Breaking

مئی 1979ء

Views
روحانی ڈائجسٹ مئی 1979ء  کا سرورق



روحانی ڈائجسٹ مئی 1979ء (بمطابق جمادی الثانی 1399 ہجری)۔۔۔۔۔ پچیس سال قبل شائع ہونے والا یہ شمارہ روحانی ڈائجسٹ کا چھٹا شمارہ تھا۔ اس ماہ سے 16 صفحات کا اضافہ ہوا  اور روحانی ڈائجسٹ کے صفحات کی کُل تعداد 130 ہوگئی۔
اس شمارے کے سرورق پر دی گئی تصاویر میں پہاڑ پر آگ، آسمان سے پھوٹتا نور، زمین پر پھیلتی نور کی کرنیں، سرسبز درخت، اژدہا، لکڑی کا عصا اور پہاڑ کی جانب بڑھتے ہوئے قدموں کے نشانات کو دیکھ کر قرآن میں مذکور حضرتِموسیٰ علیہ السلام کا قصّہ ذہن پر اُبھرنے لگتا ہے۔
کوہِ سینا پر حضرت موسیٰ  ؑ نے اﷲتعالیٰ کی تجلّی کا دیدار کیا تھا۔ آپؑ نے پہاڑ پر روشنی دیکھی تو آگ لینے کے خیال سے پہاڑ پر چڑھتے تھے۔ قدموں کے نشانات اسی سفر کی نشاندہی کررہے ہیں۔لکڑی کے عصا کا اژدہا بن جانا آپؑ کا مشہور معجزہ ہے۔
اسی شمارے سے ایک نئے سلسلے ’’انوارِ الٰہی‘‘ اور ’’انوارِ رسالت‘‘  کا آغاز ہوا۔ بعد میں یہ عنوانات ’’نورِالٰہی، نورِ نبوت‘‘ میں تبدیل ہوگئے اور گزشتہ پچیس سال سے متواتر یہ سلسلہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی تحریر فر ما رہے ہیں، جس میں قرآنی استدلال اور صاحبِ قرآنﷺ کی رہنمائی میں زندگی کے ہر شعبے کی آبیاری کی جاتی ہے۔
’’آوازِ دوست‘‘ میں ذہنی سکون کی بربادی کی بنیاد شک کو قرار دیا گیا ہے۔حضرت علی احمد صابر کلیریؒ کے حالاتِ زندگی اور کرامات کی علمی توجیہات پر مبنی سہیل احمد کی خصوصی تحریر بھی اسی شمارے کی زینت ہے۔ تفسیر فاروقی نے اپنے مضمون ’’شخصیت کردار کے آئینے میں‘‘۔۔۔۔۔ کے ذریعے وضاحت کی ہے کہ ہمارا ہر عمل باطنی اور مخفی صلاحیتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ محمد صدیق قصوری کی مرتب کردہ تحریر ’’کشتگانِعشق‘‘ اصحابِ رسولؐ اور صوفیائے کرامؒ کی چند حکایات اور کرامات پر مبنی ہیں۔ روسی ناول نگار لیوٹالسٹائی کے ناول کا ترجمہ ’’بڈھا شیطان‘‘ کے عنوان سے ناہید احمد نے پیش کیا۔ اس شمارے میں چیف ایڈیٹر روحانی ڈائجسٹ کا ایک علمی و تحقیقی مقالہ قرآن کانفرنس کے عنوان سے شاملِ اشاعت کیا گیا ہے۔

========================================================================
مضامینلکھاریموضوع
انوارِ الٰہی------
انوارِ رسولﷺ------
رباعیاتقلندر بابا اولیاء---
آوازِ دوستمدیر اعلٰی---
تاثراتقارئین کرامقارئین کے خطوط سے اقتباس
حضرت صابر کلیری ؒسہیل احمد---
لوح و قلم (6)قلندر بابا اولیاءکائنات کے سربستہ راز
شخصیت کردار کے آئینے میں تفسیر فاروقی۔۔۔
کشتگانِ عشقمحمد صادق قصوری۔۔۔
قرآن کانفرنسادارہ۔۔۔
بُڈھا شیطانناہید احمد---
مراقبہ کے ذریعے علاجسید علی اوسط۔۔۔
خواب کی تعبیرخواجہ شمس الدین عظیمیخواب کی تعبیر سے مستقبل کا انکشاف
پراسرار ہیولا (5)صادق الاسرار۔۔۔
میاں راج شاہ ؒحکیم برھان رسول---
آپ کے مسائلخواجہ شمس الدین عظیمیالجھنوں  کا روحانی نفسیاتی حل
واردات------
ٹیلی پیتھی سیکھیے (2)ادارہایک ایسا علم جس کے ذریعے آپ خیالات ایک دوسرے کو پہنچا سکتے ہیں
محفلِ مراقبہاحمد جمال عظیمی
========================================================================

مئی 1979ء  کے شمارے سے چند منتخب مضامین

========================================================================

انوارِ الٰہی

بیوی کے ساتھ خوش اسلوبی سے زندگی گزارئیے، اس کے حقوق کشادہ دلی کے ساتھ پورے کیجیے اور ہر معاملہ میں احسان اور ایثار کی روش اختیار کیجیے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اور ان کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی گزارو

========================================================================

انوارِ رسالت

ہمارے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔

کامل ایمان والے مومن وہ ہیں جو اہنے اخلاق میں سب سے اچھے ہیں اور تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جو اپنی بیوی کے حق میں سب سے اچھے ہیں۔


========================================================================

رباعیات

یوں کہنے کو کہتے ہیں مفّکر ہر بات
سمجھا نہ کوئی آج تلِک کیا ہے حیات
ٹوٹی ہوئی دیوار سے دَر سے شب و روز
ہر مرُغ پکارتا ہے ہیہات ہیہات
--
ہو جھونپڑی یا قلعہ تِری ملکیت
لیکن اَجل اِک دَم کی نہ دے گی مہلت
رکھ کے کسی گڑھے میں کہیں گے اَحباب
پائی ہے فَلاں ابنِ فَلاں نے رَحلت
--
اہرام فراعین کا مَدفن ہیں آج
سیّاحوں سے تحسین کا لیتے ہیں خراج
رفتارِ زمیں کی ٹھوکریں کھا کھاکر
مل جائے گا کل تک اِن کا مٹی میں مزاج
--
ساقی کا لب لعل گہر بار ہے آج
رخسار رگِ جان سے دوچار ہے آج
اِک آگ ہی آگ ہے ہر اک جرعہ میں
ساغر میں شراب بھی شرربار ہے آج
------
========================================================================

لوح و قلم

صفت ابداء کے تحت ہدایت حرکت میں آئے گی اور صفت خلق کے تحت تکوین حرکت میں آئے گی۔ اور ان تینوں صفات کا مظہر اس ذی روح کی شکل وصورت اختیار کرے گا جس کو وجود میں لانا مقصود ہے۔

ترکیب:

صفت تدلّٰی (اختیار الٰہیہ) ثابتہ) +صفت ابداء الٰہیہ (عین) (کسی چیز کی کامل شکل وصورت) +صفت خلق الٰہیہ (جویہ) (حرکات و سکنات زندگی)=مظہر (وجودناسوتی)

تنزل کی شرح

ہماری دنیا کے مشاہدات یہ ہیں کہ پہلے ہم کسی چیز کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اگر کبھی اتفاقیہ ایسا ہوا ہے کہ ہمیں کسی چیز کے متعلق کوئی معلومات نہیں اور وہ اچانک آنکھوں کے سامنے آ گئی ہے تو ہم اس چیز کو بالکل نہیں دیکھ سکتے۔

مثال نمبر۱:

لکڑی کے ایک فریم میں ایک تصویر لگا کر بہت شفاف آئینہ تصویر کی سطح پر رکھ دیا جائے اور کسی شخص کو فاصلے پر کھڑا کر کے امتحاناً یہ پوچھا جائے کہ بتاؤ تمہاری آنکھوں کے سامنے کیا ہے تو اس کی نگاہ صرف تصویر کو دیکھے گی۔ شفاف ہونے کی وجہ سے آئینہ کو نہیں دیکھ سکے گی۔ اگر اس شخص کو یہ بتا دیا جائے کہ آئینہ میں تصویر لگی ہوئی ہے تو پہلے اس کی نگاہ آئینہ کو دیکھے گی، پھر تصویر کو دیکھے گی۔ پہلی شکل میں اگرچہ دیکھنے والے کی نگاہ آئینہ میں سے گزر کر تصویر تک پہنچی تھی لیکن اس نے آئینہ کو محسوس نہیں کیا۔ البتہ معلومات ہونے کے بعد دوسری شکل میں کوئی شخص پہلے آئینہ کو دیکھتا ہے اور پھر تصویر کو۔ یہ مثال نگاہ کی ہے۔

مثال نمبر ۲:

ہیروشیما کی ایک پہاڑی جو ایٹم بم سے فنا ہو چکی تھی، لوگوں کو دور سے اپنی شکل وصورت میں نظر آتی تھی لیکن جب اس کو چھو کر دیکھا گیا تو دھوئیں کے اثرات بھی نہیں پائے گئے۔ اس تجربہ سے معلوم ہو گیا کہ صرف دیکھنے والوں کا علم نظر کا کام کر رہا تھا۔

مثال نمبر۳:

عام مشاہدہ ہے کہ گونگے بہرے دیکھ تو سکتے ہیں لیکن نہ بول سکتے ہیں، نہ سن سکتے ہیں۔ نہ بولنا اور نہ سننا اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا علم صرف نگاہ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، یعنی ان کی نگاہ علم کی قائم مقام تو بن جاتی ہے لیکن دیکھی ہوئی چیزوں کی تشریح نہیں کر سکتی۔ ان کی وہ صلاحیتیں جو علم کو سننے اور بولنے کی شکل وصورت دیتی ہیں معدوم ہیں۔ اس لئے ان کا علم صرف نگاہ تک محدود رہتا ہے۔ یہاں سے علم کے بتدریج مختلف شکلیں اختیار کرنے کا انکشاف ہو جاتا ہے۔ اس قسم کی ہزاروں مثالیں مل سکتی ہیں۔ چنانچہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کسی چیز کا علم نہ ہو تو نگاہ صفر کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا علم کو ہر صورت میں اولیت حاصل ہے اور باقی محسوسات کو ثانویت۔

قانون:

ہر احساس خواہ بصر ، سمع ہو یا لمس ہو وہ علم ہی کی ایک شاخ ہے۔ علم ہی اس کی بنیاد ہے۔ علم کے بغیر تمام احساسات نفی کا درجہ رکھتے ہیں۔ اگر کسی چیز کا علم نہیں ہے تو نہ اس چیز کا دیکھنا ممکن ہے نہ سننا ممکن ہے۔ بالفاظ دیگر کسی چیز کا علم ہی اس کا وجود ہے۔ اگر ہمیں کسی چیز کی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں تو ہمارے نزدیک وہ چیز معدوم ہے۔

قاعدہ:

جب علم ہر احساس کی بنیاد ہے تو علم ہی بصر ہے، علم ہی سمع ہے، علم ہی کلام ہے اور علم ہی لمس ہے یعنی کسی انسان کا تمام کردار صرف علم ہے۔

کلیہ:

علم اورصرف علم ہی موجودات ہے۔ علم سے زیادہ موجودات کی کوئی حیثیت نہیں۔

حقیقت:

علم حقیقت ہے اور عدم علم لاموجود ہے۔ اسمائے صفات ہی موجودات ہیں۔ صفت کی پہلی موجودگی کا نام اطلاق، دوسری موجودگی کا نام عین، تیسری موجودگی کا نام کون ہے اور ان تینوں موجودگیوں کا نام مظہر یا وجود ہے۔

تشریح:

علم اطلاق، علم عین اور علم کون کے یکجا ہونے کا نام وجود یا مظہر ہے۔
بصر = اطلاق + عین + کون = علم = وجود
سمع = اطلاق + عین + کون = علم = وجود
کلام = اطلاق + عین + کون = علم = وجود
شامہ = اطلاق + عین + کون = علم = وجود
لمس = اطلاق + عین + کون = علم = وجود
بصر،سمع،کلام،شامہ اور لمس = وجود = علم
اوپر بیان کئے ہوئے حقائق کے تحت وجود صرف اسمائے الٰہیہ کی صفات کا عکس ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر اسم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت اللہ تعالیٰ کا علم ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم کے تین عکس ہیں۔
اطلاق
عین اور
کون۔
ان تینوں عکسوں کا مجموعہ ہی مظہر یا وجود ہے۔ دراصل کسی بھی وجود یا مظہر کی بنیاد اسمائے الٰہیہ کی صفات ہیں اور اسمائے الٰہیہ کے چھ تنزلات سے کائنات عالم وجود میں آئی۔ اسم کا تنزل صفت، صفت کا تنزل علم۔ علم نے جب نزول کیا تو اس کے تین عکس وجود میں آئے۔ اطلاق، عین اور کون۔ ان تینوں عکسوں نے جب تنزل کیا تو مظہر یا وجود بن گیا۔ وجود کی تشریح اوپر گزر چکی ہے اور یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ وجود صرف علم ہے۔ جب صفات کا عکس وجود ہے تو صفات کا عکس ہی علم ہوا۔ کیونکہ اسم صفت ہے، اس لئے اسم کا تعلق براہ راست علم سے ثابت ہو جاتا ہے۔ جب اسم تنزل کرے گا تو علم بن جائے گا اور علم ہی اپنی شکل و صورت میں مظہر کونیہ ہو گا۔ یہ وہی اسماء ہیں جن کا تذکرہ قرآن پاک میں ہے۔

علمِ لدُنّی

ان ہی اسماء کا علم آدم علیہ السلام کو دیا گیا تھا۔ ان ہی اسماء کا علم نیابت کی ودیعت ہے۔ ان ہی اسماء کے علم کو تصوف کی زبان میں علمِ لدُنّی کہتے ہیں۔
وَعَلَّمَاٰدَمَالْاَسْمَآءَ کُلَّھَا
جب اللہ تعالیٰ نے علم کی تقسیم کی تو سب سے پہلے اپنی صفات کے ناموں کا تعارف کرایا۔ ان ہی ناموں کو اسمائے صفاتی کہا جاتا ہے۔ یہی نام وہ علم ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم کا عکس ہیں۔ صفت کی تعریف کے بارے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کے ساتھ قدرت اور رحمت کی صفات بھی جمع ہیں مثلاً ربانیت کی صفت کے ساتھ قدرت اور رحمت بھی شریک ہیں یا صمدیت کی صفت کے ساتھ قدرت اور رحمت شامل ہیں۔ اسی طرح احدیت کی صفت کے ساتھ قدرت اور رحمت کی صفت کا ہونا ضروری ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی کوئی صفت قدرت اور رحمت کے بغیر نہیں۔ جب ہم اللہ تعالیٰ کو بصیر کہتے ہیں تو اس کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بصیر ہونے کی صفت میں قادر اور رحیم بھی ہے یعنی اسے بصیر ہونے میں کامل قدرت اور کامل خالقیت کی استطاعت حاصل ہے۔

ہر اسم تین تجلیوں کا مجموعہ ہے

اللہ تعالیٰ کا کوئی اسم دراصل ایک تجّلی ہے۔ یہ تجّلی اللہ تعالیٰ کی ایک خاص صفت کی حامل ہے اور اس تجلی کے ساتھ صفت قدرت کی تجّلی اور صفت رحمت کی تجّلی بھی شامل ہے۔ اس طرح ہر صفت کی تجّلی کے ساتھ دو تجلیاں اور ہیں۔ گویا ہر اسم مجموعہ ہے تین تجلیوں کا۔ ایک تجّلی صفت اسم کی، دوسری تجّلی صفت قدرت کی، تیسری تجّلی صفت رحمت کی۔ چنانچہ کسی تجّلی کے نام کو اسم کہتے ہیں۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر اسم مجموعی حیثیت میں دو صفات پر مشتمل ہے۔ ایک خود تجّلی اور ایک تجّلی کی صفت۔ جب ہم اللہ تعالیٰ کا کوئی اسم ذہن میں پڑھتے ہیں یا زبان سے ادا کرتے ہیں تو ایک تجّلی اپنی صفت کے ساتھ حرکت میں آجاتی ہے۔ اس حرکت کو ہم علم کہتے ہیں جو فی الحقیقت اللہ تعالیٰ کے علم کا عکس ہے۔ یہ حرکت تین اجزاء پر مشتمل ہے۔

(جاری ہے)


========================================================================

ٹیلی پیتھی سیکھیے

بڑی مشکل یہ پیش آ گئی ہے کہ ہم رگ پٹھوں کی بناوٹ اور ہڈیوں کے ڈھانچہ کو انسان کہتے ہیں۔ دراصل یہ انسان وہ نہیں ہے قدرت جس کو انسان کہتی ہے۔ اس انسان کو ہم اصل انسان کا لباس کہہ سکتے ہیں۔ ہم جب مر جاتے ہیں تو ہمارے جسم میں کسی قسم کی اپنی کوئی حرکت نہیں رہتی۔ اس جسم کے ہر عضو کو کاٹ ڈالئے، پورے جسم کو گھسیٹئے، مضروب کیجئے، جب تک ہماری بنیادی خواہشات غیر آسودہ رہتی ہیں ہم مغموم رہتے ہیں۔ یہ غیر آسودگی ہمیں غیر مطمئن اور مضمحل رکھتی ہے۔ زندگی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ہم ایسی چیز کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں جس میں مسرت کا پہلو نمایاں ہو۔ چونکہ ہم غم زدہ یا پُر مسرت زندگی گزارنے کے قانون سے ناواقف ہیں اس لئے زیادہ تر یہ ہوتا ہے کہ ہم مسرت کی تلاش میں اکثر و بیشتر غلط سمت قدم بڑھاتے رہتے ہیں اور ناواقفیت کی بناء پر اپنے لئے ایسا راستہ کا انتخاب کر لیتے ہیں جس میں تاریکی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ہم جب زندگی کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بات آتی ہے کہ زندگی کے روز و شب اور ماہ و سال آدھے سے زیادہ آرزودگی اور مایوسی میں گزر جاتے ہیں۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ وہ کون سا راستہ ہے جس راستے میں مسرت کے روشن قندیل اپنی روشنی بکھیر رہے ہیں۔ ہم ناخوش اور غیر مطمئن اس لئے ہوتے ہیں کہ ہمارے اندر جو خواہش پیدا ہوتی ہے وہ غیر شعوری ہے اور ہم خواہش کے پس پردہ ضرورت سے ناواقف ہیں۔
انسان دو تقاضوں سے مرکب اور محرک ہے۔ ایک تقاضہ جبلی ہے اور ایک فطری۔ جبلی تقاضہ پر ہم بااختیار ہیں اور فطری تقاضہ پر ہمیں کسی حد تک تو اختیار حاصل ہے مگر ہم اس تقاضے کو کلیتاً رد کرنے پر قادر نہیں ہیں۔
ایک ماں اپنے بچے سے محبت کرتی ہے بچہ مر جاتا ہے۔ ماں رو دھو کر بالآخر صبر کر لیتی ہے۔ عرف عام میں ماں کی محبت کو فطری تقاضہ کہا جاتا ہے۔ اس مردہ جسم کو ایک طرف ڈال دیجئے، کچھ بھی کیجئے، جسم کی طرف سے اپنی کوئی مدافعت، کوئی حرکت عمل میں نہیں آئے گی۔ اس میں زندگی کا کوئی شائبہ کسی لمحہ بھی پیدا ہونے کا امکان نہیں ہے۔
اب ہم اسی بات کو دوسری طرح بیان کرتے ہیں:
آپ نے قمیض پہنی ہوئی ہے۔ اگر آپ یہ چاہیں کہ قمیض بذات خود جسم سے الگ بھی حرکت کرے تو یہ بات ناممکن ہے جب تک قمیض جسم کے اوپر ہے جسم کی حرکت کے ساتھ اس کے اندر بھی حرکت موجود ہے۔ اگر آستین ہاتھ کے اوپر ہے تو ہاتھ ہلانے سے آستین کا ہلنا بھی ضروری ہے۔ ہاتھ سے الگ آستین کی حرکت بعید از قیاس ہیں۔ آپ یہ چاہیں کہ ہاتھ تو حرکت کرے لیکن آستین حرکت نہ کرے، ایسا نہیں ہوتا۔ جب تک ہاتھ کے اوپر آستین ہے ہاتھ کی حرکت کے ساتھ آستین کا ہلنا ضروری ہے۔ بالکل یہی حال جسم کا ہے۔ جسم کو جب ہم لباس کہتے ہیں تو اس سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ خاکی جسم روح کا لباس ہے۔ جب تک روح(انسان) موجود ہے جسم بھی متحرک ہے۔ اور اگر روح موجود نہیں ہے تو روح کے لباس(جسم) کی حیثیت قمیض کی طرح ہے۔
ہر انسان کی یہ طبعی خواہش ہوتی ہے کہ وہ یہ جان لے کہ خیالات کیوں آتے ہیں اور کہاں سے آتے ہیں اور خیالات کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے مل کر کس طرح زندگی بنتے ہیں۔ زندگی میں خواہشات کی حیثیت کیا ہے۔ یہ بات ہمارے سامنے ہے کہ دراصل یہ تقاضہ فطری نہیں جبلی ہے۔
بھوک کا تقاضہ ابھرتا ہے۔ زندگی میں سونے اور بیدار رہنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کوئی آدمی بھوک کو رفع کرنے کے لئے خوراک میں کمی بیشی کر سکتا ہے لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کبھی کچھ نہ کھائے یا پیاس کا تقاضہ پورا کرنے کے لئے پانی نہ پئے یا ساری عمر جاگتا رہے یا ساری عمر سوتا رہے۔ ماں کی محبت کو اگر فطری جذبہ قرار دیا جائے تو ماں بچے کی جدائی کے غم میں بچہ کے ساتھ مر جائے گی یا بچہ کی یاد اس کے حواس کا شیرازہ بکھیر دے گی لیکن ایسا نہیں ہوتا۔

اس کے برعکس فطری تقاضے بھوک اور نیند کے سلسلہ پر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ آدمی بھوک رفع کرنے کے لئے خوراک میں تو کمی بیشی کر سکتا ہے لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کبھی کچھ نہ کھائے یا پیاس بجھانے کے لئے کبھی پانی نہ پئے۔ یا ساری عمر سوتا رہے یا ساری زندگی جاگتا رہے۔ ان حقائق کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جذبات فطری ہوں یا جبلی، بہرکیف ان کا تعلق خیالات سے ہے۔ جب تک کوئی تقاضا خیال کی صورت میں جلوہ گر نہیں ہو گا۔ ہم اس سے بے خبر رہیں گے۔ ہمارے اوپر حواس (بصارت، سماعت، گویائی، لمس) کا انکشاف نہیں ہو گا۔
انسان کے اندر یہ خواہش فطری ہے کہ ہم معلوم کریں کہ خیالات کہاں سے آتے ہیں۔ کیوں آتے ہیں اور خیالات کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے مل کر کس طرح زندگی بنتے ہیں؟

عام زبان میں تفکر کو انا کا نام دیا جاتا ہے اور انا یا تفکر ایسی کیفیات کا مجموعہ ہوتا ہے جن کو مجموعی طور پر فرد کہتے ہیں۔ اس طرح کی تخلیق ستارے بھی ہیں اور ذرے بھی۔ ہمارے شعور میں یہ بات یا تو بالکل نہیں آتی یا بہت کم آتی ہے کہ تفکر کے ذریعے ستاروں ذروں اور تمام مخلوق سے ہمارا تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے یعنی ان کی انا (تفکر کی لہریں) ہمیں بہت کچھ دیتی ہیں اور ہم سے بہت کچھ لیتی بھی ہیں۔
مام کائنات اس قسم کے تبادلہ خیال کا ایک خاندان ہے۔ مخلوق میں فرشتے اور جنات ہمارے لئے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ تفکر کے اعتبار سے ہمارے زیادہ قریب اور تبادلہ خیال کے لحاظ سے ہم سے زیادہ مانوس ہیں۔
کہکشانی نظام:
بابا تاج الدینؒ اس وقت ستاروں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کہنے لگے ’’کہکشانی نظاموں اور ہمارے درمیان بڑا مستحکم رشتہ ہے۔ پے در پے جو خیالات ہمارے ذہنوں میں آتے ہیں۔ وہ دوسرے نظاموں اور ان کی آبادیوں سے ہمیں وصول ہوتے رہتے ہیں۔ یہ خیالات روشنی کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں۔ روشنی کی چھوٹی بڑی شعاعیں خیالات کے لاشمار تصویر خانے لے کر آتی ہیں۔ ان ہی تصویر خانوں کو ہم اپنی زبان میں توہم، خیال، تصور اور تفکر وغیرہ کا نام دیتے ہیں۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ یہ ہماری اپنی اختراعات ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔
بلکہ تمام مخلوق کی سوچنے کی طرزیں ایک نقطہ مشترک رکھتی ہیں وہی نقطہ مشترک تصویر خانوں کو جمع کر کے ان کا علم دیتا ہے۔ یہ علم نوع اور فرد کے شعور پر منحصر ہے۔ شعور جو اسلوب اپنی انا کی اقدار کے مطابق قائم کرتا ہے تصویر خانے اس ہی اسلوب کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔
اس موقع پر یہ بتانا ضروری ہے کہ تین نوعوں کے طرز عمل میں زیادہ اشتراک ہے۔ ان ہی کا تذکرہ آسمانی کتابوں اور قرآن پاک میں انسان، فرشتہ اور جنات کے نام سے کیا گیا ہے۔ یہ نوعیں کائنات کے اندر سارے کہکشانی نظاموں میں پائی جاتی ہیں۔ قدرت نے کچھ ایسا نظام قائم کیا ہے جس میں یہ تین نوعیں تخلیق کارکن بن گئی ہیں۔ ان ہی کے ذہن سے تخلیق کی لہریں خارج ہو کر کائنات میں منتشر ہوتی ہیں اور جب یہ لہریں معین مسافت طے کر کے معین نقطہ پر پہنچتی ہیں تو کائناتی مظاہر کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔
کائنات زمانی مکانی فاصلوں کا نام ہے۔ یہ فاصلے انا کی چھوٹی بڑی مخلوط لہروں سے بنتے ہیں۔ ان لہروں کا چھوٹا بڑا ہونا ہی تغیر کہلاتا ہے۔ یہ فاصلے انا کی چھوٹی بڑی مخلوط لہروں سے بنتے ہیں۔ ان لہروں کا چھوٹا بڑا ہونا ہی تغیر کہلاتا ہے۔

یہ قانون بہت فکر سے ذہن نشین کرنا چاہئے کہ جس قدر خیالات ہمارے ذہن میں دور کرتے ہیں ان میں بہت زیادہ ہمارے معاملات سے غیر متعلق ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق قرب اور دور کی ایسی اطلاعات سے ہوتا ہے جو کائنات میں کہیں نہ کہیں موجود ہو۔ یہ اطلاعات لہروں کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہیں۔
سائنس دان روشنی کو زیادہ سے زیادہ تیز رفتار قرار دیتے ہیں لیکن وہ اتنی تیز رفتار نہیں ہوتی کہ زمانی مکانی فاصلوں کو منقطع کر دے۔
البتہ انا کی لہریں لاتناہیت میں بیک وقت ہر جگہ موجود ہیں۔ زمانی مکانی فاصلے ان کی گرفت میں رہتے ہیں۔ باالفاظ دیگر یوں کہہ سکتے ہیں کہ ان لہروں کے لئے زمانی مکانی فاصلے موجود ہی نہیں ہیں روشنی کی لہریں جن فاصلوں کو کم کرتی ہیں، انا کی لہریں ان ہی فاصلوں کو بجائے خود موجود نہیں جانتیں۔

اس بات کی تصدیق قرآن کریم میں حضرت سلیمان  کے سلسلہ میں بیان کردہ واقعہ سے بھی ہوتی ہے۔
حضرت سلیمان ؑ کے عظیم الشان اور بے مثال دو بار میں انسانوں کے علاوہ جن حیوانات بھی درباری خدمات کے لئے حا ضر رہتے تھے اور اپنے مراتب اور سپرد کر دہ خدمات پر بلا چون چرا عمل کر تے تھے ۔
دربار سلیمان ؑ پو رے جا ہ و حشم کے ساتھ منعقد تھا ۔


حضرت سلیمان علیہ السلام نے جائزہ لیا تو ہد ہد کو غیر حاضر پایا۔ ارشاد فرمایا کہ میں ہد ہد کو موجود نہیں پاتا کیا وہ واقعی غیر حاضر ہے۔ اگر اس کی غیر حاضری بے وجہ ہے تو میں اس کو سخت سزا دوں گا یا ذبح کر ڈالوں گا یا پھر وہ اپنی غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بتائے۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ ہد ہد حاضر ہو گیا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی باز پرس پر اس نے کہا۔
میں ایک ایسی یقینی خبر لایا ہوں جس کی اطلاع آپ کو نہیں ہے۔ وہ یہ ہے کہ یمن کے علاقے میں ملکہ سبا رہتی ہے۔ خدا نے اسے سب کچھ دے رکھا ہے مگر۔۔۔۔۔۔ملکہ اور اس کی قوم سورج کی پرستش کرتی ہے۔ شیطان نے انہیں گمراہ کر دیا ہے۔ وہ خدائے لا شریک کی پرستش نہیں کرتے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا۔ تیرے سچ اور جھوٹ کا امتحان ابھی ہو جائے گا۔ تو اگر سچا ہے تو میرا یہ خط لے جا اور سے ملکہ سبا تک پہنچا دے اور انتظار کر کہ وہ اس کے متعلق آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں۔
ہد ہد نے۔۔۔۔۔۔یہ خط ملکہ کے سامنے ڈال دیا۔۔۔۔۔۔تو ملکہ نے اسے پڑھا اور پھر اپنے درباریوں سے کہا۔ ابھی میرے پاس ایک معزز مکتوب آیا ہے جس میں درج ہے۔
’’یہ خط سلیمان کی جانب سے، اللہ کے نام سے شروع ہے۔
تم کو ہم سے سرکشی اور سربلندی کا اظہار نہیں کرنا چاہئے تم ہمارے پاس خدا کے فرماں بردار ہو کر آؤ۔‘‘
ملکۂ سبا نے خط کی عبارت پڑھ کر کہا۔’’اے میرے ارکان حکومت! تم جانتے ہو کہ میں اہم معاملات میں تمہارے مشورے کے بغیر کوئی اقدام نہیں کرتی۔ اس لئے اب تم مشورہ دو کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔‘‘ ارکان حکومت نے عرض کیا۔’’جہاں تک مرعوب ہونے کا تعلق ہے۔ اس کی قطعاً ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم زبردست طاقت اور جنگی قوت کے مالک ہیں۔ رہا مشورے کا معاملہ تو آپ جو چاہیں فیصلہ کریں۔ ہم آپ کے فرماں بردار ہیں۔‘‘ ملکہ نے کہا۔ ’’بے شک ہم طاقتور اور صاحب شوکت ہیں لیکن سلیمان علیہ السلام کے معاملہ میں ہم کو عجلت سے کام نہیں لینا چاہئے۔ پہلے ان کی قوت اور طاقت کا اندازہ کرنا ضروری ہے جس عجیب طریقہ سے سلیمانؑ کا پیغام ہم تک پہنچا ہے وہ ہمیں اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ سلیمانؑ کے معاملہ میں سوچ سمجھ کر کوئی قدم اٹھایا جائے۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ چند قاصد روانہ کروں وہ سلیمان علیہ السلام کے لئے عمدہ اور بیش قیمت تحائف لے کر جائیں اور اس طرح ہم ان کی شان و شوکت کا اندازہ لگا سکیں گے اور ہمیں یہ معلوم ہو جائے گا کہ وہ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ اگر واقعی وہ زبردست قوت و شوکت کے مالک اور وقت کے بادشاہ ہیں تو ان سے ہمارا لڑنا فضول ہے اس لئے کہ صاحب طاقت و شوکت بادشاہوں کا یہ دستور ہے کہ جب وہ کسی بستی میں فاتحانہ غلبہ کے ساتھ داخل ہوتے ہیں تو اس شہر کو برباد اور باعزت شہریوں کو ذلیل و خوار کرتے ہیں۔
جب ملکہ سبا کے قاصد تحائف لے کر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت سلیمانؑ نے فرمایا:
’’تم اور تمہاری ملکہ نے میرے پیغام کو غلط سمجھا۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ان تحائف کے ذریعہ جن کو تم بہش بہا سمجھ کر بہت مسرور اور خوش ہو۔ مجھ کو راضی کر لو گے۔ حالانکہ تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو کچھ مرحمت فرمایا ہے اس کے مقابلے میں تمہاری یہ بیش قیمت دولت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ تم اپنے تحفے واپس لے جاؤ اور اپنی ملکہ سے کہو۔ اگر اس نے میرے پیغام کو قبول نہیں کیا تو میں ایسے زبردست لشکر کے ساتھ سبا والوں تک پہنچوں گا کہ تم اس کی مدافعت اور مقابلے سے عاجز رہو گے اور پھر تم کو ذلیل و رسوا کر کے شہر بدر کر دوں گا۔‘‘
قاصدوں نے واپس آ کر ملکہ سبا کے سامنے تمام روئیداد سنائی اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی شوکت و عظمت کا جو کچھ حال دیکھا تھا حرف بہ حرف کہہ سنایا اور بتایا کہ ان کی حکومت صرف انسانوں پر ہی نہیں بلکہ جن اور حیوانات بھی ان کے تابع فرمان اور محکوم ہیں۔
ملکہ نے جب یہ سنا تو طے کر لیا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے مقابلہ پر آنا اور ان سے لڑنا خود اپنی ہلاکت کو دعوت دینا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ان کی دعوت پر لبیک کہا جائے لہٰذا اس نے سفر شروع کر دیا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کو معلوم ہو گیا کہ ملکہ سبا حاضر خدمت ہو رہی ہے۔ آپ نے اپنے درباریوں کو مخاطب کر کے فرمایا۔
’’میں چاہتا ہوں کہ ملکہ سبا کے پہنچنے سے پہلے اس کا شاہی تخت اس دربار میں موجود ہو تم میں سے کون اس خدمت کو انجام دے سکتا ہے؟‘‘ ایک دیو پیکر جن نے کہا۔ اس سے پہلے کہ آپ دربار برخاست کریں۔ میں تخت لا سکتا ہوں۔ مجھے یہ طاقت حاصل ہے اور یہ کہ میں اس تخت کے بیش بہا سامان میں کوئی بددیانتی نہیں کروں گا۔
جن کا یہ دعویٰ سن کر ایک انسان نے جس کے پاس کتاب کا علم تھا۔ کہا۔ ’’اس سے پہلے کہ آپ کی پلک جھپکے۔۔۔۔۔۔یہ تخت دربار میں موجود ہو گا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے رخ پھیر کر دیکھا تو ملکہ سبا کا تخت موجود تھا۔

انسانوں کے درمیان ابتدائے آفرینش سے بات کرنے کا طریقہ رائج ہے۔ آواز کی لہریں جن کے معنی معین کر لئے جاتے ہیں۔ سننے والوں کو مطلع کرتی ہیں۔ یہ طریقہ اس ہی طریقہ کی نقل ہے جو انا کی لہروں کے درمیان ہوتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ گونگا آدمی اپنے ہونٹوں کی خفیف جنبش سے سب کچھ کہہ دیتا ہے اور سمجھنے کے اہل سب کچھ سمجھ جاتے ہیں۔ یہ طریقہ بھی پہلے طریقہ کا عکس ہے۔ جانور آواز کے بغیر ایک دوسرے کو حال سے مطلع کر دیتے ہیں۔ یہاں بھی انا کی لہریں کام کرتی ہیں۔ درخت آپس میں گفتگو کرتے ہیں۔ یہ گفتگو صرف آمنے سامنے کے درختوں میں ہی نہیں ہوتی بلکہ دور دراز ایسے درختوں میں بھی ہوتی ہے جو ہزاروں میل کے فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی قانون جمادات میں بھی رائج ہے۔ کنکروں، پتھروں، مٹی کے ذروں میں من و عن اسی طرح تبادلہ خیال ہوتا ہے۔


روحانی طاقت رکھنے والے انسانوں کے کتنے  ہی واقعات اس کے شاہد ہیں۔ ساری کائنات میں ایک ہی شعور کارفرما ہے۔  اس کے ذریعے غیب و شہود  کی ہر لہر دوسری کے معنی سمجھتی ہے، چاہے یہ دونوں لہریں کائنات کے  دو کناروں پر واقع ہوں۔ غیب و شہود کی فراست و معنویت  کائنات کی رگِ جاں  ہے جو  خود ہماری اپنی رگِ جاں  بھی ہے۔ تفکر اور توجہ کرکے  ہم اپنے سیّارے  اور دوسرے  سیّاروں کے آثار و احوال کا مشاہدہ کرسکتے ہیں اور انسانوں، حیوانوں  ، جنات اور فرشتوں کی حرکات وسکنات ، نباتات اور جمادات کی اندرونی تحریکات  بھی معلوم کرسکتے ہیں۔ مسلسل مشق اور ارتکازِ توجہ سے ذہن کائناتی لاشعور میں تحلیل ہوجاتا ہے اور ہمارے سراپا کا معیّن پرت اَنَا کی گرفت سے ٓزاد ہوکر ضرورت کے مطابق ہر چیز دیکھتا، سمجھتا اور شعور میں محفوظ کردیتا ہے۔
یہی روحانیت ہے اور یہی ٹیلی پیتھی (Telepathy) ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ روحانیت اپنے اندر ایک وسعت رکھتی ہے اور ٹیلی پیتھی صرف خیالات کے  تبادلے کا نام ہے۔

حضرت غوث علی شاہ ؒ کی کتاب ‘‘تذکرہ ٔ غوثیہ’’ میں مولانا گل حسن صاحب فرماتے ہیں کہ ایک روز راقم نے عرض کیا‘‘ حضرت کبھی آپ کو عشق بھی ہوا ہے؟’’
حضرت نے فرمایا:‘‘جب ہم گھر سے چل کر بنارس پہنچے تو وہاں ہمارے  بھائی فیض الحسن تھانیدار تھے۔ ان سے مل کر طبیعت بہت خوش ہوئی۔ بھائی نے بہت اصرار کیا کہ گھر پر ٹھہرو۔  مگر ہم کو سوائے مسجد کے آرام کہا تھا۔ گنگا کے کنارے ایک مسجد تھی۔ اس میں ٹھہر گئے۔ مسجد کے ایک طرف گھاٹ تھا اور دوسری طرف شارعِ عام تھی۔ بھائی صاحب بھی روز مرّہ  وہاں تشریف لاتے تھے۔ کھانا بھی وہی بھیجتے تھے۔  ایک روز عصر کی نماز کے بعد مسجد کی دیوار پر بیٹھے ہوئے ہم سیر کررہے تھے  کہ یکایک ایک نازنیں، مہہ جبیں ، غارت گر ایمان و دیں، چودہ پندرہ کاسن و سال، قیامت کی چال ڈھال، قوم سے کشمیری  برہمن اپنی ہمجولیوں کے جلو میں آفتاب عالمتاب  کی طرح نظر کو خیرہ کرتی ہوئی ہمارے سامنے آگئی۔ نظر چار ہوتے ہی ہوش و حواس  کھو بیٹھے۔ مگر ابھی اتنی عقل باقی تھی کہ ہم نے مسجد کے ملّا سے کہہ دیا کہ ہمارے بھائی  آئیں یا کھانا بھجوائیں تو  تم ان سے یہ کہہ دینا کہ ہم چلّے میں بیٹھے ہیں  اور سب سامان مجھ کو دے دیا ہے۔ جس وقت ضرورت ہوگی میں کھانا تیار کرکے دے دوں گا۔ ملّا کو یہ بات سمجھا کر ہم نے حجرہ کا دروازہ بند کرلیا اور اُس پری رُو کا تصور قائم کرکے عالمِ خیال  میں گم ہوگئے۔ آٹھویں دن وہ تصویر مجسم ہوکر سامنے   آکھڑی ہوئی۔ اسی دن وہ نازنینِ دل رُبا اپنے شوہر کے ساتھ تھالی میں شیرینی رکھے مسجد کے اندر آموجود ہوئی۔ اس نے حجرہ کی زنجیر کھڑکائی۔ کان میں آواز پڑی تو دل نے کہا مطلوب آپہنچا۔ ہم نے کنڈی کھول دی۔ وہ دونوں حجرے کے اندر آگئے۔ دیکھا تو اس کا شوہر بھی حسن و جمال میں یکتا و بے مثال تھا۔
ہم نے پوچھا ‘‘ تم دونوں کس لیے آئے ہو....؟’’
بولے ‘‘ ہم کو اولاد کی تمنّا ہے’’۔
ہم سمجھ گئے کہ یہ سب فساد حضرتِ عشق کا ہے ورنہ ابھی تو ان کے دن کھیلنے کودنے اور سیر تماشے کے ہیں۔ کیسی اولاد اور کیسی تمنا! اس حسین قتّالہ نے ہماری طرف ٹکٹکی باندھ لی ۔ اس کے شوہر سے ہم نے کہا ‘‘ ذرا تم باہر جاکر زنجیر لگادو۔ ہم کو تمہاری بیوی سے ایک پردے کی بات پوچھنی ہے’’۔
وہ  غریب دروازہ بند کرکے باہر ہوگیا۔ اس زمانے میں ہماری عمر پینتالیس کی تھی۔ ہم نے اپنے دل سے کہا ‘‘بولو حضرت! کیا ارادہ ہے۔  اگر اس کو جورو بنانا چاہتے ہو تو میاں بیوی دونوں راضی ہیں اور اگر بہن بنانا چاہتے ہو تو پھر اپنی ماں اور بہن کو کیوں چھوڑا؟ جس کے لیے آٹھ دن سے بے تابی اور بے قراری تھی، وہ موجود ہے۔ کہہ کیا کہتا ہے؟’’۔
دل نے جواب دیا :‘‘ یہ بھی ایک کھیل کھیلنا تھا سو کھیل چکے۔ بس اب کوئی خواہش باقی نہیں رہی’’۔ اس کے بعد ہم نے اس سے ایک دو باتیں پوچھ کر اس کے خاوند کو بلالیا اور ایک تعویذ لکھ کر ان کے حوالے کیا اور کہا ‘‘جاؤ خدا حافظ’’!
ان کے جانے کے بعد خیال آیا کہ یہ عشق ضرور کچھ رنگ لائے گااور طرفِ ثانی کو بھی ستائے گا۔ یہاں سے چل دینا ہی بہتر ہے۔ یہ سوچ کر ہم آدھی رات گزرنے پر وہاں سے چل دیے اور بیس کوس دور جاکر دم لیا۔
دوسرے دن وہ نیک بخت بھی شوہر کے ہمراہ یکّہ میں بیٹھی عصر کے وقت اسی مقام پر آپہنچی۔ بال پریشاں، طبیعت اُداس، چہرہ پژمردہ ، دل افسردہ اور یاس زدہ۔  میرے قریب آکر  زار و قطار روتے ہوئے التجا کی آپ بنارس تشریف لے چلیں۔ جب دونوں نے بہت اصرار کیا تو ہمیں مجبوراً کہنا پڑا کہ ہم یہاں ضروری کام سے آئے ہیں  وہ ہوجائے گا تو ہم دو چار دن میں خود ہی بنارس چلے آئیں گے۔ غرض تسلّی و تشفی دے کر ان کو بنارس کی طرف روانہ کیا اور ہم نے لکھنوؒ کی راہ لی۔ نہیں معلوم  بعد میں اس پر کیا گزری’’۔
حضرت غوث علی شاہ ؒ کے اس واقعہ میں یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ خیالات مسلسل ایک نقطہ پر مرکوز ہوجائیں یا کردیے جائیں تو معمول خواہ ان خیالات سے متفق نہ ہو لیکن وہ عامل کے خیال کی قوّت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ 

اب یہ معلوم کرنا ضروری ہوگیا ہے کہ روحانیت میں خیالات کے تبادلے کا قانون کیا ہے۔ 

قانون 


انسان تین دائروں سے مرکب ہے۔ 
پہلا دائرہ  فرد کا شعور ہے۔ 
دوسرا دائرہ فرد کا لاشعور ہے اور نوعِ انسان کا شعور ہے۔ 
تیسرا دائرہ نوعِ انسان کا لاشعور اور کائنات کا شعور ہے۔ 
ایک انسان جس کو ہم فرد کا نام دیتے ہیں اور ان تین دائروں سے مرکب  ہے یعنی فرد کا اپنا شعور اور لاشعور، نوعِ انسان کا شعور، لاشعور اور کائنات کا شعور۔ 
تفصیل اس اجمال کی یہ ہوئی کہ ایک فرد  کے اندر نوعِ انسان اور کائنات میں موجود ہر مخلوق کی اطلاعات موجود ہیں اور ان اطلاعات کا آپس میں تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔ اگر فرد کے ذہن میں جنّات اور فرشتوں سے متعلق اطلاعات کا ردّوبدل نہ ہو تو فرشتے اور جنات کا تذکرہ زیرِ بحث نہیں  آئے گا۔ بہ الفاظِ دیگر  کائنات اور کائنات میں موجود  جتنی بھی مخلوق ہے اس مخلوق کے خیالات  کی لہریں ہمیں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ خیالات  کی منتقلی ہی دراصل کسی مخلوق کی پہچان کا ذریعہ بنتی ہے۔ علٰی ہذالقیاس ہم بھوک اور پیاس سے اس لیے باخبر ہیں کہ بھوک اور پیاس کی اطلاع ہمارے ذہن پر خیال بن کر  وارد ہوتی ہے۔ ہم کسی آدمی سے اس لیے متاثر ہوتے ہیں کہ اس آدمی کی شخصیت دل کے ذریعے ہمارے ہمارے اندر کام کرکے لہروں میں جذب ہوجاتی ہے۔ جس حد تک ہم کسی خیال کو قبول یا رَد کرتے ہیں اس ہی مناسبت سے ہم کسی فرد سے قریب یا دور ہوجاتے ہیں۔ خیال کے ردّوبدل کا یہ رشتہ ٹوٹ جائے تو ہم ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکیں گے۔ خیالات روشنی کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں۔ ان ہی خیالات کو ہم اپنی زبان میں توہم ، تخیّل، تصورّ اور تفکر وغیرہ کا نام دیتے ہیں۔  کہنا یہ ہے کہ تمام مخلوق کی سوچنے کی طرزیں ایک نقطۂ مشترک رکھتی ہیں اور یہی نقطۂ مشترک  ہمیں دوسری مخلوق کی موجودگی کا علم دیتا ہے۔ انسان کا لاشعور کائنات کے دور دراز گوشوں سے مسلسل ایک ربط رکھتا ہے کیونکہ یہ ربط ہر وقت قائم ہے اس لیے ہم اپنے خیالات کو ایک نقطہ پر مرکوز کرکے اس ربط کے ذریعے اپنا پیغام کائنات کے دور دراز گوشوں تک پہنچاسکتے ہیں۔ 
انسان کو حیوانِ ناطق کہا جاتا ہے....ایسا انسان جو الفاظ کی لہروں کے ذریعے اپنے خیالات دوسروں تک پہنچاتا ہے لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دوسرے حیوان جن کو حیوانِ غیر ناطق کہا جاتا ہے  اپنے خیالات الفاظ کا سہارا لیے بغیر دوسروں تک منتقل کرتے ہیں اور دوسرے حیوان ان خیالات کو قبول کرتے اور سمجھتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ الفاظ کا سہارا لیے بغیر بھی خیالات اپنے پورے معنی  اور مفہوم کے ساتھ ردّوبدل ہوتے رہتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ دو بیل، دو بکریاں یا دو کبوتر آپس میں باتیں نہیں کرتے یا ایک دوسرے کے جذبات کا انہیں احساس نہیں ہوتا۔ جس طرح ایک انسان الفاظ کے ذریعے  اپنے جذبات و احساسات  کا اظہار کرتا ہے یا بالکل اسی طرح الفاظ کا سہارا لیے بغیر دوسرے حیوان  اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرتے ہیں اور فریقِ ثانی  ان جذبات و احساسات کو پورے معنی کے ساتھ ناصرف یہ کہ سمجھتا ہے بلکہ قبول کرتاہے۔ 
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے چیونٹی اور حضرت سلیمانؑ کی گفتگو کا تذکرہ کیا ہے۔ وہ بہت غور طلب ہے۔ چیونٹی نے حضرت سلیمان ؑ سے باتیں کیں اور حضرت سلیمان ؑ نے اس کی گفتگو کو سمجھا ۔ ظاہر ہے کہ چیونٹی  نے الفاظ میں گفتگو نہیں کی بلکہ اس کے خیالات کی لہریں حضرت سلیمان ؑ کے ذہن نے قبول کیں اور ان کو سمجھا۔ اس واقعہ میں یہ حکمت ہے کہ خیالات، احساسات، جذبات الفاظ کے بغیر بھی سنے اور سمجھے جاسکتے ہیں۔ 
ٹیلی پیتھی الفاظ کے تانوں بانوں سے مبرّا ہوکر خیالات منتقل کرنے کا ایک علم ہے۔ ہم اگر حضرت غوث علی شاہ صاحبؒ کی طرح کسی ایک فرد کو اپنے خیالات کا ہدف بنالیں تو ایک فرد ہمارے خیالات کی لہروں سے متاثر ہوکر وہی کچھ کرنے پر مجبور ہے جو ہم چاہتے ہیں ۔
بات صرف اتنی ہے کہ ہم اس قانون سے واقف ہوجائیں کہ کائنات کی تمام مخلوق کے افراد خیالات کی لہروں کے ذریعے  ایک دوسرے سے مسلسل  اور پیہم ربط رکھتے ہیں اور ہر فرد کے خیالات لہروں کے ذریعے آپس میں تبادلہ ہوتے رہتے ہیں۔ ہم کیوں کہ تبادلۂ خیال کے اس قانون سے واقفیت نہیں رکھتے اس لیے خیال ہماری گرفت سے باہر رہتا ہے اور ہم زندگی کا زیادہ حصہ خیالات کی شکست و ریخت میں گزار دیتے ہیں۔ یہ بات عام طور سے کہی جاتی ہے کہ فلاں آدمی  کی قوتِ ارادی  (Will Power) بہت زیادہ ہے۔ ایسا آدمی عام آدمیوں کی نسبت معاملاتِ زندگی زیادہ بہتر طریقے سے انجام دیتا ہے۔ قوتِ ارادی  سے مراد یہ ہے کہ اس آدمی کے اندر خیالات کی شکست و ریخت بہت کم ہوتی ہے اور ذہن ایک نقطہ پر مرکوز رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی شخص کو زیادہ آسانی سے متاثر کرسکتا ہے۔ جن لوگوں میں قوتِ ارادی کمزور ہوتی ہے وہ اپنی زندگی کا کوئی خاص نصب العین متعیّن کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ قوتِ ارادی کو بروئے کار لانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اس بات سے وقو ف حاصل کرلیں کہ ہماری پوری زندگی خیال کے گرد گھومتی ہے۔ کائنات اور ہمارے درمیان  جو مخفی رشتہ ہے وہ بھی خیال کے اوپر قائم ہے ۔ 
روحانیت میں خیال اس اطلاع کا نام ہے جو ہر آن اور ہر لمحہ ہمیں زندگی سے قریب کرتی ہے۔ پیدائش سے بڑھاپے تک زندگی کے سارے اعمال محض اطلاع کے دوش پر رواں دواں ہیں۔ کبھی ہمیں یہ اطلاع ملتی ہے کہ ہم ایک بچہ ہیں، پھر ہمیں یہ اطلاع ملتی ہے کہ یہ دور جوانی کا ہے اور پھر یہی اطلاع بڑھاپے کا روپ دھارلیتی ہے۔ سرد، خشک، تلخ و شیریں حالات سے گزر کر ہم موت سے قریب ہوجاتے ہیں اور ہم یہ جان لیتے ہیں کہ اب اس دنیا سے ہمارا رشتہ منقطع ہوگیا ہے۔ 

========================================================================

مراقبہ کے ذریعے علاج

ترجمہ : سید علی اوسط

طرزِفکر براہِ راست ہماری قوت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ہمارے جسم و دماغ کا
حیرت انگیز نادیدہ تعلق ہمیں تندرست رکھتا ہے۔




 طبی ماہرین دماغ اور جسم کے تعلق کو سمجھنے کے لئے ایک نئے طریقے کو فروغ دے رہے ہیں۔ نتیجتاً فنونِشفابخشی کے چمن میں طرح طرح کے پھول کھل رہے ہیں اور ایک رَدکردہ فارمولا کہ ’’تمام بیماریاں ذہنی؍جسمانی ہیں‘‘ایک بار پھر محققین کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ چنانچہ طب اور نفسیات کے بعض نہایت نامور ماہرین نے اپنے ایک مرکز کا نام ’’ذہنی/ جسمانی طبی شفاخانہ‘‘ رکھا ہے۔ ان کا رسالہ ایک جگہ کہتا ہے کہ کسی شخص کو امراض کا شکار ہونے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کو جسمانی، نفسیاتی اور روحانی پہلوئوں اور اس کے مجموعی ماحول کی نسبت سے جانچا جائے۔
سرطان کے متعلق تحقیق کرنے والے ایک مرکز میں مریضوں کو مراقبہ اور تصور کرنا سکھایا جاتا ہے تاکہ وہ خودشناسی کے نظام کو تقویت بخش سکیں۔ درد پر قابو پانے والے ایک مرکز کی ایک شاخ میں سو سے زائد مریضوں کا علاج ایکوپنکچر، نیند کے دوران مریض سے صحت افزا گفتگو اور مراقبہ سے کیا جاتا ہے۔
امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں ایک ایسا مرکز ہے جہاں لاعلاج بچوں اور بالغوں کی مزاجی اصلاح کے لئے وقتاً فوقتاً مختلف پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں جن کے ذریعے مریضوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ کس طرح شعوری کوششوں سے لاشعوری نظام کو اپنی صحت یابی کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔ بظاہر اس قسم کے تجرباتی مراکز انوکھے لگتے ہیں لیکن ان کا وجود میں آنا انسانی مستقبل کے لئے نیک فال ہے کیونکہ جدید طریقۂ علاج اس نقطے سے شروع ہوتا ہے جہاں روایتی طریقۂ علاج ختم ہوتا ہے اور یہ وہ نقطہ ہے جہاں مریض خود کو صحتیاب کرنے کی قوت کو بروئے کار لاتا ہے۔ اس ضمن میں ایک ماہر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ بیماری درحقیقت پورے ذہنی اور جسمانی نظام کے بے ترتیب اور جامد ہونے کی علامت کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ اس کا یقین یہ ہے کہ ہم دماغ کے ذریعے جسم سے کام لیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم جسمانی نشوونما کے عمل کو مثبت یا منفی طور پر متاثر کرسکتے ہیں۔ چنانچہ ایک مریضہ کے معاملے میں روایتی علاج اس وقت تک کارگر نہ ہو گا جب تک اسے یہ نہ بتایا گیا کہ درد کے رفع ہونے میں اس کی انا آڑے آرہی ہے۔
آپ نے دیکھا کہ بیماری یا صحت کو جانچنے کی یہ طرز ان تمام طریقوں سے قطعی الگ ہے جن کے ہم فیِالوقت عادی ہیں۔ لیکن یہ طرز باوجود انقلابی ہونے کے اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ خود نوعِ انسانی۔ یہ تصورات ہمیں بیماریوں سے نجات کے ان طریقوں پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں جو اہلِ مغرب کے موجودہ تصورات سے بہت بلند ہیں۔
علاج کے اس طرز کی بنیاد یہ یقین ہے کہ دماغ اور جسم ایک ہی نظام کے دو ناقابلِ تقسیم رُخ ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر وہ بات جس کا ایک شخص تصور کرتا ہے، اس پر یقین قائم کرتا ہے اور اسے محسوس کرتا ہے اسے اپنے جسم پر وارد کرلیتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ شرمندگی سے چہرہ سرخ ہوجاتا ہے اور تکان کے بعد جمائی آنے لگتی ہے۔ جسم و دماغ کے رشتہ کا گہرائی میں مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مختلف قسم کی بیماریاں مختلف قسم کی شخصیات اور طرزِعمل پر منتج ہوتی ہیں۔ ڈاکٹروں نے کسی محبت کرنے والے کی جدائی سے پیدا ہونے والے شدید احساسِ محرومی اور لاچاری کے فوراً بعد سرطان کے آغاز ہونے میں ایک خاص ربط محسوس کیا ہے۔ علیٰ ہذالقیاس شدید جارحانہ ذہنی رجحان اور اضطراب امراضِ قلب سے متعلق پائے گئے ہیں۔ محققین نے اپنے مشاہدات کے حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ غصہ کا ضبط کرنا اور بڑی آنتوں میں ناسور پڑنا، آنسوئوں کا روکنا اور دمہ میں مبتلا ہونا، کامیاب ترین زندگی گزارنا اور ناسور ہونا اور ذمّہ دار اور بڑے لوگوں کا بچکانہ رویّہ اختیار کرنا اور گھینگا میں مبتلا ہونا سب ایک نادیدہ ربط رکھتے ہیں۔ اس ربط کا احساس اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ شجرِ علاج میں نئی کونپلیں پھوٹ رہی ہیں۔
اگر ہم یہ حقیقت تسلیم کرلیں کہ خیالات اور عقائد کی جڑیں ہمارے جسم اور دماغ میں پیوست ہوجاتی ہیں تو اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اگر ہم شعوری طور پر اپنے خیالات کا رُخ موڑ دیں تو جسم میں ازخود تبدیلیاں رونما ہوجائیں گی۔ یہی طرزِعمل صحتیابی کے لئے تصورات سے بطور آلات کام لینے کی بنیاد ہے۔ دیگر اعتقادات جو اس بحث سے متعلق ہیں، وہ یہ ہیں:
ہماری طرزِفکر بالخصوص وہ نہج جو ہم اپنی ذات اور کائنات کے متعلق رکھتے ہیں براہِ راست ہماری صحت کے اوپر اثرانداز ہوتی ہے۔
جب ہم اپنی طرزِفکر بدلتے ہیں تو ہماری صحت کا حال بھی بدل جاتا ہے۔ اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ ہم اپنے خیالات اور عقائد کے ذریعے بیماریاں پیدا کرلیتے ہیں تو پھر یہ امر بھی یقینی ہے کہ اپنی بہتری بھی ہمارے اختیار میں ہے۔ علاج کامیاب ہوسکتا ہے اور صرف اس طرح کامیاب ہوسکتا ہے کہ ہم اپنی صحت یابی کے عمل میں خود بھی بھرپور اور ذمہ دارانہ حصہ لیں نہ یہ کہ محض بیماری اور معالجہ کے مجہول شکار بن کر رہ جائیں۔
یہ آخری نکتہ ہی بیماری کے دوران مختلف مراحل سے گزرنے کے ہمارے عام تجربات کے برعکس ہے۔ جن کے دوران ہمارا لاچار اور غیرمحفوظ جسم یا تو معالجین کی تجرباتی چیرہ دستیوں کا شکار بن جاتا ہے یا گھر میں پڑے پڑے بیماریوں کی آماجگاہ۔
کینسر سے دو دو ہاتھ: ان جدید نظریات کا غالباًسب سے زیادہ ڈرامائی استعمال دو میاں بیوی پر مشتمل ماہرین کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے کیا ہے جو تصورات کو روایتی طریقہ علاج کے ساتھ ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے ادارے کا طریقۂ کا ر دُہرا ہے جو مریض ان کے پاس آتے ہیں وہ انفرادی طور پر یا چھوٹے چھوٹے گروہوں میں ان ماہرین کی مدد سے اپنے امراض کے اسباب تلاش کرتے ہیں اور زندہ رہنے یا زندگی سے فرار کے محرکات کا تعین کرتے ہیں۔ پہلے ان مریضوں کو جسم ڈھیلا چھوڑ کر آرام کرنے کی ورزش کرائی جاتی ہے اس کے بعد ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنی بیماری کا تصور کریں۔ یہ عمل وہ دن میں تین بار دُہراتے ہیں۔ ہم اس کو ذہنی فلم بینی بھی کہہ سکتے ہیں اس طرح وہ اپنے کینسر کو دیکھتے ہیں اور پھر یہ تصور کرتے ہیں کہ خون کے تندرست سفید ذرّات کی ایک فوج سرطان زدہ عضلات پر حملہ آور ہوکر اس کو وہاںسے مار بھگا رہی ہے۔ اس کے نتیجہ میں مریض تکلیف سے نجات پاجاتا ہے اور جسم کا مفلوج خودحفاظتی نظام مکمل طور پر بحال ہوجاتا ہے۔
تصوراتی مراقبہ کے دوران مختلف مریض خون کے سفید ذرّات کو مختلف حملہ آوروں کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ مثلاً نیزے سے لیس چمکدار زِرہ میں ملبوس گھڑ سوار، کیکڑہ یا سیاہ کپڑوں میں ملبوس زیرِ آب غوطہ خور۔ اگر مریض اس دوران شعاعیں یا دوا کی گولیاں بھی استعمال کر رہا ہے تو وہ بھی مرض کے خلاف ذہنی جنگ میں علامتی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ تفصیلات خواہ کچھ بھی ہوں ذہنی فلم کا مرکزی خیال بہرحال یہ ہونا چاہئے کہ خون کے سفید ذرّات مضبوط اور طاقت ور ہیں اور کینسر کے ذرات کمزور، منتشر اور آسانی سے زائل ہونے والے ہیں۔ یہ ماہرین بڑے وثوق سے اعلان کرتے ہیں کہ ان کے مریض ان وجوہات کو تلاش خود کرتے ہیں جو کینسر جیسے موذی مرض کا سبب بنیں۔ وہ اپنے مریضوں سے یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ اپنے کینسر کی جائے وقوع کے بارے میں بھی پتہ چلائیں۔ مثال کے طور پر ایک گلوکارہ کو خود سے یہ پوچھنا چاہئے کہ کینسر اس کے حلق میں کیوں پیدا ہوا؟۔۔۔۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تصوراتی عمل کیوں اور کس طرح کارگر ہوتا ہے۔ ان ماہرین کا مشاہدہ ہے کہ ایک شخص کا گہرا تصور کینسر کا سبب دریافت کرکے اس سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔ دراصل تصوراتی عمل اس قدر قوی ہوتا ہے کہ وہ جسم کے خود حفاظتی نظام کو متحرک کرکے جسم کے شدید سے شدید نقص کا قلع قمع کردیتا ہے۔

========================================================================

ہزاروں سال قبل کی ایک دستاویز 


حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش سے ڈھائی ہزار سال قبل انّی نامی ایک شخص نے سوہی ٹپ کو ایک وصیت کی تھی۔ بانس کے کاغذ پر لکھی ہوئی یہ وصیت آج بھی قاہرہ کے عجائب گھر میں محفوظ ہے۔
میرے بچے!
*۔۔۔ کسی شخص کے گھر میں بغیر اجازت داخل نہ ہو اور اگر کوئی شخص تجھے اپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے تو اسے اپنے لئے باعثِ عزت خیال کر۔
*۔۔۔کسی جماعت میں شامل ہونے میں پہل نہ کرنا اور اگر شامل ہوجاؤ تو اس سے علیحدگی میں پہل نہ کرنا۔
*۔۔۔خدا کی عبادت گاہ میں زور سے نہ بولنا۔ عاجزی اور رقت سے دعا مانگنا۔ اگر تو سچے دل سے دعا مانگے گا تو خدا تیری سن لے گا اور تیری حفاظت کرے گا۔
*۔۔۔جب تیرے پاس موت کا پیغام برآئے تو قیل و قال نہ کرنا کیونکہ اس سے کوئی فائدہ نہیں۔
*۔۔۔تجھے معلوم نہیں کہ تو کب مرے گا اس لئے ہرآنے والے دن کو غنیمت سمجھ اور اپنی امیدوں کو طول نہ دے۔
*۔۔۔ہر وقت یہ خیال رکھنا کہ کہیں تیری زبان کی تلوار کسی کا دل زخمی تو نہیں کررہی۔
*۔۔۔خدا کا ناشکر گزار نہ بن کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی ناراضگی تجھے اس سے بڑی آفت میںمبتلا کردے۔
*۔۔۔اگر تو بری بات منہ سے نکالے تو یاد رکھ تجھے بھلی بات سننے کی خواہش نہیں رکھنی چاہیے۔
*۔۔۔ خدا آسمان پر ہے اور اس کے نور کا عکس زمین پر۔ 
*۔۔۔ عورت کے بغیر مرد اور مرد کے بغیر عورت ادھوری ہے۔
*۔۔۔ خاموش رہ اور بولنا سیکھ۔ آنکھیں بند کر اور دیکھنا سیکھ۔
*۔۔۔فضاحت کی نسبت صاف گوئی زیادہ مؤثر ہے۔
*۔۔۔ یاد رکھ نیک اعمال کے سوا دنیا اور عاقبت میں تمہارا کوئی مدد گار نہیں۔


========================================================================
یہ اس ماہ کے ڈائجسٹ کے محض چند تعارفی صفحات ہیں۔

کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت اس ڈائجسٹ کے مضامین  بلا اجازت شائع نہیں کیے جاسکتے۔

 مضمون کا کوئی حصہ کسی کتاب میں شامل یا انٹر نیٹ پر شئیر کرتے ہوئے روحانی ڈائجسٹ کا حوالہ ضرور تحریر کریں۔  
========================================================================

Like us On Facebook

Powr