Breaking

ستمبر 1979ء

Views
ستمبر 1979ء کے شمارے کا سرورق




روحانی ڈائجسٹ کا دسواں شمارہ ستمبر 1979ء میں شائع ہوا۔ اس شمارے کا سرورق نہایت فکر انگیز ہے۔ سرورق پر زمین اور اُس کا اعراف دکھایا گیا  اور اعراف سے اگلی منزل جنت کو باغات اور دوزخ کو آگ کے شعلوں سے واضح کیاگیا ہے۔ آدمی مرنے کے بعد اعراف میں منتقل ہوتا ہے اور اعراف کے بعد عالمِ حشرو نشر میں حساب کتاب کے بعد جنت یا دوزخ میں اُس کا  قیام ہوتا ہے۔ ستمبر 1979ء کے شمارے سے انتخاب پیشِ خدمت ہے۔

========================================================================

مضامین
لکھاری
موضوع
نورِ الٰی 
---
---
نورِ نبوت
---
---
رباعیات
قلندر بابا اولیا
---
آوازِ دوست
مدیرِ اعلٰی 
---
تاثرات
قاریہن کرام
---
واردات
ادارہ
---
لوح و قلم 
قلندر بابا اولیا
---
پاکیزہ دلہن
احمد کامران
---
ہماری صحت
سہیل احمد
---
اہرامِ مصر
ارم انساری
---
عورت کے مدارج
قلندر علی سہروردی ؒ
---
مردہ ہاتھ
جاوید احمد
---
سمیّہ
عرفان غازی
---
شاہ محمد شریف چشتی ؒ
سید خورشید حسین بخاری
---
پراسرار ہیولا (8)
صادق الاسرار
---
آپ بیتی
کرنل غلام سرور
---
محفلِ مراقبہ
احمد جمال عظیمی
---
آپ کے مسائل
خواجہ شمس الدین عظیمی
---
خواب کی تعبیر 
خواجہ شمس الدین عظیمی
---
گوشۂ ادب
تبصرہ نگار
تبصرہ کتب
معرفت نفس
نسیم احمد عظیمی
---
ٹیلی پیتھی
ادارہ
---
بھیکو
فرخ اعظم 
بچوں کے صفحات
متفرقات
---
---
---
---
---
========================================================================

رباعیات

یہ بات مگر بھول گیا ہے ساغر
انسان کی مٹی سے بنا ہے ساغر
سو بار بنا ہے، بَن کے ٹوٹا ہے عظیم
کتنی ہی شکستوں کی صَدا ہے ساغر
--
اچھّی ہے بُری ہے دَہر فریاد نہ کر
جو کچھ کہ گزر گیا اُسے یاد نہ کر
دو چار نفس عُمر ملی ہے تجھ کو
دو چار نفس عُمر کو بَرباد نہ کر
--
ساقی ترا مخمور پئے گا سو بار
گردش میں ساغر تو رہے گا سو بار
سو بار جو ٹوٹے تو مجھے کیا غم ہے
ساغر مری مٹی سے بنے گا سو بار
--
کل روزِ ازل لکھی تھی مری تقدیر
ممکن ہو تو پڑھ آج جبیں کی تحریر
معذور سمجھ واعظ ناداں سمجھ کر
ہیں بادہ و جام سب مشیّت کی لکیر
--

========================================================================

لوح و قلم 

’’لا‘‘ کا مراقبہ

مراقبہ کی حالت میں باطنی نگاہ سے کام لینا ہی مقصود ہوتا ہے۔ یہ مقصد اس ہی طرح پورا ہو سکتا ہے کہ آنکھ کے ڈیلوں کو زیادہ سے زیادہ معطل رکھا جائے۔ آنکھ کے ڈیلوں کے تعطل میں جس قدر اضافہ ہو گا اس ہی قدر باطنی نگاہ کی حرکت بڑھتی جائے گی۔ دراصل یہی حرکت روح کی روشنی میں دیکھنے کا میلان پیدا کرتی ہے۔ آنکھ کے ڈیلوں میں تعطل ہو جانے سے لطیفۂ نفسی میں اشتعال ہونے لگتا ہے۔
اور یہ اشتعال باطنی نگاہ کی حرکت کے ساتھ تیز تر ہوتا جاتا ہے جو شہود میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

مثال:

انسان کے جسم کی ساخت پر غور کرنے سے اس کی حرکتوں کے نتائج اور قانون کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ بیداری میں آنکھوں کے ڈیلوں پر جلدی غلاف متحرک رہتا ہے۔ جب یہ غلاف حرکت کرتا ہے تو ڈیلوں پر ہلکی ضرب لگاتا ہے اور آنکھ کو ایک لمحہ کے لئے روشنیوں اور مناظرے سے منقطع کر دیتا ہے۔ غلاف کی اس حرکت کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ خارجی چیزیں جس قدر ہیں آنکھ ان سے بالتدریج مطلع ہوتی ہے اور جس جس طرح مطلع ہوتی جاتی ہے ذہن کو بھی اطلاع پہنچاتی رہتی ہے۔ اصول یہ بنا کہ مادی اشیاء کا احساس ہلکی ضرب کے بعد روشنیوں سے انقطاع چاہتا ہے۔ اس اثناء میں وہ ذہن کو بتا دیتا ہے کہ میں نے کیا دیکھا ہے جن چیزوں کو ہم مادی خدوخال میں محسوس کرتے ہیں ان چیزوں کے احساس کو بیدار کرنے کے لئے آنکھوں کے مادی ڈیلے اورغلاف کی مادی حرکات ضروری ہیں۔ اگر ہم ان ہی چیزوں کی معنوی شکل وصورت کا احساس بیدار کرنا چاہیں تو اس عمل کے خلاف اہتمام کرنا پڑے گا۔ اس صورت میں آنکھ کو بند کر کے آنکھ کے ڈیلوں کو معطل اور غیر متحرک کر دینا ضروری ہے۔ مادی اشیاء کا احساس مادی آنکھ میں نگاہ کے ذریعے واقع ہوتا ہے۔ اور جس نگاہ کے ذریعے مادی احساس کا یہ عمل وقوع میں آتا ہے وہی نگاہ کسی چیز کی معنوی شکل وصورت دیکھنے میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ یا یوں کہیئے کہ نگاہ مادی حرکات میں اور روحانی حرکات میں ایک مشترک آلہ ہے۔ دیکھنے کا کام بہر صورت نگاہ ہی انجام دیتی ہے۔ جب ہم آنکھوں کے مادی وسائل کو معطل کر دیں گے اور نگاہ کو متوجہ رکھیں گے تو لوح محفوظ کے قانون کی رو سے قوت القاء اپنا کام انجام دینے پر مجبور ہے۔ پھر نگاہ کسی چیز کی معنوی شکل و صورت کو لازمی دیکھے گی۔ اس لئے کہ جب تک نگاہ دیکھنے کا کام انجام نہ دے دے، قوت القاء کے فرائض پورے نہیں ہوتے۔ اس طرح جب ہم کسی معنوی شکل وصورت کو دیکھنا چاہیں، دیکھ سکتے ہیں۔ اہل تصوف نے اس ہی قسم کے دیکھنے کی مشق کا نام مراقبہ رکھا ہے۔ یہاں ایک اور ضمنی قانون بھی زیر بحث آتا ہے۔ جس طرح لوح محفوظ کے قانون کی رو سے مادی اور روحانی دونوں مشاہدات میں نگاہ کا کام مشترک ہے ، اس ہی طرح مادی اور روحانی دونوں صورتوں میں ارادے کا کام بھی مشترک ہے۔ جب ہم آنکھیں کھول کر کسی چیز کو دیکھنا چاہتے ہیں تو پہلی حرکت ارادہ کرنا ہے یعنی پہلے قوت ارادی میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔ اس حرکت سے نگاہ اس قابل ہو جاتی ہے کہ خارجی اطلاعات کو محسوس کر سکے۔ اس ہی طرح جب تک قوت ارادی میں حرکت نہ ہو گی معنوی شکل وصورت کی اطلاعات فراہم نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی شخص عادتاً نگاہ کو معنوی شکل وصورت کے دیکھنے میں استعمال کرنا چاہے تو اسے پہلے پہل ارادے کی حرکت کو معمول بنانا پڑے گا۔ یعنی جب مراقبہ کرنے والا آنکھیں بند کرتا ہے تو سب سے پہلے ارادے میں تعطل واقع ہوتا ہے۔ اس تعطل کو حرکت میں تبدیل کرنے کی عادت ڈالنا ضروری ہے۔ یہ بات مسلسل مشق سے حاصل ہو سکتی ہے۔ جب آنکھ بند کرنے کے باوجود ارادہ میں اضمحلال پیدا نہ ہو اور ارادہ کی حرکت متوسط قوت سے جاری رہے تو نگاہ کو معنوی شکل و صورت دیکھنے میں تساہل نہ ہو گا اور مخفی حرکات کی اطلاعات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جب ہر قسم کی مشق مکمل ہو چکے گی تو اسے آنکھ کھول کر دیکھنے میں یا آنکھ بند کر کے دیکھنے میں کوئی فرق محسوس نہ ہو گا۔
لوح محفوظ کے قانون کی رو سے قوت القاء جس طرح مادی اثرات پیدا کرنے کی پابند رہے، اس ہی طرح معنوی خدوخال کے تخلیق کرنے کی بھی ذمہ دار ہے۔ جتنا کام کسی شخص کی قوت القاء مادی قدروں میں کرتی ہے۔ اتنا ہی کام روحانی قدروں میں بھی انجام دیتی
ہے ۔ دو آدمیوں کے کام کی مقدار کا فرق ان کی قوت القاء کی مقدار کے فرق کی وجہ سے ہوا کرتا ہے۔

قوت القاء

قوت القاء کی تفصیل یہ ہے کہ صوفی جس کا نام ’’ہوئیت‘‘ رکھتے ہیں اس کو تفصیلی طور پر ذہن نشین کر لیا جائے۔ دراصل ’’ہوئیت‘‘’’لا‘‘ کی تجلیات کا مرکز ہے۔ اس مرکزیت کا تحقق قوت القاء کی بنا قائم کرتا ہے۔ اس کی شرح یہ ہے کہ ذات کی تجلیات جب تنزل کر کے ’’واجب‘‘ کی انطباعیت میں منتقل ہوتی ہیں تو موجودات کے بارے میں علم الٰہی کا عرف تخلیق پا جاتا ہے۔ یہ پہلا تنزل ہے۔ اس چیز کا تذکرہ ہم نے پہلے ’’علم القلم‘‘ کے نام سے بھی کیا ہے۔ یہ تجلیات ایسے اسرار ہیں جو مشیت ایزدی کا پورا احاطہ کر لیتے ہیں۔ جب مشیت ایزدی ایک مرتبہ اور تنزل کرتی ہے تو یہی اسرار لوح محفوظ کے اجمال کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ان ہی شکلوں کا نام مذہب ’’تقدیر مبرم‘‘ رکھتا ہے۔ دراصل یہ عرف کی عبارتیں ہیں۔ عرف سے مراد وہ معنویت ہے جو حکم الٰہی کی بساط بنتی ہے۔
یہ عرف اجمال کی نوعیت ہے۔ اس میں کوئی تفصیل نہیں پائی جاتی۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ابھی تک ’’دورِ ازلیہ‘‘ کا اجراء پایا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں جہاں تک افادہ بالفعل یا فعلیت کی شاخیں یعنی اختراعات و ایجادات کا سلسلہ جاری ہے، دور ازلیہ شمار ہو گا۔ قیامت تک اور قیامت کے بعد ابد الآباد تک جو جو نئے اعمال پیش آتے رہیں گے۔ خواہ اس میں جنت و دوزخ کے قرون اُولیٰ، قرون وسطیٰ اور قرون اخریٰ ہی کیوں نہ ہوں، دور ازلیہ کے حدود میں ہی سمجھے جائیں گے۔ ابد تک ممکنات کا ہر مظاہرہ ازل ہی کے احاطے میں مقید ہے۔ اس ہی لئے جو بھی تنزل علم القلم کے اسرار کا پیش آ رہا ہے یا پیش آئے گا وہ اس ہی اجمال کی تفصیل ہو گی جو لوح محفوظ کی کلیات کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں لوح محفوظ کا مالک ہوں جس حکم کو چاہوں برقرار رکھوں اور جس حکم کو چاہوں منسوخ کر دوں۔
لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابُٗoیَمْحُواللّٰہُ مَاَ یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ وَعِنْدَہٗٓ اُمُّ الْکِتٰبِo
(سورۂ رحد۔ آیت ۳۸)
ترجمہ: ہر وعدہ ہے لکھا ہوا۔ مٹاتا ہے اللہ جو چاہے اور رکھتا ہے اور اس کے پاس ہے اصل کتاب۔
یہ فرمان اس ہی اجمال کے بارے میں ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب چاہیں اور جس طرح چاہیں اسرار کے مفہوم اور رجحانات بدل سکتے ہیں۔
یہاں ذرا شرح اور بسط کے ساتھ مذکورہ بالا آیت پر غور کرنے سے دور ازلیہ کی وسعتوں کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی کسی مصلحت کو تخلیقی اختراعات اور ایجادات کے اجمال میں بدلنا پسند فرماتے ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے منافی نہیں ہے۔ دوسرے تنزل کے بعد اجمال کی تفصیل احکامات کے پورے خدوخال پیش کرتی ہے۔ یہاں تک مکانیت اور زمانیت کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ البتہ ’’جُو‘‘ یعنی تیسرے تنزل کے بعد جب کوئی شئے عالم تخلیط کی حدود میں داخل ہو کر عنصریت کے لباس کو قبول کرتی ہے۔ اس وقت مکانیت کی بنیادیں پڑتی ہیں۔ یہ القاء کی آخری منزل ہے۔ اس منزل میں جو حالتیں اور صورتیں گزرتی ہیں ان کو افادہ بالفعل کہتے ہیں۔ اس کی مثال سینما سے دی جا سکتی ہے۔ جب آپریٹر مشین کو حرکت دیتا ہے تو فلمی رِیل کا عکس کئی لینسوں(LENSES) کے ذریعے خلاء سے گزر کر پردہ پر پڑتا ہے۔ اگرچہ خلاء میں ہر وہ تصویر جو پردہ پر نظر آ رہی ہے، اپنے تمام خدوخال اور پوری حرکات کے ساتھ موجود ہے لیکن آنکھ اسے دیکھ نہیں سکتی۔ زیادہ سے زیادہ وہ شعاع نظر آتی ہے جس شعاع کے اندر تصویریں موجود ہیں۔ جب یہ تصویریں پردہ سے ٹکراتی ہیں اس وقت ان کی فعلیت پوری طرح دیکھنے والی آنکھ کے احاطے میں سما جاتی ہے۔ اس مظاہرہ کا نام ہی افادہ بالفعل ہے۔ اس مظاہرہ کی حدود میں ہی ہر مکانیت اور ہر زمانیت کی تخلیق ہوتی ہے۔ جب تک کوئی چیز صرف اللہ تعالیٰ کے علم کے حدود میں تھی اس وقت تک اس نے واجب کا لینس(LENSE) عبور نہیں کیا تھا یعنی اس میں حکم کے خدوخال موجود نہیں تھے لیکن واجب کے لینس سے گزرنے کے بعد جب اس چیز کے وجود نے کلیات یا لوح محفوظ کی حدود میں قدم رکھا۔ اس وقت حکم کے خدوخال مرتب ہو گئے۔ پھر اس لینس سے گزرنے کے بعد ’’جُو‘‘ میں جس کو عالم تمثال بھی کہتے ہیں تمثلات یعنی تصویریں جو حکم کے مضمون اور مفہوم کی وضاحت کرتی ہیں وجود میں آ گئیں۔ اب یہ تصویریں’’جُو‘‘ کے لینس سے گزر کر ایک کامل تمثل کی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔ اس عالم کو عالم تخلیط یا عالم تمثل بھی کہتے ہیں۔ لیکن ابھی عنصریت ان میں شامل نہیں ہوئی یعنی ان تصویروں نے جسم یا جسد خاکی کا لباس نہیں پہنا۔ جب تک ان تصویروں کی عنصریت سے واسطہ نہ پڑے، یہ احساس سے روشناس نہیں ہوتیں۔
القاء کی ابتدا پہلے لینس کے عبوری دور سے ہوتی ہے جب تک موجودات کی تمام فعلیتیں اللہ تعالیٰ کے علم میں رہیں، القاء کی پہلی منزل میں تھیں اور جب لوح محفوظ کے لینس سے گزریں تو احکامات الٰہیہ میں خدوخال اور آثار پیدا ہو گئے۔ یہ القاء کی دوسری منزل ہے۔
جب احکام اور مفہوم کی فعلیتیں ’’جُو‘‘ کے لینس سے گزر کر شکل وصورت اختیار کر لیتی ہیں تو یہ القاء کی تیسری منزل ہوتی ہے۔ اس منزل سے عبور حاصل کرنے کے بعد تمام تصاویر عالم ناسوت کے مرحلے میں داخل ہو جاتی ہیں۔ یہاں ان کو مکانیت اور زمانیت اور احساس سے سابقہ پڑتا ہے۔ یہ القاء کی چوتھی منزل ہے۔


========================================================================

عورت کے مدارج

حضرت ابو الفیض قلندر علی سہروردی

دنیا میں سب سے پہلے سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عورت کے حقوق قائم کئے۔ آپﷺ نے فرمایا مرد اور عورت ایک ہی جوہر سے ہیں اس لئے مرد کو چاہئے کہ عورت کو کمزور سمجھ کر اس پر حکمرانی کی نہ ٹھانے۔ اﷲـتعالیٰ نے تمام تر روحانی مدارج میں دونوں کو پہلو بہ پہلو  رکھا ہے، قربِ خداوندی کا انعام دونوں کے واسطے یکساں طور پر ہے۔


ابتدائے ظہور عالم میں انسان عام جانوروں کی طرح غول بن کر رہتے تھے۔ رشتۂ جنسیت کے سوا اور کوئی رشتہ نہ تھا۔ حیوانوں کی طرح تقاضائے فطرت کو پورا کرلیتے تھے اور جو اولاد ہوتی تھی سب کی مشترکہ ملکیت قرار پاتی تھی۔ نہ کوئی شوہر تھا نہ بیوی۔ عورت اور مرد اپنی اپنی غذا و خوراک خود پیدا کرتے اور کھاتے۔ کسی کا کسی پر بوجھ نہ تھا۔ 
سب سے پہلا انقلاب یہ ہوا کہ انسانوں نے زمین کو ملکیت قرار دینا شروع کیا اور یہیں سے انفرادیت کی شاخ پھوٹی اور اسی سے علیحدگیٔ جائداد کے ساتھ علیحدگیٔ سکونت کا جذبہ پیدا ہوا۔ 
اسی دور میں مردوں نے عورتیں مخصوص کرنی شروع کردیں اور عورتوں کی ملکیت کے ساتھ مکانوں کی ضرورت اور قبائل کی تقسیم بھی پیدا ہوگئی۔ عورتوں کی محنت اور کمائی کا سلسلہ بند ہوا۔ عورتوں کی کفالت نے ایک مخصوص چیز یہ پیدا کردی کہ وہ پوری طرح غلام نظر آنے لگیں اور مردوں کی نگاہ میں ایک تفریح کا آلہ  یا بچے پیدا کرنے کی مشین بن کر رہ گئیں اور رفتہ رفتہ رفیقِ حیات سمجھنے کی بجائے مرد اپنی عورت پر ایک جابر حاکم بن گیا۔ 
دنیا والوں نے بہت ترقی کی مگر عورت کو جو ڈگری مل چکی تھی اس میں کوئی ردّوبدل نہ ہوا۔ رومیوں کی تہذیب شہرئہ آفاق مانی  گئی مگر عورت ایک پالتو بلّی سے زیادہ اس تہذیب میں بھی کوئی استحقاق نہ پاسکی۔ یونان میں انتہائی علمِ فلسفہ کی ترقی کے باوجود، عورت جائیداد منقولہ سے زیادہ حیثیت نہ رکھتی تھی اور علوم و فنون سے وہ محروم رکھی جاتی تھی۔ ایران میں یہی حال تھا۔ ہندوستان میں ایک ہندو عورت کی حیثیت قطعاً ایک بے جان بُت اور منوشاستر کی رُو سے سانپ اور بچھو سے بدتر تھی۔ بیوہ ہوجانے پر نکاح ثانی کا حق سلب، جائیداد  و  وراثت سے محروم اور صرف شوہر کی خدمت کے لئے مخصوص تھی۔ کثیر الازدواجی ان کی قسمت کا ایک اندوہناک باب بن چکی تھی اور لوگ مویشیوں کی طرح عورتوں کو گھروں میں بھر رکھتے تھے۔۔۔۔۔ اور عیسائیت کی مہذب دنیا میں تو عورت اب تک ایسے جنجال میں جکڑی ہوئی ہے کہ اس کو اپنا نام رکھنے کے بھی قابل نہیں سمجھا گیا۔ بچپن میں باپ کے نام سے اور شادی ہونے پر شوہر کے نام سے منسوب رہی ۔ ترکہ اور  وراثت میں بھی اس کا کوئی حق اور حصہ نہیں۔۔۔۔۔
عرب میں عورت مرنے والے خاوند کی اولاد میں وراثت کے طور پر تقسیم ہوجاتی تھی۔ بیویوں کی کوئی مقررہ تعداد نہیں تھی نہ ان کا کوئی حق تھا۔ وحشیانہ سلوک کی وہ حق دار  اور بعض اوقات خاوند یا مالک کی مرضی پر واجب القتل قرار دی جاتی تھیں۔
دنیا میں سب سے پہلے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عورت کے حقوق قائم کئے اور فرمایا تمہارے لئے یہ جائز نہیں کہ تم عورتوں کو میراث سمجھ کر ان پر جبراً قبضہ رکھو۔ عورتوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آئو اور اگر تمہیں کسی وجہ سے تمہاری بیوی ناپسند ہو تو عجب نہیں کہ جس کو تم ناپسند سمجھ رہے ہو اسی سے اﷲ تمہیں خیروبرکت دے۔ عورتوں کو اذیّت نہ دو اور نہ ستائو۔ وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔ مرد عورتوں کے نگرانِ کار ہیں اس بناء پر کہ وہ ان پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ 
گویا بانیٔ اسلام نے پہلی مرتبہ مرد و عورت کے حقوق برابر قرار دے کر عورت کی مالی حالت مستحکم کی۔ اس لئے کہ عورت کی تحقیر اور پستی کی وجہ اس کی مالی بے چارگی بھی تھی۔ اسلام نے ہی یہ احسان فرمایا کہ عورت کو وراثت میں شریک کیا گیا اور وہ اپنے باپ، بھائی، خاوند، بیٹے کے مال و جائیداد میں اپنے حصّے کی وارث قرار دی گئی۔ اس کو اپنی جائیداد کا مالک بنادیا گیا۔ اس کو بیع و شریٰ، خروید و فروخت اور معاہدہ و انتظام کی پوری اجازت عطا فرمادی گئی۔ اپنے حقِ مہر پر اس کو اختیار دیا گیا۔
عبادت میں بھی عورت کو مرد کے برابر فرمایا اور عورت کی روحانی حیثیت بھی قائم کردی۔ گویا عورت اب گھر کی ملکہ اور بنیادی حیثیت سے مرد کے برابر ہوگئی۔ وہ ذلیل لونڈی اور پالتو بلّی کے درجہ سے نکل کر حقیقی معنوں میں رفیقۂ حیات بن گئی جو اسلام سے پیش تر عملیات، مالیات، اقتصادیات اور عبادات میں کوئی حصّہ نہ رکھتی تھی لیکن اسلام نے عورت کے لئے ترقی و مساوات کے تمام دروازے کھول دئیے اور اس کے راحت و آرام کو معیارِ شرافت قرار دے کر صاف طور پر فرمادیا کہ شریف وہی ہے جس کا سلوک اپنی عورت کے ساتھ بہتر اور شریفانہ ہو۔
عورت کے مدارج: سرکارِ دو عالم محمد رسول اﷲﷺ نے جب بے زبان اور غریب طبقۂ نسواں کی مظلومیت ملاحظہ فرمائی تو قوم کو پیغام دیا کہ مرد اور عورت ایک ہی اصل اور ایک ہی جوہر سے ہیں۔
قدرت نے اسلام میں جو مدارج اس کی کمزوری کے باوجود اس کو مرحمت فرمادئیے ہیں وہ ایک اجمال ہے جس کی تفصیل نہایت ضروری معلوم ہوتی ہے تاکہ بخوبی واضح ہوجائے کہ عورت کی مختلف سہ گانہ حیثیتوں میں علیحدہ علیحدہ بانی اسلامؐ نے اس کا کیا درجہ اور حق قائم فرمایا ہے۔
لڑکی کی حیثیت میں: اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا جس کو مولائے کریم نے لڑکیاں عطا فرمائی ہوں اور وہ ان کی بہ احسن وجوہ پرورش کرے تو وہ لڑکیاں اس کے اور دوزخ کے درمیان آڑ بن جائیں گی۔ پھر ایک اور حدیثِ قدسی ہے کہ جس نے دو لڑکیاں پالیں، وہ اور میںؐ جنت میں دو ملی ہوئی اُنگلیوں کی طرح ایک دوسرے کے قریب ہوں گے۔ پھر ارشا د ہوتا ہے کہ میں تمہیں بتائوں کہ بہترین نیکی کیا ہے!۔۔۔۔۔ تیری لڑکی جو تیرے پاس آئی ہو اور تیرے سوا کوئی اس کا  دست گیر نہ ہو تو تُو اس کی دست گیری کر۔
حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا جس کو خداوندِ عالم نے لڑکی عطا فرمائی اور اس نے اس کو نہ زندہ دفن کیا اور نہ ہی اس کو ذلیل سمجھا اور نہ اس پر لڑکے کو ترجیح دی وہ بہشت میں داخل ہوگا اور ایک یہ بھی روایت ہے کہ کوئی بال بچے دار شخص جب کوئی چیز بازار سے لائے تو واجب ہے کہ اس کی تقسیم کی ابتداء لڑکی سے کرے کیونکہ جو لڑکی کو خوش رکھتا ہے، وہ اﷲ کو خوش رکھتا ہے۔ 
حضور ﷺ کی خدمت میں حضرت فاطمۃ الزہراؓ جب بھی حاضر ہوتیں تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام محبت سے کھڑے ہوجاتے اور حضرت سیّدہؓ  کا ہاتھ پکڑ کر چومتے اور اپنی جگہ بٹھاتے۔ 
کیا اس سے بڑی عزت کسی مذہب میں لڑکی کے لئے ممکن ہے؟۔۔۔۔۔ 
اس کے علاوہ سب سے زیادہ حق رسانی یہ ہے کہ لڑکی اسلام میں ورثہ سے محروم نہیں ہے۔ قرآنِ کریم میں فرمانِ الٰہی ہے کہ اﷲکریم تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں ہدایت فرماتا ہے کہ ایک بیٹے کے لئے دو بیٹیوں کا حصّہ ہے۔ اگر بیٹیاں دو سے زیادہ ہوں تو ان کے واسطے دو تہائی اور ایک ہو تو نصف۔ 
کیا ادیانِ عالم اور اقوامِ دنیا میں کہیں بھی یہ تقسیم ملتی ہے؟۔۔۔۔۔ یہ وہ حیثیت ہے کہ جس پر کسی بنائوٹی نقدونظر کی ضرورت معلوم نہیں ہوتی۔
ماں کی حیثیت میں:سوسائٹی میں عورت کی ایک اہم حیثیت ماں کی ہے۔ جتنی اہمیت اور جتنا احترام حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ماں کے متعلق فرمایا ہے وہ ایک نہایت بلند ڈگری ہے۔ قرآن کریم میں بیان ہوتا ہے کہ والدین کے ساتھ بھلائی کا سلوک کر۔ اگر ان دونوں میں سے ایک یا دونوں ہی تیرے پاس بڑھاپے میں پہنچیں تو ان کے سامنے اُف بھی نہ کرنا۔ اور ان کے ساتھ سختی سے نہ بول بلکہ نرمی سے ان کے ساتھ بات کر اور عاجزی کا بازو ان کے لئے جھکا دے اور ان کے لئے دعا کر کہ اے رب! ان پر رحم فرما جیسے رحم سے بچپن میں اُنہوں نے مجھے پالا۔
پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کن مؤثر الفاظ میں جاہل لوگوں کو سمجھایا ہے کہ دیکھو جنت تمہاری ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ 
ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ حضور! میں نے اپنی ضعیف ماں کو سات حج بیت اﷲ شریف اپنے کندھوں پر بٹھاکر کرائے ہیں۔ کیا میری طرف سے ماں کا حق الخدمت ادا ہوگیا ہے؟۔۔۔۔۔ تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ابھی تو تم اس کا معاوضہ بھی ادا نہیں کرسکے جو احسان تمہاری ماں نے تمہیں گیلے بستر سے اُٹھاکر سوکھے کی جانب لٹاکر کیا تھا اور خود گیلے پر لیٹ گئی تھی۔ 
اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے حاضرِ حضور ہوکر عرض کیا کہ یارسول اﷲﷺ میں نے عرب کا فلاں ریگستانی علاقہ اپنی ضعیف ماںکو کندھوں پر اُٹھاکر عبور کیا ہے اور میرے پائوں گرم ریت سے آبلے پڑ کر زخمی ہوگئے ہیں۔ کیا میں نے اپنی ماں کا کوئی حق ادا کیا ہے؟۔۔۔۔۔ فرمایا ہاں! ممکن ہے مولا کریم تیری اس محنت کو تیری ماں کے کسی درد کے اس چھوٹے سے جھٹکے کے عوض میں قبول فرمالے جو تیری پیدائش کے وقت تیری ماں کو لگے۔ 
ایک صحابی ابی الطفیل بیان فرماتے ہیں کہ میں حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک عورت آئی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام  نے اس کے لئے اپنی چادرِ مبارک بچھادی اور وہ اس پر بیٹھ گئی۔ آپ ﷺ سے باتیں کرتی رہی۔ پھر جب وہ اُٹھ کر چلی گئی تو ہمارے عرض کرنے پر کہ یارسول اﷲﷺ یہ بی بی کون تھیں؟۔۔۔۔۔ معلوم ہوا کہ آپﷺ کی رضاعی والدہ تھیں۔ اسی طرح کی ایک اور مثال یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لوگوں کو نصیحت فرمائی کہ جب مصر کو فتح  کرو تو مصر کے رہنے والوں سے سلوک کا برتائو کرنا اس لئے کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی والدہ ہاجرہؑ  اسی سرزمین کی تھیں۔ حضورﷺ کی یہ ایک پیشین گوئی تھی جو پوری ہوئی اور مصر والوں نے اپنے ساتھ فاتحین کا وہ سلوک دیکھا تھا جو لاجواب تھا۔ آخر ان سے نہ رہا گیا اور سوال کیا کہ اس قدر مہربانی کی کیا وجہ ہے تو ان کو جواب دیا گیا جو اوپر مذکور ہوا ہے۔ تو ایک پادری بول اُٹھا کہ پیغمبر کے سوا  اور کوئی ہستی عورت کا ایسا احترام نہیں کرسکتی۔
قرآن کریم نے ماں باپ میں سے ہر ایک کو ترکہ میں سے چھٹا حصّہ اگر اس کے اولاد ہو اور اگر اولاد نہ ہو اور وارث ہوں ماں باپ توماں کو تیسرا حصّہ اور اگر اس کے بھائی ہوں تو ماں کو چھٹا حصّہ بعد وصیت یا بعد ادائیگیٔ قرض کے معین فرمایا ہے۔
بیوی کی حیثیت میں:عورت کی ایک اور اہم حیثیت بطور بیوی کے ہے اور اسی حیثیت میں عورت کی مظلومیت بھی آشکارا ہے۔ اس لئے پہلا حکمِ خداوندی جو اس باب میں نازل ہوا کہ اﷲ تعالیٰ نے تمہاری جنس سے تمہارے واسطے تمہارے زوج پیدا کئے تاکہ تم ان سے تسکین پائو اور اسی نے تمہارے درمیان اُلفت اور محبت پیدا فرمائی۔ ان کے ساتھ بھلائی کا سلوک کرو اور ان کو وہی کھانے کو دو جو خود کھائو اور ان کو وہی پہنائو جو خود پہنو اوران سے دُرشتی سے پیش نہ آئو۔ تمہارے ترکہ میں سے وہ چوتھائی حصّہ کی حق دار ہیں۔ اگر ان سے تمہارے ہاں اولاد نہ ہو اور اگر ہو تو آٹھواں حصّہ کی مالک ہوں گی۔
گویا حضورﷺ ہی کی رحمت سے عورت کو یہ حق ملا ہے کہ وہ خودمختارانہ طور پر کسی جائیداد کی قابض و مالک ہوسکتی ہیں ورنہ حضورﷺ کی تشریف آوری تک وہ ایک ذلیل ترین چیز تھی۔



========================================================================
یہ اس ماہ کے ڈائجسٹ کے محض چند تعارفی صفحات ہیں۔
کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت اس ڈائجسٹ کے مضامین  بلا اجازت شائع نہیں کیے جاسکتے۔
 مضمون کا کوئی حصہ کسی کتاب میں شامل یا انٹر نیٹ پر شئیر کرتے ہوئے روحانی ڈائجسٹ کا حوالہ ضرور تحریر کریں۔  
========================================================================

Like us On Facebook

Powr