Breaking

جولائی 1979ء

Views
جولائی 1979ء کے شمارے کا سرورق



روحانی ڈائجسٹ کا آٹھواں شمارہ جولائی 1979 ء میں شائع ہوا اس شمارے کے سرورق پر چاند سورج اور ستاروں کی دنیا، درخت، سمندر اور لوح و قلم کا منظر اﷲتعالیٰ کے اس ارشاد کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ ’’دنیا کے جتنے درخت ہیں سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر(کا تمام پانی) سیاہی ہو اور اس کے بعد سات سمندر مزید (سیاہی بن جائیں) تو بھی خدا کی باتیں ختم نہ ہوں گی‘‘۔

========================================================================
مضامینلکھاریموضوع
انوارِ الٰہی------
انوارِ رسالت------
رباعیاتقلندربابا اولیاء---
آوازِ دوستخواجہ شمس الدین عظیمی---
تاثراتقارئین کرام---
وارداتادارہ---
لوح و قلمقلندر بابا اولیا---
حضرت بوعلی شاہ قلندرؒ سہیل احمد---
بائبل کی ایک آیت ارم انصاری---
یادِ ماضیتفسیر فاروقی---
کایا پلٹفرخ اعظم---
ایرانی حرمنسیم احمد عظیمی---
جھائیاں اور مہاسےحکیم عبدالحمید ہاشمی---
آپ بیتیانیس احمد---
محفلِ مراقبہاحمد جمال عظیمی---
دل اللہ کا گھرنصرت علی شاہ---
پراسرار ہیولیٰصادق الاسرار---
الکتابتبصرہ نگار---
خواب کی تعبیرخواجہ شمس الدین عظیمی---
آپ کے مسائل خواجہ شمس الدین عظیمی---
ٹیلی پیتھیادارہ---

========================================================================

رباعیات


آدم کو بنایا ہے لکیروں میں بند
آدم ہے اسی قید کے اندر خورسند
واضح رہے جس دم یہ لکیریں ٹوٹیں
روکے گی نہ اِک دم اسے مٹی کی کمند
--
ساقی وہی مئے لا جو ہمیں آئے پسند
ساقی وہی خُم کھول دے جو ہو سر بند
اِک آن میں یہ رات گزر جائے گی
ہو جائیں گے ہم صبح زمیں کے پیوند
--
ساقی ترے میکدہ میں اتنی بیداد
روزوں میں ہوا سارا مہینہ برَباد
اِس باب میں ہے پیرِ مُغاں کا اِرشاد
گر بادہ نہ ہاتھ آئے تو آتی ہے باد
--
اِس بات پہ سب غور کریں گے شاید
آہیں بھی وہ دو چار بھریں گے شاید
ہے ایک ہی بات اِ س میں پانی ہو کہ مئے
ہم ٹوٹ کے ساغر ہی بنیں گے شاید
--

========================================================================

لوح و قلم


روح کی مرکزیتیں اور تحریکات

لطائف کا بیان پہلے آ چکا ہے۔ روح کے چھ لطائف دراصل روح کی چھ مرکزیتیں ہیں جن کو بہت وسعتیں حاصل ہیں۔ ان مرکزیتوں کی حرکت دن رات کے وقفوں سے یکے بعد دیگرے صادر ہوتی رہتی ہیں۔ چھ لطیفوں میں سے تین لطیفوں کی حرکت بیداری میں اور باقی تین لطیفوں کی حرکت نیند میں عمل کرتی ہے۔ ان لطیفوں کی حرکات کو ہم مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
یہ حصے بیداری یا نیند کے وقفے ہیں۔ بیداری کے وقفوں میں سب سے پہلا وقفہ وہ ہے جب انسان سو کر اٹھتا ہے اور اس کے اوپر نیم بیداری کی حالت طاری ہوتی ہے۔ اس وقفہ میں لطیفۂ نفسی حرکت کرتا ہے اور اس کی وسعتوں میں جس قدر فکر و عمل کی طرزیں ہیں وہ سب یکجا دور کرنے لگتی ہیں۔
دوسرا وقفہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب خمار اتر چکتا ہے اور پوری بیداری کی حالت ہوتی ہے۔ اس وقطہ میں لطیفۂ قلبی کی تمام صلاحیتیں اپنی وسعتوں میں جنبش کرتی رہتی ہیں۔ یہ وقفہ متوازن طور پر کُلفت و سرور کی حالت پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس وقفہ میں کُلفت و سرور کے احساسات متوازن ہوتے ہیں یا کبھی کُلفت کا احساس بڑھ جاتا ہے۔
بیداری کا تیسرا وقفہ خوشی، وجدان اور سرور کی قوت کے غالب ہونے کا دور ہے۔ اس وقفہ میں مسلسل لطیفۂ روحی کی حرکت قائم رہتی ہے۔
بیداری کے ان تینوں وقفوں کے بعد نیند کا پہلا وقفہ شروع ہو جاتا ہے جس کو غنودگی کہتے ہیں۔ اس حالت میں لطیفۂ سری حرکت میں رہتا ہے۔ نیند کی دوسری حالت جسے ہلکی نیند کہنا چاہئے۔ لطیفۂ خفی کی حرکت کا وقفہ ہوتی ہے۔ نیند کی تیسری حالت میں جب نیند پوری طرح گہری ہو جاتی ہے تو لطیفۂ اخفیٰ کی تحریکات صادر ہوتی ہیں۔ ان تمام حالتوں کے آغاز میں انسان پر سکوت کی حالت ضرور طاری ہوتی ہے۔ مثلاً جب کوئی شخص سو کر اٹھتا ہے تو آنکھیں کھولنے کے بعد چند لمحے قطعی سکوت کے ہوتے ہیں اور جب حواس کو رفتہ رفتہ بیدار ہونے کا موقع ملتا ہے تو ابتدائی طور پر حواس میں کچھ نہ کچھ سکوت ضرور ہوتا ہے۔ اس طرح وجدانی حالت شروع ہونے سے پہلے انسان کی طبیعت چند لمحوں کے لئے ساکت ضرور ہوتی ہے۔ جس طرح تینوں بیداری کی حالتیں ابتدائی چند لمحات کے سکوت سے شروع ہوتی ہیں، اس ہی طرح غنودگی شروع ہونے کے وقت پہلے حواس پر بہت ہلکا سا سکوت طاری ہوتا ہے اور چند لمحے گزر جانے کے بعد حواس کا یہ سکوت بوجھل ہو کر غنودگی کی صورت اختیار کر لیتاہے۔ اس کے بعد ابتدائی نیند کے چند ساکت لمحات سے ہلکی نیند کی شروعات ہوتی ہے پھر گہری نیند کی ساکت لہریں ذرا سی دیر کے لئے انسانی جسم پرغلبہ حاصل کر لیتی ہیں۔ یہ غلبہ بعد میں گہری نیند بن جاتا ہے۔ اب ہم ہر لطیفہ کی حرکت اور حرکت سے متعلق حالت کو مختصراً بیان کریں گے۔

لطیفۂ نفسی کی حرکت

جب نیند سے آنکھ کھلتی ہے تو سب سے پہلی حرکت پلک جھپکنے کی ہوتی ہے۔ پلک جھپکنے کا عمل باصرہ(نگاہ) کو حرکت دیتا ہے۔ باصرہ یا نگاہ ایسی حالت ہے جو کسی چیز سے واقف ہونے کی تصدیق کرتی ہے، اس طرح کہ وہ چیز فی الوقت موجود ہے یعنی ایک تو کسی چیز کا ذہنی طور پر وقوف حاصل ہے۔ یہ عمل تو حافظہ سے تعلق رکھنے والی بات ہے لیکن جب حافظہ اپنی یادداشت کو تازہ کرنا چاہتا ہے یا کوئی بیرونی محسوس حافظہ میں کسی یادداشت کو بیدار کرتا ہے اس وقت باصرہ جو پلک کے مسلسل عمل سے اس وقوف کے خدوخال اور شکل وصورت دیکھنے کے لائق ہو چکی ہے۔ اس کے سامنے ہونے کی تصدیق کرتی ہے۔ پلک جھپکنے کا یہ عمل اس ہی وقت شروع ہوتا ہے جب لطیفۂ نفسی حرکت میں آ چکا ہو۔ لطیفۂ نفسی کی حرکت کسی چیز کی طرف رجحان پیدا کرنے کی ابتدا کرتی ہے۔ لطیفۂ نفسی کے متحرک ہونے پر انسان کی لطیف حس یعنی نگاہ رجحان طبیعت کی ابتدا کرتی ہے۔ آنکھ کھلتے ہی لاشعور طور پر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ سمجھے کہ ارد گرد میں کیا چیزیں موجود ہیں اور ماحول میں کس قسم کے خدوخال پائے جاتے ہیں۔ وہ ان سب کی معلومات چاہتا ہے اور معلومات اس طرح کی جو مصدقہ ہوں۔ بغیر اس کے کہ جب تک انسان کے اپنے احساسات میں کوئی حس موجود چیزوں کی تصدیق کرنے والی نہ ہو وہ مطمئن نہیں ہوتا۔ چنانچہ سب سے پہلے اس کی نگاہ یہ کام انجام دیتی ہے۔ آنکھیں بند ہونے کی صورت میں نگاہ کا کام معطل تھا۔ پلک جھپکنے سے وہ تعطل ختم ہو گیا اور بصارت کام کرنے لگی۔

قانون:

تخلیط کے قوانین میں سے ایک قانون یہ ہے کہ جب تک آنکھوں کے پردے حرکت نہ کریں اور آنکھوں کے ڈیلوں پر ضرب نہ لگائیں، آنکھ کے اعصاب کام نہیں کرتے۔ ان اعصاب کی حسیں اس وقت کام کرتی ہیں جب ان کے اوپر آنکھ کے پردوں کی ضرب پڑتی ہے۔ اصول یہ ہوا کہ بند آنکھیں جیسے ہی کھلتی ہیں پہلے دو تین لمحوں کے لئے کھل کر ساکت ہو جاتی ہیں۔ یہ سکوت لطیفۂ اخفیٰ کی حرکت کو ختم کرتا ہے جس کے بعد فوراً جیسے ہی لطیفۂ نفسی کی مرکزیت کو جنبش ہوتی ہے میلان، رجحان یا خواہش کی شروعات ہو جاتی ہے مثلاً جاگنے والا اپنے گردو پیش کو جاننا چاہتا ہے اور اپنے ماحول کو سمجھنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔ یہ لطیفۂ نفسی کی پہلی حرکت ہے۔ اس میلان یا خواہش کے بعد اور خواہشات مسلسل اور یکے بعد دیگرے پیدا ہو جاتی ہیں۔ جب تک لطیفۂ نفسی کی حرکت بند نہ ہو یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور بصارت کی طرح جسم انسانی کی تمام حسیں پیدا شدہ خواہشات کی تائید، تصدیق اور تکمیل میں لگی رہتی ہیں۔ اگر لطیفۂ نفسی کی روشنی کسی طرف میلان کرتی ہے تو انسان کے تمام محسوسات اپنے دروازے اس ہی طرف کھول دیتے ہیں۔ حسیات میں سب سے زیادہ لطیف حس بصارت ہے جو سب سے پہلے لطیفۂ نفسی کی روشنی سے متاثر ہوتی ہے۔ یہ روشنی انسان کو ابتداءً عالم خیال سے روشناس کراتی ہے۔ اس عالم میں ذہن دو قسم کے تصورات پیش کرتا ہے۔ ایک قسم وہ ہے جو معنوی تصورات پر مشتمل ہوتی ہے۔ اور دوسری قسم تصویری تصورات ہوتے ہیں۔ معنوی تصورات سے یہ مراد نہیں ہے کہ ذہن انسانی میں کوئی معنی بغیر خدوخال یا شکل وصورت کے آ سکتے ہیں۔ معانی کی نوعیت چاہے وہ کتنی ہی لطیف ہو شکل وصورت اور خدوخال پر مبنی ہوتی ہے۔ پہلے پہل جب قوت باصرہ حرکت کرتی ہے تو نگاہ خارج کی چیز کو داخل میں اور داخل کی چیزوں کو خارج میں دیکھتی ہے۔ اس مطلب کی وضاحت کیلئے آئینہ کی مثال دی جا سکتی ہے۔

مثال:

آئینہ کی مثال کی ایک طرز ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ دوسری طرز یہ ہے کہ آئینہ دیکھنے والی نگاہ کو خیرہ کر لیتا ہے اور اس کی تمثیل کو جو اس کے سامنے ہے نگاہ پر منکشف کر دیتا ہے۔
یہ وہ دیکھتا ہے جو داخل سے خارج میں آ کر منظر کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اس کے برخلاف جب دیکھنے کا عمل خارج سے داخل میں ہوتا ہے تو کوئی ’’محیج‘‘(جو چیز کسی حس کے ذریعے ذہن انسانی کو اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے اس کو ’’محیج‘‘ کہتے ہیں) نگاہ کے سامنے آ کر خود نگاہ کو آئینہ کی حیثیت قرار دیتا ہے اور اپنے خدوخال سے ذہن انسانی کو اطلاع بخشتا ہے۔ جب ان دونوں زاویوں میں نظر تحقیق کی جائے تو یہ بات منکشف ہو جاتی ہے کہ ذہن انسانی ہر حالت میں آئینہ کا کام انجام دیتا ہے اور یہی ایک ذریعہ ہے جس سے روح انسانی اپنے تصورات کو تجسم کی شکل وصورت میں دیکھتی ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ ذہن انسانی میں اشیاء کی موجودگی کا لامتناہی سلسلہ قائم رہتا ہے۔ جس ذہن میں اشیاء کی موجودگی کے سلسلے کا قیام ہے وہ ذہن لطیفہ نفسی کے انوار کی تخلیق ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ لطیفۂ نفسی کی روشنیاں اپنی وسعتوں کے لحاظ سے لامتناہی حدوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اگر ان لامتناہی روشنیوں کی حد بندی کرنا چاہیں تو پوری کائنات کو ان لامحدود روشنیوں میں مقید تسلیم کرنا پڑے گا۔ یہ روشنیاں موجودات کی ہر ایک چیز کا احاطہ کرتی ہیں۔ ان کے احاطے سے باہر کسی وہم، خیال یا تصور کا نکل جانا ممکن نہیں۔ تصوف کی زبان میں روشنیوں کے اس دائرے کو جویہ کہتے ہیں۔ جویہ میں جو کچھ واقع ہوا تھا یا بحالت موجودہ وقوع میں ہے یا آئندہ واقع ہو گا وہ سب ذات انسانی کی نگاہ کے بالمقابل ہے۔ خارج کے اندر جو کچھ موجود ہے، بیداری میں نگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے۔ اگر نگاہ کی رسائی وہاں تک نہ ہو تو تصورات اس کے ہونے کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں۔ اگر تصورات کی دسترس بھی وہاں تک نہ ہو تو خیال معنوی خدوخال میں اس کو پیش کر دیتا ہے۔ اگر کوئی چیز خیال کی حدوں سے بھی بالاتر ہے تو وہم کسی نہ کسی طرح اس کی موجودگی کا احساس دلا دیتا ہے۔ قانونی طور پر یہ ماننا پڑتا ہے کہ جویہ کی روشنیاں ذات انسانی کو لامتناہی حدوں تک وسیع کر دیتی ہیں۔
صاحبان شہود نے سلوک کی راہوں میں نگاہ کو ’’جویہ‘‘ کی تمام وسعتوں میں دیکھنے پر مجبور کیا ہے۔ انبیاءؑ کی تعلیمات میں اس کوشش کا پہلا سبق دن رات کے اندر اکیس گھنٹے بیس منٹ جاگ کر پورا کیا جاتا ہے۔

========================================================================

ٹیلی پیتھی


ہم بتاچکے ہیں کہ انسان کے اندر ہم وقت دو دماغ کام کرتے ہیں۔  ایک دماغ شعوری حواس بناتا ہے۔۔۔۔ ایسے حواس جو Time and Spaceمیں جکڑے ہوئے ہیں۔ دوسرا دماغ انسان کا لاشعور ہے اور ایسے حواس بناتا ہے جو ٹائم اور اسپیس سے آزاد ہیں۔ مٹھاس  کے اندر کام کرنے والی مقداریں کشش ثقل پیدا کرتی ہیں اور نمک جن مقداروں سے مرکب ہے وہ مقداریں لاشعوری حواس کو متحرک کرتی ہیں۔ تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ جو لوگ مٹھاس کی نسبت نمک زیادہ استعمال کرتے ہیں ان کے اندر لاشعوری تحریکات زیادہ سرگرمِ عمل رہتی ہیں۔
مجھے جب یہ قانون معلوم ہوا تو ذہن میں یہ بات آئی کہ اس قانون پر عمل کرکے تجربہ کرنا چاہیے۔ چنانچہ میں نے میٹھی چیزیں کھانا بالکل چھوڑدیں۔ دو تین ہفتے طبیعت کے اندر سخت اضمحلال واقع ہوتا رہا۔ چند ہفتوں کے بعد طبیعت عادی ہوگئی۔ اضمحلال تو کم ہوگیا لیکن طبیعت بے کیف رہنے لگی اور مزاج میں چڑچراپن آگیا۔ دو مہینے کے بعد پہلی بار یہ محسوس ہوا کہ جسم لطیف اور ہلکا ہے۔ یہ بات واضح کردینا ضروری ہے کہ میں مٹھاس کے ترک کے ساتھ ساتھ ذہنی طور پر یکسو ہونے کی مشق بھی کرتا رہا۔
مٹھاس کے ترک سے جب خون میں نمک کی مقدار کا اضافہ ہوا تو پہلی مرتبہ دیواریں کاغذ کی بنی ہوئی نظر آئیں اور زیادہ گہرائی پیدا ہوئی تو میکانیت اور (Space)ٹوٹنے لگی۔ بے خیالی کے عالم میں کمرے بیٹھا ہوا تھا۔ ذہن نے کروت بدلی اور یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ فرش اور چھت کا فاصلہ فی الواقع کوئی فاصلہ نہیں ہے۔ میں نے جب چھت کو چھونا چاہا تو چھت مجھ سے اتنے قریب آگئی کہ میں نے اُسے آسانی سے چھولیا۔ یعنی چھت اور  فرش کا درمیانی فاصلہ ختم ہوگیا۔ مٹھاس چھوڑے ہوئے جب تین ماہ گزرے تو خوابوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا، ایسے خواب جن کی تعبیر صبح بیدار ہونے کے بعد سامنے آجاتی تھی۔
میں نے دیکھا کہ میری بہن بیمار ہے اور سخت کرب کے عالم میں بے چین ہیں۔ صبح بیدار ہونے کے بعد مجھے اس بات پر اس لیے تعجب ہوا کہ میں رات کو بہن کے پاس سے آیا تھا اور کسی قسم کا کوئی تکلیف نہیں تھی۔ کچھ دیر گزرنے کے بعد اطلاع ملی کہ بہن کی طبیعت رات اچانک اس قدر خراب ہوگئی ہے کہ ڈاکٹر نے اسپتال میں داخل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔
کچھ عرصہ کے بعد خواب میں نظر آیا کہ میرے ایک عزیز دوست کا خط آیا ہے۔ ابھی خط میں کھولنے بھی نہ پایا تھا کہ میری نظر کسی ریلوے اسٹیشن پر پڑی جہاں لوگ اپنے عزیز و اقربا کو خوش آمدید کہنے کے لیے جمع ہیں۔ ریل پلیٹ فارم پر آئی تو میں بھی دوسرے لوگوں کی طرح ایک ڈبّے سے دوسرے ڈبّے میں کسی کو تلاش کرتا پھر رہا ہوں اور اسی عالم میں میری آنکھ کھل گئی۔ اگلے روز صبح گیارہ بجے مجھے ایک تار ملا کہ میرے دوست کراچی آرہے ہیں۔ جبکہ بیس سال کے عرصے میں اس عزیز دوست سے نہ کبھی ملاقات ہوئی اور نہ خط و کتابت کا سلسلہ  قائم رہا تھا۔
پھر یہ خواب عام تصورّات اور عام خیالات  سے ہٹ کر اس طرح جلوہ افروز  ہوئے کہ میں خود کو ہواؤوں میں محور، پرواز دیکھنے لگا۔ اُڑنے کی صورت یہ ہوئی تھی جیسے ہوا میں پرندے اُڑتے ہیں ۔لیکن پرندے پروں کو اوپر نیچے کرتے ہیں اور میں پرواز کے دوران ہاتھوں کو اونچا نیچا کرتا تھا۔ بعض اوقات اُڑان اتنی اونچی ہوجاتی تھی کہ اوپر سے نیچے دیکھنے سے دہشت اور خوف مسلط ہوجاتا تھا پھر ان خوابوں  نے ایک نیا روپ دھارا۔ وہ یہ کہ دور دراز کی چیزیں خواب میں نظر آتیں اور خواب میں قسم قسم کے لذیذ اور شیریں پھل کھانے کو ملتے اور جب میں نیند سے بیدار ہوتا تو زبان پر ان پھلوں کا ذائقہ اور شیرینی کا احساس موجود ہوتا۔ چھ مہینے تک مٹھاس استعمال نہیں کی گئی تو یہ کیفیت وارد ہوئی کہ کھلی آنکھوں سے دور دراز کی چیزیں سامنے آنے لگیں۔ مثلاً یہ کہ میرے ایک دوست سوئٹزر لینڈ میں مقیم تھے۔ بیٹھے بیٹھے مجھے ان کا خیال  آگیا اور میں نے دیکھا کہ میں سوئٹزرلینڈ میں اپنے دوست کے گھر میں موجود ہوں۔ اس کے گھر کا صحن ، کمرے اور کمرے کے اندر آرائش کا سامان میں نے اسی طرح دیکھا جیسے ایک آدمی اپنے گھر کا ڈرائنگ روم دیکھتا ہے۔ دوست کے ساتھ گفتگو بھی ہوئی۔ میرے لیے یہ تجربہ بالکل نیا اور انوکھا تھا۔ میں نے اپنے دوست کو ایک خط لکھا اور خیالی دنیا میں دیکھے ہوئے گھر کا ایک نقشہ بنایا۔ سمتیں متعین کیں۔ نقشے میں کمروں کی تعداد، صحن کی پیمائش اور Front Elevation کی سمت لکھ کر یہ خط انہیں پوسٹ کردیا۔ میرے دوست نے جواباً اس بات پر بہت حیرت کا اظہار کیا کہ آپ کو کیسے پتہ چل گیا کہ میرے گھر نقشہ یہ ہے اور وہ   East Open ہے اور اس میں کتنے کمرے ہیں اور ان کمروں میں کس قسم کا فرنیچر ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ میں نے خط میں لکھی ہوئی ایک ایک بار کو گھر اور گھر میں آرائش کے سامان سے موازنہ کیا جو حرف بہ حرف صحیح نکلا۔ انہوںنے لکھا کہ  واقعہ یہ ہے کہ اتنی زیادہ تفصیل میں بھی بیان نہیں کرسکتا تھا۔
میٹھا چھوڑے ہوئے جب نو مہینے گزرتے تو دماغ میں مخاطب کے خیالات منتقل ہونے لگے۔ جو کچھ اس کے دماغ میں ہوتا تھا وہ میں من و عن بیان کردیتا تھا۔
میرے ابا جی مسجد سے ظہر کی نماز پڑھ کر تشریف لائے۔ میں چونکہ نماز ادا کرنے کے لیے مسجد نہیں جاسکا تھا، اس لیے انہوں نے مجھے سخت سست کہا ۔ میںنے عرض کیا ابا جی معاف کردیں، آئندہ  یہ کوتاہی سرزد نہیں ہوگی۔ لیکن جب وہ مسلسل سرزنش کرتے رہے تو یکایک خیال کی ایک لہر آئی اور میں نے دیکھا کہ ابا جی  مسجد میں نماز پڑھ رہے ہیں اور اور بحالتِ نماز گھر کی چھت کا حساب لگارہے ہیں کہ اتنے پیسے شٹرنگ میں خرچ ہوں گے ، اتنے لوہے میں لگیں گے ، وغیرہ وغیرہ میں نے ان سے مودبانہ عرض کیا ابّاجی ایسی نماز کا کیا فائدہ جس میں آدمی گھر کی چھت کا حساب لگاتا رہے۔ اس وقت مجھے بہت زیادہ ندامت ہوئی جب ابا جی نے فرمایا کہ واقعتاً میں نماز میں حساب لگاتا رہاہوں۔
یہ چند مثالیں اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ مٹھا س کا ترک ٹائم اسپیس کی حد بندیوں کو توڑدیتا ہے۔ ہم نے مشقوں کے دوران میٹھی چیزوں کے کم سے کم استعمال کا مشورہ اس لیے دیا ہے کہ خیالات کے اوپر سے ٹائم اسپیس کی گرفت کم سے کم ہوجائے۔
ٹیلی پیتھی  کی بنیاد ہی یہ ہے کہ آدمی اپنے خیالات دوسرے آدمی کو بغیر کسی وسیلے کے منتقل کردے۔ وسیلے سے ہماری مراد یہ ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان جو طبعاً فاصلہ اور وقت یعنی مکانیت اور زمانیت میں واقع ہے وہ ختم ہوجائے۔ جیسا کہ ہم پہلے بتاچکے ہیں  خیالات کی روشنی ہیں، ایسی روشنی جو ٹائم اسپیس سے آزاد ہے کیونکہ ہمیں اس کی عادت نہیں ہے کہ ہم بغیروسیلے کے اپنی بات دوسروں تک پہنچائیں۔ اس لیے ہمیں یہ چیز حاصل کرنے کے لیے پہلے ذہنی یکسوئی کے ساتھ مشق کرنی پڑتی ہے۔ مشقیں بہت سی ہیں۔ مثلاً شمع بینی، دائرہ بینی، اندھیرا بینی، نگیٹو بینی، سورج بینی، چاند بینی، آب بینی، وغیرہ وغیرہ۔
آئینہ بینی :
آئینہ بینی سے متعلق ایک واقعہ مثال کے طور پر پیشِ خدمت ہے جو جمعہ 14 اگست 1892ء کو انگلینڈ کے اخبار ’’ مارننگ لیڈر میں چھپا۔
گزشتہ ماہ ڈیوڈ تھامس نامی ایک شخص کی لاش جو کہ لارڈ ونڈ سر کی جاگیریں بحیثیت کارپنٹر کام کرتا تھا، کارڈف کے قریب، فرودائر نامی موضع کے پاس پائی گئی۔ کسی نے اس کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ تلاش کے باووجود نہ تو قاتل کا کوئی سراغ مل سکا اور نہ ہی سببِ قتل کا علم ہوا۔ تمام شہادتوں کے رُو سے ڈیوڈ ایک خاموش طبع آدمی تھا۔ اُسے سب ہی پسند کرتے تھے۔ اس کے گھریلو تعلقات بھی خوشگوار تھے۔ وہ کارڈنگ شائر کے ایک چھوٹے سے قصبے امیزان کا باشندہ تھا لیکن گزشتہ کئی سال سے گلمورگن شائر میں رہ رہا تھا۔ اس نے اسی جگہ ایک معزز خاتون سے شادی کی تھی۔
چند ماہ قبل اسے لارڈونڈسر کی جاگیریں بڑھی کی حیثیت سے ملازمت ملی تھی۔ اس لیے وہ کارڈف سے تھوڑی ہی دور  ایک گاؤں سینٹ فاگان میں مقیم تھا۔ اُسے اس گاؤں میں آئے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے کہ ہفتہ کی رات کو یہ المیہ پیش آگیا۔
حادثے کی رات اس نے اپنا کام وقت سے کچھ دیر پہلے ہی ختم کردیا تھا تاکہ وہ اپنے کیبن کے آگے رُگی ہوئی گھاس اور جھاڑ جھنکاڑ کاٹ سکے۔
سہ پہر کے وقت جب وہ کام سے بے زار ہوکر کیبن میں گیا تو اس کی بیوی نے اس سے کہا کہ وہ بچوں کو باہر تفریح کے لیے جاتے۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کی بیوی نے بھی جو کیبن کے دوسرے حصے میں کام کررہی تھی، اس پر زیادہ توجہ  نہیں دی۔ تاہم اسے اتنا یاد رہا کہ اس کے شوہر نے اوپر جانے کے بعد ہاتھ منہ دھویا اورکپڑے بدلنے کے بعد بچوں کو ساتھ لیے بغیر ہی چلاگیا تھا۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ باہر اس کی کسی دوست سے ملاقات ہوگئی اور دونوں ٹہلتے ہوئے شراب خانے میں چلے گئے جہاں انہوں نے کچھ بیئر پی اور پھر دس بجے شب ایک دوسرے سے جُداہوگئے۔ اس وقت تھامس بہت خوش تھا اور وہ تیزی سے چلتا ہوا گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ سڑک کے ایک سنسان مقام پر پہنچا۔ اسی لمحے ایک دوسرے راہ گیر نے پستول چلنے آواز اور ایک درد ناک چیخ سنی۔ اس راہ گیر کو گولی چلنے کے فوراً بعد ایک ایسا آدمی تیز تیز چلتا ہوا دکھائی دیا جس کے اندر سے پریشانی مترشخ تھی۔
اس مقام سے دو سو گز آگے راہ گیر کو سڑک کے کنارے لاش پڑی دکھائی دی۔ جب اس نے لوگوں کو مدد کے لیے پکارا تو معلوم ہوا لاش ڈیوڈ تھامس کی ہے اسے تقریباً سو گز کے فاصلے پر گولی ماری گئی تھی۔ بلکہ دہشت کے عالم کچھ دور تک دوڑتا چلا گیا۔ سڑک پر اتنی دور تک خون کی لکیر صاف دکھائی دے رہی تھی۔
اس قتل اور قاتل کی شناخت کے سلسلے میں ’’کارڈف سائیکولوجیکل سوسائٹی‘‘ کی جانب سے آئینی بینی کرنے والی ایک 19سالہ لڑکی نے وآئینہ بینی کے ذریعے  عجیب و غریب انکشافات کیے ۔ کچھ دنوں کے بعد اس لڑکی کو فیئر وائر لے جایا گیا۔ وہ اس سے قبل وہاں کبھی نہیں گئی تھی۔ وہاں جاکر اس نے سابقہ طریقے کے ذریعے قتل سے متعلق تمام تفصیلات بیان کردیں۔
اس عجیب و غریب واقعہ کی اطلاع اخبار ’’ویسٹرن میل‘‘ والوں کو بھی ہوئی۔ لڑکی کے بیان کو مشکوک سمجھتے ہوئے انہوںنے کہا کہ وہ اخبار کے دو نمائندوں کی موجودگی میں اس تجربے کو دُہرائے۔ لڑکی نے اس پیش کش کو قبول کرلیا۔ چنانچہ ایک رات اس تجربے میں حصہ لینے والے تمام افراد اس شراب خانے کے باہر جمع ہوگئے جہاں مقتول ڈیوڈ تھامس نے اپنی زندگی کا آخری جام پیا تھا۔ شراب خانے سے وہ آئینہ ہیں لڑکی چل پڑی۔ اس کے ہمراہ ’’ویسٹرن میل‘‘ کے نمائندے بھی تھے۔ وہ خاموشی سے چلتی رہی حتیٰ کہ ایک جگہ وہ خود ہی بول اُٹھی ’’میںنگاہوں کے سامنے ایک پستول دیکھ رہی ہوں۔ اس کا رُخ میری جانب ہے۔ پستول نیا اور چمک دار ہے۔ اس پستول کا دہانہ کشادہ نظر آرہا ہے اور نال میری جانب اُٹھی ہوئی ہے‘‘۔
چالیس گز مزید آگے بڑھنے کے بعد لڑکی نے دوبارہ کہا ’’میں کسی کے قدموں کی چاپ سُن رہی ہوں۔ مجھے ایک آدمی دکھائی دے رہا ہے‘‘۔
’’کہاں ؟‘‘ نمائندوں نے سوال کیا۔
’’بالکل ہمارے سامنے ، وہ سڑک کے کنارے لگی ہوئی باڑھ کے ساتھ رینگ رہا ہے۔ غالباً اس کوشش میں ہے کہ کوئی اسے دیکھ نہ لے‘‘۔
 ’’اس کا حلیہ کیا ہے اور اس نے کیسے کپڑے پہن رکھے ہیں؟‘‘
آئینہ بین لڑکی جس پر اس وقت جذب کی سی کیفیت طاری تھی تیزی سے بولنے لگی اور اچانک اس کے قدموں میں بھی تیزی آگئی۔ اس کے ہمراہ چلنے والے نمائندوں نے  اسے بانہوں سے پکڑ کر سہارا دے رکھا تھا۔ اچانک لڑکی  نے ایک جھٹکے سے ایک ساتھی کو آگے دھکیل دیا۔  اس نے جس خیالی شبیہہ کو دیکھا تھا اب وہ اس کے تعاقب میں تھی۔ لڑکی کے حلق سے ایک دلخراش چیخ نکلا۔ ایک اخباری نمائندے  نے لپک کر اسے سہارا دیا۔  ورنہ وہ منہ کے بل زمین پر گر جاتی۔ یہ واقعہ عین اس جگہ پیش آیا جہاں ڈیوڈ تھامس کو پہلی گولی لگی تھی۔
لڑکی کے حلق سے کراہنے کی آوازیں نکلنے لگی تھیں۔ وہ اپنے بازؤوں کو بڑے کرب کے عالم میں موڑ کر پشت کی جانب لے جانے کی کوشش کررہی تھی۔ اخباری نمائندوں نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ کندھوں کے نیچے کسی مقام تک پہنچنے کے لیے بے تاب ہیں۔ انہوں نے اس کو مضبوطی سے سہارا دیا اور وہ لڑکھڑاتی ہوئی  آگے بڑھتی چلی گئی۔
لڑکی کی حالت لمحہ بہ لمحہ نازک ہوتی جارہی تھی۔ اس کی آنکھیں چڑھ گئی تھیں اور صرف پتلیاں نظر آرہی تھیں۔ انداز سے ظاہر ہورہا تھا کہ جیسے وہ قریب المرگ ہو۔
’’اسے چھوڑ دو‘‘۔ ایک اخباری نمائندے نے کہا اور لڑکی کا ہاتھ چھوڑ دیا گیا۔ وہ کراہتی ہوئی زمین پر آرہی۔ اس کے کراہنے سے انتہائی کرب ظاہر ہورہا تھا اور وہ مرتے ہوئے کسی جاندار کے سے انداز میں کراہتی ہوئی ساکت ہوگئی جیسے مرچکی ہو۔
’’بولو دوست، تم کون ہو؟‘‘ ایک نمائندے نے بہ آواز بلند کہا۔
لڑکی نے بہت دھیمی آواز میں اٹک اٹک کر جواب دیا ’’ڈیوڈ۔۔۔۔ تھ۔۔۔۔تھ۔۔۔تھامس۔۔۔۔‘‘
’’تم ہم سے کیا چاہتے ہو؟‘‘
’’مجھے گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا‘‘۔ لڑکی نے جواب دیا لیکن اس کا لہجہ مردانہ تھا۔
’’تمہیں کس نے گولی ماری تھی؟‘‘
لڑکی نے ایک نام بتایا جسے اخباری نمائندوں نے نوٹ کرلیا۔
’’اب تم ہم سے کیا چاہتے ہو دوست! ہم کیا کریں؟‘‘ سوال کیا گیا۔
آہستہ آہستہ لڑکی کے لب حرکت کررہے تھے۔ جیسے وہ انتہائی کرب کے عالم میں بولنے سے قاصر ہونے کے باوجود بولے بغیر نہ رہ سکتی ہو۔
’’میں اپنا انتقام لوں گا‘‘۔
’’کس سے ؟‘‘
’’جس نے مجھے گولی مار کر ہلاک کیا ہے‘‘۔
اس گفتگو کے بعد لڑکی نے انہیں آلۂ قتل کے بارے میں بتایا۔ اس پستول کو برآمد کرلیا گیا جس سے ایک سال قبل ڈیوڈ تھامس کو ہلاک کیا گیا تھا۔ اس دوران لڑکی مردہ حالت میں (بظاہر) ٹیلی فون کے ایک کھمبے کے قریب لیٹی رہی۔ رفتہ رفتہ اس کی حالت معمول پر آتی چلی گئی اور پھر یکایک وہ چلّانے لگی۔ ’’دیکھو، دیکھو‘‘ اس کا لہجہ انتہائی خوف زدہ تھا۔ ’’خون دیکھو‘‘۔
’’کہاں؟‘‘
’’یہاں دیکھو!‘‘ لڑکی چلّائی ’’خون، خون کے قطرے‘‘۔
اخباری نمائندوں نے بغور دیکھا لیکن غیر مرئی خون کے قطرے انہیں نظر نہیں آئے۔
’’ مجھے یہاں سے دور لے چلو‘‘۔ لڑکی نے اپنے پورے وجود سے کانپتے ہوئے کہا۔ اور پھر یکایک اس کا جسم اکڑ گیا۔ اس نے کہا ’’وہ ادھر ہے‘‘۔ ایک مرتبہ پھر لڑکی کے لہجے پر شدید خوف کا غلبہ ہوا اور اس کا چہرہ سفید پڑگیا۔ آنکھوں سے ابھی تک مردنی جھلک رہی تھی۔
’’تم کیا دیکھ رہی ہو؟‘‘
’’بھوت‘‘۔ لڑکی نے جواب دیا۔
اس کے فوراً بعد ہی اخباری نمائندوں کی ٹیم وہاں سے واپس آگئی۔ ان میں سے ہر ایک اپنی اپنی جگہ خوفزدہ تھا اور ان کے چہرے پیلے پڑگئے تھے۔
بظاہر یہ واقعہ بہت پیچیدہ اور عقل کی حدود سے باہر ہے لیکن ایسا نہیں ہے ۔ آپ ٹیلی پیتھی کے اس مضمون میں پڑھ چکے ہیں  کہ انسان کے اندر دو دماغ کام کرتے ہیں۔ دماغ نمبر دو جب متحرک ہوکر سامنے آجاتا ہے تو ایسی باتیں سامنے آنے لگتی ہیں جن کی عقل اس نے تشریح نہیں کرپاتی کہ وہ ٹائم اسپیس کی حد بندیوں جکڑی ہوئی ہے۔ آئینہ بینی ہو یا اور کسی قسم کی مشق جو دماغ کو خیالات کے ہجوم سے نکال کر کسی ایک نقطہ پر مرکوز کردے اس کے نتائج یہی مرتب ہوتے ہیں کہ نظروں کے سامنے ایسے حالات و واقعات دور کرنے لگتے ہیں جو عام نظروں سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ اسی بات کو مختصراً اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ جب خیالات کا ہجوم ٹوٹ کر صرف اور صرف ایک خیال پر مرکوز ہوجائے توانسان کے اندر چھٹی حس اپنی نوری توانائیوں کے ساتھ متحرک ہوجاتی ہے۔
یہ ہم سب کا روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ ہماری زندگی کا تاروپود  دراصل مختلف النوع خیالات پر قائم ہے اور نوعِ انسانی خیالات کے ان ہی چھوٹے بڑے ٹکڑوں پر زندگی گزارتی ہے۔
مثال:
ہمیں بھوک لگتی ہے۔ بھوک کیا ہے؟ جسمانی نشوونما قائم رکھنے کے لیے بھوک طبیعت کا ایک تقاضہ ہے۔ یہ تقاضہ خیال بن کر ہمارے دماغ پر وارد ہوتا ہے اور ہم اس خیال کی طاقت کے زیرِ اثر کچھ نہ کچھ کھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ علی ہذاالقیاس زندگی ہر تقاضہ اسی قانون کا پابند ہے۔ زندگی میں کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو خیال سے شروع ہوکر خیال پر ختم نہ ہوتا ہو۔ اعصاب جب تکان محسوس کرتے ہیں تو طبیعت ہمیں خیال کے ذریعے اس بات سے مطلع کرتی ہے کہ ہمیں آرام کرنا چاہیے اور ہم سوجاتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

 دوسرا سبق


پہلے سبق میں یہ بات پوری طرح واضح کردی گئی ہے کہ ٹیلی پیتھی سیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ منتشر خیالات سے نجات حاصل کرکے صرف ایک خیال کو اپنا ہدف بنایا جائے۔ ذہنی یکسوئی اور مرکزیت حاصل کرنے کے لیے دوسرا سبق یہ ہے۔
داہنے ہاتھ کے انگوٹھے سے سیدھے نتھنے کو بند کرلیں اور بائیں نتھنے سے پانچ سیکنڈ تک سانس کھینچ کر سیدھا نتھنا چھنگلیا سے بند کرلیں ۔ اور دس سیکنڈ تک سانس روک لیں۔  دس سیکنڈ کے بعد اُلٹے نتھنے سے پانچ سیکنڈ تک سانس باہر نکالیں۔ یہ ایک چکر ہوگیا۔ یعنی پانچ سیکنڈ سانس لینا،  دس سیکنڈ روکنا اور پانچ سیکنڈ باہر نکالنا ہے۔ اس طرح دس مرتبہ اس عمل کو دہرائیں۔  سانس کی یہ مشق صبح سورج نکلنے سے پہلے خلوئے معدہ اور رات کو سونے سے پہلے خالی پیٹ کرنی چاہیے۔ سانس کی اس مشق کے بعد آنکھیں بند کرلیں  اور یہ تصور کریں کہ آسمان پر نیلے رنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور آپ کے اوپر نور کی بارش ہورہی ہے۔ شروع شروع میں اس مراقبہ کے دوران  شعور کی مزاحمت اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ دماغ بوجھل اور ماؤف ہونے لگتا ہے۔ دماغ کا ماؤوف ہونا  دراصل مشق کی کامیابی کی طرف اشارہ ہے ۔ ابتدائی چند دنوں میں یا تو تصور بالکل قائم نہیں ہوتا یا پھر صرف آسمان اور بادل کا تصور دماغ کی سطح پر نمودار ہوتا ہے ۔ جب اس تصور میں گہرائی واقع ہوجاتی ہے تو پہلے سر کے اوپر بارش کے قطرے گرنے کا احساس ہوتا ہے۔ تصور اور زیادہ گہرا ہوجاتا ہے  تو فی الواقع بارش ہوتی ہوئی نظر آتی ہے اور جسم پر اس نورانی بارش کی بڑی بڑی بوندوں کا وہی اثر مرتب ہوتا ہے جو پانی کی بارش سے ہوتا ہے۔ یعنی نورانی بارش کی بوندیں گرنے سے جسم پر چوٹ پڑتی ہے اور پھر پورے ماحول پر برکھا رُت کا سماں پیدا ہوجاتا ہے۔ جب بند آنکھوں سے بارش کا تصور قائم ہوجائے اور جسم پر بوندوں کی چوٹ محسوس ہونے لگے تو اس مشق کو کھلی آنکھوں  سے کیا جائے اور تیسری آنکھ سے یہ دیکھا جائے کہ ہر طرف نور کی بارش ہورہی ہے اور پورا ماحول اس نورانی بارش میں ڈوبا ہوا ہے۔ جب یہ تصور پورا ہوجائے تو سمجھ لیجیے کہ اس مشق کی تکمیل ہوگئی ہے۔

========================================================================

حضرت بو علی شاہ قلندرؒ


سلطان غیاث الدین محمد ایک دن سیر اشکار کے لئے دریائے جمنا کے کنارے پھیلے ہوئے گھنے جنگل میں گیا۔ شکار کرتے ہوئے دریا کے کنارے پہنچا تو اس کی نظر ایک نہایت ہی حسین و جمیل دوشیزہ پر پڑی۔ وہ حسن و جمال کا شاہکار تھی اور کوئی غیر ارضی مخلوق معلوم ہورہی تھی۔ سلطان قدرت کی اس صناعی پر حیران رہ گیا اور اسے اپنے دل پر اختیار نہ رہا۔ اس نے سوچا اس گوہر بے بہا کو اس ویران جگہ کی بجائے خلوتِ شاہی کی زینت ہونا چاہیے۔ 
یہ لڑکی ایک دھوبی کی بیٹی تھی۔ سلطان لڑکی کے باپ کے پاس شادی کا پیغام بھجوایا۔ دھوبی بڑی مشکلوں سے راضی ہوا اور سلطان بڑی امنگوں اور خواہشوں سے اس گوہر نایاب کو جمنا کے کنارے سے شاہی محل میں لے آیا۔ مگر جب سے شادی ہوئی تھی سلطان کی حالت ایک سراب گزیل کی سی ہوگئی تھی جو صحرائے لق و دق میں پانی کے آثار دیکھ کر میلوں کی مسافت کے بعد اس مقام تک پہنچتا ہے وہاں بے بسی اور مجبوری اس کا استقبال کرتی ہے۔ سلطان جب بھی اپنی نئی نویلی دلہن کی طرف بڑھتا ہے، اس کے جسم کی قوت زائل ہو کر رہ جاتی ہے ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے اس کی توانائی گیلے کپڑے کی طرح نچوڑ لی ہو۔ اس نے کئی بار کوشش کی لیکن ہر بار یہی معاملہ پیش آیا۔
سلطان نے اپنا مسئلہ معتمدِ خاص کو سنایا اور اس کی وساطت سے شاہی معالجین کو بلوا کر ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھا۔ انہوں نے تشخیص و مشورے کے بعد متفقہ طور پر سلطان کو صحت مند قرار دے دیا۔ جب مسئلہ جوں کا توں رہا تو نامی گرامی علماء اور دانا و بینا حضرات سے رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے بھی اس معاملے میں اپنی معذوری کا اظہار کردیا۔
جب یہ مسئلہ لایخل دکھائی دینے لگا تو سلطان کی سوچ میں فکر مندی کے ساتھ ساتھ غصے اور جھنجھلاہت کا عنصر شامل ہوگیا۔ ایک دن معتمدِ خاص نے اسے مشورہ دیا ’’سلطان! ممکن ہے یہ بات آپ کے بھی علم میں ہو کہ آج کل دلی میں شاہ شرف الدین نامی ایک متجر عالم کا بہت شہرہ ہے۔ وہ بیس سال سے درس و تدریس اور دوسرے علمی مشاغل میں مصروف ہیں۔ آج کل وہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیاری کاکیؒ کے مزار کے قریب تشنگانِ علم کو اپنے علم سے سیراب کررہے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ ہمیں ان کی طرف رجوع کرنا چاہیے‘‘۔
سلطان پہلے ہی بڑے بڑے جید علما اور فضلا کی ناکامی پر مایوس ہوگیا تھا۔ اس نے غصہ میں کہا ’’اگر شاہ شرف الدین بھی اس مسئلے کو حل نہ کرسکے تو علما اور فضلا کو زبردست شاہی عتاب کا شکار ہونا پڑے گا‘‘۔
سلطان غیاث الدین محمد ود شاہ شرف الدین سے ملا اور اپنا مسئلہ پیش کیا۔ شاہ شرف الدین یہ عجیب و غریب صورتِ حال سن کر تذبذب کا شکار ہوگئے اور سلطان سے تین دن کی مہلت مانگی۔
شاہ شرف الدین دو دن اور دوراتیں اس مسئلے پر پوری ذہنی قوت کے ساتھ غور کرتے رہے لیکن کوئی بات سمجھ میں نہیں آئی۔ دو دن کی ذہنیکاوش اور تگ و دو سے ان کا دماغ ماؤف ہو کر رہ گیا تھا اور ذہنیخلفشار کے اثرات چہرے سے جھلکنے لگے تھے۔ تیسرے دن شاہ شرف ادلین اسی ذہنی انتشار کے عالم میں طالب علموں کو درس دے رہے تھے کہ کسی نے ان کی فکر کو بھانپ لیا اور اس سلسلے میں استفسار کیا۔ انہوں نے سارا حال کہہ سنایا۔ اس شاگرد نے مشورہ دیا کہ فلاں جگہ ایک مجذوب رہتے ہیں۔ آپ ان سے مل کر دست گیری کی درخواست کیجئے۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق شرف الدین اسی وقت کتاب کھلی چھوڑ کر باہر نکل گئے۔
ادھر شاہ شرف ادلین کو باہر گئے کچھ دیر گزری تھی کہ مدرسہ میں ایک مرد آزاد، فقیر داخل ہوا۔ دراز الجھے ہوئے گیسو، سُرخ محمور آنکھیں، بوسیدہ کپڑے اور برہنہ پا۔ اس فقیر کے چہرے سے مجذوبانہ جلال برس رہا تھا۔ کسی کو کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔ وہ فقیر سیدھا شاہ شرف الدین کی مسند کے پاس پہنچا اور ان کی کتاب میں ایک لفافہ رکھ کر وہاں موجود طالب علموں سے کہا۔
’’تمہارے استاد واپس آئیں تو انہیں اس لفافہ کے بارے میں بتادینا‘‘۔
یہ کہہ کر وہ فقیر مدرسے سے باہر نکل گیا۔ اُدھر شاہ شرف الدین بتائی ہوئی جگہ پہنچے تو مجذوب وہاں موجود نہیں تھا۔ لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ کافی دیر انتظار کے بعد شاہ شرف الدین مایوس ہو کر مدرسے واپس پہنچے۔ طالب علموں نے فقیر کی آمد کا تذکرہ کیا اور خط کے بارے میں بتایا۔
شاہ شرف الدین نے خط کھول کر پڑھا اور اسی وقت تیزی سے واپس باہر نکل گئے۔ مدرسہ سے وہ سیدھے سلطان غیاث ادلین محمد کے پاس پہنچے۔ مجذوب کے پاس جانے اور خط ملنے کی ساری روئداد سنائی اور بتایا کہ سلطان کے مسئلے کا حل اسی خط میں لکھا ہوا تھا۔ خط کے مضمون کی بنیاد پر شاہ شرف ادلین نے سلطان غیاث الدین کو بتایا۔
’’سلطان! اﷲ کا شکر ادا کر اس نے تجھے ایک گناہِ کبیرہ کے ارتکاب سے بچالیا۔ تو جس لڑکی سے زن و شو کے تعلقات قائم کرنا چاہتا تھا وہ تیری اپنی بیٹی ہے۔ تو اپنے حرم سے اس بات کی تصدیق کرسکتا ہے‘‘۔
اس انکشاف سے سلطان کے اوسان خطا ہوگئے۔ وہ فوراً حرم سرا میں پہنچا اور اپنی بیویوں سے سارا حال کہہ کر وضاحت چاہی۔ ایک بیوی نے بتایا۔
’’آج سے کوئی بیس سال پہلے میرے ہاں ولادت ہونے والی تھی۔ میں چاہتی تھی کہ لڑکا پیدا ہو کیونکہ آپ کو اولادِ نرینہ کی شدید خواہش تھی۔ مجھے پتہ تھا کہ اگر لڑکے کی پیدائش نہ ہوئے تو مجھے اور دوسری نوزائیدہ لڑکی کو شاہی عتاب کا شکار ہونا پڑے گا۔ شومئی قسمت سے میرے ہاں لڑکی پیدا ہوئی۔ میں نے اپنے اور اس کے تحفظ کی خاطر لڑکی کو ایک مٹکے میں رکھ کر دریائے جمنا کے کنارے رکھوادیا اور لڑکی کے گلے میں نشانی کے طور پر اپنا ایک لاکٹ ڈال دیا تھا‘‘۔
یہ سن کر سلطان نے دھوبی کو بلوایا اور پوچھ گچھ شروع کی۔ دھوبی نے بتایا۔
’’جہاں پناہ! اگرچہ میں نے اور میری بیوی نے اس لڑکی کو ہمیشہ ماں باپ کا پیار دیا ہے اور اس کو اپنی بیٹی سمجھ کر پالا پوسا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ہماری بیٹی نہیں ہے۔ آج سے کوئی پندرہ بیس سال پہلے مجھے یہ دریائے جمنا کے کنارے ایک مٹکے میں بند پڑی ملی تھی۔ قدرت نے مجھے اس وقت تک اولاد کی نعمت نہیں دی تھی۔ چنانچہ میں نے اور میری بیوی نے اس کو عطائے ایزدی سمجھ کر اپنی بیٹی بنا کر پرورش کی۔ جس وقت مجھے یہ ملی تھی اس کے گلے میں ایک لاکٹ بھی تھا جو شاید نشانی کے طور پر ڈال دیا گیا تھا۔ میں نے وہ لاکٹ بہ حفاظت اپنے پاس رکھ لیا تھا۔
یہ کہہ کر دھوبی نے وہ لاکٹ نکال کر سلطان کو دے دیا۔ سلطان نے وہ لاکٹ اپنی بیوی کو دکھایا تو اس نے اپنا لاکٹ پہچان لیا۔
٭٭٭
شاہ شرف الدین سلطان غیاث الدین کو مجذوب کا جواب سنانے کے بعد محل سے باہر آگئے۔ ان کی حالت و گرگوں ہورہی تھی۔ قدرت نے جذب و استغراق کا جو دریا ان کے باطن میں چھپا رکھا تھا اس کے بند ٹوٹ گئے اور شاہ شرف الدین پر جذب و مستی کا شدید غلبہ ہوگیا۔ وہ اسی حالت میں مدرسہ پہنچے اور طلبا کو رخصت کردیا۔ چالیس صندوق بھر کر اپنی ساری کتابیں دریا بُرد کر کے عشق و مستی کی آگ میں جلتے ہوئے جنگل کی طرف نکل گئے۔
شاہ شرف الدین نے جذب و مستی کی حالت میں سال سال گزار دیئے۔ وقت ان کو اپنی موجودگی کا احساس نہ دلا سکا۔ اس عرصے میں وہ باطن کا راستہ بھی طے کرتے رہے۔ وہ اکثر ایک باؤلی میں اتر جاتے اور رات بھر وہاں مراقبے کی حالت میں کھڑے رہتے۔
ایک دن ان کا استغراق ٹوٹ گیا اور وہ خلافِ معمول ہوش میں آگئے۔ انہوں نے اپنے سامنے ایک صاحبِ جلال و حشمت نورانی ہستی کو موجود پایا۔ یہ حضرت علیؓتھے۔ حضرت علیؓ نے شاہ شرف الدین سے اپنے ہاتھ پر بیعت لی اور انہیں بُو علی کی کنیت سے نوازا۔ مرشدِ کامل کی توجہ سے بو علی شاہؒ جلد ہی حاملِ عملمِ لدُنی اور واقفِ اسرار و رموز ہوگئے۔
حضرت علیؓ کے متعلق بو علی شاہؒ کہتے ہیں؎
بو علی لامانم و مولا علی
بو علی باشد علی مولائے ما
اے بو علی! ہم لا شئے بھی نہیں ہیں ہم کچھ نہیں ہیں۔ ہمارے آقا علی ہیں، وہی سب کچھ ہیں، وہی ہم غلاموں کے مولا ہیں۔
مفتی ضیاء الدین نے بو علی شاہؒکو عالمِ شعور میں دیکھا تو کہا‘‘۔ شرف الدین! آپ کم از کم نماز تو ضرور پڑھا کریں‘‘۔
بو علی شاہؒ نے جواب دیا۔ ’’ضیاء الدین! ہم اپنے اختیار میں نہیں ہیں۔ عشق و مستی کی جو آگ ہم میں بھڑک رہی ہے وہ ہمارے بس میں نہیں ہیں‘‘۔
مفتی ضیاء الدین نے کہا ’’شرف الدین! فرائض تو نبیوں کو بھی معاف نہیں ہوتے۔ تمہیں کیسے چھوٹ مل سکتی ہے؟‘‘۔
بو علی شاہؒ نے کہا ’’ہم جس عالم میں ہیں وہاں ہم کو اپنی بھی خبر نہیں۔ ہمیں کچھ پتہ نہیں ہے۔ ضیاء الدین! ایک بات اور یاد رکھ مکر کی نماز اور ہے اور حق کی نماز اور‘‘۔
مفتی نے کہا’’شرف الدین بہانے مت بناؤ، حلیہ سازی سے کام نہیں چلے گا‘‘۔
یہ سن کر بو علی شاہؒ کو جلال آگیا۔ اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا ’’مفتی! اٹھ اور میری کمر کو رسی سے باندھ‘‘۔
مفتی ضیاء الدین نے ایک رسی لی اور اسے حضرت بو علی شاہؒ کی کمر سے لپیٹ کر اس میں گرہ لگانی چاہی لیکن رسی بو علی شاہؒ کے جسم میں سے اس طرح گزر گئی جیسے ہوا میں گرہ لگائی گئی ہو۔ تجلیٔ ذات میں جذب ہوجانے کی وجہ سے بو علی شاہؒ کا جسم انتہائی درجہ لطیف ہوگیا اور کشش ثقل سے آزاد ہوگیا تھا۔ مفتی ضیاء الدین نے حیرت اور جھنجھلاہٹ کی ملی جلی کیفیت میں کئی بار بو علی شاہؒ کی کمر کو رسی سے باندھنے کی کوشش کی مگر ہر بار رسی ان کی کمر سے اس طرح گزر گئی جیسے یہ کوئی جسم نہیں، نور اور روشنی کا ہیولیٰ ہو۔ بو علی شاہؒ نے مفتی ضیاء الدین سے کہا۔ ’’مفتی صاحب! مجھے میری حالت پر چھوڑ دو۔ میرے معاملے میں دخل نہ دو۔ اور نماز کا انتظام کرو۔ آج ہم تمہاری امامت میں نماز ادا کریں گے‘‘۔
نماز کا اہتمام کیا گیا۔ مفتی ضیاء الدین نے مسندِ امامت سنبھالی اور بو علی شاہؒ بہت سے دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کے متقدی بنے۔ نماز ختم ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ بو علی شاہؒ بدستور قیام کی حالت میں سر جھکائے استغراق میں کھڑے ہیں۔ مفتی ضیاء الدین نے قریب پہنچ کر ٹہو کا دیا۔ ’’شرف الدین! کہاں کھوگئے؟ کھڑے کیوں ہو؟‘‘
بو علی شاہؒ نے مفتی کو مخاطب کرتے ہوئے ہندی دوہا پڑھا؎
آنکھیں گھاٹی گو رف دھاوے
یہ نماز شرفا نہیں بھاوے
خواجہ ملک علی انصاری دوسرے نمازیوں کے ساتھ بو علی شاہؒ کی گفتگو سن رہے تھے۔ آگے بڑھے اور بوچھا ’’حضور! ہم سمجھے نہیں، وضاحت کیجئے‘‘۔
بو علی شاہؒ نے بتایا ’’ملک علی انصاری! لا صلوٰۃ الا بحضور القلب (دل کو حضوری کے بغیر نماز، نماز نہیں ہے) جس نماز میں یک سوئی حاصل نہ ہو اور دل میں اِدھر اُدھر کے خیالات آتے رہیں وہ نماز نہیں، محض وقت گزاری ہے‘‘۔
خواجہ ملک علی انصاری نے دوبارہ سوال کیا۔ ’’حضرت! موقع کی مناسبت سے اس کی وضاحت ہوجائے تو کرم ہوگا‘‘۔
بو علی شاہؒ نے فرمایا ’’بات یہ ہے کہ مفتی ضیاء الدین کے گھر میں اس کی گھوڑی نے بچہ دیا ہے۔ مفتی بظاہر نماز پڑھ رہا تھا لیکن اس کا ذہن مسلسل گھوڑی اور بچہ کے گرد گھوم رہا تھا‘‘۔
لوگوں کی سوالیہ نگاہیں مفتی ضیاء الدین کے چہرے کا طواف کرنے لگیں۔ انہوں نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اور کہا ’’شرف الدین صحیح کہہ رہے ہیں‘‘۔
========================================================================
یہ اس ماہ کے ڈائجسٹ کے محض چند تعارفی صفحات ہیں۔
کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت اس ڈائجسٹ کے مضامین  بلا اجازت شائع نہیں کیے جاسکتے۔
 مضمون کا کوئی حصہ کسی کتاب میں شامل یا انٹر نیٹ پر شئیر کرتے ہوئے روحانی ڈائجسٹ کا حوالہ ضرور تحریر کریں۔  
========================================================================

Like us On Facebook

Powr