Breaking

اپریل 1979ء

Views
روحانی ڈائجسٹ اپریل 1979ء  کا سرورق





روحانی ڈائجسٹ اپریل 1979ء (بمطابق جمادی الاول 1399ھ)۔۔۔۔ کا شمارہ ابتدائی شماروں میں پانچویں نمبر پر ہے۔ اس شمارے کا سرورق نہایت فکر انگیز اور جاذبِ نظر بھی ہے۔ جس میں ایک نگاہ شمع کی لوہ پر مرکوز ہے۔ ساتھ ہی ایک دائرے کا نصف حصہ رنگین اور نصف سفید ہے، جس کے ذریعے ظاہری حواس اور باطنی حواس کو پیش کیا گیا ہے۔ اس سرورق پر نگاہ کی مرکزیت کے اصول کی وضاحت کی گئی ہے جس پر عمل کرکے اُس قوتِ ارادی کو بیدار کیا جاسکتا ہے جس کے ذریعے انسان کسی شئے میں تصرف بھی کرسکتا ہے اور اپنے خیالات سے دوسرے فرد کو متاثر بھی کرسکتا ہے۔۔۔۔۔ شمارے کا آغاز سورئہ نور کی اس آیت سے ہوا ہے ۔۔۔۔۔ اﷲ نور السمٰوٰت والارضط یعنی: اﷲ روشنی ہے آسمانوں اور زمین کی۔۔۔۔۔ اگلے صفحے پر حسرت موہانی کی تحریر کردہ نعت رسول مقبولﷺ پیش کی گئی ہے۔ چیف ایڈیٹر جناب خواجہ شمس الدین عظیمی نے اپنے ادارئیے بعنوان ’’آوازِ دوست‘‘ میں اس جانب توجہ دلائی ہے کہ نصیحت اُس وقت تک بے اثر رہتی ہے جب تک کہ ناصح خود اُس پر عمل پیرا نہ ہو۔
مستقل عنوانات کے علاوہ سہیل احمد کی مرتب کردہ تحریر ’’سو مٹکے، پانچ من دودھ‘‘ حضرت غوث علی شاہؒ کے حالات و کرامات پر مشتمل ہے۔۔۔۔۔۔ ’’مرد عورت بن گئی‘‘ کے عنوان سے سیدہ راشدہ عفت صاحبہ نے وہ کہانیاں بیان کی ہیں جو حضرت عائشہ صدیقہؓ نے اپنے شوہر حضرت محمد رسول اﷲﷺ کو سنائی تھیں۔۔۔۔۔ ’’عامل معمول‘‘ یہ انیس احمد کی تحریر ہے جس میں ایک محّیر العقل واقعہ کی علمی توجیہہ پیش کی گئی ہے جسے یورپ کے نامور فلسفی اور دانشور سالہا سال کی کوشش کے باوجود سمجھ نہیں سکے۔۔۔۔ ’’عنکبوت‘‘ کے عنوان سے حضرت امام غزالی ؒ کی تحریروں کا انتخاب شیخ محمد زبیر نے مرتب کیا ہے۔ اس میں ابرشیم، مکھی، چیونٹی، مکڑی دیگر مخلوقات کے اندر موجود فہم و فراست کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایک مافوق الفطرت واقعہ اور اُس کی روحانی توجیہہ ’’مامتا کی روح‘‘ کے عنوان سے پیش کی گئی ہے، تحریر یونس مسرت کی ہے۔ ’’دانت اور اُن کی حفاظت‘‘ ڈاکٹر دائود صالح کی تحریر ہے۔ حضرت امیر کلاںؒ کے حالاتِ زندگی پر جاوید احمد کی تحریر ’’امیر الاولیائ‘‘ اور ضمیر عبقری کی تحریر کردہ کہانی ’’عشق باز جن‘‘ بھی اس شمارے میں شامل ہے۔ سلسلۂ نقشبندیہ کے بزرگ حضرت خواجہ حافظ عبدالکریمؒ کی کرامات اور ارشادات پر مبنی تحریر حاجی محمد متین خان نقشبندی نے مرتب کی۔ مستقل عنوانات میں تاثرات، محفلِ مراقبہ، آپ کے مسائل، خواب کی تعبیر کے ساتھ ساتھ ایک نئی سلسلہ وار تحریر جس کا  اِس شمارے سے آغاز ہوا ’’ٹیلی پیتھی سیکھئے‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ مختلف صفحات پر حضور نبی کریمﷺ کے ارشادات، اولیاء اﷲ ؒ کی کرامات اور دیگر تراشوں کے علاوہ ضیاء شبنمی کی ایک غزل بھی شائع ہوئی۔

========================================================================
مضامینلکھاریموضوع
حمد---اللہ نور ہے آسمانوں اورزمین کا
نعتحسرت موہانیپھر آنے لگیں شہر محبت کی ہوائیں
رباعیاتقلندر بابا اولیاءاِس جام میں دو جہاں ہیں طاق و محراب
آوازِ دوستمدیر اعلٰی---
تاثراتقارئین کرامقارئین کے خطوط سے اقتباس
واردات------
سفرِ آخرتقمر یزدانیمنقبت بحضور قلندربابا اولیاء
لوح و قلمقلندر بابا اولیاءکائنات کے سربستہ راز
سو مٹکے پانچ من دودھ حضرت غوث علی شاہؒ۔۔۔
مرد عورت بن گئیراشدہ عفت۔۔۔
عامل معمولانیس احمد۔۔۔
عنکبوتامام غزالیؒ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھ بوجھ سے کام لیتے ہیں
مامتا کی روحیونس حسرت۔۔۔
دانت اور اس کی حفاظت ڈاکٹر داؤد صالح۔۔۔
امیر الاولیاءجاوید احمدجو چیز درویشوں کے زیر استمال رہی اسے آگ کیسے جلاسکتی ہے
عشق باز جنضمیر عبقرییہ قصہ پادری سنستراری نے اپنی کتاب میں لکھا ہے
خواجہ حافظ عبدالکریم ؒحافظ محمد متین خان نقشبندیحالات زندگی، کرامات، ارشادات
محفلِ مراقبہاحمد جمال عظیمی
آپ کے مسائلخواجہ شمس الدین عظیمیالجھنوں  کا روحانی نفسیاتی حل
ٹیلی پیتھی سیکھیےادارہایک ایسا علم جس کے ذریعے آپ خیالات ایک دوسرے کو پہنچا سکتے ہیں
خواب کی تعبیرخواجہ شمس الدین عظیمیخواب کی تعبیر سے مستقبل کا انکشاف
========================================================================

اپریل 1979ء  کے شمارے سے چند منتخب مضامین

========================================================================

حمد

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ

اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ

اللہ روشنی ہے آسمانوں اور زمین کی
========================================================================

نعت

پھر آنے لگیں شہر محبت کی ہوائیں
پھر پیش نظر ہو گئیں جنت کی فضائیں

اے قافلے والو کہیں وہ گنبدِ خضرا
پھر آئے نظر ہم کو کہ تم کو بھی دکھائیں

ہاتھ آئے اگر خاک ترے نقش قدم کی
سر پر کبھی رکھیں ، کبھی آنکھوں سے لگائیں

نظارہ فروزی کی عجب شان ہے پیدا
یہ شکل و شمائل ، یہ عبائیں یہ قبائیں

کرتے ہیں عزیزان مدینہ کی جو خدمت
حسرت انہیں دیتے ہیں وہ سب مل کے دعائیں


حسرت موہانی

========================================================================

رباعیات

دُنیا نے تو کر دیا مجھے خانہ خراب
ساقی نے کرم کیا دیا جامِ شراب
اِس جام میں آسماں زمیں دونوں ہیں
اِس جام میں دو جہاں ہیں طاق و محراب
--
مئے خانہ کے اندر ہیں سبھی مست و خراب
مٹی کی صُراحی بھی ہے غرقِ مئے ناب
مئے خوارَوں کے کیا دماغ ہیں مت پوچھو
جام سرِ جمشید میں پیتے ہیں شراب
--
مئے خانہ کے گوشے سے نمایاں مہتاب
سایہ میں خُم و سبُو کے میکش ہیں خراب
ساغر میں نظر آتا ہے سارا عالم
معلوم یہ ہوتا ہے کی ہستی ہے شراب
--
خانے ہیں دماغ کے وہ خالی ہیں سب
چیزیں جو نظر آتی ہیں جعلی ہیں سب
ہرَ لمحہ بدلتا ہے جہاں کا منظر
نظّارے بھی آنکھوں کے خیالی ہیں سب
----
========================================================================

سفر آخرت قلندر بابا اولیاء



وَعَدَ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ
۱۳۹۹ھ
(القرآنِ الحکیم)

سفر آخرت قلندر بابا اولیاء
۱۹۷۹ء؁

قلندر ناشر دینِ معظم
فقیہہ دہر، فخرِ اہل ایماں
رفیق و مونسِ حرماں نصیباں
ہوئے جب عازمِ فردوسِ اعلیٰ
بجز اﷲ کے ہر شے ہے فانی
سَنِ رحلت کی مجھ کو جستجو تھی
کہا آہ کھینچ کر ہاتف نے فوراً
قمر! کہدو ’’قلندر فخرِ عالم‘‘

۱۴۰۵-۶=۱۳۹۹ھ

قر یزدانی 
========================================================================

لوح و قلم

اسمائے الٰہیہ کی تعداد گیارہ ہزار ہے


اسمائے الٰہیہ تین تنزلات پر منقسم ہیں۔
اول ۔۔۔۔۔۔ اسمائے اطلاقیہ
دوئم ۔۔۔۔۔۔ اسمائے عینیہ
سوئم ۔۔۔۔۔۔ اسمائے کونیہ

اسمائے اطلاقیہ 

اسمائے اطلاقیہ اللہ تعالیٰ کے وہ نام ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ کے تعارف میں ہیں۔ انسان کا یا موجودات کا ان سے براہ راست کوئی ربط نہیں۔ مثلاً علیم۔ بحیثیت علیم کے اللہ تعالیٰ اپنے علم اور صفات علم سے خود ہی واقف ہیں۔ انسان کا ادراک یا ذہن کی کوئی پرواز بھی اللہ تعالیٰ کے ’علیم‘ ہونے کے تصور کو کسی طرح قائم نہیں کر سکتی۔ علیم کی یہ نوعیت اسم اطلاقیہ بھی ہے یہاں پر اسم اطلاقیہ کی دو حیثیتیں قائم ہو جاتی ہیں۔ علیم بحیثیت ذات اور علیم بحیثیت واجب باری تعالیٰ۔ علیم بحیثیت ذات باری تعالیٰ کی وہ صفت ہے جس کی نسبت موجودات کو حاصل نہیں اور علیم بحیثیت واجب باری تعالیٰ کی وہ صفت ہے جس کی نسبت موجودات کو حاصل ہے پہلی نسبت تنزل اول ہے۔
اسمائے اطلاقیہ کی تعداد اہل تصوف کے نزدیک تقریباً گیارہ ہزار ہے۔ ان گیارہ ہزار اسمائے اطلاقیہ کے ایک رخ کا عکس لطیفۂ اخفیٰ اور دوسرے رخ کا عکس لطیفۂ خفی کہلاتا ہے۔ اس طرح پہلی نسبت میں ثابتہ اللہ تعالیٰ کی گیارہ ہزار صفات کا مجموعہ ہے۔ ثابتہ کا نقش پڑھ کر ایک صاحب اسرار ان گیارہ ہزار تجلیوں کے عالم مثال کا مشاہدہ کرتا ہے۔
ثابتہ کو جب علیم کی نسبت دی جاتی ہے تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ موجودات اللہ تعالیٰ سے بحیثیت علیم ایک واسطہ رکھتی ہے لیکن یہ واسطہ بحیثیت علیم کُلنہیں ہوتا بلکہ بحیثیت علیم جزو ہوتا ہے۔ بحیثیت علیم کُل وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کا اپنا خصوصی علم ہے چنانچہ ثابتہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اسماء کا علم عطا فرمایا تو اسے علیم کی نسبت حاصل ہو گئی۔ اس ہی علم کو غیب اکوان کہتے ہیں۔ اس علم کا حصول علیم کی نسبت کے تحت ہوتا ہے۔

قانون:

اگر انسان خالی الذہن ہو کر اس نسبت کی طرف متوجہ ہو جائے تو ثابتہ کی تمام تجلیات مشاہدہ کر سکتا ہے۔ یہ نسبت دراصل ایک یادداشت ہے۔ اگر کوئی شخص مراقبہ کے ذریعے اس یادداشت کو پڑھنے کی کوشش کرے تو ادراک درود یا شہود میں پڑھ سکتا ہے۔ انبیاء اور انبیاء کے وراثت یافتہ گروہ نے تفہیم کے طرز پر اس یادداشت تک رسائی حاصل کی ہے۔

طرز تفہیم

طرز تفہیم دن رات کے چوبیس گھنٹے میں ایک گھنٹہ، دو گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ ڈھائی گھنٹے سونے اور باقی وقت بیدار رہنے کی عادت ڈال کر حاصل کی جا سکتی ہے۔
طرز تفہیم کو اہل تصوف ’’سیر‘‘ اور ’’فتح‘‘ کے نام سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ تفہیم کا مراقبہ نصف شب گزرنے کے بعد کرنا چاہئے۔
انسان کی عادت جاگنے کے بعد سونا اور سونے کے بعد جاگنا ہے، وہ دن تقریباً جاگ کر اور رات سو کر گزارتا ہے۔ یہی طریقہ طبیعت کا تقاضا بن جاتا ہے۔ ذہن کا کام دیکھنا ہے۔ وہ یہ کام نگاہ کے ذریعے کرنے کا عادی ہے۔ فی الواقع نگاہ ذہن کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ جاگنے کی حالت میں ذہن اپنے ماحول کی ہر چیز کو دیکھتا، سنتا اور سمجھتا ہے۔ سونے کی حالت میں بھی یہ عمل جاری رہتا ہے البتہ اس کے نقوش گہرے یا ہلکے ہوا کرتے ہیں۔ جب نقوش گہرے ہوتے ہیں تو جاگنے کے بعد حافظ ان کو دہرا سکتا ہے۔ ہلکے نقوش حافظہ بھلا دیتا ہے۔ اس لئے ہم اس پورے ماحول سے واقف نہیں ہوتے جو نیند کی حالت میں ہمارے سامنے ہوتا ہے۔

خواب اور بیداری

روح کی ساخت مسلسل حرکت چاہتی ہے۔ بیداری کی طرح نیند میں بھی انسان کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے۔ لیکن وہ جو کچھ کرتا ہے اس سے واقف نہیں ہوتا۔ صرف خواب کی حالت ایسی ہے جس کا اسے علم ہوتا ہے۔ ضرورت اس کی ہے کہ ہم خواب کے علاوہ نیند کی باقی حرکات سے کس طرح مطلع ہوں۔ انسان کی ذات نیند میں جو حرکات کرتی ہے اگر حافظہ کسی طرح اس لائق ہو جائے کہ اس کو یاد رکھ سکے تو ہم باقاعدگی سے اس کا ایک ریکارڈ رکھ سکتے ہیں۔ حافظہ کسی نقش کو اس وقت یاد رکھتا ہے جب وہ گہرا ہو۔ یہ مشاہدہ ہے کہ بیداری کی حالت میں ہم جس چیز کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اس کو یاد رکھ سکتے ہیں اور جس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اسے بھول جاتے ہیں۔ قانونی طور پر جب ہم نیند کی تمام حرکات کو یاد رکھنا چاہیں تو دن رات میں ہمہ وقت نگاہ کو باخبر رکھنے ک اہتمام کریں گے۔
یہ اہتمام صرف جاگنے سے ہی ہو سکتا ہے۔ طبیعت اس بات کی عادی ہے کہ آدمی کو سُلا کر ذات کو بیدار کر دیتی ہے۔ پھر ذات کی حرکات شروع ہو جاتی ہیں۔ پہلے پہل تو اس عادت کی خلاف ورزی کرنا طبیعت کے انقباض کا باعث ہوتا ہے۔ کم سے کم دو دن و رات گزر جانے کے بعد طبیعت میں کچھ بسط پیدا ہونے لگتا ہے اور ذات کی حرکات شروع ہو جاتی ہیں۔ اول اول آنکھیں بند کر کے ذات کی حرکات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ مسلسل اسی طرح کئی ہفتے یا کئی ماہ جاگنے کا اہتمام کرنے کے بعد آنکھیں کھول کر بھی ذات کی حرکات سامنے آنے لگتی ہیں۔ اہل تصوف بند آنکھوں کی حالت کو ورود اور کھلی آنکھوں کی حالت کو شہود کہتے ہیں۔ ورود یا شہود میں نگاہ کے دیکھنے کا ذریعہ لطیفۂ خفی کا لینسLENSہوتا ہے اور جو کچھ نظر آتا ہے۔ جویہ کے انطباعات ہوتے ہیں۔ یہ انطباعات ثابتہ کی وہ تجلیات ہیں جن کا عکس جویہ میں شکل وصورت اور حرکات بن جاتا ہے۔ جب تک یہ تجلیاں ثابتہ میں ہیں غیب ُ الغیب کہلاتی ہیں اور ان کو علم الٰہی بھی کہا جاتا ہے۔ ان تجلیوں کے عکس کو اعیان میں غیب یا احکام الٰہی کہتے ہیں۔ پھر ان ہی تجلیوں کا عکس جویہ کی حد میں داخل ہونے پر ورود یا شہود بن جاتا ہے۔

لوح محفوظ اور مراقبہ

ازل سے ابد تک جو کچھ ہونے والا ہے وہ سارے کا سارا اجتماعی طور پر لوح محفوظ پر نقش ہے۔ اگر ہم ازل سے قیامت تک کا تمام پروگرام مطالعہ کرنا چاہیں تو لوح محفوظ میں اس کی تمثالیں دیکھ سکتے ہیں۔ گویا لوح محفوظ پوری موجودات کا یکجائی پروگرام ہے۔ اگر ہم کسی ایک فرد واحد کی حیات کا پروگرام مطالعہ کرنا چاہیں تو لوح محفوظ کے علاوہ اس کا نقش فرد کے اعیان میں دیکھ سکتے ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ واجب یا علم قلم ازل سے ابد تک کائنات کے علم غیب کا ریکارڈ ہے۔ کلیات یا لوح محفوظ ازل سے حشر تک کے احکامات کا ریکارڈ ہے۔
’’جُو‘‘ ازل سے ابد تک موجودات کے اعمال کا ریکارڈ ہے لیکن فرد کے ثابتہ میں صرف فرد کے اپنے بارے میں علم الغیب کا اندراج ہے۔ فرد کے اعیان میں صرف اس کے اپنے متعلق احکامات ہیں اور فرد کے جویہ میں صرف اس کے اپنے اعمال کا ریکارڈ ہے۔

تشریح:

علم الٰہی کی تجّلی کا جو عکس انسان کے ثابتہ میں ہے وہ شکل وصورت یعنی تمثلات کی زبان میں منقوش ہوتا ہے۔ یہ تمثلات اللہ تعالیٰ کی مصلحتوں اور رموز کی تشریح ہوتے ہیں۔ یہ تشریحات لطیفۂ خفی کی روشنیوں میں مطالعہ کی جا سکتی ہیں۔ اگر لطیفۂ خفی کی روشنیاں استعمال نہ ہوں تو یہ تشریحات نگاہ اور ذہن انسانی پر منکشف نہیں ہو سکتیں۔ تفہیم میں مسلسل بیدار رہنے کی وجہ سے لطیفۂ خفی کی روشنی بتدریج بڑھتی جاتی ہے۔ اس ہی روشنی میں غیب کے تمام نقوش نظر آنے لگتے ہیں کیونکہ یہی روشنیاں لطیفۂ اخفیٰ سے لطیفۂ نفسی تک پھیل جاتی ہیں۔ ہم پیشتر ثابت کا تذکرہ کر چکے ہیں۔ ورق اور نقطہ کی وہی حیثیت اعیان اور جویہ کی بھی ہے۔
صاحب اسرار لطیفۂ خفی کی روشنی میں ثابتہ کی تجلیات کو، صاحب تفصیل لطیفۂ روحی کی روشنی میں اعیان کے احکام کو اور صاحب اجمال لطیفۂ نفسی کی روشنی میں جویہ کے اعمال کو پڑھ سکتا ہے۔ جو تعلق لطیفۂ خفی کا اخفیٰ کی تجلیات سے ہے وہی تعلق لطیفۂ روحی کا لطیفۂ سری کے احکامات سے ہے اور وہی تعلق لطیفۂ نفسی کا لطیفۂ قلبی کے اعمال سے ہے۔
ہم بتا چکے ہیں کہ لطیفۂ سری میں کسی فرد کے متعلق احکام لوح محفوظ کے تمثلات کی شکل میں محفوظ ہوتے ہیں۔ یہ احکام لطیفۂ روحی کی روشنی میں مطالعہ کئے جا سکتے ہیں۔ مراقبہ سے لطیفۂ روحی کی روشنیاں اتنی تیز ہو جاتی ہیں کہ ان کے ذریعے لوح محفوظ کے احکامات پڑھے جا سکتے ہیں۔
لطیفۂ قلبی میں انسان کے تمام اعمال کا ریکارڈ رہتا ہے۔ اس ریکارڈ کو لطیفۂ نفسی کی روشنی میں پڑھا جا سکتا ہے۔ مراقبہ کے ذریعے لطیفۂ نفسی کی روشنی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اس کے ذریعے عالم تمثال یعنی ’’جُو‘‘ کے اندر گزرے ہوئے اور ہونے والے تمام اعمال کی تمثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

تدلّٰی

تدلّٰی اللہ تعالیٰ کی ان مجموعی صفات کا نام ہے جن کا عکس انسان کے ثابتہ کو حاصل ہے۔ قرآن پاک میں جس نیابت کا تذکرہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے علم الاسماء کی حیثیت میں جو علم آدم کو تفویض کیا تھا اس کے اوصاف اور اختیار کے شعبے تدلّٰی ہی کی شکل میں وجود رکھتے ہیں۔ کوئی شخص اگر اپنی نیابت کے اختیارات کو سمجھنا چاہے تو اسے تدلّٰی کے اجزاء کی پوری معلومات فراہم کرنا پڑیں گی۔
پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر اسم اللہ تعالیٰ کی ایک صفت کا نام ہوتا ہے اور وہ صفت جزوی طور پر اللہ تعالیٰ کے نائب یعنی انسان کو ازل میں حاصل ہوئی تھی۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا ایک نام ہے رحیم۔ اس کی صفت ہے تخلیق یعنی پیدا کرنا۔ چنانچہ پیدائش کی جس قدر طرزیں موجودات میں استعمال ہوئی ہیں ان سب کا محرک اور خالق رحیم ہے۔ اگر کوئی شخص رحیم کی جزوی صفت کا فائدہ اٹھانا چاہے تو اس کو اسم رحیم کی صفت کا زیادہ سے زیادہ ذخیرہ اپنے باطن میں کرنا ہو گا۔ اس کا طریقہ بھی مراقبہ ہے۔ ایک وقت مقرر کر کے سالک کو اپنی فکر کے اندر یہ محسوس کرنا چاہئے کہ اس کی ذات کو اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمی کا ایک جزو حاصل ہے۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے جہاں عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا تذکرہ کیا ہے، وہاں یہ بتایا ہے کہ میں نے عیسیٰ کو روح پھونکنے کا وصف بخشا ہے۔ یہ وصف میری طرف سے منتقل ہوا اور اس کے نتائج میں نے عطا کئے۔
وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ کَھَیْءَۃِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفَخُ فِھْھَافَتَکُوْنُ طَیْرًا بِاِذْنِیْ وَتُبْرِیءُ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ وَاِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتیٰ بِاِذْنِیْ (سورۂ مائدہ۔ آیت۱۱۰)
ترجمہ:اور جب تو بناتا مٹی سے جانور کی صورت میرے حکم سے، پھر دم مارتا اس میں تو ہو جاتا جانور میرے حکم سے، اور چنگا کرتا ماں کے پیٹ کا اندھا اور کوڑھی کو میرے حکم سے، اور جب نکال کھڑے کرتا مردے میرے حکم سے۔
الفاظ کے معانی میں اسم رحیم کی صفت موجود ہے۔

کن فیکون

جب اللہ تعالیٰ نے کائنات بنائی اور لفظ کُن فرمایا، اس وقت اسم رحیم کی قوت تصرف نے حرکت میں آکر کائنات کے تمام اجزاء اور ذرات کو شکل وصورت بخشی۔ جس وقت تک لفظ رحیم اسم اطلاقیہ کی حیثیت میں تھا اس وقت تک اس کی صفت صرف علم کی حیثیت رکھتی تھی لیکن جب اللہ تعالیٰ نے لفظ کُن فرمایا تو رحیم اسم اطلاقیہ سے تنزل کر کے اسم عینیہ کی حدوں میں داخل ہو گیا اور رحیم کی صفت علم میں حرکت پیدا ہو گئی جس کے بعد حرکت کی صفت کے تعلق سے لفظ رحیم کا نام اسم عینیہ قرار پایا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے موجودات کو خطاب فرمایا۔ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ (پہچان لو، میں تمہارا رب ہوں)
روحوں نے جواباً کہا۔۔۔۔۔۔بَلٰی (جی ہاں، ہم نے پہچان لیا)
جب روحوں نے رب ہونے کا اعتراف کر لیا تو اسم رحیم کی حیثیت اسم عینیہ سے تنزل کر کے اسم کونیہ ہو گئی۔
تصوف کی زبان میں اسم اطلاقیہ کی حدود صفت تدلّٰی کہلاتی ہے۔ اسم عینیہ کی صفت ابداء کہلاتی ہے او راسم کونیہ کی صفت خلق کہلاتی ہے۔ اسم کونیہ کی صفت کے مظہر کو تدبیر کہا جاتا ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں عیسیٰ علیہ السلام کے روح پھونکنے کا بیان کیا ہے وہاں اسم رحیم کی ان تینوں صفات کا اشارہ فرمایا ہے اور تیسری صفت کے مظہر کو روح پھونکنے کا نام دیا ہے۔
یہاں پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسان کو ثابتہ کی حیثیت میں اسم رحیم کی صفت تدلّٰی حاصل ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے اس وصف سے مردوں کو زندہ کرنے یا کسی شئے کو تخلیق کرنے کا کام سر انجام دے سکتا ہے۔
پھر اس ہی اسم رحیم کا تنزل صفت عینیہ کی صورت میں اعیان کے اندر موجود ہے جس کے تصرفات کی صلاحیتیں انسان کو پوری طرح حاصل ہیں۔ اسم رحیم کی صفت کونیہ انسان کے جویہ میں پیوست ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس صفت کے استعمال کا حق بھی حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی مثال دے کر اس نعمت کی وضاحت کر دی ہے۔ اگر کوئی انسان اس صفت کی صلاحیت کو استعمال کرنا چاہے تو اسے اپنے ثابتہ، اپنے اعیان اور اپنے جویہ میں مراقبہ کے ذریعے اس فکر کو مستحکم کرنا پڑے گا کہ میری ذات اسم رحیم کی صفات سے تعلق رکھتی ہے۔ اس فکر کی مشق کے دوران میں وہ اس بات کا مشاہدہ کرے گا کہ اس کے ثابتہ، اس کے اعیان اور اس کے جویہ سے اسم رحیم کی صفت روح بن کر اس مردہ میں منتقل ہو رہی ہے جس کو وہ زندہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ موجودات کی جس قدر شکلیں اور صورتیں ہیں وہ سب کی سب اسم رحیم کی صفات کا نوری مجموعہ ہیں۔ یہ مجموعہ انسان کیروح کو حاصل ہے۔ اس شکل میں انسان کی روح ایک حد میں صاحب تدلّٰی، ایک حد میں صاحب ابداء اور ایک حد میں صاحب خلق ہے جس وقت وہ فکر کی پوری مشق حاصل کرنے کے بعد اسم رحیم کی اس صفت کو خود سے الگ شکل و صورت دینے کا ارادہ کرے گا تو صفت تدلّٰی کے تحت اس کا یہ اختیار حرکت میں آئے گا۔

=============================================================

آپ کے مسائل 




محمد عمید۔ اسلام آباد
تاریخ پیدائش 21 دسمبر 1957ء ہے۔ میرا نام ’’عمید‘‘ ہے۔ مجھے اپنے والدین سے معلوم ہوا ہے کہ میں ہر طرح سے ایک نارمل بچہ تھا اور صحت کے لحاظ سے اور بچوں کے مقابلے میں بہتر تھا۔ چار سال کی عمر میں خشک خارش ہوئی جو تقریباً چھ ماہ تک رہی۔
جب میں F.A کے پہلے سال میں تھا تو مجھے محسوس ہوا کہ میری طبیعت میں پریشانی اور انتشار رہتا ہے۔ اگر کوئی میری طرف دیکھتا تو میرے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگتیں۔ میں کسی کے چہرے پر نظر جماکر بات نہیں کرسکتا تھا۔ اپنے مخاطب کے چہرے پر نظریں جماکر اس کی بات نہیں سن سکتا تھا۔ F.A کے بعد B.A میں مجھے خاص طور پر یہ احساس ہوا کہ میری دماغی صلاحیتیں کم ہوتی جارہی ہیں۔ آہستہ آہستہ نماز اور کلام مجید سے بھی غفلت ہوتی چلی گئی۔ اگر کوشش بھی کرتا تو یکسوئی حاصل نہ ہوتی۔ راولپنڈی میں کچھ بزرگوں کی خدمت میں والد صاحب کے ساتھ حاضری ہوئی اور اُنہوں نے دعا کی۔ والد صاحب بھی مختلف دعائیں پڑھ کر دم کرتے رہے۔
اب ایک ماہ سے جرمنی کی کچھ نئی ہومیوپیتھی دوائیاں زیرِ استعمال ہیں۔ لیکن مستقبل کے بارے میں جس سے طبیعت میں مایوسی پیدا ہوجاتی ہے اکثر سوچتا رہتا ہوں۔
جواب: ان تمام کیفیات کی جو آپ نے لکھی ہیں اصل وجہ یہ ہے کہ آپ نے اینٹی بایوٹک دوائیں زیادہ استعمال کی ہیں۔ ان کی وجہ سے معدہ، دماغ اور خون بُری طرح متاثر ہوگئے ہیں۔ خون اور دماغ کے متاثر ہونے سے آپ کے خیالات میں اعتدال سے بہت زیادہ انتشار پیدا ہوگیا ہے۔ معدہ پر ان دوائوں کے اثر سے یہ تاثر قائم ہوا ہے کہ نظامِ ہضم خراب ہوگیا ہے۔ خشکی اور یبوست زیادہ ہوگئی ہے اور اس کی وجہ سے ریاح کا اخراج نہیں ہوتا۔ جب اخراج نہیں ہوتا تو اس کا پورے جسم پر دبائو پڑتا ہے اور آپ بے حال ہوجاتے ہیں۔ آپ کو چاہئے کہ آپ صرف دوائوں کے ری ایکشن کا علاج کرائیں۔ بالکل تندرست اور صحتمند ہوجائیں گے۔ رنگ اور روشنی سے علاج مفید اور موثر رہے گا۔

آٹھ سال سے پیغام آرہے ہیں

نام شائع نہ کیا جائے
آٹھ سال سے میری شادی کے پیغام آرہے ہیں۔ بات آگے بڑھتی ہے، مجھے پسند بھی کرلیتے ہیں مگر شادی نہیں ہوپاتی۔ اب تک مجھے بالکل ایسی کوئی خواہش نہ تھی کہ میری شادی ہو۔ مگر اب حالات ایسے ہیں کہ میں مجبور ہوں۔ ماں باپ کا انتقال ہوچکا ہے۔ بہنیں اپنے اپنے گھر کی ہوگئی ہیں اور بھابھی ایسی ملی ہیں کہ ہزار صبر اور ضبط کے باوجود ان کے ساتھ گزر ممکن نہیں ہے۔ کئی بار سنجیدگی سے خودکشی کا سوچا مگر یہ خیال آڑے آجاتا ہے کہ زندگی تو جہنم رہی اب آخرت بھی جہنم میں بدل جائے گی۔
اب سے چھ سال پہلے ایک شخص نے مجھے پسند کیا تھا۔ میں بھی اس کی انسانیت اور شرافت سے متاثر ہوگئی تھی۔ مگر کوشش کے باوجود ہماری شادی نہ ہوسکی۔ چار سال سے وہ دوسرے شہر چلاگیا مگر میں آج بھی اس کی راہ دیکھ رہی ہوں۔ نہ ہی وہ لوٹ کرآتا ہے نہ ہی کہیں اور میری شادی ہوپاتی ہے۔ آپ مجھے کوئی راہ دکھائیں۔ زندگی بھر آپ کو دعا  دیتی رہوں گی۔
میںجانتی ہوں آپ کے پاس علم ہے اور میں بالکل تہی دامن ہوں۔ کیا خبر آپ مجھے کچھ دینا بھی پسند کریں گے یا نہیں۔ مگر آپ کا نیکیوں پر تو یقین ہوگا سو ایک نیکی میرے ساتھ کردیں کہ اس کا اجر خدا ہی آپ کو دے گا۔
جواب:جو تصویر آپ کے دماغ کے پردہ پر نقش ہے اُسے دماغ کے پردہ سے دل میں لے آئیے۔ اس کا طریقہ یہ ہے:
سونے سے پہلے، اندھیرے میں بیٹھ کر بند آنکھوں سے اپنے دل کا تصور کریں۔ جب بند آنکھوں سے ’’دل‘‘ آپ کے سامنے آجائے تو یہ تصور کریں کہ اُس شخص کی تصویر جس کو آپ اپنا رفیقِ سفر بنانا چاہتی ہیں، دل کے اندر ہے۔ تین ہفتوں کی کوشش سے دل کے اندر تصویر کے نقوش روشن اور واضح ہوجائیں گے۔ جب تصویر سامنے آجائے، تصویر سے مخاطب ہوکر کہئے ’’تم جہاں بھی ہو، فوراً  آکر مجھ سے شادی کرلو‘‘۔
نوٹ: جن لڑکیوں کو لو بلڈپریشر اور ہائی بلڈپریشر کی شکایت ہو وہ اس عمل کو نہ کریں۔

دماغ میں روشنیاں پھوٹتی ہیں

٭٭٭
چار سال پہلے جب کہ میں اپنی چھوٹی پھوپھی کے یہاں تھی، بستر پر لیٹی تو میرے ذہن میں جھماکے ہونے لگے اور جسم ساکت ہوگیا۔ جوں جوں یہ روشنی کے جھماکے بڑھتے گئے میں نے محسوس کیا کہ میں حرکت بالکل نہیں کرسکتی۔ میں نے گھبرا کر امی کو آواز دینا چاہی مگر ہونٹ ہلے اور نہ آواز نکلی۔ (میں سو نہیں رہی تھی کیونکہ امی اور بہنوں کی آوازیں صاف سن رہی تھی) بڑی مشکل سے میں نے سرکو ہلایا اور اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ میں بہت روئی اور پھوپھی کو بتایا۔ اُنہوں نے کہا یہ وہم ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اب یہی واقعہ میری بہن کے ساتھ پیش آنے لگا ہے اور مہینے میں ایک دوبار ایسا ہوجاتا ہے۔
جواب: ہمارے اندر ہمہ وقت دو دماغ کام کرتے رہتے ہیں۔ ایک کا نام شعور ہے اور دوسرے کا نام لاشعور ہے۔ غذائوں میں بے اعتدالی کی بناء پر بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ شعوری حرکات کچھ وقفہ کے لئے لاشعور کے تابع ہوجاتی ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ آپ میٹھی چیزیں زیادہ کھایا کریں۔ نمکین اور چٹ پٹی چیزوں سے پرہیز کریں۔ روزانہ بلاناغہ چالیس روز تک عمدہ قسم کی دو کھجوریں بھی کھائیں۔ یہی علاج آپ اپنی بہن کو بتادیں۔

امتحان میں کامیابی کا وظیفہ

خالدہ پروین۔ کراچی
 آٹھویںجماعت میں ہوں۔ میرا پڑھنے میں دل نہیں لگتا۔ سبق یاد کرتی ہوں لیکن دماغ سے نکل جاتا ہے۔ امتحان قریب ہے۔ کوئی وظیفہ بتا دیں۔
جواب: رات کو سونے سے پہلے وضو کرکے سو مرتبہ یاعلیم پڑھ کر دعا کرکے سوجایا کریں۔ اﷲمیاں تمہیں امتحان میں پاس کردیں گے۔

حوصلہ اور ہمت کی کمی 

چار سال سے پے درپے پریشانیوں کا شکار ہوں۔ ہر کام میں توقع کے خلاف ناکامی ہوتی ہے۔ کوئی بیماری بھی نہیں ہے لیکن صحت روز بروز گرتی جارہی ہے۔ غصہ کا یہ عالم ہے کہ جی چاہتا ہے سب کو جہنم واصل کردوں۔ براہِ کرم مجھے بتائیے کہ میرے اوپر کسی نے جادو تو نہیں کیا ہے اور میری قسمت کیسی ہے؟۔۔۔۔۔۔ میری فطرت کس قسم کی ہے؟۔۔۔۔۔
جواب: آپ کی قسمت بہت اچھی ہے لیکن توہمات نے آپ کو بے عمل بنادیا ہے۔ آپ کے اوپر ہرگز کوئی اوپری اثر نہیں ہے۔ آپ نے اپنے بارے میں جو نظریہ قائم کرلیا ہے وہ غلط ہے۔ اس میں یہ تبدیلی کرلیجئے کہ انسان صرف ایک حد تک بااختیار ہے جس حد تک قدرت نے اُسے اختیار دیا ہے۔ قدرت ہمیں ہر لمحہ اور ہر آن متحرک دیکھنا چاہتی ہے۔ ازل تا ابد کی مختصر تعریف یہ ہے کہ وہ ایک حرکت ہے۔ جب تک حرکت ہے ازل ہوتا رہے گا۔ حرکت ختم ہوجانے کا دوسرا نام ’’ابد‘‘ ہے۔ زائد باتوں سے ذہن ہٹاکر عملی زندگی میں قدم بڑھائیے پریشانیوں اور مایوسیوں سے نجات مل جائے گی۔

========================================================================

ٹیلی پیتھی سیکھیے


سائنس کی دنیا کہکشانی اور شمسی نظاموں سے اچھی طرح روشناس ہے۔ کہکشانی اور شمسی نظاموں کی روشنی سے ہماری زمین کا کیا تعلق ہے اور ان نظاموں کی روشنی زمین کی نوعوں، انسان، حیوانات، نباتات اور جمادات پر کیا اثر کرتی ہے یہ مرحلہ سائنس کے سامنے آچکا ہے۔ سائنس دانوں کو یہ سمجھنا پڑے گا کہ شمسی نظاموں کی روشنی انسان کے اندر ، نباتات کے اندر، جمادات کے اندر کس طرح اور کیا عمل کرتی ہے اور کس طرح جانوروں، انسانوں، نباتات اور جمادات کی کیفیات میں ردّوبدل کرتی رہتی ہے۔ سائنس کا عقیدہ یہ ہے کہ زمین پر ہر موجود شئے کی بنیاد یا قیام لہر اور صرف لہر پر ہے۔ ایسی لہر جس کو روشنی کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔
Telepathy میں ایسے علوم سے بحث کی جاتی ہے جو حواس کے پسِ پردہ شعور سے چھپ کر کام کرتے ہیں۔ یہ علم ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے حواس کی گرفت محض مفروضہ ہے۔
مثال: ہم جب کسی سخت چیز کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس چیز کی سختی کا علم ہوجاتا ہے حالانکہ ہمارے دماغ کے اوپر وہ سخت چیز ٹکراتی نہیں ہے۔ سائنس کے نقطۂ نظر اور مخفی علوم کی روشنی میں ہر شئے دراصل شعاعوں یا لہروں کے مجموعہ کا نام ہے۔ جب ہم کسی لکڑی یا لوہے کی طرف کسی بھی طریقہ سے متوجہ ہوتے ہیں تو لکڑی یا لوہے کی شعاعیںہمارے دماغ کو باخبر کردیتی ہیں۔ باخبری کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ لکڑی یا لوہے کی سختی کو چُھوکر محسوس کیا جائے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ شعاع یا لہر اپنے اندر سختی رکھتی ہے اور نہ وزن!۔۔۔۔۔ پھر ہمیں یہ علم کیسے ہوجاتا ہے کہ فلاں چیز سخت ہے یا فلاں چیز نرم ہے؟۔۔۔۔۔ہم پانی کو دیکھتے ہیں یا چھوتے ہیں تو فوراً ہمارے دماغ میں یہ بات آجاتی ہے کہ یہ پانی ہے حالانکہ ہمارے دماغ میں پانی کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یعنی دماغ بھیگتا نہیں ہے۔ جب ہمارا دماغ بھیگا نہیں ہے تو ہم یہ کیسے کہہ دیتے ہیں کہ یہ پانی ہے؟۔۔۔۔۔
رنگ کی قسمیں ساٹھ سے زیادہ دریافت ہوچکی ہیں۔ جب ہم کوئی رنگ دیکھتے ہیں تو ناصرف یہ کہ ہم اس رنگ کو پہچان لیتے ہیں بلکہ رنگ کے ہلکے یا تیز اثرات سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ ہرا رنگ اور ہریالی دیکھ کر ہمیں سکون محسوس ہوتا ہے۔ مسلسل اور متواتر سُرخ رنگ سامنے رہنے سے ہمارے دماغ پر ناگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اعتدال سے زیادہ سُرخ رنگ کے اثرات حواس کو غیر متوازن بھی کردیتے ہیں۔
حقائق یہ ہیں کہ ہر شئے الگ اور معین مقداروں کے ساتھ وجود پذیر ہے۔ لہروں یا شعاعوں کی معین مقداریں ہی ہر شئے کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہیں اور ہر شئے کی یہ لہریں یا شعاعیں ہمیں اپنے وجود کی اطلاع فراہم کرتی ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ ہر موجود شئے دراصل لہروں یا شعاعوں کا دوسرا نام ہے اور ہر شئے کی لہر یا شعاع ایک دوسرے سے الگ یا مختلف ہے۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ انسان، حیوانات اور جمادات میں کس کس قسم کی لہریں کام کرتی ہیں اور ان لہروں پر کس طرح کنٹرول حاصل کیا جاتا ہے تو ہم ان چیزوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ لہر یا شعاع دراصل ایک جاری و ساری حرکت ہے اور ہر شئے کے اندر لہروں یا شعاعوں کی حرکت کا ایک فارمولا ہے۔

ہمارے ارد گرد بہت سی آوازیں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کے قطر بہت چھوٹے اوربہت بڑے ہوتے ہیں جن کو انگریزی میں ویولینتھ (Wave Length)کہتے ہیں۔

سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ چار سوقطرسے نیچے کی آوازیں آدمی نہیں سن سکتا۔ ایک ہزارچھ سو قطر سے زیادہ اونچی آوازیں بھی آدمی نہیں سن سکتا۔ چارسو ویولینتھ (Wave Length)سے نیچے کی آوازیں برقی روکے ذریعہ سنی جا سکتی ہیں اور ایک ہزار چھ سو ویو لینتھ کی آوازیں بھی بجز برقی رو کے سننا ممکن نہیں۔ یہ ایک قسم کی حس کا عمل ہے جو دماغی خلئے بناتے ہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہ سب آسمانی رنگ کے تاثر سے ہوتاہے۔ یہ رنگ خلیوں میں خلیوں کی بساط کے مطابق عمل کرتاہے ۔ تبانا یہ مقصود ہے کہ آسمانی رنگ جوفی الواقع ایک برقی روہے دماغی خلیوں میں آنے کے بعد اسپیس بن جاتاہے۔ یہ اسپیس بے شمار رنگوں میں تقسیم ہوجاتی ہے اور یہ ہی رنگ آنکھ کے پردہ پر مختلف شکلوں میں نظر آتے ہیں۔

آنکھ کے پردوں پر جو عمل ہوتا ہے وہ رو یا لہر سے بنتا ہے۔ آنکھ کی حس جس قدر تیز ہوتی ہے اتنا ہی وہ رو کو زیادہ قبول کرتی ہے۔ اور اتنا ہی رو میں امتیاز کر سکتی ہے۔ ٹیلی پیتھی کا اصل اصول یہی ہے کہ مشق کے ذریعہ آنکھ کی حس کو اس قدر تیز کر دیا جائے کہ صاحب مشق رو اور حواس کی لہروں میں امتیاز کر لے۔ آنکھیں بھی حواس میں شامل ہوں لیکن یہ ان چیزوں کو جو باہر سے دیکھتی ہیں زیادہ اثر قبول کرتی ہیں۔ باہر کے عکس آنکھوں کے ذریعہ اندرونی دماغ کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کی شکل یہ ہوتی ہے کہ حواس تازہ یا افسردہ ہو جاتے ہیں، کمزور ہو جاتے ہیں یا طاقت ور۔ ان ہی باتوں پر دماغی کام کا انحصار ہے۔
ہم یہ بتا چکے ہیں کہ ایک ہزار چھ سو قطر سے اوپر کی آوازیں یا چار سو قطر سے نیچے کی آوازیں برقی رو کے ذریعہ سنی جا سکتی ہیں اور یہ اس لئے ممکن ہے کہ ہمارے تمام حواس اور خیالات بجائے خود ‘‘برقی رو’’ ہیں۔ اگر ہمارے خیالات برقی رو سے الگ کوئی چیز ہوتے تو برقی رو کو قبول ہی نہ کرتے۔ ٹیلی پیتھی میں یہی خیالات جو دراصل برقی رو ہیں دوسرے آدمی کو منتقل کئے جاتے ہیں۔
خیالات منتقل کرنے کے لئے اس بات کی ضرورت پیش آتی ہے کہ یہ رو کسی ایک ذرہ یا کسی ایک سمت میں یا کسی ایک رخ پر مرکوز ہو جائے۔ اگر یہ رو تھوڑی دیر بھی مرکوز رہے تو دور دراز تک اپنے اثرات مرتب کرتی ہے۔ انسان کو اور ان چیزوں کو جو ذی روح نہیں سمجھی جاتیں ان کو بھی اس رو کے ذریعہ متاثر کیا جا سکتا ہے۔
یہ جاننا ضروری ہے کہ ہم جو کچھ دیکھتے ہیں وہ باہر نہیں دیکھتے۔ کائنات کا ہر مظہر ہمارے اندر موجود ہے۔ ہم سمجھتے یہ ہیں کہ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ ہمارے سامنے موجود ہے حالانکہ خارج میں کسی شئے کا وجود محض مفروضہ ہے۔ ہر شئے ہمارے (Inner) میں قیام پذیر ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم کسی چیز کا مشاہدہ اپنے اندر کرتے ہیں۔ اور یہ سب کا سب ہمارا علم ہے۔ اگر فی الواقع کسی شئے کا علم حاصل نہ ہو تو ہم اس چیز کو نہیں دیکھ سکتے۔
ٹیلی پیتھی میں پہلے پہل یہ مشق کرائی جاتی ہے کہ اشیاء ہمارے اندر موجود ہیں۔ مشق کی تکمیل کے بعد انسان یہ دیکھنے لگتا ہے کہ فلاں چیز میرے اندر موجود ہے اور مسلسل توجہ کے بعد اس چیز پر نظر ٹھہرتی جاتی ہے۔ ارتکاز توجہ کے لئے سانس کی مشق اور مراقبہ کرایا جاتا ہے۔
مشقوں کا تذکرہ کرنے سے پہلے نظر کا قانون سمجھ لینا ضروری ہے۔
آدمی دراصل نگاہ ہے۔ نگاہ یا بصارت جب کسی شئے پر مرکوز ہو جاتی ہے تو اس شئے کو اپنے اندر جذب کر کے دماغ کے سکرین پر لے آتی ہے اور دماغ اس چیز کو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے اور اس میں معنی پہناتا ہے۔ نظر کا قانون یہ ہے کہ جب وہ کسی شئے کو اپنا ہدف بناتی ہے تو دماغ کی اسکرین پر اس شئے کا عکس پندرہ سیکنڈ تک قائم رہتا ہے اور پلک جھپکنے کے عمل سے یہ آہستہ آہستہ مدہم ہو کر حافظہ میں چلا جاتا ہے۔ اور دوسرا عکس دماغ کی اسکرین پر آ جاتا ہے۔ اگر نگاہ کو کسی ہدف پر پندرہ سیکنڈ سے زیادہ مرکوز کر دیا جائے تو ایک ہی ہدف بار بار دماغ کی اسکرین پر وارد ہوتا ہے۔ اور حافظہ پر نقش ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً ہم کسی چیز کو پلک جھپکائے بغیر مسلسل ایک گھنٹہ تک دیکھتے ہیں تو اس عمل سے نگاہ قائم ہونے کا وصف دماغ میں پیوست ہو جاتا ہے اور دماغ میں یہ پیوستگی ذہنی انتشار کو ختم کر دیتی ہے۔ ہوتے ہوتے اتنی مشق ہو جاتی ہے کہ شئے کی حرکت صاحب مشق کے اختیار اور تصرف میں آجاتی ہے۔ اب وہ شئے کو جس طرح چاہے حرکت دے سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نگاہ کی مرکزیت کسی آدمی کے اندر قوت ارادی کو جنم دیتی ہے اور قوت ارادی سے انسان جس طرح چاہے کام لے سکتا ہے۔ ٹیلی پیتھی کا اصل اصول بھی یہی ہے کہ انسان کسی ایک نقطہ پر نگاہ کو مرکوز کرنے پر قادر ہو جائے۔ نگاہ کی مرکزیت حاصل کرنے میں کوئی نہ کوئی ارادہ بھی شامل ہوتا ہے۔ جیسے جیسے نگاہ کی مرکزیت پر عبور حاصل ہوتا ہے اسی مناسبت سے ارادہ مستحکم اور طاقت ور ہو جاتا ہے۔ ٹیلی پیتھی جاننے والا کوئی شخص جب یہ ارادہ کرتا ہے کہ اپنے خیال کو دوسرے آدمی کے دماغ کی اسکرین پر منعکس کر دے تو اس شخص کے دماغ میں یہ ارادہ منتقل ہو جاتا ہے۔ وہ شخص اس ارادہ کو خیال کی طرح محسوس کرتا ہے۔ اگر وہ شخص ذہنی طور پر یکسو ہے تو یہ خیال تصور اور احساسات کے مراحل سے گزر کر مظہر بن جاتا ہے۔ اگر اسی ارادہ کو بار بار منتقل کیا جائے تو دماغ اگر یکسو نہ بھی ہو تو یکسو ہو کر اس خیال کو قبول کر لیتا ہے۔ اور ارتکاز توجہ سے خیال عملی جامہ پہن کر منظر عام پر آ جاتا ہے۔
ٹیلی پیتھی محض خیالات کو دوسرے تک منتقل کرنے کا علم ہی نہیں ہے بلکہ اس علم کے ذریعہ ہم اپنی زندگی کا مطالعہ کر کے زندگی کو خوش آئینہ تصورات سے لبریز کر سکتے ہیں۔ زندگی خواہشات، تمناؤں اور آرزوؤں کے تانے بانے پر قائم ہے۔
زندگی بنیادی طور پر خواہشات کے خمیر سے مرکب ہے۔ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے اندر پہلی خواہش بھوک کی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے اور جب ماں بچہ کو سینے سے لگاتی ہے تو بچہ اپنی اس خواہش کی تکمیل اس طرح کرتا ہے جیسے یہ ماں کے پیٹ سے ہی یہ عمل سیکھ کر آیا ہے۔ خواہشات کی تکمیل کے مراحل طے کرنے کا دوسرا نام نشوونما ہے۔ خواہشات کی تکمیل دو طرح ہوتی ہے۔
ایک شعوری طور پر اور دوسرے لاشعوری طور پر۔ شعور اور لاشعور دراصل ایک ورق کے دو صفحے ہیں۔ ایک صفحہ پر خیالات اور تصورات کے نقوش زیادہ روشن اور واضح ہیں اور دوسرے صفحہ پر دھندلے اور کم روشن جس صفحہ پر نقوش زیادہ روشن اور واضح ہیں اس صفحہ کا نام لاشعور ہے اس جس صفحہ پر نقوش دھندلے اور کم روشن ہیں اس صفحہ کا نام شعور ہے۔ روحانیت میں یہ بات مشاہدہ کرائی جاتی ہے کہ روشن اور واضح خیالات میں ٹائم اسپیس نہیں ہوتا۔ غیر واضح خیالات اور تصورات کا ہر قدم ٹائم اسپیس کے ساتھ بندھا ہوتا ہے۔ ہم جب کسی ایک خواہش اور اس کی تکمیل کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بات آتی ہے۔ خواہش کو جب الگ معنی پہنا دیئے جاتے ہیں تو اس کی الگ ایک حقیقت بن جاتی ہے۔ مثلاً بھوک ایک خواہش ہے اور اس کی تکمیل کا ذریعہ کچھ کھا لینا ہے۔ ایک آدمی بھوک کی تکمیل روٹی اور گوشت کھا کر لیتا ہے، دوسرا گوشت کی بجائے کسی اور غذا سے پیٹ بھر لیتا ہے۔ شیر گھاس اور پتے نہیں کھاتا، بکری گوشت نہیں کھاتی۔ ایک آدمی کو انتہائی درجہ مٹھائی سے رغبت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس دوسرا شخص نمکین چیزیں زیادہ پسند کرتا ہے۔ اس حقیقت سے ایک فرد واحد بھی انکار نہیں کر سکتا کہ انسان کی زندگی میں خوشی اور غم کا تعلق براہ راست خیالات اور تصورات سے وابستہ ہے۔ کوئی خیال ہمارے لئے مسرت آگیں ہوتا ہے اور کوئی خیال انتہائی کرب ناک، ڈر، خوف، شک، حسد، طمع، نفرت و حقارت، غرور و تکبر، خود نمائی وغیرہ وغیرہ سب خیالات کی پیداوار ہیں۔ اور اس کے برعکس محبت، ایثار، یقین، انکساری اور حزن و ملال کا ہونا بھی خیالات کی کارفرمائی ہے۔ بیٹھے بیٹھے یہ خیال بجلی کی طرح کوندا جاتا ہے کہ ہمارے یا ہماری اولاد کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے گا۔ حالانکہ حادثہ پیش نہیں آیا لیکن یہ خیال آتے ہی حادثات سے متعلق پوری پریشانیاں، کڑی در کڑی ہم اپنے اندر محسوس کرتے ہیں۔ اور اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ یہی حال خوشی اور خوش حال زندگی کا ہے۔ جب کوئی خیال تصور بن کر ایسے نقطہ پر مرکوز ہو جاتا ہے جس میں شادمانی اور خوش حالی کی تصویریں موجود ہوں تو ہمارے اندر خوشی کے فوارے ابلنے لگتے ہیں۔
غم اور خوشی دونوں تصورات سے وابستہ ہیں۔ اور تصورات خیالات سے جنم لیتے ہیں۔ آپ نے ایسے مریض ضرور دیکھے ہوں گے کہ ان کے دماغ میں یہ بات نقش ہو گئی ہے کہ وہ اگر گھر سے باہر نکلیں گے تو ان کا ایکسیڈنٹ ہو جائے گا۔ خیال کی طاقت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ گرھ سے باہر نکلنا چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے ذہن میں چھپکلی یا بلی کا خوف بیٹھ جاتا ہے۔ اور یہ خوف ان کے دماغ سے اس طرح چمٹ جاتا ہے کہ وہ ذہنی مریض بن کر رہ جاتے ہیں حالانکہ اس خوف کی بظاہر کوئی وجہ موجود نہیں ہوتی۔ بس ایک مفروضہ کے تحت خیال خوف بن کر دماغ پر چھا جاتا ہے۔
میرے پاس ایک مریضہ لائی گئی جس کو یہ وہم ہو گیا تھا کہ اس کے اوپر جادو کیا گیا ہے۔ اور اس جادو کی وجہ سے کھانے کے بعد اس کے پیٹ میں درد ہوتا ہے۔ شوہر اس بات کو بے بنیاد قرار دیتے تھے۔ میری تشخیص بھی یہی تھی کہ یہ محض وہم ہے۔ علاج کے سلسلہ میں ہضم سے متعلق کچھ دوائیں دے دی گئیں لیکن مرض میں افاقہ کی بجائے اور اضافہ ہو گیا۔ اور درد کی شدت اتنی بڑھی کہ مریضہ کو دماغی دورے پڑنے لگے۔ اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ علاج پر کئی ہزار روپے خرچ ہونے کے باوجود مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق مرض دگرگوں ہو گیا۔ اس کے بعد نفسیاتی اسپتال میں ایک ماہ تک علاج ہوتا رہا۔ پھر عامل حضرات سے رجوع کیا گیا۔ جب کسی بھی صورت سے فائدہ نہ ہوا، مریضہ کو میرے پاس دوبارہ لایا گیا۔ میں نے نہایت اطمینان اور سکون کے ساتھ ان کے تمام حالات سنے اور ان سے کہا میں دیکھ کر بتاؤں گا کہ آپ کے اوپر کس قسم کا اثر ہے اور ان کو ہدایت کر دی کہ آپ دو تین روز کے بعد معلوم کر لیں۔ پندرہ روز تک وہ اپنے بارے میں مجھ سے پوچھتی رہیں اور میں ان سے فرصت نہ ملنے کی معذرت کرتا رہا۔ جب ان کا یقین اس نقطہ پر مرکوز ہو گیا کہ میرے سوا ان کا علاج کوئی نہیں کر سکتا تو میں نے ان سے کہہ دیا کہ آپ کے اوپر زبردست اثر ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ آپ صبح اذان سے پہلے اتنے بج کر اتنے منٹ پر بند آنکھوں سے میرا تصور کر کے بیٹھ جائیں۔ میں اپنی روحانی قوت سے یہ اثر ختم کر دوں گا۔ اب آپ مریضہ کی زبان سے ان کا حال سنئے۔ مریضہ نے مجھے بتایا:
اس خیال سے کہ صبح وقت مقررہ پر میری آنکھ کھلے میں ساری رات جاگتی رہی۔ گھڑی دیکھ کر وقت مقررہ پر آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ آپ کے اندر سے میرے دماغ میں لہریں منتقل ہو رہی ہیں۔ جیسے ہی یہ لہریں میرے دماغ سے ٹکرائیں میں نے دیکھا کہ میں ایک پرانے قبرستان میں ہوں۔ وہاں دو پرانی قبروں کے درمیان ایک جگہ میں نے مٹی کھودی اور اس میں سے ایک گڑیا برآمد ہوئی۔ اس گڑیا کے سینہ پر دل کی جگہ میرا نام لکھا ہوا تھا۔ میں نے وہ گڑیا قبرستان کے کنوئیں میں ڈال دی اور اسی وقت پیٹ کا درد ختم ہو گیا۔
وقت مقررہ پر میں نے صرف یہ عمل کیا کہ اپنے خیال کی قوت سے مریضہ کو یہ بتایا کہ آپ کے اوپر جو اثر تھا وہ ختم ہو گیا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے اوپر کوئی اثر یا جادو نہیں تھا۔
قانون تخلیق کے تحت انسان تین پرت کا مجموعہ ہے۔ ایک پرت صفاتی ہے، دوسرا پرت ذاتی ہے اور تیسرا پرت ذات اور صفات کو الگ الگ کرتا ہے۔ ان ہی پرت کو ہم جسد خاکی کہتے ہیں۔
ہر پرت کے محسوسات جداگانہ ہیں۔ ذات کا پرت وہم اور خیال کو بہت قریب سے دیکھتا، سمجھتا اور محسوس کرتا ہے۔ صفات کا پرت وہم اور خیال کو تصور بنا کر جسد خاکی کو منتقل کر دیتا ہے۔ اور تصورات کو معانی کا لباس پہنا کر خوشی یا غم کا مفہوم دیتا ہے۔ اگر اس کو ایسی معلومات فراہم کی جائیں جو کسی خوبصورت باغ سے متعلق ہوں تو اس کے اندر رنگین لہریں، رنگین روشنیاں، خوشبو کے طوفان، حسن کے رجحانات رونما ہونے لگتے ہیں اور اگر ایسی معلومات فراہم کی جائیں جو کسی حادثہ سے تعلق رکھتی ہوں تو اس کے اندر رنگین روشنیوں کی بجائے تاریکی، خوشبو کی جگہ بدبو، حسن کی جگہ بدصورتی، خوشی کی جگہ غم، امید کی بجائے مایوسی اور محبت کی جگہ نفرت جیسے رجحانات رونما ہونے لگتے ہیں۔
قدرت نے جس پرت کو غیر جانبدار (Neutral) بنایا ہے اس میں دو قسم کے نقوش ہوتے ہیں۔ ایک نقش باطن جس کے اندر لطیف انوار کا ذخیرہ ہوتا ہے اور ٹائم اسپیس(Time-Space) کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ دوسرا نقش ظاہر، جس کے اندر غرض پسندی، حسد، ذہنی تعیش، احساس کمتری، کم ظرفی اور تنگ نظری جیسے جذبات تشکیل پاتے ہیں۔
اصل بات خیالات کو معنی پہنانے کی ہے۔ خیالات کو جو معنی دیئے جاتے ہیں وہ تصور سجاتا ہے اور پھر یہی تصور مظاہراتی خدوخال اختیار کر کے ہماری زندگی کی راہ متعین کرتا ہے۔ غم و اندوہ سے لبریز یا آرام و آسائش سے بھرپور۔
تصورات میں اگر پیچیدگی ہے تو یہ الجھن اضطراب اور پریشانی کا جامہ پہن لیتا ہے۔ اور جب ایسا ہوتا ہے تو نقش باطن میں خراشیں پڑ جاتی ہیں۔ یہی خراشیں اخلاقی امراض کی بنیاد ہیں۔ ان ہی خراشوں سے بے شمار امراض پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً مرگی، دماغی فتور کا عارضہ، مالیخولیا، خفقان، کینسر، بھنگندر، دق سورسل وغیرہ۔
بڑی مشکل یہ پیش آ گئی ہے کہ ہم رگ پٹھوں کی بناوٹ اور ہڈیوں کے ڈھانچہ کو انسان کہتے ہیں۔ دراصل یہ انسان وہ نہیں ہے قدرت جس کو انسان کہتی ہے۔ اس انسان کو ہم اصل انسان کا لباس کہہ سکتے ہیں۔ ہم جب مر جاتے ہیں تو ہمارے جسم میں کسی قسم کی اپنی کوئی حرکت نہیں رہتی۔ اس جسم کے ہر عضو کو کاٹ ڈالئے، پورے جسم کو گھسیٹئے، مضروب کیجئے، جب تک ہماری بنیادی خواہشات غیر آسودہ رہتی ہیں ہم مغموم رہتے ہیں۔ یہ غیر آسودگی ہمیں غیر مطمئن اور مضمحل رکھتی ہے۔ زندگی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ہم ایسی چیز کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں جس میں مسرت کا پہلو نمایاں ہو۔ چونکہ ہم غم زدہ یا پُر مسرت زندگی گزارنے کے قانون سے ناواقف ہیں اس لئے زیادہ تر یہ ہوتا ہے کہ ہم مسرت کی تلاش میں اکثر و بیشتر غلط سمت قدم بڑھاتے رہتے ہیں اور ناواقفیت کی بناء پر اپنے لئے ایسا راستہ کا انتخاب کر لیتے ہیں جس میں تاریکی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ہم جب زندگی کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بات آتی ہے کہ زندگی کے روز و شب اور ماہ و سال آدھے سے زیادہ آرزودگی اور مایوسی میں گزر جاتے ہیں۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ وہ کون سا راستہ ہے جس راستے میں مسرت کے روشن قندیل اپنی روشنی بکھیر رہے ہیں۔ ہم ناخوش اور غیر مطمئن اس لئے ہوتے ہیں کہ ہمارے اندر جو خواہش پیدا ہوتی ہے وہ غیر شعوری ہے اور ہم خواہش کے پس پردہ ضرورت سے ناواقف ہیں۔
انسان دو تقاضوں سے مرکب اور محرک ہے۔ ایک تقاضہ جبلی ہے اور ایک فطری۔ جبلی تقاضہ پر ہم بااختیار ہیں اور فطری تقاضہ پر ہمیں کسی حد تک تو اختیار حاصل ہے مگر ہم اس تقاضے کو کلیتاً رد کرنے پر قادر نہیں ہیں۔
ایک ماں اپنے بچے سے محبت کرتی ہے بچہ مر جاتا ہے۔ ماں رو دھو کر بالآخر صبر کر لیتی ہے۔ عرف عام میں ماں کی محبت کو فطری تقاضہ کہا جاتا ہے۔ اس مردہ جسم کو ایک طرف ڈال دیجئے، کچھ بھی کیجئے، جسم کی طرف سے اپنی کوئی مدافعت، کوئی حرکت عمل میں نہیں آئے گی۔ اس میں زندگی کا کوئی شائبہ کسی لمحہ بھی پیدا ہونے کا امکان نہیں ہے۔
اب ہم اسی بات کو دوسری طرح بیان کرتے ہیں:
آپ نے قمیض پہنی ہوئی ہے۔ اگر آپ یہ چاہیں کہ قمیض بذات خود جسم سے الگ بھی حرکت کرے تو یہ بات ناممکن ہے جب تک قمیض جسم کے اوپر ہے جسم کی حرکت کے ساتھ اس کے اندر بھی حرکت موجود ہے۔ اگر آستین ہاتھ کے اوپر ہے تو ہاتھ ہلانے سے آستین کا ہلنا بھی ضروری ہے۔ ہاتھ سے الگ آستین کی حرکت بعید از قیاس ہیں۔ آپ یہ چاہیں کہ ہاتھ تو حرکت کرے لیکن آستین حرکت نہ کرے، ایسا نہیں ہوتا۔ جب تک ہاتھ کے اوپر آستین ہے ہاتھ کی حرکت کے ساتھ آستین کا ہلنا ضروری ہے۔ بالکل یہی حال جسم کا ہے۔ جسم کو جب ہم لباس کہتے ہیں تو اس سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ خاکی جسم روح کا لباس ہے۔ جب تک روح(انسان) موجود ہے جسم بھی متحرک ہے۔ اور اگر روح موجود نہیں ہے تو روح کے لباس(جسم) کی حیثیت قمیض کی طرح ہے۔
ہر انسان کی یہ طبعی خواہش ہوتی ہے کہ وہ یہ جان لے کہ خیالات کیوں آتے ہیں اور کہاں سے آتے ہیں اور خیالات کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے مل کر کس طرح زندگی بنتے ہیں۔ زندگی میں خواہشات کی حیثیت کیا ہے۔ یہ بات ہمارے سامنے ہے کہ دراصل یہ تقاضہ فطری نہیں جبلی ہے۔
بھوک کا تقاضہ ابھرتا ہے۔ زندگی میں سونے اور بیدار رہنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کوئی آدمی بھوک کو رفع کرنے کے لئے خوراک میں کمی بیشی کر سکتا ہے لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کبھی کچھ نہ کھائے یا پیاس کا تقاضہ پورا کرنے کے لئے پانی نہ پئے یا ساری عمر جاگتا رہے یا ساری عمر سوتا رہے۔ ماں کی محبت کو اگر فطری جذبہ قرار دیا جائے تو ماں بچے کی جدائی کے غم میں بچہ کے ساتھ مر جائے گی یا بچہ کی یاد اس کے حواس کا شیرازہ بکھیر دے گی لیکن ایسا نہیں ہوتا۔


========================================================================
یہ اس ماہ کے ڈائجسٹ کے محض چند تعارفی صفحات ہیں۔

کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت اس ڈائجسٹ کے مضامین  بلا اجازت شائع نہیں کیے جاسکتے۔

 مضمون کا کوئی حصہ کسی کتاب میں شامل یا انٹر نیٹ پر شئیر کرتے ہوئے روحانی ڈائجسٹ کا حوالہ ضرور تحریر کریں۔  
========================================================================

Like us On Facebook

Powr