Breaking

فروری 1979ء

Views
روحانی ڈائجسٹ فروری 1979ء  کا سرورق



روحانی ڈائجسٹ فروری 1979ء (بمطابق ربیع الاول 1399ھ)۔۔۔۔۔  یہ روحانی ڈائجسٹ کا تیسرا  اور حضور قلندر بابا اولیائؒ کی جسمانی حیات میں شائع ہونے والا آخری شمارہ تھا۔ 27 جنوری 1979ء کو جبکہ روحانی ڈائجسٹ کا یہ شمارہ چھپ کر تیار ہوچکا تھا تو ٹائٹل کی چھپائی ہنگامی طور پر رُکوا کر دوسرے صفحے پر حضور قلندر بابا اولیائؒ کے وصال کی خبر شائع کی گئی۔۔۔۔۔
جامع مسجد آرام باغ، کراچی پر چراغاں کا ایک خوبصورت منظر ٹائٹل کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔۔۔۔۔ اس شمارے کی ابتداء حضرت امیر مینائیؔ کی مشہور حمد ’’تری شان جلّ جلالہٗ‘‘ سے ہوئی۔۔۔۔۔علامہ اقبالؒ کی ’’نعت‘‘ اور حضور قلندر بابا اولیائؒ کی ’’رباعیات‘‘ کے بعد خواجہ شمس الدین عظیمی کا اداریہ ’’آواز دوست‘‘ اور قارئین کے خطوط پر مبنی سلسلہ ’’تاثرات‘‘ شائع ہوا۔۔۔ ماہِ مبارک ربیع الاول کی مناسبت سے سیرت نبویﷺ پر چند خصوصی مضامین شمارے کی زینت بنے ہیں جن میں قرآنی آیات اور حضور اکرمﷺ کی حیاتِ مبارکہ زندگی پر آنریری کیپٹن احمد خان کی تحریر ’’انسانِ کامل‘‘، سہیل احمد کا مضمون ’’مکتوباتِ نبویؐ‘‘ جو نجاشیٔ حبشہ کے نام حضور اکرمﷺ کے مکتوب سے متعلق تھا۔ رسول اﷲﷺ کا جیتا جاگتا معجزئہ قرآن اور دیگر معجزات پر عبدالکریم عابد کی تحریر ’’معجزات‘‘ اور نبی کریمﷺ کے وصال کی خبر پر غایت و بے بسی سے نڈھال اصحابِ رسولؐ کی کیفیات پر جاوید احمد کی کاوش ’’حضورﷺ کا وقتِ آخر‘‘ شائع ہوئی۔ اس کے علاوہ ارشاداتِ نبویؐ، سرورِ کائناتؐ اور دیگر صحابہ کرامؓ کے اقوال، حضورﷺ کے خدام، بزرگانِ دین کے واقعات کے ساتھ نعت بھی شائع کی گئی۔ ہندوستان کے شہر بھٹنڈہ میں شق العمر کا معجزہ دیکھنے والے رسول اﷲﷺ کے صحابی حضرت بابا رتنؓ کے حالات زندگی پر مضمون ’’بابا رتنؓ‘‘ شائع ہوا۔ عورت پر ہولناک مظالم کی داستان جسے سجاد احمد صدیقی نے مرتب کیا ’’اسلام اور عورت‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ حضرت ادھمؒ اور حضرت ابراہیم بن ادھمؒ کے حالاتِ زندگی پر نسیم احمد کی تحریر کا پہلا حصہ ’’حضرت ادھمؒ‘‘ شائع ہوا۔ جس میں فقیر منش درویش حضرت ادھمؒ کے ساتھ بلخ کی شہزادی کی شادی کی حیرت انگیز داستان لکھی گئی ہے۔ اُمہات المومنین کے ضمن میں حضرت عائشہؓ اور حضورﷺ کی ازدواجی زندگی کے بصیرت افروز  واقعات پر شیخ محمد زبیر کا مضمون ’’حضرت عائشہ صدیقہؓ‘‘ شائع ہوا۔ مستقل سلسلہ وار مضامین میں قارئین کی مشکلات اور اُلجھنوں کے حل پر مبنی سلسلہ ’’آپ کے مسائل‘‘، خواب میں مستقبل کے انکشاف پر ’’خواب کی تعبیر‘‘، روحانی محافل کی روئداد ’’محفلِ مراقبہ‘‘ اور  روحانی کیفیات پر مشتمل ’’واردات‘‘ کے علاوہ قسط وار سلسلوں میں صادق الاسرار کی تحریر کردہ کہانی ’’پُراسرار ہیولا‘‘ اور حضور قلندر بابا اولیائؒ کی کتاب لوح و قلم کی تیسری قسط پیش کی گئی۔ 

========================================================================
مضامینلکھاریموضوع
حمدامیر مینائی---
نعتعلامہ اقبال---
رباعیاتقلندر بابا اولیاء---
آوازِ دوستایڈیٹر---
تاثرات قارئین ---
انسانِ کامل آرنیری کیپٹن احمد خان قرآنی آیات اور حضور اکرم ﷺ کی زندگی
مکتوباتِ نبویﷺ سہیل احمد خدا کی جنت اس شخص پر حرام ہے جو امور خیر کی نصیحت نہیں کرتا
معجزات عبدالکریم عابد رسول اللہ ﷺ کا جیتا جاگتا معجزہ قرآن پاک ہے
وقتِ آخرجاوید احمد جو بیٹھا تھا بیٹھا رہ گیا اور جو کھڑا تھا اس کو بیٹھنے کا یارا نہ ہوا
لوح و قلمقلندر بابا اولیاءعلمِ لوح محفوظ
وارداتادارہاللہ کی آواز سُنی تو جسم شرابور ہوگیا
اسلام اور عورت سجاد احمد صدیقی عورت پر ہولناک مظالم کی داستان
پراسرار ہیولا (3)صادق الاسرارانسان کے اوپر لپٹے ہوئے تین پرت کی کہانی
حضرت ادھم ؒ نسیم احمد عظیمی مُردہ عورت کس طرح زندہ ہوئی؟
خواب کی تعبیرخواجہ شمس الدین عظیمیخواب کی تعبیر سے مستقبل کا انکشاف
بابا رتن ؒ ادارہ بھارت میں شق القمر کا معجزہ
محفلِ مراقبہاحمد جمال عظیمیخواجہ صاحب کی زیرِ سرپرستی منعقد ہونے والی محفلِ مراقبہ کی روئداد
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ۔ امہات المومنینشیخ محمد زبیرحضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام
آپ کے مسائلخواجہ شمس الدین عظیمیمسائل کا روحانی نفسیاتی حل
متفرقات------
========================================================================

فروری 1979ء  کے شمارے سے چند منتخب مضامین

========================================================================

آہ  قلندر بابا اولیاؒء

واحسرتا کہ آج دنیا اس وجود سرمدی سے خالی ہوگئی جس کے بارے میں الله تعالیٰ کا ارشاد ہے -
... " میں اپنے بندوں کو دوست رکھتا ہوں اور میں ان کے کان ، آنکھ اور زبان بن جاتا ہوں - پھر وہ میرے ذریعے سنتے ہیں ، میرے ذریعے بولتے ہیں اور میرے ذریعے چیزیں پکڑتے ہیں - ... "
روحانی ڈائجسٹ چھپ کر تیار ہی ہوا تھا کہ روحانی ڈائجسٹ کے سرپرست اعلیٰ حضور حسن اخریٰ محمّد عظیم برخیا ، قلندر بابا اولیاء رحمتہ الله علیہ نے سفر آخرت کی تیاری کرلی اور دیکھتے ہی دیکھتے واصل بحق ہوگئے - 
جگر خون ہوگیا ، آنکھیں پانی ہوگئیں ، دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا - دماغ ماؤف ہوگئے - کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو نمناک نہ ہوئی ہو - کوئی دل ایسا نہ تھا جو بے قراری کے عمیق سمندر میں ڈوب نہ گیا ہو - ایسا لگتا تھا کہ لوگوں کے جم غفیر پر سکتہ طاری ہوگیا ہے -   
  ایسی برگزیدہ ہستی نے پردہ فرمالیا جس کی نماز جنازہ میں انسانوں کے علاوہ لاکھوں فرشتے صف بستہ تھے ، حضور سرور کائنات صلّ الله علیہ وسلّم ، عاشق رسول حضرت اویس قرنی ، اولیاء کے سرتاج حضرت غوث الاعظم گرامی قدر اپنے معزز فرزند سعید کے استقبال کے لئے موجود تھے - حد نظر تک اولیاء الله کی ارواح کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا - 
مشیت ایزدی ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بارے میں بجز صبر و شکر کوئی چارہ نہیں - الله کی سنت میں تبدیلی ہوتی ہے اور نہ تعطل واقع ہوتا ہے - قرآن پاک میں ارشاد ہے ...
 کل نفس زائقة الموت 
پیش نظر شمارہ میں عقیدت مند حضرات حضور قلندر باباؒ کی یہ رباعی پڑھیں گے ...    
     اک جرعہ مئے ناب ہے کیا پائے گا
     اتنی سی کمی سے فرق  کیا  آئے گا
     ساقی مجھے اب مفت پلا ، کیا معلوم
      یہ  سانس  جو  آگیا  ہے پھر آئے گا 
27 جنوری  1979ء کی شب ایک بجے جب کہ شب بیدار ، خدا رسیدہ بندے اپنے الله کے حضور حاضری دیتے ہیں حضور قلندر بابا اولیاؒء مستقل حضوری پر تشریف لے گئے -
 انّا للہ و انّا الیہ راجعون    


========================================================================

حمد

نہیں خلق ہی میں یہ غلغلہ ، تری شان جلّ جلالہ
سرِ عرش بھی ہے لکھا ہوا تری شان جلّ جلالہ

تیری ذات مالکِ کُن فَکاں، تیری ذات خالقِ اِنس و جاں
تیرے دَر کے شاہ بھی ہیں گدا ، تری شان جلّ جلالہ

تیرا نام پاک دَوائے دل ، تیرا ذِکر پاک غذائے دل
تیرا شُکر کِس سے ہُوا اَدا ، تری شان جلَّ جلالہ

ہے کرِیم تُو ہے رَحِیم تُو ، ہے عَلیم تُو ہے قدیم تُو
ہے مُحال حَصر صِفات کا ، تری شان جل جلالہ

میرے دل کو صَبر و قَرار دے ، میرے بِگڑے کام سنوار دے
مُجھے ہے تِرا ہی اِک آسرا ، تری شان جلّ جلالہ

 ہے امیر اس میں بھی اک مزہ کہ شہود و غیب ایک جا 
ہے عجیب جملہ ردیف کا  تری شان جلّ جلالُہ

( حضرت امیؔر مینائیؒ )


========================================================================

نعت


وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول ، وہی آخر
وہی قرآں ، وہی فرقاں ، وہی یسیں ، وہی طہ

========================================================================

رباعیات

دُنیائے طلسمات ہے ساری دُنیا
کیا کہئے کہ ہے کیا یہ ہماری دُنیا
مٹی کا کھلونا ہے ہماری تخلیق
مٹی کا کھلونا ہے ساری دُنیا
--
اِک جرُعہ مئے ناب ہے کیا پائے گا
اِتنی سی کمی سے کیا فرق آئے گا
ساقی مجھے اب مفت پِلا کیا معلوم
یہ سانس جو آگیا ہے پھر آئے گا
--
تا چند کلیسا و کنشت و محراب
تا چند یہ واعِظ کے جہنّم کا عذاب
اے کاش جہاں پہ آج روشن ہوتی
استادِ ازل نے کل جو لکھی تھی کتاب
--
ماتھے پہ عیاں تھی رَوشنی کی محراب
رخسار و لب جِن کے تھے گوہرِ نایاب
مٹی نے اِنھیں بدل دیا مٹی میں
کتنے ہوئے دَفن آفتاب و مہتاب
--
========================================================================

آوازِ دوست



دعاگو۔۔۔۔
خواجہ شمس الدین عظیمی

========================================================================

لوح و قلم


قانون:

ادراک گہرا ہونے کے بعد نگاہ بن جاتا ہے۔ ادراک جب تک ہلکا ہو اور خیال کی حدوں تک موجود رہے، اس وقت تک مشاہدہ کی حالت رونما نہیں ہوتی۔ احساس صرف فکر کی حد تک کام کرتا ہے۔ جب فکر ایک ہی نقطہ پر چند لمحوں کے لئے مرکوز ہو جاتی ہے وہ نقطہ خدوخال اور شکل وصورت کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔ اس ہی کو مشاہدہ یا شہود کہتے ہیں۔ اب فکر نگاہ کی حیثیت میں اس ہی نقطہ پر چند لمحے اور مرکوز رہتی ہے تو نقطہ گویا ہو جاتا ہے یا دوسرے الفاظ میں نگاہ جو نقطہ کا مشاہدہ کر رہی ہے گویا ہو جاتی ہے یا بولنے لگتی ہے۔ اس نقطہ پر امر ربی کہتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے۔
یہ قوت گویائی جسے نطق کہتے ہیں اگر ذرا دیر اس نقطہ کی طرف اور متوجہ رہے تو فکر اور احساس میں رنگینیوں کا چشمہ اُبل پڑتا ہے۔ اور وہ اپنے ارد گرد نیرنگی کا ایک ہجوم محسوس کرنے لگتی ہے۔
جب اس ہجوم پر امر ربی کی توجہ ذرا سی دیر اور مرکوز رہتی ہے تو شعور انسانی میں کشش کی روشن لہریں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ان لہروں کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ یہ اپنے مطمح نظر یا شہود کو جسے وہ دیکھ رہی ہیں یا محسوس کر رہی ہیں چھو دیتی ہیں۔ ان لہروں کے اس عمل کا نام ’’لمس‘‘ ہے۔ یہاں سے یہ قانون پوری طرح واضح ہو جاتا ہے کہ علم ہی کی جداگانہ حرکات یا حالتوں کا نام خیال، نگاہ، گفتار، شامہ اور لمس ہے۔
بیان کردہ قانون سے اس بات کا انکشاف ہو جاتا ہے کہ ایک حقیقت اپنی حالت بدلتی رہتی ہے۔ ان تبدیلیوں میں مختلف انکشافات کا قیام ہے۔ جس نقطہ پر جو انکشاف صورت پذیر ہے وہی امر ربی کی حرکت بن جاتا ہے۔ جس طرح خیال علم ہے اس ہی طرح نگاہ بھی علم ہے اور نگاہ کے بعد کی تمام حالتیں بھی علم ہیں۔ کوئی حالت ان حدود سے باہر قدم نہیں رکھ سکتی۔ علم کی حدود کے اندر ہی درجہ بدرجہ گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔
ہماری فکر اوپر سے نیچے کی طرف سیڑھیاں اترتی ہے اور ہم فکر کی شکل وصورت کو مختلف احساسات کا نام دیتے چلے جاتے ہیں۔ جب ہم ایک خیال کو ذہن میں شدت سے محسوس کرتے ہیں تو وہی خیال شکل و صورت بن کر رونما ہو جاتا ہے۔ وہی شکل وصورت مزید غور و فکر کے اثر سے گفتگو کرنے لگتی ہے۔ ذرا اور شدت ہوتی ہے تو یہی گفتگو رنگارنگ لباسوں میں جلوہ گر ہو جاتی ہے۔ آخری مرحلہ میں شدت احساس کے باعث ہم ان رنگا رنگ لباسوں کی طرف خود کو کھنچتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہماری حس ان رنگا رنگ لباسوں کو چھو لیتی ہے۔ یہاں پر ہمارا تجسس ختم ہو جاتا ہے۔ یہ کیفیت فکر انسانی کے لئے لذت کی انتہا ہے۔ اس آخری نقطہ سے پھر فکر انسانی کو لوٹنا پڑتا ہے۔ یعنی جس چیز کو ہم نے ابھی چھوا تھا ہماری حس اس سے دور ہونے لگتی ہے۔ یہی حالت ہماری حس کا رد عمل ہے جو مکانیت اور زمانیت کے فصل کا احساس دلاتا ہے۔ ابھی ہم جس چیز سے قریب تھے رفتہ رفتہ اس سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور مجموعی طور پر اسی نقطہ کی دوری کا نام موت ہے۔ موت وارد ہونے کے بعد روح گزرے ہوئے تجربات سے ایک مجموعی علم جدید سیکھتی ہے۔ اسی عالم کا نام عالم غیب کا شہود ہے۔
ایک بار پھر زندگی کی تشریح بیان کی جاتی ہے۔
یہ کائنات اپنی ہر شکل و صورت اور ہر ایک حرکت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے علم میں موجود تھی۔ اس ہی موجودگی کا نام وجودِ رویاء ہے اور جس علم میں کائنات کی موجودگی تھی، اللہ تعالیٰ کے اس علم کو واجب یا علم قلم کہتے ہیں۔ علم واجب اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے جس کو ذات کا عکس کہتے ہیں۔
علم واجب کے بعد جب اللہ تعالیٰ کی صفات ایک قدم اور نیچے اترتی ہیں تو عالم واقعہ یا عالم ارواح کا ظہور بن جاتی ہیں۔ یہی وہ محل وقوع ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ظہور تخلیق کا ارادہ فرمایا اور لفظ کُن کہہ کر اپنے ارادے کو کائنات کی شکل وصورت بخشی۔ یہاں سے دو حیثیتیں قائم ہو جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔ایک حیثیت اللہ تعالیٰ کے علم کی، دوسری حیثیت اللہ تعالیٰ کے ارادے کی۔ اور اصل ارادہ ہی ازل کی ابتدا کرتا ہے۔ ازل کے ابتدائی مرحلے میں موجودات ساکت و صامت ہیں۔ موجودات کی شکل کو روحانیت کی زبان میں علم وحدت، کلیات یا علم لوح محفوظ کہتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ موجودات کا سکوت ٹوٹے اور حرکت کا آغاز ہو تو اللہ تعالیٰ نے موجودات کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا:
اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ
اب موجودات کی ہر شئے متوجہ ہو گئی اور اس میں شعور پیدا ہو گیا۔ اس شعور نے جواباً بَلٰی کہہ کر اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا اعتراف کر لیا۔یہ عالم واقعہ کی پہلی شکل تھی۔ اشیاء میں جب حرکت کی ابتدا ہوئی تو عالم واقعہ کی دوسری شکل کا آغاز ہو گیا۔ اس شکل کا نام عامی زبان میں کثرت ہے۔ اس ہی شکل کو عام مثال یا ’’جُو‘‘ کہتے ہیں۔
یہاں سے امر ربی روح، جزولاتجزاء یا انسان زندگی کا اقدام کرتا ہے اور اس ہی کا عکس ناسوت میں واقعات کی شکل وصورت اختیار کر لیتا ہے۔ عالم ناسوت کا یہ عکس اشیاء کا دوسرا تمثل ہے۔ ذات کا عکس علم واجب یا علم قلم۔ علم واجب کا عکس علم وحدت یا علم لوح محفوظ ہے۔ علم لوح محفوظ کا عکس ’’جُو‘‘ یعنی عالم تمثال ہے۔ عالم تمثال کا عکس تمثل ثانی یا عالم تخلیط ہے۔ عالم تخلیط کو عالم ناسوت بھی کہتے ہیں۔

رُوح اعظم، رُوح انسانی، رُوح حیوانی اور لطائفِ ستّہ

مخلوق کی ساخت میں روح کے تین حصے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔روح اعظم، روح انسانی، روح حیوانی۔
روح اعظم علم واجب کے اجزاء سے مرکب ہے۔
روح انسانی علم وحدت کے اجزاء سے بنتی ہے۔ اور
روح حیوانی ’’جُو‘‘ کے اجزائے ترکیبی پر مشتمل ہے۔
روح اعظم کی ابتدا لطیفۂ اخفیٰ اور انتہا لطیفۂ خفی ہے۔ یہ روشنی کا ایک دائرہ ہے جس میں کائنات کی تمام غیب کی معلومات نقش ہوتی ہیں۔
یہ وہی معلومات ہیں جو ازل سے ابد تک کے واقعات کے متن حقیقی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس دائرے میں مخلوق کی مصلحتوں اور اسرار کا ریکارڈ محفوظ ہے۔ اس دائرہ کو ثابتہ کہتے ہیں۔
روح انسانی کی ابتدا لطیفۂ سری ہے اور انتہا لطیفۂ روحی ہے۔ یہ بھی روشنی کا ایک دائرہ ہے۔ اس دائرے میں وہ احکامات نقش ہوتے ہیں جو زندگی کا کردار بنتے ہیں۔ اس دائرے کا نام ’’اعیان‘‘ہے۔
روح حیوانی کی ابتدا لطیفۂ قلبی اور انتہا لطیفۂ نفسی ہے۔ یہ روشنی کا تیسرا دائرہ ہے۔ اس کا نام ’’جویہ‘‘ ہے۔ اس دائرے میں زندگی کا ہر عمل ریکارڈ ہوتا ہے۔ عمل کے وہ دونوں حصے جن میں اللہ تعالیٰ کے احکام کے ساتھ جن و انس کا اختیار بھی شامل ہے جزو درجزو نقش ہوتے ہیں۔
روشنی کے یہ تینوں دائرے تین اوراق کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہوتے ہیں۔ ان کا مجموعی نام روح، امر ربی، جزولاتجزاء یا انسان ہے۔
لطیفہ اس شکل وصورت کا نام ہے جو اپنے خدوخال کے ذریعے معنی کا انکشاف کرتا ہے۔ مثلاً شمع کی لَو ایک ایسا لطیفہ ہے جس میں اجالا، رنگ اور گرمی تینوں ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں۔ (ان کی ترتیب سے ایک شعلہ بنتا ہے جو شہود کی ایک شکل ہے)ان تین اجزاء سے مل کر شہود کی ایک بننے والی شکل کا نام شعلہ رکھا گیا ہے۔ یہ شعلہ جن اجزاء کا مظہر ہے۔ ان میں سے ہر جزو کو ایک لطیفہ کہیں گے۔
لطیفی نمبر۱: شعلہ کا اجالا ہے۔
لطیفہ نمبر۲: شعلہ کا رنگ ہے۔
لطیفہ نمبر۳: شعلہ کی گرمی ہے۔
ان تینوں لطیفوں کا مجموعی نام شمع ہے۔ جب کوئی شخص لفظ شمع استعمال کرتا ہے تو معنوی طور پر اس کی مراد تینوں لطیفوں کی یکجا صورت ہوتی ہے۔
اس طرح انسان کی روح میں چھ لطیفے ہوتے ہیں جس میں پہلا لطیفہ اخفیٰ ہے۔ لطیفۂ اخفیٰ علم الٰہی کی فلم کا نام ہے۔ یہ فلم لطیفۂ خفی کی روشنی میں مشاہدہ کی جا سکتی ہے۔ ان دونوں لطیفوں کا اجتماعی نام ثابتہ ہے۔ اس طرح ثابتہ کے دو اطلاق ہوئے۔ ایک اطلاق علم الٰہی کے تمثلات ہیں اور دوسرا اطلاق روح کی وہ روشنی ہے جس کے ذریعے تمثلات کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ تصوف کی زبان میں دونوں اطلاق کا مجموعی نام تدلّٰی ہے۔ تدلّٰی دراصل اسمائے الٰہیہ کی تشکیل ہے۔ اسمائے الٰہیہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفات ہیں جو ذات کا عکس بن کر تنزل کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ یہی صفات موجودات کے ہر ذرے میں تدلیّٰ بن کر محیط ہوتی ہیں۔ پیدائش، عروج اور زوال کی مصلحتیں اس ہی تدلیّٰ میں مندرج ہیں۔ اس ہی تدلیّٰ سے علم الٰہی کے عکس کی ابتدا ہوتی ہے۔ جس انسان پر علم الٰہی کا یہ عکس منکشف ہو جاتا ہے وہ تقدیر ربانی سے مطلع ہو جاتا ہے۔ اس ہی تدلّٰی یا تجّلی کا اندراج ثابتہ میں ہوتا ہے۔ جیسےالم خالق اور مخلوق کے درمیانی ربط کی تشریح ہے یعنی الم کی رموز کو سمجھنے والا اللہ تعالیٰ کی صفت تدلیّٰ یا رمز حکمرانی کو پڑھ لیتا ہے۔
========================================================================

========================================================================

محفلِ مراقبہ

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی کی صدارت میں ہر جمعہ کو محفلِ مراقبہ منعقد ہوتی ہے۔
درود شریف اور آیتِ کریمہ کے ختم کے بعد 35 منٹ تک مراقبہ ہوا۔ مراقبہ کی بعد دعا کی گئی اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوا جو ہدیۂ قارئین ہے۔
محفلِ مراقبہ میں شریک جناب سہیل احمد نے سوال کیا۔۔۔۔۔ اس کی کیا وجہ ہے لوگ ریاضت و مجاہدہ میں کئی کئی سال مشغول رہتے ہیںمگر انہیں روشنی کی ایک کرن بھی نظر نہیں آتی۔ خواجہ صاحب نے ارشاد فرمایا۔۔۔۔۔

لوحِ محفوظ کے قانون کے مطابق دیکھنے کی طرزیں د و ہیں ایک براہِ راست اور دوسری بالواسطہ۔ اس بات کو دوسرے الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ نگاہ دو طرح سے دیکھتی ہے۔ براہِ راست اور بالواسطہ۔۔۔۔۔ براہِ راست دیکھنے سے مطلب یہ ہے کہ جو چیز دیکھی جارہی ہے وہ کسی میڈیم کے بغیر دیکھی جارہی ہے یعنی نگاہ اُس چیز کے ٹھوس اور مادّی خول سے ٹکرائے بغیر اس چیز کی حقیقت کو دیکھتی ہے۔ جبکہ بالواسطہ دیکھنا یہ ہے کہ نگاہ کسی چیز کے مادّی خول سے ٹکرا کر رُک جائے اور اس چیز کا عکس اپنے پورے خدوخال کے ساتھ دماغ کی اسکرین پر نمودار ہو۔ اس براہِ راست دیکھنے کی طرز کو ہم ایک مثال کے ذریعے واضح کرتے ہیں۔
مـثـال: ہم آئینہ دیکھتے ہیں۔ آئینے میں ہمارے خدوخال نظر آتے ہیں۔ خدوخال اس وقت نظر آتے ہیں جب آئینے میں ہمیں اپنا عکس نظر آتا ہے لیکن اگر آئینے میںہمارا عکس موجود نہ ہو تو ہم آئینے میں اپنا عکس نہیں دیکھ سکتے۔
براہِ راست طرزِگفتگومیں اس بات کو اس طرح کہا جاتا ہے کہ پہلے آئینے نے ہمارا عکس اپنے اندر جذب کیا اور ہم نے آئینے میں اپنے عکس کو دیکھا۔ یعنی آئینے نے پہلے ہمیں دیکھا اپنے اندر ہمارے خدوخال کو جذب کیا اور پھر ہم نے آئینے کے دیکھنے کو دیکھا۔
ہم بکری کو دیکھتے ہیں۔ بالواسطہ بکری کو دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری نظر بکری سے ٹکرائی اور ہم نے بکری کے خدوخال کو محسوس کیا۔ براہِ راست دیکھنا یہ ہے کہ بکری نے ہمیں دیکھا اور بکری کے دیکھنے کو ہم نے دیکھا۔ بالفاظِ دیگر بکری نے ہمارے دیکھنے ، چھونے، سمجھنے ، پکڑنے اور محسوس کرنے کے حواس کو اپنے اندر جذب کیا اور جب اس نے جذب کرلیا تو پوری کی پوری بکری ہمارے اندر Inspireہوگئی۔ 
اب ہم نظر کے اس قانون کو دوسری طرح بیان کرتے ہیں۔ کائنات میں جو کچھ ہے، جو کچھ تھا، جو کچھ ہورہا ہے اور جو کچھ آئندہ ہوگا سب کا سب لوحِ محفوظ پر نقش ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ انسان بذاتِ خود اور اس کے تمام حواس بھی لوحِ محفوظ پر نقش ہیں۔ لوح محفوظ پر نقش ہونا اس طرح ہے کہ انسان اور انسانی تقاضوں کے ساتھ ان تقاضوں کی ماہیت اور حقیقت بھی منقش ہے یعنی اس میں چوں چرا، نفی و اثبات اور اینچ پنیچ نہیں ہے۔ بس جو کچھ ہے، ہے۔۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ لوح محفوظ کے نقوش بالکل بنیادی نوعیت کے ہیں۔ بھوک، بھوک ہے اور پیاس، پیاس۔۔۔۔۔ جب یہ حواس اور تقاضے لوح محفوظ سے نزول کرکے حزیرے میں آتے ہیں تو ان میں معنویت شامل ہوجاتی ہے اب بھوک اور پیاس کے ساتھ ان کے تدارک اور مداوے کے بھی تمام تر گوشے پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہاں سے یہ اطلاعات ذہن انسانی پر وارد ہوتی ہیںاور وہ ان میں اپنے علم اور ارادہ کے تحت معانی پہناتا ہے تب یہ اطلاعات صعود کرکے دوبارہ حزیرے میں پہنچتی ہیں اور پھر واپس پلٹ کر مظہر بنتی ہیں۔
صرف بھوک اور پیاس کا تقاضا جس میں انسانی ذہن کے معانی شامل نہ ہوں براہِ راست نظر کے قانون کے تحت آتا ہے اور پیاس کے تقاضے کو کس طرح رفع کیا جائے یہ بالواسطہ نظر کے قانون کے ذیل میں آتا ہے۔
اس کی مثال بہت سادہ اور آسان ہے۔۔۔۔۔ ایک آدمی چشمہ استعمال نہیں کرتا۔ جو کچھ دیکھتا ہے براہِ راست دیکھتا ہے۔ دوسرا شخص چشمہ استعمال کرتا ہے، وہ جو کچھ دیکھتا ہے، اس کے درمیان چشمہ کا گلاس میڈیم کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔ اب اسی مثال کو اور زیادہ وضاحت سے بیان کیا جائے تو اس طرح کہا جائے گا کہ عینک میں جس رنگ کا گلاس استعمال کیا جائے گا نظر چیزوں کو اسی رنگ میں دیکھی گی۔ اگر عینک میں سرخ رنگ کا گلاس ہے تو ہر چیز سرخ نظر آئے گی اور اگر گلاس نیلے رنگ کا ہے تو ہر شئے کا رنگ نیلا ہوجائے گا یعنی جب ہم کسی رنگین شیشے کو اپنی نظر کا میڈیم بنالیں گے تو نظر وہی دیکھے گی جو ہمیں شیشہ دکھائے گا۔
نظر اور طرزِفکر کا قانو ن ایک ہی ہے۔ طرزِفکر بھی براہِ راست اور بالواسطہ کام کرتی ہے۔ حزیرے سے آنے والی کسی اطلاع میں جب تک معانی نہیں پہنائے جاتے وہ براہِ راست طرزِفکر ہے اور جب اس میں معانی پہنادئیے جاتے ہیں تو یہ اطلاع بالواسطہ طرزِفکر کے دائرے میں آجاتی ہے۔
اب اگر کوئی آدمی ایک ایسے شخص کی طرزِفکر کو اپنے لئے میڈیم یا واسطہ بنالے جس کی طرزِفکر براہِ راست کام کر رہی ہے تو اس آدمی کے اندر براہِ راست طرزِفکر منتقل ہونے لگتی ہے جس طرح رنگین شیشہ استعمال کرنے سے ہر چیز رنگین نظر آنے لگتی ہے اسی طرح براہِ راست طرزِفکر کو میڈیم بنانے سے ہر چیز براہِ راست نظر آنے لگتی ہے۔ تصورِ شیخ کا عمل دراصل اسی براہِ راست طرزِفکر کو اپنے اندر منتقل کرنے کا نام ہے۔ تصور جتنا زیادہ گہرا اور مستحکم ہوگا۔۔۔۔۔ اسی مناسبت سے مراد (شیخ) کی طرزِفکر مرید میں منتقل ہونے لگتی ہے۔ مراد کی طرزِفکر بالواسطہ نظر کے قانون میں کام کر رہی ہے تو مرید براہِ راست طرزِفکر سے آشنا نہیں ہوتا۔                                                                                             

========================================================================
یہ اس ماہ کے ڈائجسٹ کے محض چند تعارفی صفحات ہیں۔

کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت اس ڈائجسٹ کے مضامین  بلا اجازت شائع نہیں کیے جاسکتے۔

 مضمون کا کوئی حصہ کسی کتاب میں شامل یا انٹر نیٹ پر شئیر کرتے ہوئے روحانی ڈائجسٹ کا حوالہ ضرور تحریر کریں۔  
========================================================================

Like us On Facebook

Powr