپنے ہونٹوں کی خفیف سی جنبش سے سب کچھ کہہ دیتا ہے اور سمجھنے کے  اہل سب کچھ سمجھ جاتے ہیں۔ یہ طریقہ بھی پہلے طریقے کا عکس ہے۔ جانور آواز کے بغیر ایک دوسرے کو اپنے حال سے مطلع کردیتے ہیں۔ یہاں بھی انا کی لہریں کام کرتی ہیں۔ درخت آپس میں گفتگو کرتے ہیں۔ یہ گفتگو صرف آمنے سامنے کے درختوں میں نہیں ہوتی بلکہ دور دراز ایسے درختوں میں بھی ہوتی ہے جو ہزاروں میل کے فاصلے پر واقع ہیں۔  یہی قانون جمادات میں بھی رائج ہے۔ کنکروں ، پتھروں، مٹی کے ذرّوں میں من و عن اسی طرح تبادلہ ٔ خیال ہوتا ہے۔ تذکرہ تاج الدین بابا تصنیف قلندر بابا اولیائؒ)
درخت کی سرسبز شاخ آسانی سے مڑ جاتی ہیاور ہم اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق اس میں لچک پیدا کرلیتے ہیں۔ اس کے برعکس سوکھی لکڑی کے ساتھ زور آزمائی کرنے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہو۔ قدرت کا یہ فیضان جاری و ساری ہے اور اللہ کے قانون کے مطابق :
’’جو لوگ اللہ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے اوپر اپنے راستے کھول دیتے ہیں‘‘۔ 
آپ اس قانون کا سہارا لے کر ٹیلی پیتھی سیکھ سکتے ہیں۔ 

========================================================================
یہ اس ماہ کے ڈائجسٹ کے محض چند تعارفی صفحات ہیں۔
کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت اس ڈائجسٹ کے مضامین  بلا اجازت شائع نہیں کیے جاسکتے۔
 مضمون کا کوئی حصہ کسی کتاب میں شامل یا انٹر نیٹ پر شئیر کرتے ہوئے روحانی ڈائجسٹ کا حوالہ ضرور تحریر کریں۔  
========================================================================

Like us On Facebook

Powr