Breaking

اگست 1979ء

Views

اگست 1979ء کے شمارے کا سرورق




========================================================================
مضامینلکھاریموضوع
نورِ الٰی ------
نورِ نبوت------
رباعیاتقلندر بابا اولیا---
آوازِ دوستخواجہ شمس الدین عظیمی---
تاثراتقاریہن کرام---
وارداتادارہ---
لوح و قلم قلندر بابا اولیا---
کشتی ٔ نوحؑارم انصاری---
اندر کی روشنیسہیل احمد---
سرمایہ دار کی موتجاوید احمد---
خواب کی تعبیرخواجہ شمس الدین عظیمی---
کاغذ کی دیوارہیرانند سوز---
محفلِ مراقبہاحمد جمال عظیمی---
آپ بیتیانیس احمد صدیقی ---
آپ کے مسائلخواجہ شمس الدین عظیمی---
حساب دان بڑھیاشیخ محمد زبیر---
پراسرار ہیولا (8)صادق الاسرار---
الکتابتبصرہ نگارتبصرہ کتب
ٹیلی پیتھیادارہ---
شبِ قدر میں اللہ کی تجلی کا دیدار خواجہ شمس الدین عظیمی---
---------
---------

========================================================================

رباعیات

یہ طاق یہ ٹوٹے ہوئے دَر اور دیوار
ذرّوں میں نظر آتے ہیں سارے آثار
ذرّوں میں گرم شاعروں کی محفل
ذرّوں میں ہیں بند شاعروں کے اشعار
--
کہتا ہے مجھے ایک زمانہ کافر
سچائی کا انجام ہوا یہ آخر
میں ایک کو تو دو نہ کہوں گا زنہار
گو سارے زمانہ کو ہو بارِ خاطر
--
میں کیا ہوں یہ عقدہ تو کُھلے گا آخر
پردہ جو پڑا ہے وہ اُ ٹھے گا آخر
ذرّے کو مرے کوئی تو صورت دیں گے
ساغر نہ بنا خُم تو بنے گا آخر
--
اب دیکھنا کیا ہے کربلا کے اندر
سب دیکھ لیا جو تھا بقا کے اندر
افلاک سے ہوتی ہیں بلائیں نازل
شاید کوئی دنیا ہو فنا کے اندر
--========================================================================

لوح و قلم 


علم ’’لا‘‘ اور علم ’’اِلّا‘‘

جب ہمیں ایک چیز کی معرفت حاصل ہو گئی، خواہ وہ لاعلمی ہی کی معرفت ہو، بہرصورت معرفت ہے اور ہر معرفت لوح محفوظ کے قانون میں ایک حقیقت ہوا کرتی ہے۔ پھر بغیر اس کے چارہ نہیں کہ ہم لاعلمی کی معرفت کا نام بھی علم ہی رکھیں۔ اہل تصوف لا علمی کی معرفت کو علم ’’لا‘‘ اور علم کی معرفت کو علم ’’اِلّا‘‘ کہتے ہیں۔ یہ دونوں معرفتیں الف انوار کی دو تجلیاں ہیں۔۔۔۔۔۔ایک تجّلی ’’لا‘‘ اور دوسری تجّلی ’’اِلّا‘‘۔
جب کوئی فرد اپنے ذہن میں ان دونوں حقیقتوں کو محفوظ کر لے تو اس کے لئے شہود کے اجزاء کو سمجھنا آسان ہے۔ چنانچہ ہر شہود کے یہی دو اجزاء ہیں جن میں سے پہلا جزو یعنی علم’’لا‘‘ کو لاشعور کہتے ہیں۔ جب کوئی طالب روحانیت لاشعور یعنی علم ’’لا‘‘سے متعارف ہونا چاہتا ہے تو اسے خارجی دنیا کے تمام تواہمات، تصورات اور خیالات کو بھول جانا پڑتا ہے۔ اس کو اپنی ذات یعنی اپنے ذہن کی داخلی گہرائیوں میں فکر کرنی چاہئے۔ یہ فکر ایک ایسی حرکت ہے جس کو ہم کسی فکر کی شکل اور صورت میں محدود نہیں کر سکتے۔ ہم اس فکر کو ’’فکرِلا‘‘ کہتے ہیں۔ یعنی ہمارے زہن میں تھوڑی دیر کے لئے یا زیادہ دیر کے لئے ایسی حالت وارد ہو جائے جس میں ہر زاویہ لا علمی کا ہو۔ اس ’’فکر لا‘‘ کو ہم عمل استرخاء کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔ عمل استرخاء کے تواتر سے ذہن کے اندرونی دائرے ہر فکر سے خالی ہو جاتے ہیں۔ گویا اس وقت ذہن ’’فکرلا‘‘میں مستغرق ہو جاتا ہے اور اس استغراق میں لاشعور کا شہود حاصل ہو جاتا ہے۔
’’لا‘‘ کے انوار الم کے انوار کا جزو ہیں۔ الم کے انوار کو سمجھنے کے لئے لا کے انوار کا تعین اور ان کی تحلیل ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ لا کے انوار اللہ تعالیٰ کی ایسی صفات ہیں جو وحدانیت کا تعارف کراتی ہیں۔ کئی مرتبہ لوگ یہ سوال کر بیٹھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے پہلے کیا تھا؟ ایک صوفی کے یہاں جب سلوک کا ذہن پوری طرح تربیت پا جاتا ہے اور لا کے انوار کی صفت سے واقف ہو جاتا ہے تو پھر اس کے ذہن سے اس سوال کا خانہ حذف ہو جاتا ہے کیونکہ صوفی اللہ تعالیٰ کی صفت لا سے واقف ہونے کے بعد خیال کو بھول جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی موجودگی سے پہلے بھی کسی موجودگی کا امکان ہے۔ لا کے انوار سے واقف ہونے کے بعد سالک کا ذہن پوری طرح وحدانیت کے تصور کو سمجھ لیتا ہے۔ یہی وہ نقطۂ اول ہے جس سے ایک صوفی یا سالک اللہ تعالیٰ کی معرفت میں پہلا قدم رکھتا ہے۔ اس قدم کے حدود اور دائرے میں پہلے پہل اسے اپنی ذات سے روشناس ہونے کا موقع ملتا ہے۔ یعنی وہ تلاش کرنے کے باوجود خود کو کہیں نہیں پاتا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا صحیح احساس اور معرفت کا صحیح مفہوم اس کے احساس میں کروٹیں بدلنے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جس کو فنائیت کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کو بعض لوگ فناء الٰہیت بھی کہتے ہیں۔ جب تک کسی سالک کے ذہن میں ’’لا‘‘ کے انوار کی پوری وسعتیں پیدا نہ ہو جائیں وہ اس وقت تک ’’لا‘‘ کے مفہوم یا معرفت سے روشناس نہیں ہو سکتا۔ کوئی سالک ابتدا میں ’’لا‘‘ کے انوار کو اپنے ادراک کی گہرائیوں میں محسوس کرتا ہے۔ یہ احساس شعور کی حدوں سے بہت دور اور بعید تر رہتا ہے۔ اس ہی لئے اس احساس کو شعور سے بالاتر یا لاشعور کہہ سکتے ہیں لیکن فکر کی پرواز اس کو چھو لیتی ہے۔ وہ حالات جو عام طور سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا استغراق پیدا کرتی ہے۔ سالک کے ذہن میں اس فکر کو تخلیق کرتی ہے اور تربیت دیتی ہے۔ تفہیم کے اسباق میں پہلا سبق جو جاگنے کا عمل ہے، اس استغراق کے حصول میں بڑی حد تک معاون ہوتا ہے جب اس سبق کے ذریعے صوفی کا ذہن استغراق کے نقش و نگار کی ابتدا کر چکتا ہے اور اس کے اندر قدرے قوتِ القاء پیدا ہو جاتی ہے تو اس فکر کی بنیادیں پڑ جاتی ہیں۔ پھر استرخاء کے ذریعے اس فکر میں حرکت، آب و تاب اور توانائی آنے لگتی ہے۔ جب یہ توانائی نشوونما پا چکتی ہے، اس وقت ’’لا‘‘ کے انوار ورود میں نگاہ باطن کے سامنے آنے لگتے ہیں اور پھر ان انوار کا ورود اس فکر کو اور زیادہ لطیف بنا دیتا ہے۔ جس سے لاشہود نفسی کی بنا قائم ہو جاتی ہے۔ اس ہی لاشہود کے ذہن میں خضر علیہ السلام، اولیائے تکوین اور ملائکہ پر نظر پڑنے لگتی ہے اور ان سے گفتگو کا اتفاق ہونے لگتا ہے۔ اس ہی لاشہود نفسی کی ایک صلاحیت خضر علیہ السلام، اولیائے تکوین اور ملائکہ کے اشارات و کنایات کا ترجمہ سالک کی زبان میں اس کی سماعت تک پہنچاتی ہے۔ رفتہ رفتہ سوال و جواب کی نوبت آ جاتی ہے اور ملائکہ کے ذریعے غیبی انتظامات کے کتنے ہی انکشافات ہونے لگتے ہیں۔
’’لا‘‘ کے مراقبے میں آنکھوں کے زیادہ سے زیادہ بند رکھنے کا اہتمام ضروری ہے۔ مناسب ہے کہ کوئی روئیں دار رومال یا کپڑا آنکھوں کے اوپر بطور بندش استعمال کیا جائے۔ بہتر ہو گا کہ کپڑا تولیہ کی طرح روئیں دار ہو یا اس قسم کا تولیہ ہی استعمال کیا جائے۔ جس کا رؤاں لمبا اور نرم ہو۔ لیکن رؤاں باریک نہ ہونا چاہئے۔ بندش میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ آنکھوں کے پپوٹے تولیہ یا کپڑے کے روئیں کی گرفت میں آ جائیں۔ یہ گرفت ڈھیلی نہیں ہونی چاہئے۔ اور نہ اتنی سخت کہ آنکھیں درد محسوس کرنے لگیں۔ منشاء یہ ہے کہ آنکھوں کے پپوٹے تھوڑا سا دباؤ محسوس کرتے رہیں۔ مناسب دباؤ سے آنکھوں کے ڈیلوں کی حرکت بڑی حد تک معطل ہو جاتی ہے۔ اس تعطل کی حالت میں جب نگاہ سے کام لینے کی کوشش کی جاتی ہے تو آنکھ کی باطنی قوتیں جن کو ہم روحانی آنکھ کی بینائی کہہ سکتے ہیں، حرکت میں آ جاتی ہیں۔

========================================================================

شب قدر میں اللہ کی تجلی کا دیدار کیجیے

‎شب قدر میں اللہ تعالیٰ کی تجلی کا دیدار کریں۔‎.
(خواجہ شمس الدین عظیمی )



ماہِ رمضان جس میں نازل ہوا قرآن جس میں ہدایت ہے لوگوں کے واسطے اور راہ پانے کی کھلی نشانیاں ہیں۔ [سورۂ بقرہ :185]
آیتِ مقدسہ ہمیں اس تفکر کی دعوت دیتی ہے کہ نزولِ قرآن میں رمضان کا تذکرہ کیوں کیا گیا ہے جبکہ وحی رمضان کے علاوہ بھی نازل ہوتی رہی ہے۔ یہ تلاش کرنا بھی ضروری ہے کہ رمضان المبارک اور عام دنوں میں کیا فرق ہے اور رمضان میں انسانی تصورات اور احساسات میں کیا تبدیلی رونما ہوجاتی ہے؟
رمضان المبارک سے متعلق اس رکوع میں اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ 
ترجمہ: ‘‘اور جب تجھ سے پوچھیں بندے میرے،  مجھ کو تو میں نزدیک ہوں،  پہنچتا ہوں پکارتے کی پکار کو جس وقت مجھ کو پکارتا ہے۔ ’’ [بقرہ: 186]
آیتِ کریمہ ہمیں بتاتی ہے کہ بندے اور اﷲ کے درمیان کسی قسم کا کوئی فاصلہ حائل نہیں ہے۔ قرآن کے ارشاد کے مطابق کائنات میں ہر شئے دو رخ پر قائم ہے۔
وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
‘‘اور ہر چیز کے بنائے ہم نے جوڑے شاید تم دھیان کرو۔’’ [سورۂ ذاریات : 49]
انسانی حواس کے بھی دو رخ ہیں۔ ایک رخ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے آپ کو پابند اور مقید محسوس کرتا ہے اور دوسرا رخ وہ ہے کہ جہاں انسان قید و بند سے آزاد ہے۔ قید و بند میں ہمارے اندر جو حواس کام کرتے ہیں وہ ہمیشہ اسفل زندگی کی طرف متوجہ رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان حواس کی ہر حرکت ہماری زندگی کو کڑی در کڑی زنجیر کی طرح پابندِ سلاسل کئے ہوئے ہے۔ زندگی نام ہے تقاضوں کا، یہ تقاضے ہی ہمارے اندر حواس بناتے ہیں۔ بھوک، پیاس، جنس، ذہنی تعیش، ایک دوسرے سے بات کرنے کی خواہش، آپس کا میل جول اور ہزاروں قسم کی دلچسپیاں یہ سب تقاضے ہیں اور ان تقاضوں کا دارومدار حواس پر ہے۔ حواس اگر تقاضے قبول کرلیتے ہیں تو یہ تقاضے حواس کے اندر جذب ہوکر ہمیں مظاہراتی خدوخال کا علم بخشتے ہیں۔ عام دنوں میں ہماری دلچسپیاں مظاہر کے ساتھ زیادہ رہتی ہیں۔ کھانا، پینا، سونا، جاگنا، آرام کرنا، حصولِ معاش میں جدوجہد کرنا اور دنیاوی دوسرے مشاغل سب کے سب مظاہر ہیں۔
عام دنوں کے برعکس روزہ ہمیں ایسے نقطے پر لے آتا ہے جہاں سے مظاہر کی نفی شروع ہوتی ہے۔ مثلاً وقتِ معینہ تک ظاہری حواس سے توجہ ہٹا کر ذہن کو اس بات پر آمادہ کرنا کہ ظاہری حواس کے علاوہ اور بھی حواس ہمارے اندر موجود ہیں جو ہمیں آزاد دنیا ( غیب کی دنیا ) سے روشناس کرتے ہیں۔ روزہ زندگی میں کام کرنے والے ظاہری حواس پر ضرب لگا کر ان کو معطل کردیتا ہے۔ بھوک پیاس پر کنٹرول، گفتگو میں احتیاط، نیند میں کمی اور چوبیس گھنٹے کسی نہ کسی طرح سے یہ کوشش کی جاتی ہے کہ مظاہر کی گرفت سے نکل کر غیب میں سفر کیا جائے۔
رمضان المبارک کا پورا مہینہ دراصل ایک پروگرام ہے۔ اس بات سے متعلق کہ انسان اپنی روح اور غیب سے متعارف ہوجائے۔
اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ:
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ o  وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ o لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍoتَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍo سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِo
‘‘ہم نے (اس قرآن کو )اتارا شب قدر میں۔ اور تو کیا بوجھا کیا ہے شب قدر۔ شب قدر بہتر ہے ہزار مہینے سے۔ اترتے ہیں فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کے حکم سے، ہرکام پر۔ امان ہے وہ رات صبح کے نکلنے تک۔’’  [سورۂ قدر]
اﷲ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق لیلۃالقدر ایک ہزار مہینوں کے دن اور رات کے حواس سے افضل ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے ہم اس طرح کہ سکتے ہیں کہ رات کے حواس کی رفتار اس رات میں ( جو بہتر ہے ہزار مہینوں سے ) ساٹھ ہزار گنا بڑھ جاتی ہے کیونکہ ایک ہزار مہینوں میں تیس ہزار دن اور تیس ہزار راتیں ہوتی ہیں۔
رمضان المبارک کے آخری دو (2) عشروں کا پروگرام
رمضان کی دس تاریخ تک ہمیں اس بات کی عادت ہو جاتی ہے کہ ہم ان حواس کی گرفت کو توڑ سکیں جو گیارہ مہینے ہمارے اوپر مسلط رہے ہیں۔ رمضان کے پہلے عشرے میں بھوک، پیاس، نیند، گفتگو میں احتیاط اور قرآن پاک کی تلاوت سے کافی حد تک ظاہری حواس ہماری گرفت میں آجاتے ہیں۔ محض اﷲ کی خوشنودی کیلئے پورے دن کھانا نہ کھانا، شدید تقاضے کے باوجود پانی نہ پینے اور افطار و سحری کے درمیان چند گھنٹے سونے سے ہمارے اندر ایک ایسی طاقت پیدا ہوجاتی ہے جو ہمیں رات کے حواس اور روح کے قریب کردیتی ہے۔دس (10) روزے رکھنے کے بعد اگر ہم کوشش کریں تو بہت آسانی کے ساتھ روح کی خفتہ صلاحیتوں کو بیدار کرسکتے ہیں۔

گیارھواں (11 ) روزہ

دسویں روزے کے بعد چوبیس گھنٹے میں چھ گھنٹے سے زیادہ نہ سوئیں۔

بارھواں ( 12 ) روزہ

باھویں، تیرھویں اور چودھویں روزوں میں نیند کا وقفہ بجائے 6کے 5گھنٹے کردیں۔ کھانے میں یہ احتیاط کریں کہ سحر و افطار میں اتنا کھائیں کہ جو معدہ کے لئے گرانی کا باعث نہ بنے۔

پندرھواں (15 ) روزہ

پندرھویں روزہ میں سحر و افطار میں کھانا بھوک رکھ کر کھائیں اور کھانوں میں زیادہ مرغن اور ثقیل چیزیں استعمال نہ کریں۔ نیند کا وقفہ کم کرکے ساڑھے چار گھنٹے کردیں۔

سولھواں (16 ) روزہ

سولہویں روزے میں سحری نہ کھائیں صرف دودھ یا چائے پئیں۔ افطار ایک یا دو کھجور اور دودھ سے کریں۔ پھلوں کا رس پی لیں لیکن ٹھوس غذا نہ کھائیں۔ تراویح کے بعد سحرے تک درودِ خضری پڑھتے رہیں۔

سترھواں (17) روزہ

ہلکی سحری کھاکر فجر کی نماز باجماعت ادا کرکے ساڑھے چار گھنٹے کے لئے سوجائیں۔ دن بھر کام میں مشغول رہیں اور یَاحَیُّ یَاقَیّومْ کا ورد کرتے رہیں۔ افطار میں صرف پھلوں کا رس اور دودھ پئیں۔ ٹھوس غذا بالکل استعمال نہ کریں۔ تراویح پڑھنے کے بعد درود خضری پڑھتے پڑھتے سوجائیں اور سحری کے وقفہ تک سوتے رہیں۔

اٹھارواں (18 ) روزہ

سحری میں ہلکی اور زود ہضم غذا مثلاً دلیہ، توس، سوجی کا ہریرہ وغیرہ استعمال کریں اور پورے دن کاروبار میں مشغول رہتے ہوئے یَاحَیُّ یَاقَیّومْ کا ورد کرتے رہیں۔ افطار میں آدھا پیٹ روٹی کھائیں پانی یا شربت کم پئیں اور تراویح پڑھتے ہی سوجائیں۔

انیسواں ( 19 ) روزہ

19رمضان کو سحر میں اتنی غذا استعمال کی جائے جو طبیعت میں کسی قسم کا تکدّ ر پیدا نہ کرے اور افطار میں طند کھجوریں اور دودھ کا استعمال کیا جائے۔ پانی کم مقدار میں پیا جائے۔ تراویح کے بعد درودِ خضری 
صَلَّی اﷲُ تَعَالیٰ عَلیٰ حَبِیبِہِ مُحَمَّدٍوَّسَلَّم
پڑھتے رہیں اور سحری تک چار گھنٹے کے لئے سوجائیں۔

بیسواں ( 20 ) روزہ

20 رمضان کو سحری میں صرف ایک یا دو ڈبل روٹی کے ٹوسٹ یا دلیہ دودھ کے ساتھ کھاکر روزے کی نیت کرلیں۔ دن میں معاش کے کاموں کے علاوہ پورے وقت کلمۂ تمجید ( تیسرا کلمہ ) پڑھتے رہیں۔ افطار کے وقت ہلکی غذا کھائیں، پانی بھی کم پئیں۔ مغرب کی نماز کے بعد سے عشاء کی نماز تک درودِ خضری پڑھتے رہیں۔ تراویح کے بعد دونوں کانوں میں روئی لگالیں اور تمام رات جاگتے رہیں۔ پوری رات تلاوتِ کلام پاک، تیسرا کلمہ، درودِ خضری اور نوافل پڑھتے رہیں۔
رمضان المبارک کے بیس ( 20) روزوں میں ظاہراً حواس کے ترک سے انسان اس قوتِ رفتار کے قریب تر ہوجاتا ہے اور رمضان کے آخری عشرہ میں اس رفتار میں مزید اضافہ کرکے اُس غیب کا مشاہدہ کرسکتا ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے لیلۃ القدر فرمایا ہے۔

اکیسواں ( 21 ) روزہ

21 رمضان کی سحری میں برائے نام غذا کھاکر فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد تین گھنٹے پینتالیس منٹ  ( 3:45 ) کے لئے سوجائیں۔ بیدار ہونے کے بعد ضروری کاموں کے علاوہ تیسرا کلمہ اور قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہیں۔ افطار میں ایک گلاس پانی، کم مقدار میں پھل اور چائے کے علاوہ کوئی چیز نہ کھائیں۔ افطار کے بعد سے علاوہ نماز کے رات دو بجے تک درودِ خضری پڑھتے رہیں۔ تہجد کی نماز ادا کرنے کے بعد اندھیرے میں لکڑی کی پیڑی یا چوکی پر قبلہ رخ ہوکر نماز کی نیت باندھ لیں آنکھیں بند کرکے یَا مُرِیدُ یَا وَدُودُ یَا اَﷲ تسبیح پڑھیں اور اﷲ سے لیلۃ القدر کے فیوض و برکات حاصل ہونے کی دعا کریں۔ اس کے بعد درودِ خضری کا ورد کرتے رہیں اور ڈھائی گھنٹے کے لئے سوجائیں۔

بائیسواں (22 ) روزہ

22 رمضان کو ہلکی سحری کھاکر روزہ رکھ لیں۔ پورے دن عبادت میں مصروف رہیں۔ ایک کھجور سے افطار کریں اور مغرب کی نماز کے بعد آدھا پیٹ سے کم کھانا کھائیں۔ گزشتہ شب کی طرح کلمۂ تمجید کا ورد رکھیں اور نوافل پڑھیں۔ دو بجے چوکی پر کھڑے ہوکر متذکرہ بالا تسبیح پڑھیں اور جاگتے رہیں۔

تئیسواں ( 23 ) روزہ

23 رمضان کو تھوڑی سی سحری کھاکر فجر کی نماز کے بعد تین گھنٹے کے لئے سوجائیں۔ بیدار ہونے کے بعد پورے دن عبادت میں مصروف رہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت کریں اور کلمۂ تمجید کا ورد کرتے رہیں۔ افطار ایک کھجور سے کریں اور غذا کم سے کم کھائیں۔ پوری رات گزشتہ رات کی طرح گزاریں۔

 چوبیسواں ( 24 ) روزہ

24 رمضان کو سحری میں ٹھوس غذا نہ کھائیں۔ دلیہ، دودھ یا سوجی کا ہریرہ استعمال کریں اور فجر کی نماز کے بعد دو گھنٹے کے لئے سوجائیں۔ دو گھنٹے سے زیادہ نہ سوئیں۔ الارم لگائیں یا کسی اور ذریعہ سے جاگ اٹھیں۔ پورے دن قرآن پاک کی تلاوت اور کلمۂ تمجید کا ورد کرتے رہیں۔ دو بجے رات کو تہجد کی نماز کے بعد لکڑی کی چوکی پر قبلہ رخ کھڑے ہوکر یَا مُرِیدُ یَا وَدُودُ یَا اَﷲ کی تسبیح پڑھیں۔

پچیسواں ( 25 ) روزہ

ہلکی سی سحری کھاکر فجر کے بعد دو گھنٹے کے لئے سوجائیں۔ دن بھر کلمۂ تمجید کا ورد کرتے رہیں۔ افطار میں پھل یا دلیہ اسرعمال کریں اور آدھی رات کے بعد سوجائیں۔

چھبیسواں ( 26 ) روزہ

26 رمضان کو ہلکی سی سحری کھائیں۔ یہ روزہ بھی کاروبار معاش کے علاوہ تمام وقت کلمۂ تمجید پڑھنے میں گزاریں۔ اس روزہ کی افطاری میں ایک کھجور، ایک پیالہ دودھ اور پانی کے علاوہ کوئی چیز استعمال نہ کریں۔

اب یہ ستائیسویں ( 27 ) شب ہے

وہ افراد جو ستائیسویں (27 ) شب کا پروگرام انفرادی طور سے کرنا چاہیں، اس شب کالی مرچ کا سفوف بناکر روئی میں ہلکا سا لگا کر دونوں کانوں میں رکھ لیں۔ حسب معمول کلمۂ تمجید اور درودِ خضری کا ورد کرتے رہیں۔دو بجے رات کو تہجد کی نماز کے بعد لکڑی کی چوکی پر قبلہ رخ کھڑے ہوکر یَا مُرِیدُ یَا وَدُودُ یَا اَﷲ کی تسبیح پڑھیں۔ اس کے بعد کلمۂ تمجید اور درودِ خضری کا ورد کرتے رہیں۔
رمضان کے آخری پورے عشرے میں چوبیس گھنٹے میں تین گھنٹے پینتالیس منٹ (3:45)، تین گھنٹے (3:00) اور ڈھائی گھنٹے (2:30) سے زیادہ سونا ممنوع ہے اور رات میں جس جگہ رہیں یا سوئیں وہاں شدید ضرورت کے علاوہ اندھیرا بھی ضروری ہے۔ اس پروگرام پر عمل کرنے سے آپ کے ذہن کی رفتار ساٹھ ہزار گنا ہوجائے گی۔ پروگرام کی کامیابی کے نتیجہ میں اﷲ کے فضل و کرم اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طفیل اﷲ تعالیٰ کی تجلی کا دیدار ہوجاتا ہے اور دعائیں مقبولِ بارگاہ ہوجاتی ہیں۔ 


========================================================================
یہ اس ماہ کے ڈائجسٹ کے محض چند تعارفی صفحات ہیں۔
کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت اس ڈائجسٹ کے مضامین  بلا اجازت شائع نہیں کیے جاسکتے۔
 مضمون کا کوئی حصہ کسی کتاب میں شامل یا انٹر نیٹ پر شئیر کرتے ہوئے روحانی ڈائجسٹ کا حوالہ ضرور تحریر کریں۔  
========================================================================

Like us On Facebook

Powr