Breaking

مارچ 1979ء

Views
روحانی ڈائجسٹ مارچ 1979ء  کا سرورق


روحانی ڈائجسٹ مارچ 1979ء (بمطابق ربیع الثانی 1399ھ)۔۔۔۔۔  کا شمارہ دربارِ رسالتمآبﷺ میں وزیرِ حضوری کے مرتبے پر فائز المرام سیدنا محی الدین عبدالقادر جیلانی  ؒ کے عرس مبارک کی مناسبت سے آپؒ کی روحانی سائنس، خطبات، تصرفات اور کرامات کے تذکروں سے آراستہ تھا۔ سرورق پر حضرت غوث پاکؒ کے مزار مبارک کا اندرونی منظر پیش کیا گیا ہے۔
اس شمارے کے آغاز میں سورئہ رحمن کی چند آیات شائع کی گئی ہیں۔ اس کے بعد خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزّہراؓ کی کہی ہوئی نعت کا ترجمہ ہے۔ عربی سے اردو میں یہ ترجمہ سید حسن مثنیٰ ندوی نے تحریر کیا۔ اگلے صفحات پر رباعیاتِ قلندر بابا اولیائؒ پیش کی گئی ہیں۔ چیف ایڈیٹر روحانی ڈائجسٹ خواجہ شمس الدین عظیمی کا اداریہ ’’آوازِ دوست‘‘ حضور قلندر بابا اولیائؒ کے وصال کے بعد آپ کے قلب و ذہن پر گزرنے والی کیفیات کا آئینہ دار ہے۔ ’’تاثرات‘‘ بھی قارئین کرام کے اُن خطوط پر مشتمل ہیں جو قلندر بابا اولیائؒ کی رحلت کی خبر پڑھنے کے بعد رنج و غم کے ساتھ تحریر کئے گئے۔۔۔۔۔
شیخ المشائخ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی  ؒ پر شائع کئے جانے والے خصوصی مضامین میں جاوید احمد کی تحریر بعنوان ’’سراپا۔ پیرانِ پیر دستگیرؒ‘‘۔۔۔۔۔ غوث پاکؒ کی کرامات کی روحانی توجیہہ ’’غوث پاک کی کرامات‘‘۔۔۔۔۔۔غوث الاعظمؒ کے ارشادات سے مزیّن محمد امین شرقپوری کی تحریر ’’زبانِ قدرت‘‘۔۔۔۔۔ محمد حمید اختر قادری کا مضمون ’’گیارہویں شریف کی حقیقت‘‘ اور ’’قصیدئہ غوثیہ‘‘ جس کا ترجمہ حضرت ابو الفیض قلندر علی سہروردیؒ نے تحریر کیا، بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے پیر صاحبؒ کی شان میں منقبت اور آپؒ کے ارشادات وغیرہ پر مشتمل تراشے بھی شائع کئے گئے۔۔۔۔۔
اِن خصوصی مضامین کے علاوہ بدرالاسلام کی تحریر کردہ کہانی ’’سندھ رانی‘‘ اور تفسیر فاروقی کا مضمون ’’خاموشی طاقت کا سرچشمہ‘‘ بھی لائقِ مطالعہ ہے۔ صحت و غذا کے موضوع پر حکیم ظریف احمد قریشی کا مضمون ’’ہماری غذا اور تین کروڑ غدود‘‘ اور نسیم احمد کی تحریر ’’شہد‘‘ مفید عام تحریریں ہیں۔ اسی شمارے میں حضرت ابراہیم بن ادھمؒ کے تذکرے پر مبنی سلسلہ وار مضمون کا آخری حصّہ بھی پیش کیا گیا جسے سہیل احمد نے تحریر کیا۔ قسط وار مضامین میں قلندر با با اولیائؒ کی شہرئہ آفاق تصنیف ’’لوح و قلم‘‘ اور صادق الاسرار کی تحریر قسط وار کہانی ’’پراسرار ہیولا‘‘ کی چوتھی قسط شائع ہوئی۔ مستقل مضامین میں خواجہ شمس الدین عظیمی کے مضامین ’’خواب اور تعبیر‘‘ لاعلاج امراض اور پیچیدہ نفسیاتی و روحانی مسائل کے حل پر مبنی کالم ’’آپ کے مسائل‘‘ اور احمد جمال کا مرتب کردہ ’’محفلِ مراقبہ‘‘ بھی شمارے کی زینت ہیں۔

========================================================================
مضامینلکھاریموضوع
حمد---اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے
نعتسیدہ فاطمۃ الزہرا ؓخاتونِ جنتؓ کا ہدیہ عقیدت
رباعیاتقلندر بابا اولیاءاس جام میں آسماں زمیں دونوں ہیں
آوازِ دوستمدیر اعلٰی---
تاثراتقارئین کرامقارئین کے خطوط سے اقتباس
سراپا پیرانِ پیر دستگیرجاوید احمدغوث الاعظم اور خواب میں بشارت
غوث پاک کی کراماتادارہکرامات صادر ہونے کا قانون
زبانِ قدرتمحمد امین شرقپوریمخلص بندے وہی چاہتے ہیں جو اللہ چاہتا ہے
گیارہویں شریف کی حقیقت محمد حمید اختر قادریکیر و برکت کی دعا
قصیدہ غوثیہابو الفیض قلندر علی سہروردی ؒیہ راز بتایا جائے تو مردہ زندہ ہوجائے گا۔
سندھ رانیبدر الاسلامآنسو جاری ہوئے اور دعا قبول ہوگئی
شہد نسیم احمد عظیمیشہد ہر مرض کا علاج ہے
لوح و قلمقلندر بابا اولیاءکائنات کے سربستہ راز
ہماری غذا حکیم ظریف احمد قریشیمعدہ سے اس کی کہانی سُنیے
محفلِ مراقبہاحمد جمال عظیمیمرید ہونا کیوں ضروری ہوتا ہے
ابراہیم ادھم ؒسہیل احمدمرد قلندر نے قہقہہ لگایا اور کہا۔۔۔۔۔
خواب کی تعبیرخواجہ شمس الدین عظیمیخواب کی تعبیر سے مستقبل کا انکشاف
خاموشی تفسیر فاروقیخاموشی ظاقت کا سرچشمہ
پراسرار ہیولا (4)صادق الاسرارانسان کے اوپر لپٹے ہوئے تین پرت کی کہانی
آپ کے مسائلخواجہ شمس الدین عظیمیالجھنوں  کا روحانی نفسیاتی حل
========================================================================

مارچ 1979ء  کے شمارے سے چند منتخب مضامین

========================================================================

حمد

بنایا آدمی کھنکھناتی مٹی سے جیسے ٹھیکرا،(14) ۔
 اور بنایا جان (جن کو) آگ کی لپٹ سے(15) ۔
پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے؟(16) ۔
دونوں  مشرقوں اور دونوں مغرب کا مالک و پروردگار وہی ہے(17) ۔
پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے؟(18) ۔
چلائے دو دریا ملئے ہوئے(19) ۔
پھر بھی ان میں ایک پردہ حائل ہے(20) ۔
پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے؟(21) ۔
 نکلتا ہے اُن سے موتی اور مونگا۔(22) ۔
 پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے؟(23) ۔

(سورۂ رحمٰن ۔ پارہ 27) 

========================================================================

نعت

جس نے ایک مرتبہ بھی خاک پائے احمد مجتبی سونگھ لی
تعجب کیا ہے اگروہ ساری عمر کوئي اور خوشبو نہ سونگھے
(حضور کی جدائی میں) وہ مصیبتیں مجھ پر ٹوٹی ہیں کہ اگر
یہ مصیبتیں "دنوں" پر ٹوٹتیں تو دن "راتوں" میں تبدیل ہوجاتے

آسمان کی پہنائیاں غبار آلود ہوگئیں اور لپیٹ دیا گیا
دن کا سورج اور تاریک ہوگیا سارا زمانہ
اور زمین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مبتلائے درد ہے
ان کے غم میں ڈوبی ہوئی سراپا

اب آنسو بہائے مشرق بھی اور مغرب بھی ان کی جدائی پر
فخر تو صرف ان کے لیے ہے جن پر روشنیاں چمکیں
اے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ برکت و سعادت کی جوئے فیض ہیں
آپ پر تو قرآن نازل کرنے والے نے بھی درود و سلام بھیجا ہے —

(خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃ الزہرا ؓ)
ترجمہ : سید حسن مثنیٰ ندوی
========================================================================

رباعیات

دُنیا نے تو کر دیا مجھے خانہ خراب
ساقی نے کرم کیا دیا جامِ شراب
اِس جام میں آسماں زمیں دونوں ہیں
اِس جام میں دو جہاں ہیں طاق و محراب
--
مئے خانہ کے اندر ہیں سبھی مست و خراب
مٹی کی صُراحی بھی ہے غرقِ مئے ناب
مئے خوارَوں کے کیا دماغ ہیں مت پوچھو
جام سرِ جمشید میں پیتے ہیں شراب
--
مئے خانہ کے گوشے سے نمایاں مہتاب
سایہ میں خُم و سبُو کے میکش ہیں خراب
ساغر میں نظر آتا ہے سارا عالم
معلوم یہ ہوتا ہے کی ہستی ہے شراب
--
خانے ہیں دماغ کے وہ خالی ہیں سب
چیزیں جو نظر آتی ہیں جعلی ہیں سب
ہرَ لمحہ بدلتا ہے جہاں کا منظر
نظّارے بھی آنکھوں کے خیالی ہیں سب
----
========================================================================

آوازِ دوست


79؁ء شمسی سال کے پہلے مہینے اور اس ماہ کی 27 تاریخ کو چشمِ ظاہر سے ایک ایسا آفتاب غروب ہوگیا جو صدیوں میں طلوع ہوتا ہے اور اُس کی کرنیں زمین و آسمان کو محیط ہوتی ہیں۔ ایک ایسی ہستی نے پردہ فرمالیا جس کی دعائوں کے طفیل قضا و قدر کے فیصلے تبدیل ہوجاتے ہیں۔ بارانِ رحمت کا نزول ہوتا ہے، مخلوق کی مصیبتیں اور پریشانیاں دُور کی جاتی ہیں۔
ممثّلِ کلیات، ابدالِ حق، حضور قلندر بابا اولیائؒ ’’کُل نفس ذائقۃ الموت‘‘ کے مصداق عالمِ ناسوت سے ’’عالمِ حضور‘‘ میں تشریف لے گئے۔ جسمانی مفارقت کے اِس مظہر نے دل کی دنیا  زیر  و  زبر کردی۔ عقل و شعور کی رنگین بساط پر اندھیرا چھاگیا۔ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں جینے کا یا را نہ رہا، شعور مغلوب اور لاشعور غالب آگیا۔ ساری صلاحیتیں ایک نقطہ پر مرکوز ہوگئیں کہ یہ دنیا بے ثبات ہے۔ اِس آب و گل کے ناپائیدار عالم سے اُس عالمِ غیر متغّیر میں منتقل ہوجانا چاہئے جہاں انسان ٹائم اسپیس کی قید سے آزاد ہے۔
بارے اِس حال زار پر میرے مرشد کریم قلندر بابا اولیائؒ کو رحم آیا اور چشم نابینا کو بینائی عطا ہوئی۔ مسکینِ بے نوا پر فنا و بقا کا سربستہ راز منکشف ہوا تو مضطر و بے چین روح کو قرار اور دلِ حزیں کو سکون و طمانیت کی دولت نصیب ہوئی۔
اﷲ کے دوست، مشیّت سے آشنا، عارفِ تجلّیٔ  ذات حضرت قلندر بابا اولیائؒ کی رحلت کی خبر سے غم و اندوہ کی ایک لہر دوڑ گئی۔ عقیدت مند حضرات نے ٹیلیفون، ٹیلیگرام اور خطوط کے ذریعہ اظہارِ رنج و ملال کیا۔ حضرت قبلہؒ کا فیض جاری رہنے کی دعائیں کیں۔ فرداً فرداًتمام خطوط کے جواب لکھنا بجائے خود ایک کام ہے، بدیں وجہ آپ کے اپنے روحانی ڈائجسٹ کے وسیلہ سے میں جملہ متعلقین، مریدین اور عقیدت مند حضرات کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میری دعا ہے اﷲتعالیٰ آپ سب حضرات کو دین و دنیا کی ساری نعمتیں عطا کریں۔
خواہش ہے کہ روحانی ڈائجسٹ ایک ایسی دستاویز بن جائے جس کے ذریعہ ہم اور ہماری نسلیں مقصدِ حیات سے متعارف ہوجائیں۔ وہ مقصدِ حیات جس کو فراموش کرکے ہم نے من حیث القوم دنیا میں اپنا اقتدار کھودیا اور ہمارا شمار اُن قوموں میں ہونے لگا جن کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے، جو دوسروں کی محتاج اور دستِ نگر ہے جبکہ اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے ’’سماوات اور ارض میں جو کچھ ہے وہ سب کا سب تمہارے لئے مسخر کردیا گیا ہے‘‘۔
چودہ سو سال پہلے کے زمانے اور اس زمانے کو دیکھا جائے تو اندھیروں میں بھٹکنے کے سوا کوئی روشنی نظر نہیں آتی۔ ایسا کیوں ہے؟۔۔۔۔۔۔ اس لئے کہ ہم زبانی دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو تہی دامن ہوجاتے ہیں۔
ذہنی یکسوئی حاصل کرنے کے لئے ٹیلی پیتھی کی مشقوں سے نہایت مفید نتائج مرتب ہوئے ہیں۔ اپریل 79ء کے شمارہ سے ٹیلی پیتھی کی مشقیں شائع کرنے کا پروگرام ترتیب دیا گیا ہے تاکہ پریشان حال لوگ اپنی مدد آپ کے اصول پر  سکون و راحت کی دولت سے مالا مال ہوسکیں، بیماریوں اور مصائب کے ہجوم سے خود کو آزاد کرسکیں۔ آپ کی دعائیں میرا سرمایۂ حیات ہے۔ درخواست ہے کہ کامیابی کی دعا کریں۔

دعاگو۔۔۔۔
خواجہ شمس الدین عظیمی

========================================================================

تاثرات

حضرت بابا صاحبؒ کے انتقال پُرملال سے روح بھی بے چین ہوگئی ہے۔ میں آپ کی پریشانی کے خیال سے کچھ اور بھی پریشا ن ہوگیا ہوں، آپ کو جو اُن سے تعلق تھا مجھے کسی حد تک اُس کا اندازہ ہے۔ آپ کے اضطراب کا بھی خیال ہے۔ اﷲ تعالیٰ آپ کو ہمت و استقامت دے اور اِس صدمے کو جھیلنے کی توفیق دے۔ بس یہ خیال فرمائیے کہ ہم جیسے لاکھوں لوگ اب اور بھی شدت سے آپ کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ حضور بابا صاحبؒ کے بعد اب آپ ہی ہمارا سہارا ہیں۔ خداوند کریم آپ کو سلامت و شاداں رکھے۔ آمین
(اظہر جاوید۔ لاہور)

آپ کے روحانی باپ، دینی پیشوا، روحانی کرم فرما حضرت قلندر بابا اولیائؒ کی وفاتِ حسرت آیات سے اتنا صدمہ ہوا کہ دماغ مائوف ہوگیا۔ سوچتا ہوں کہ آپ کا کیا حال ہوا ہوگا کیونکہ میں جانتا ہوں، اُن سے آپ کا تعلق روح اور جسم کا تھا۔ دعا ہے اﷲتعالیٰ آپ کو صبر دیں اور آپ کے ذریعہ اُن کا روحانی فیض جاری رہے۔ آمین
(عبدالخالق عفی عنہٗ۔ ادارہ فیض الکتابت۔ کراچی)

آپ کے پیرومرشد اعلیٰ حضرت عارف باﷲ نور اﷲ مرقدہٗ کی وفاتِ حسرت آیات کا سُن کر بہت افسوس ہوا۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ حضور قلندر بابا اولیائؒ پر اپنی رحمتوں کا مزید نزول فرمائے اور ان کے لواحقین و پسماندگان، مریدین و معتقدین کو صبر عطا کرے۔ بے شک اﷲ صبر کرنے والوں کے ہمراہ ہے۔ انشاء اﷲ الرحمن مستقبل قریب میں جب بھی کراچی آنے کا اتفاق ہوا مرقد انوار پر ضرور حاضری دوں گا۔
(کریم جی شہزاد۔ ٹھٹھہ)

روحانی ڈائجسٹ کے شمارہ فروری میں اعلیٰ حضرت قلندر بابا اولیائؒ کی رحلت کی خبر پڑھ کر اَزحد دُکھ ہوا ہے۔ آج پہلی مرتبہ یہ محسوس ہوا کہ ہم اس فانی دنیا میں تنہا رہ گئے ہیں۔ اناﷲ وانا الیہ راجعونo
(دعا کا طالب۔ عبدالرشید۔ اسٹیشن روڈ۔ حیدرآباد)

روحانی ڈائجسٹ کے سرپرستِ اعلیٰ حضور قلندر بابا اولیائؒ عالمِ بالا میں تشریف لے گئے۔ یہ خبر پڑھ کر دل کی حرکت اتنی زیادہ ہوگئی کہ معلوم ہوتا تھا میرا بھی دمِ آخر ہے۔ ہر طرف سے مایوس، پریشان اور نامراد یہ گناہگار جب حضرتؒ کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوا تو اُنہوں نے فرمایا تھا ’’آج کے بعد تمہاری پریشانیوں کا دَور ختم ہوگیا‘‘۔ میں نے اِن محبت بھرے الفاظ میں خدا کی قدرت کا مشاہدہ کیا اور میں آج بالکل مطمئن اور پُرمسرت زندگی گزار رہا ہوں۔ اﷲ تعالیٰ کا یہ ارشاد ’’میں اپنے بندوں کو دوست رکھتا ہوں اور میں اُن کے کان، آنکھ اور زبان بن جاتا ہوں۔ پھر وہ میرے ذریعہ سنتے ہیں، میرے ذریعہ بولتے ہیں اور میرے ذریعہ چیزیں پکڑتے ہیں‘‘۔۔۔۔۔ جب مجھے یاد آتا ہے تو حضرت قلندر بابا اولیائؒ کی شبیہہ مبارک میری آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ ہم سب گھر والوں نے قرآن خوانی کے بعد حضرتؒ کی روح پُرفتوح کو ایصال ثواب کیا تو رات کے وقت گھر کے دو افراد کو اُن کی زیارت نصیب ہوئی۔
ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است برجریدئہ عالم دوامِ ما
(ایک عقیدت مند۔ ناظم آباد، کراچی)

روحانی ڈائجسٹ کے مضامین حسنِ ترتیب اور لطافتِ فکر کا مجموعہ ہیں۔ میں نے پہلی ہی نشست میں پورے رسالے کو پڑھ ڈالا۔ قلندر بابا اولیائؒ کی رباعیات ڈائجسٹ کی ابتداء میں قاری کو کیف وجد میں غرق کردیتی ہیں۔ واردات کے عنوان سے جو مضمون پیش کیا گیا ہے وہ روحانی واردات اور نفسی کیفیات کا پُرلطف مجموعہ ہے۔ عالمِ رویا (لوح و قلم) کے اسرار و رموز پر صاحبِ مضمون نے نہایت خوبی سے روشنی ڈالی ہے۔ روحانی ڈائجسٹ میں روحانی نقطۂ نظر سے امراض کے اسباب و علاج پر بھی عالمانہ گفتگو کی گئی ہے۔ مختصر یہ ہے کہ اس خوبصورت ادبی مجموعے میں وہ سب کچھ ہے جس سے ایک طالبِ معرفت کی ہر پہلو سے تشفی ہوتی ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ موجودہ ڈائجسٹوں میں روحانی ڈائجسٹ اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفرد ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ ناصرف محرمانِ راز بلکہ طالبانِ حقیقت کے لئے ہر اعتبار سے اس ڈائجسٹ کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا۔
(رئیس امروہوی۔ کراچی)

روحانی ڈائجسٹ پڑھا اور بے حد متاثر ہوا۔ اس سے پہلے اب تک اس معیار کا رسالہ میری نظر سے نہیں گزرا۔ مادّہ پرستی کے اِس جنگل میں روحانیت کی روشنی بہت قیمتی ہے۔ بلاشبہ آج کے دَور میں آپ جیسی صاحبِ علم و باطن ہستیوں کا وجود رب العالمین کی دین ہے۔ کراچی کا پھیرا ہوا تو ضرور نیاز حاصل کروں گا۔ حضرت قلندر بابا اولیائؒ کی نثری اور شعری تصانیف کے مطالعے کا اشتیاق رکھتا ہوں۔ ہوسکے تو زحمتِ ارسال فرمائیں۔ تذکرہ تاج الدین بابا اولیائؒ سے بھی محروم نہ رکھئے۔ میرا قلمی تعاون اور قلبی دعائیں روحانی ڈائجسٹ کے لئے حاضر ہیں۔
(مظفرؔ وارثی۔ لاہور)

آپ نے بڑے نیک جذبے کے ساتھ اس کارِ خیر کا بیڑا اُٹھایا ہے۔ دعا ہے اﷲ پاک آپ کو اس مشن میں کامیابی عطا فرمائے۔
(لیفٹیننٹ کرنل غلام سرور۔ راولپنڈی کینٹ)

رسالہ ہٰذا کے لئے میری قلیل عقل میں یہ تجویز ہے کہ ڈائجسٹ کا اجراء اگر شمسی مہینے کے بجائے، قمری مہینے کے مطابق ہو تو ہمیں شدت سے چاند کا انتظار رہے گا اور میرا خیال ہے کہ ہر قاری چاند کو دیکھ کر رسالے کو یاد کیا کرے گا۔ یہ آج کل کے مہینوں میں بے حد ممکن ہے کیونکہ شمسی و قمری مہینے برابر ہی جارہے ہیں۔ اگر آپ اِسے ناممکن سمجھتے ہیں تو رسالے کے ایک صفحے پر عیسوی اور دوسرے صفحے پر ہجری بھی ممکن ہے۔ جناب حضرت قلندر بابا اولیائؒ کی رحلت سے دلی صدمہ ہوا ہے۔ ہم خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اُنہیں اور زیادہ اعلیٰ مقام عطافرمائیں اور لواحقین کو صبرِجمیل عطا کریں۔
(م۔ص۔ ایمن۔ ڈرگ روڈ، کراچی)

روحانی ڈائجسٹ پڑھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ اس سے لوگوں کے بہت سے مسائل حل ہوں گے۔ اﷲ کا شکر ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے دم سے اﷲ کی مخلوق کے مسائل کا حل نکل آیا ہے۔ آپ ڈائجسٹ کو تھوڑا سا اور دلچسپ بنائیں تاکہ پڑھنے والے بور نہ ہوں اُمید ہے آپ  اِس کے لئے کچھ کریں گے۔
(عبدالرئوف)

سالِ نوکا پہلا شمارہ نظر سے گزرا۔ دیدہ زیب سرورق اور تصوف و روحانیت سے بھرپور شمارہ اپنے اندر علم و دانش کے لامحدود موتی سموئے ہوئے ہے۔ اہلِ ذوق اور اہلِ نظر کے لئے آج کل کے مادّی دور میں یہ ایک حقیقت پسندانہ اور تعمیری کاوش ہے۔ خدا کرے آپ کی اسلام اور مذہب کے لئے کوششیں کامیاب رہیں اور یہ جریدہ ترقی کی مزید منازل طے کرے۔ آمین
(محمد اسلم۔ کالج آف انجینئرنگ، ٹیکسلا)

اسے میری خوش قسمتی کہئے کہ میں سیہون شریف میں ڈاکٹر عبدالقادر صاحب سے ملی اور وہیں پر آپ کے رسالے سے تعارف حاصل ہوا۔ رسالے کو دیکھ کر ہی آپ کے حسنِ ذوق اور اپنی خوش قسمتی کا یقین آتا ہے۔ میں ایک لڑکی ہوں اور میری عمر ابھی سترہ سال ہے مگر عظیمی صاحب آپ یقین کریں آپ کا رسالہ پڑھ کر کچھ اور ہی کیفیت ہوجاتی ہے۔ مجھے آپ سے ملنے اور آپ کے دیدار کا بے حد شوق ہے۔ میری دلی خواہش ہے کہ میں آپ سے شرفِ ملاقات حاصل کروں۔
(سیدہ عاصمہ بخاری)

========================================================================

لوح و قلم


تدلیّٰ کا علم 


تدلیّٰ کا علم رکھنے والا کوئی انسان جب الم پڑھتا ہے تو اس پر وہ تمام اسرار و رموز منکشف ہو جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ میں بیان فرمائے ہیں۔ الم کے ذریعے صاحب شہود پر وہ اسرار منکشف ہو جاتے ہیں جو موجودات کی رگ جاں ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی اس صفت تدلّٰی کو دیکھ لیتا ہے جو کائنات کے ہر ذرے کی روح میں بشکل تجّلی پیوست ہے۔ کوئی اہل شہود جب کسی فرد کے لطیفۂ خفی میں الم لکھا دیکھتا ہے تو یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس نقطے میں صفت تدلّٰی کی روشنیاں جذب ہیں۔ یہی روشنیاں ازل سے ابد تک کے تمام واقعات کا انکشاف کرتی ہیں۔ لطیفۂ خفی کے باطن کا انکشاف لطیفۂ اخفیٰ کا انکشاف ہے اور دونوں لطیفوں کا اجتماعی نام روح اعظم یا ثابتہ ہے۔
اگر ہم ثابتہ کو ایک نقطہ یا ایک ورق فرض کر لیں تو اس ورق کا ایک صفحہ لطیفۂ اخفیٰ اور دوسرا صفحہ لطیفۂ خفی ہو گا۔ فی الواقع لطیفۂ خفی نوری تحریر کی ایک مختصر شکل(SHORT FORM) ہے جس کو پڑھنے کے بعد کوئی صاحب اسرار اس کے پورے مفہوم سے مطلع ہو جاتا ہے۔ اس مفہوم کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ مختصر ہے کیونکہ SHORT FORMہونے کے باوجود وہ اپنی جگہ کسی فرد کی پیدائش سے متعلق اللہ تعالیٰ کی تمام مصلحتوں کی تشریح ہوتا ہے۔ اس ہی چیز کو اسرار کی اصطلاح میں اسماء یا علم قلم کہا جاتا ہے۔ یہ علم دو حصوں پر مشتمل ہے۔
پہلا حصہ: اسمائے الٰہیہ
دوسرا حصہ: علم حروف مقطعات

اسمائے الٰہیہ

الفاظ معانی
اﷲ
رَحْمٰنُ بہت بخشنے والا
رَحِیْمُ بہت رحم والا
اَلْمَلِکُ شہنشاہ
قُدُّوْسُ بزرگ تر
سَلَامُ سلامت رکھنے والا
مُوْمِنُ امن دینے والا
مُھَیْمِنُ نگہبان
عَزِیْزُ غالب
جَبَّارُ زبردست
مُتَکَبِّرُ بڑائی والا
خَالِقُ پیدا کرنے والا
بَارِیءُ سب کا پیدا کنندہ
مُصَوِّرُ صورت گر
غَفَّارُ گناہ بخشنے والا
قَھَّارُ سب پر غالب
وَھَّابُ بہت دینے والا
رَزَّاقُ روزی دینے والا
فَتَّاحُ کھولنے والا
عَلِیْمُ جاننے والا
قَابِضُ قبضہ رکھنے والا
بَاسِطُ فراخ کرنے والا
خَافِضُ پست کرنے والا
رَافِعُ بلند کرنے والا
مُعِزُّ عزت دینے والا
مُذِلُّ خوار کرنے والا
سَمِیْعُ سننے والا
بَصِیْرُ دیکھنے والا
حَکَمُ حکم کرنے والا
عَدْلُ انصاف کرنے والا
لَطِیْفُ باریک بیں
خَبِیْرُ خبردار
حَلِیْمُ بُردبار
عَظِیْمُ بزرگ تر
غَفُوْرُ بخشش کا مالک
شَکُوْرُ قدرداں
عَلِیُّ بلند مرتبہ والا
کَبِیْرُ سب سے بڑا
حَفِیْظُ نگاہ رکھنے والا
مُقِیْتُ قوت دینے والا
حَسِیْبُ حساب والا
جَلِیْلُ بزرگ قدر
کَرِیْمُ کرم کرنے والا
رَقِیْبُ واقف کار
مُجِیْبُ قبول کرنے والا
وَاسِعُ بہت دینے والا
حَکِیْمُ استوارکار
وَدُوْدُ دوست رکھنے والا
مَجِیْدُ بزرگ
بَاعِثُ اٹھانے والا
شَھِیْدُ حاضر
حَقُّ ثابت
وَکِیْلُ کارساز
قَوِیُّ قوت والا
مَتِیْنُ مضبوط
وَلِیُّ دوست
حَمِیْدُ حمد والا
مُحْصِیْ گھیرنے والا
مُبْدِیءُ ابتدا بخشنے والا
مُعِیْدُ انتہا والا
مُحْیِیُ جلانے والا
مُمِیْتُ مارنے والا
حَیُّ قائم
قَیُّوْمُ قائم رہنے والا
وَاجِدُ پانے والا
مَاجِدُ بزرگی والا
وَاحِدُ یکتا
اَحَدُ ایک
صَمَدُ بے نیاز
قَادِرُ قدرت والا
مَعْبُوْدُ جس کی عبادت کی جائے
مُقْتَدِرُ قدرت ظاہر کرنے والا
مُقَدِّمُ آگے والا
مؤخِّر پیچھے والا
اَوَّلُ پہلا
اٰخِرُ پچھلا
ظَاھِرُ واضح
بَاطِنُ خیال سے پوشیدہ
وَالِیْ کام بنانے والا
مُتَعَالِیْ بہت اعلیٰ
مُنْتَقِمُ صاحب انتقام
تَوَّابُ توبہ قبول کرنے والا
رَءُوفُ مہربان
عَفُوُّ معاف کرنے والا
مَالِکَ الْمُلْکِ دو جہان کا مالک
ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامُ صاحب بڑی بخشش و کرم والا
مُقْسِطُ انصاف کرنے والا
جَامِعُ جمع کرنے والا
مُغْنِیُّ بے پرواہ کرنے والا
غَنِیُّ بے پرواہ
ضَارُّ ضرر دینے والا
مَانِعُ باز رکھنے والا
نُوْرُ روشن
نَافِعُ نفع دینے والا
بَدِیْعُ بے نمونہ پیدا کنندہ
ھَادِیْ راہ دکھانے والا
رَاشِدُ جہان کا رہنما
بَاقِیْ ہمیشہ رہنے والا
مُنْعِمُ نعمت عطا کرنے والا
صَبُوْرُ بُردبار
شَافِیْ شفا دینے والا
رَبُّ پرورش کنندہ
کَلِیْمُ گفتگو کرنے والا
کَافِیْ ہر امر میں کفایت کرنیوالا
خَلِیْلُ دوست
حَاکِمُ حکومت کرنے والا
رَفِیْعُ بلندی والا
عَالِمُ علم رکھنے والا
نَذِیْرُ ڈرانے والا
بَشِیْرُ خوشخبری دینے والا
حَافِظُ حفاظت کرنے والا
نَاصِرُ مدد دینے والا
مُخْتَارُ اختیار رکھنے والا
قَاسِمُ بانٹنے والا
عَادِلُ عدل کرنے والا
بُرْھَانُ دلیل
مُحْسِنُ احسان کرنیوالا
رَشِیْدُ ہدایت دینے والا
مُنِیْرُ روشن کرنے والا
مَشِیْرُ مشورہ دینے والا
اَلْوَاقِعُ قائم
اَلْرَفِیْعُ بھاری بھر کم
اَمِیْنُ امانت دار
صَادِقُ سچا
جَوَّادُ بہت سخی فیاض
طَیِّبُ پاکیزہ
طَاھِرُ پاک،مقدس
اَلْقُدُّوْسُ ہر نقص سے پاک
کَامِلُ غیر ناقص
صُبَّوْحُٗ پاک
مَحْمُوْدُٗ بہت قابل تعریف
حَامِدُٗ تعریف کرنے والا
شَاھِدُ حاضر
رَاشِدُٗ ہدیات بخشنے والا

========================================================================

========================================================================
یہ اس ماہ کے ڈائجسٹ کے محض چند تعارفی صفحات ہیں۔

کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت اس ڈائجسٹ کے مضامین  بلا اجازت شائع نہیں کیے جاسکتے۔

 مضمون کا کوئی حصہ کسی کتاب میں شامل یا انٹر نیٹ پر شئیر کرتے ہوئے روحانی ڈائجسٹ کا حوالہ ضرور تحریر کریں۔  
========================================================================


Like us On Facebook

Powr