Breaking

جنوری 1979ء

Views

روحانی ڈائجسٹ جنوری 1979ء  کا سرورق





جنوری 1979 ء (بمطابق صفر 1399ھ)۔۔۔۔۔ روحانی ڈائجسٹ کا دوسرا شمارہ جو حضور قلندر بابا اولیائؒ کی جسمانی حیات میں شائع ہوا۔۔۔۔ اس شمارے کے صفحات کی تعداد 116 تھی۔اس شمارے میں تحریروں کی ابتداء ’’حمد‘‘ کے عنوان سے ہوئی جس کے تحت سورۂ حشر کی آخری آیات پیش کی گئیں۔ نعت، رباعیاتِ قلندر بابا اولیائؒ اور خواجہ شمس الدین عظیمی کے اداریہ آوازِ دوست کے بعد ایک نئے عنوان ’’تاثرات‘‘ کا اضافہ ہے۔ اس کے تحت روحانی ڈائجسٹ کے پہلے شمارے سے متعلق تاثرات پر مبنی قارئین کرام کے گرامی نامے پیش کئے گئے۔
مستقل سلسلوں میں مسائل و مشکلات، اُلجھنوں کے روحانی و نفسیاتی حل پر مبنی سلسلے ’’آپ کے مسائل‘‘ اور خواب میں مستقبل کے انکشاف پر مشتمل ’’خواب کی تعبیر‘‘ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے تحریر کئے۔ روحانی محافل کی روئداد ’’محفلِ مراقبہ‘‘ اور روحانی کیفیات پر مبنی ’’واردات‘‘ کے ساتھ ایک نیا سلسلہ ’’آپ بیتی‘‘ بھی اس شمارے میں شامل ہے اس عنوان کے تحت ایک مافوق الفطرت اور ناقابلِ فراموش واقعہ پیش کیا گیا۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ ’’ناری مخلوق جنات کو تعویز سے جلانا  ناممکن ہے‘‘۔۔۔۔۔ قلندر بابا اولیائؒ  کی تصنیف ’’لوح و قلم‘‘ کی اگلی قسط بھی اس شمارے میں شامل تھی۔ صادق الاسرار کی تحریر کردہ تحیر خیز کہانی ’’پراسرار ہیولا‘‘ کی دوسری قسط بھی پیش کی گئی۔ دیگر مضامین میں وقار یوسف عظیمی کا مضمون ’’اﷲ کے نبیﷺ کے شب و روز‘‘ اور نسیم احمد کا مضمون ’’حضرت ابو بکر صدیق ؓ  کا وقتِ آخر‘‘ کے عنوان سے مضامین شائع ہوئے۔ ’’فاروقِ اعظم حضرت عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہٗ‘‘ کے عنوان سے محمد ضیاء الدین نے اپنے مضمون میں تحریر کیا کہ ’’امیر المومنین ہونے کے باوجود آپؓ کے کرتے میں پیوند لگے ہوتے تھے‘‘۔ امہات المومنین کے ضمن میں شیخ محمد زبیر کا مضمون ’’حضرت خدیجہ رضی اﷲتعالیٰ عنہٗ‘‘ شائع ہوا جس میں بتایا گیا کہ ’’آپؓ ایکسپورٹ امپورٹ کا کام کرتی تھیں‘‘۔ کراماتِ اولیاء کے تحت سہیل احمد کا مضمون ’’حضرت وارث علی شاہؒ‘‘ کرامات اور تذکرہ پر مبنی ہے۔ ’’اعراف‘‘ کے عنوان سے مضمون مرنے کے بعد کی دنیا کے مشاہدات پر مشتمل ہے۔ ’’راہِ عمل‘‘ میں آباد شاہ پوری لکھتے ہیں ’’عاشق صادق کو زمین و آسمان کی طاقت حاصل ہوجاتی ہے‘‘۔ روحانی ڈائجسٹ کے پہلے شمارے پر یکتاؔ امروہوی تاثرات نظم کی صورت میں ’’روحانی ڈائجسٹ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئے۔ ’’روح کا سفر‘‘ کے عنوان سے ایک روح کی پراسرار کہانی۔۔۔۔۔ یہ روح ایک جیتی جاگتی عورت کو قبر میں اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔۔۔۔۔ ’’جس گھر میں عورت نہیں ہوتی اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے‘‘ ایسے ہی کئی اقوال سے مزّین ناصرہ مدنان کا مضمون’’عورت‘‘۔۔۔۔۔ وٹامنز کی خصوصیات پر اختر احمد خان کا مضمون ’’آبِ حیات‘‘ شائع ہوا۔ اس شمارے میں نعتیں، دلچسپ معلومات اور سبق آموز اقوال کے چند تراشے بھی مختلف صفحات پر شائع ہوئے۔

========================================================================
مضامینلکھاریموضوع
حمد---اللہ کی حمد اللہ کی زبانی
نعت---صلی اللہ تعالی علیٰ حبیبہٖ محمد وسلم
رباعیاتقلندر بابا اولیاءافتادِ طبیعت تھی عجب آدم کی کچھ بس نہ چلا تو باغِ رضواں چھوڑا
آوازِ دوستایڈیٹر---
آپ کے مسائل
خواجہ شمس الدین عظیمی
الجھنوں کا روحانی نفسیاتی حل
عورت ناصرہ عدنان جس گھر میں عورت نہیں وہاں فرشتے قدم نہیں رکھتے
لوح و قلمقلندر بابا اولیاءجس کو پڑھ کر ایک روحانی عالم منکشف ہوجائے گا
وارداتادارہآئیے داتا دربار چلیں
حضرت عمر ؓمحمد ضیاء الدین آپ کے کرتے کے پیوند شمار کیے گئے تو بارہ تھے
روح کا سفر شریف چکوالی ایک روح جو جیتی جاگتی عورت کو قبر میں اپنے ساتھ لے گئی
آبِ حیاتاختر احمد خانہم اپمی غذاؤں کو زہر آلود کرکے کھاتے ہیں
حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ۔ امہات المومنینشیخ محمد زبیرحضرت خدیجہؓ امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار کرتی تھیں
راہِ عمل آباد شاہ پوریعاشق صادق کو زمین و آسمان کی طاقت حاصل ہوتی ہے
آپ بیتیج۔تآگ سے بنے ہوئے جنات کو تعویز سے جلانا ممکن ہے۔
وقتِ آخرنسیم احمد عظیمیحضرت ابو بکر صدیقؓ کے آخری لمحات
خواب کی تعبیر
خواجہ شمس الدین عظیمی
خواب کی تعبیر سے مستقبل کا انکشاف
پراسرار ہیولا (2)
صادق الاسرار
انسان کے اوپر لپٹے ہوئے تین پرت کی کہانی
کراماتِ اولیاءسہیل احمدحضرت وارث علی شاہ ؒ
شب و روز 
وقار یوسف
اللہ کے نبی ﷺ کے شب و روز
محفلِ مراقبہ
احمد جمال عظیمی
خواجہ صاحب کی زیرِ سرپرستی منعقد ہونے والی محفلِ مراقبہ کی روئداد
========================================================================

جنوری 1979ء کے شمارے سے چند منتخب مضامین

========================================================================

حمد

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ
هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ  ۔
هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الأَسْمَاء الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۔

========================================================================

نعت


شہنشاہ ارض و سما   ، بلغ العلا بكماله
وصف رخ او والضحیٰ ،  كشف الدجى بجماله
قرآن با اخلاقش گواہ  ،  حسُنت جميع خصاله
صدقا ًیقیناً راسخاً  ، صلوا عليه وآله.
========================================================================

رباعیات

نہروں کو مئے ناب کی ویراں چھوڑا
پھولوں مےں پرندوں کو غزل خواں چھوڑا
افتادِ طبیعت تھی عجب آدم کی
کچھ بس نہ چلا تو باغِ رضواں چھوڑا
-
اِک جُرعہ مئے ناب ہے ہر دم میرا
اِک جرُعہ مئے ناب ہے عالم میرا
مستی و قلندری و گمراہی کیا
اِک جُرعہ مئے ناب ہے مِحرم میرا
-
جس وقت کہ تن جاں سے جُدا ٹھیرے گا
دو گز ہی زمیں میں توُ جا ٹھیرے گا
دو چار ہی روز میں توُ ہوگا غائب
آکر کوئی اور اُس جگہ ٹھیرے گا
-
اِک آن کی دُنیا ہے فریبی دُنیا
اِک آن میں ہے قید یہ ساری دنیا
اِک آن ہی عاریت ملی ہے تجھ کو
یہ بھی جو گزر گئی تو گزری دُنیا
-

========================================================================

آوازِ دوست



دعاگو۔۔۔۔
خواجہ شمس الدین عظیمی

========================================================================

لوح و قلم

یہاں اللہ تعالیٰ کی پانچ صفات بیان ہوئی ہیں۔ پہلی صفت وحدت یعنی وہ کثرت نہیں۔ دوسری صفت بے نیازی یعنی وہ کسی کا محتاج نہیں۔ تیسری صفت یہ کہ وہ کسی کا باپ نہیں۔ چوتھی صفت یہ کہ وہ کسی کا بیٹا نہیں۔ پانچویں صفت یہ کہ اس کا کوئی خاندان نہیں۔ یہ تعریف خالق کی ہے اور خالق کی جو بھی تعریف ہو گی مخلوق کی تعریف کے برعکس ہو گی۔ یا مخلوق کی جو بھی تعریف ہو گی خالق کی تعریف کے برعکس ہو گی۔ اگر ہم خالق کی تعریفاتی حدوں کو چھوڑ کر مخلوق کی تعریف بیان کریں تو اس طرح کہیں گے کہ خالق وحدت ہے تو مخلوق کثرت ہے، خالق بے نیاز ہے تو مخلوق محتاج ہے، خالق باپ ہے نہیں رکھتا تو مخلوق باپ رکھتی ہے۔ خالق کا کوئی بیٹا نہیں لیکن مخلوق کا بیٹا ہوتا ہے، خالق کا کوئی خاندان نہیں لیکن مخلوق کا خاندان ہونا ضروری ہے۔

جُو کی پہلی تعریف 

جب اللہ تعالیٰ نے کُن فرمایا تو صفات الٰہیہ کائنات کی شکل وصورت بن گئیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات کے اجزاء کثرت کا چہرہ بن گئے۔ یہ چہرہ ان تمام روحوں یا اجزاء کا مجموعہ ہے جن کو الگ الگ مخلوق کی شکل وصورت حاصل ہوئی۔ تخلیق کی پہلی تعریف یہ ہوئی کہ اجزائے لاتجزاء یعنی روحیں جن کو قرآن میں اَمْرربِّیْ کہا گیا ہے موجودات کی صورت میں نمایاں ہو گئیں۔ اس تعریف کو مدنظر رکھ کر ہم اس ربط کو نہیں بھول سکتے جو خالق اور مخلوق کے درمیان ہے۔ اس ہی ربط کو تصوف کی زبان میں ’’جُو‘‘ کہا گیا ہے۔
’’جُو‘‘ کی دوسری تعریف یہ ہے کہ مخلوق ہر قدم پر خالق کے ربط کی محتاج ہے اور خالق کی صفات ہی ہر لمحہ ’’جُو‘‘ کو حیات نو عطا کرتی ہے۔
’’جُو‘‘ کے تیسرے مرحلے میں ایک ایسا سلسلہ سامنے آتا ہے جس کو ہم پیدائش کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ تصوف کی زبان میں اس کا نام رخ اول ہے۔
’’جُو‘‘ کا چوتھا سلسلہ خود پیدائش کی شکل و صورت کے نام ہے جس کو تصوف کی زبان میں رُخِ ثانی کہتے ہیں۔ یہ دونوں رُخ ’’جُو‘‘ کے تنوع کا مجموعہ ہیں۔
’’جُو‘‘ کے پانچویں سلسلہ میں افراد کا ذہن تنظیم کی نوعیت اختیار کر لیتا ہے یعنی
’’جُو‘‘ کا انفرادی احساس ایک ایک فرد کے احساس کا ادراک کر لیتا ہے۔
’’جُو‘‘نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حبْلِ الْوَرِیْد کی شرح ہے۔ کائنات میں جو چیز شعور کو محسوس ہوتی ہے یا نظر آتی ہے یا شعور اس کا ادراک کرتا ہے اس کا وجود تمثل اول کی شکل میں’’جُو‘‘ کے اندر پایا جاتا ہے۔ کوئی فرد جہاں بھی ہے تمثل اول کا عکس ہے خواہ وہ فرد انسان ہو، جن ہو، فرشتہ ہو، نباتات سے ہو یا جمادات سے یا کسی کرّہ کی حیثیت رکھتا ہو۔
کائنات کا ہر فرد ’’جُو‘‘ کے ذریعے لاشعوری طور پر ایک دوسرے کے ساتھ روشناس اور منسلک ہے۔ تصوف کی زبان میں’’جُو‘‘ کی تفصیلات ’’مغیبات اکوان‘‘ کہلاتی ہیں۔ اگر کسی فرد کو مغیبات اکوان کا علم حاصل ہے تو وہ ایک ذرہ کی حرکت کو دوسرے ذرہ کی حرکت سے ملحق دیکھ سکتا ہے۔ بالفاظ دیگر’’جُو‘‘ کا شعور رکھنے والا اگر ہزار سال پہلے کے یا ہزار سال بعد کے واقعات کا مشاہدہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔

کثرت کا اجمال

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
ھُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُ کُمْ فِی الْاَرْحَاْمِ کَیْفَ بَشَاءُ
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جزو لا تجزاء کا تذکرہ کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ ہم نے لاشئی کو شکل و صورت دی ہے۔ رحم مادر میں ایک ایسی تصویر بنائی ہے جس کا علم ہمارے سوا کبھی کسی کو نہ ہو اتھا۔
اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ایسی تصویر کشی کی ہے جو اَمْررَبِّیْ کی حیثیت میں ناقابل تقسیم جزو ہے۔ یہ ایک ایسا عکس ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے ارادے نے ہر فرد کے ادراک سے روشناس کر دیا ہے۔ دراصل اللہ تعالیٰ کا ہر حکم فرداً فرداً تمام مخلوق کے ذہن میں شکل و صورت بن کر سما گیا ہے۔ یعنی جو شکل بھی اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے وہ ’’جُو‘‘ میں وجود رکھنے والے ارب دو ارب افراد کے ادراک میں موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی تصویر جو کہ ہر ذرہ میں نقش ہے اس ہی نقش کے ادراک سے کوئی آدمی اپنی سواری کے ایسے گھوڑے کو جس کی شکل وصورت کا کوئی گھوڑا ساری دنیا میں موجود نہ ہو اچھی طرح پہچانتا ہے۔ ایک ماں اپنے بیٹے کو کروڑوں انسانوں میں تلاش کر لیتی ہے اور بیٹے کے سینکڑوں دوست اس کے مخصوص خدوخال دیکھ کر اس کو پہچان لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خاص شکل و شباہت جو ایک بچے کی روح میں پیوست ہے اس بچہ کی نگاہ میں کبوتر، مور یا فاختہ کی شناخت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ کوئی بچہ ستارے کو لاکھوں میل کے فاصلے سے دیکھ کر ستارہ کہہ دیتا ہے۔ اس طرح ہر چیز کی شکل وصورت موجودات کے ہر فرد کی طبیعت میں نقش اور پیوست ہے۔ کوئی صورت سالہاسال بعد بھی جب کسی فرد کی آنکھوں کے سامنے اپنے خدوخال میں آتی ہے تو وہ اس کو امر ربی ، روح یا جزولاتجزاء یا انسان کا نام لے کر بے ساختہ پکار اٹھتا ہے۔۔۔۔۔۔میں تجھے خوب پہچانتا ہوں، تو زید ہے تو محمود ہے۔

’’جُو‘‘ کا واسطہ

انسانی زندگی کے دو رخ ہیں۔ ایک ظاہری رخ اور دوسرا باطنی رخ۔ ظاہری رخ دیکھنے والوں کے لئے پہچان کاذریعہ ہے کہ یہ فلاں شخص ہے یا یہ فلاں چیز ہے اور باطنی رخ دیکھی ہوئی چیزوں کی یادداشت کا تصویر خانہ ہے یعنی دیکھی ہوئی تمام چیزیں اس رخ میں بشکل تصویر محفوظ رہتی ہیں۔ ہم ان دونوں رخوں کو پوری طرح سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ جو کچھ ہمارے باطنی رخ میں منقش اور موجود ہے، وہ جب ظاہری طور پر ہماری آنکھوں کے سامنے آتا ہے تو ہم بلا تامل اسے شناخت کر لیتے ہیں۔ اب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ جو کچھ باطن میں ہے وہی ظاہر میں ہے اور جو چیز باطن میں موجود نہیں ہے وہ ظاہر میں موجود نہیں ہو سکتی۔ گویا ظاہر باطن کا عکس ہے۔ باطن اصل ہے اور ظاہر اس کا پَرتو ہے۔ اور کسی شخص کا باطن اس کی اپنی ذات ہے، ایسی ذات جو امر ربی یا جزولاتجزاء یا روح کہلاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کی ذات میں پوری کائنات کے تمام اجزاء اور اجزاء کی حرکتیں منقوش اور موجود ہیں۔
انسان کی ذات دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک حصہ داخلی ہے اور دوسرا حصہ خارجی ہے۔ داخلی حصہ اصل ہے اور خارجی حصہ اس ہی اصل کا سایہ ہے۔ داخلی حصہ وحدت کی حیثیت رکھتا ہے اور خارجی حصہ کثرت کی۔ داخلی حصہ میں مکان اور زمان دونوں نہیں ہوتے لیکن خارجی حصہ میں مکان اور زمان دونوں ہوتے ہیں۔ داخلی حصہ میں ہر چیز جزولاتجزاء کی حیثیت رکھتی ہے، کسی مکانیت کا احاطہ بھی موجود نہیں ہے۔ خارجی حصہ میں مکانیت اور زمانیت دونوں موجود ہیں۔

مثال:

ہم کسی عمارت کی ایک سمت میں کھڑے ہو کر اس عمارت کے ایک زاویہ کو دیکھتے ہیں۔ جب اس عمارت کے دوسرے زاویہ کو دیکھنا ہوتا ہے تو چند قدم چل کے اور کچھ فاصلہ طے کر کے ایسی جگہ کھڑے ہوتے ہیں جہاں سے عمارت کے دوسرے رخ پر نظر پڑتی ہے اور فاصلہ طے کرنے میں تھوڑا سا وقفہ بھی صرف ہوا۔ اس طرح نظر کا ایک زاویہ بنانے کے لئے مکانیت اور زمانیت دونوں وقوع میں آئیں۔ ذرا وضاحت سے اس ہی مسئلہ کو یوں بیان کر سکتے ہیں کہ جب ایک شخص لندن ٹاور کو دیکھنا چاہے تو کراچی سے سفر کر کے اسے لندن پہنچنا پڑے گا۔ ایسا کرنے میں اس کو ہزاروں میل کی مکانیت اور کئی دنوں کا زمانہ لگانا پڑا۔ اب نگاہ کا وہ زاویہ بنا جس سے لندن ٹاور دیکھا جا سکتا ہے۔ مقصد صرف نگاہ کا وہ زاویہ بنانا تھا جو لندن ٹاور کو دکھا سکے۔ یہ انسان کی ذات کے خارجی حصے کا زاویہ نگاہ ہے۔
اس زاویہ میں مکانیت اور زمانیت استعمال ہونے سے کثرت پیدا ہو گئی۔ اگر ذات کے داخلی زاویۂ نگاہ سے کام لینا ہو تو ہم اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے ذہن میں لندن ٹاور کا تصور کر سکتے ہیں۔ تصور کرنے میں جو نگاہ استعمال ہوتی ہے وہ اپنی ناتوانی کی وجہ سے ایک دھندلا سا خاکہ دکھاتی ہے۔ لیکن وہ زاویہ ضرور بنا دیتی ہے جو ایک طویل سفر کر کے لندن ٹاور تک پہنچنے کے بعد ٹاور کو دیکھنے میں بنتا ہے۔ اگر کسی طرح نگاہ کی ناتوانی دور ہو جائے تو زاویۂ نگاہ کا دھندلا خاکہ روشن اور واضح نظارے کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے اور دیکھنے کا مقصد بالکل اس ہی طرح پورا ہو جائے گا جو سفر کی جدوجہد اور سفر کے بہت سے وسائل استعمال کرنے کے بعد پورا ہوتا ہے۔ اصل چیز زاویۂ نگاہ کا حصول ہے جس طرح بھی ممکن ہو۔
یہ واضح ہو گیا کہ ایک انسان کی روح نفسہٖ جزولاتجزاء ہے۔ ہر انسان زاویۂ نگاہ کے تحت اپنی ذات میں پوری کائنات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس کائنات کا جو خود بھی جزولاتجزاء کی حیثیت رکھتی ہے۔ ذات کا داخلی حصہ وحدت اور ذات کا خارجی حصہ کثرت ہے۔ وحدت وہ حصہ ہے جس میں مکانیت ہے نہ زمانیت، صرف شاہد اور مشہود اور مشاہدہ۔ یعنی احساس کے تین حصوں کی موجودگی پائی جاتی ہے اور ذات کی خارجی حصہ میں محض اس احساس کا عکس ہے جس کا نام کثرت رکھ لیا گیا ہے۔ یہ عکس مکانیت اور زمانیت دونوں کو احاطہ کرنے کے بعد احساس کو ٹھوس شکل میں پیش کرتا ہے۔ جیسے ہی انسان ایک سمت میں چلا گیا اور ذرا سا وقفہ گزرا، اس نے اپنے احساس میں ایک دباؤ سا محسوس کیا، فوراً احساس کے ٹکڑے ہوتے چلے گئے۔ وہ سوچنے لگا، وہ دیکھنے لگا، سننے لگا، سونگھنے لگا اور چھونے لگا۔ یہ احساس بھی جو شاہد کی حیثیت میں سب کچھ کر رہا ہے جزو لاتجزاء ہے۔ مشہود کی حیثیت میں جو کچھ بھی محسوس ہو رہا ہے وہ بھی جزولاتجزاء ہے اور مشاہدہ کی حیثیت میں جو شاہد اور مشہود کا درمیانی واسطہ ہے وہ بھی جزولاتجزاء ہے۔ یہ ہے کُنہِ احساس اور وحدت و کثرت کی حقیقت۔

احساس کی درجہ بندی

ہر انسان جزو لاتجزاء ہے اور فی نفسہٖ احساس کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کو جب ہم حرکت کا نام دینا چاہیں گے تو نگاہ کہیں گے۔
آدمی دید است باقی پوست است
دید آں باشد کہ دیدِ دوست است
(رُومی)
اس شعر میں مولانا روم نے انسان کا تذکرہ کیا ہے جو وحدت میں بمنزلۂ احساس ہے اور کثرت میں بمنزلۂ نگاہ ہے۔
مثال:
ہم ایک قدآدم آئینہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور اپنا عکس دیکھتے ہیں۔ اس وقت کہتے ہیں کہ ہم آئینہ میں اپنی صورت دیکھ رہے ہیں۔ دراصل یہ طرز کلام بالواسطہ ہے، براہ راست نہیں۔ جب ہم اس ہی بات کو براہ راست کہنا چاہیں گے تو کہیں گے آئینہ ہمیں دیکھ رہا ہے یا ہم اس چیز کو دیکھ رہے ہیں جس چیز کو آئینہ دیکھ رہا ہے، یعنی ہم آئینہ کے دیکھنے کو دیکھ رہے ہیں۔
یہ ہوئی براہ راست طرز کلام۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ جب ہم کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو پہلے ہمارے ذہن میں اس کا تصور ہوتا ہے۔
وسرے درجہ میں ہم اس چیز کو اپنی آنکھ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اگر ہم نے اس چیز کے بارے میں کبھی کوئی خیال نہیں کیا یا کبھی نہیں سوچا ہے یا ہمیں کبھی اس چیز کا علم حاصل نہیں ہوا تو ہم اس چیز کو نہیں دیکھ سکتے۔

مثال:

کسی شخص کا ایک ہاتھ فالج زدہ ہے اور خشک ہو چکا ہے۔ ہم اس کے ہاتھ میں نشتر چبھو کر سوال کرتے ہیں۔ ’’بتاؤ! تمہارے فالج زدہ ہاتھ کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟‘‘
تو وہ جواب دیتا ہے۔ ’’مجھے معلوم نہیں۔‘‘
اس نے نفی میں جواب کیوں دیا؟
اس لئے کہ نشتر کی چبھن اس نے محسوس نہیں کی۔ یعنی اسے نشتر چبھونے کا علم نہیں ہوا جو احساس کا پہلا درجہ ہوتا۔ وہ اس حالت میں نشتر چبھونے کا عمل دیکھ سکتا تھا اگر اس کی آنکھیں کھلی ہوتیں۔ یہاں اس کی نگاہ اس کے ذہن کو نشتر چبھونے کا علم دے سکتی تھی۔
چنانچہ ہر حال میں یہی علم نگاہ کا پہلا درجہ ہوتا ہے۔
انسان کو سب سے پہلے کسی چیز کا علم حاصل ہوتا ہے۔ یہ احساس کا پہلا درجہ ہے۔ پھر اس چیز کو دیکھتا ہے، یہ احساس کا دوسرا درجہ ہے۔
پھر اس کو سنتا ہے ، یہ احساس کا تیسرا درجہ ہے۔ پھر وہ اس چیز کو سونگھتا ہے یہ احساس کا چوتھا درجہ ہے۔ پھر وہ اس کو چھوتا ہے یہ احساس کا پانچواں درجہ ہے۔ فی الواقع احساس کا صحیح نام نگاہ ہے اور اس کے پانچ درجے ہیں۔ پہلے درجے میں اس کا نام خیال ہے۔ دوسرے درجے میں اس کا نام نگاہ ہے۔ تیسرے درجے میں اس کا نام سماعت ہے، چوتھے درجے میں اس کا نام شامہ ہے اور پانچویں درجہ میں اس کا نام لمس ہے۔
یہ درجہ علم کی ایک اضافی شکل ہے۔ خیال اپنے درجے میں ابتدائی علم تھا۔ نگاہ اپنے درجے میں ایک اضافی علم ہو گئی۔ سماعت اپنے درجے میں ایک تفصیلی علم بن گئی اور شامہ اپنے درجے میں ایک توسیعی علم ہو گیا۔ آخر میں لمس اپنے درجے میں ایک محسوساتی علم بن گیا۔ اولیت صرف علم کو حاصل ہے جو دراصل نگاہ ہے۔ ہر حس اس ہی کی درجہ بندی ہے۔ ہم نگاہ کا مفہوم پوری طرح واضح کر چکے ہیں۔ اب اس کے زاویے اور حقیقت بیان کریں گے۔


وحدتُ الوجُود اور وحدتُ الشّہود

نگاہ دو طرح دیکھتی ہے۔۔۔۔۔۔ ایک براہ راست، دوسرے بالواسطہ۔ آئینہ کی مثال اوپر آ چکی ہے۔ جب ہم اپنی ذات یعنی داخل میں دیکھتے ہیں تو یہ نگاہ کا براہ راست دیکھنا ہے۔ یہ دیکھنا ’’جُو‘‘ یعنی وحدت میں دیکھنا ہے۔ وحدت میں دیکھنے والی یہی نگاہ انسان، امر ربی، روح یا جزولاتجزاء ہے۔ یہی نگاہ شاہد کو مشہود سے قریب کرتی ہے۔ یہی نگاہ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْد کا انکشاف کرتی ہے۔ یہی نگاہ اپنی جگہ علم الٰہی یا علم توحید ہے۔ یہی نگاہ کثرت میں اضافی، تفصیلی، توسیعی اور محسوساتی طبیعت بنتی ہے۔ اس کی پہلی حرکت علم توحید یا وحدت الوجود ہے۔ اس ہی نگاہ کی دوسری، تیسری، چوتھی اور پانچویں حرکت کثرت یا وحدت الشہود ہے۔ یہی نگاہ جب بالواسطہ دیکھتی ہے تو مکانیت اور زمانیت کی تعمیر کرتی ہے۔ اس کی حرکات میں جیسے جیسے تبدیلی ہوتی ہے ویسے ویسے کثرت کے درجے تخلیق ہوتے جاتے ہیں۔ یہ نگاہ تنزل اول کی حیثیت میں شعور قوت نظارہ، گفتار، شامہ اور لمس بنتی ہے۔
ہر تنزل میں اس کے دو جزو ہوتے ہیں۔ یہ نگاہ حرکت میں آنے سے پہلے تنزل اول میں علم اور علیم اور حرکت میں آنے کے بعد تنزل دوئم میں شعور، تنزل سوئم میں نگاہ اور تشکیل، تنزل چہارم میں گفتار اور سماعت، تنزل پنجم میں رنگینی اور احساس، تنزل ششم میں کشش اور لمس ہوتی ہے۔
تنزل اول وحدت کا ایک درجہ ہے اور تنزل دوئم کثرت کے پانچ درجے ہیں۔ اس طرح تنزلات کی تعداد چھ ہو گئی۔ پہلا تنزل لطیفۂ وحدت ، دوسرے پانچ تنزل لطائف کثرت کہلاتے ہیں۔ جزولاتجزاء، انسان یا روح کی ساخت یہاں سے منکشف ہو جاتی ہے۔
اول ذات باری تعالیٰ ہے اور باری تعالیٰ کا ذہن علم واجب کہلاتا ہے۔ واجب میں کائنات کا وجود اللہ تعالیٰ کے ارادے کے تحت موجود تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس کا مظاہرہ پسند فرمایا تو حکم دیا ’’کُن‘‘ یعنی حرکت میں آ۔ چنانچہ بشکل کائنات واجب میں جو کچھ موجود تھا اس نے پہلی کروٹ بدلی اور حرکت شروع ہو گئی۔ پہلی حرکت یہ تھی کہ موجودات کے ہر فرد کو اپنا ادراک ہو گیا۔ موجودات کے ہر فرد کی فکر میں یہ بات آئی کہ میں ہوں۔ یہ انداز فکر ایک گم شدگی اور محویت کا عالم تھا۔ ہر فرد ناپیدا کنار دریائے توحید کے اندرغوطہ زن تھا۔ ہر فرد کو صرف اتنا احساس تھا کہ میں ہوں۔ کہاں ہوں، کیا ہوں اور کس طرح ہوں اس کا کوئی احساس اسے نہیں تھا، اس ہی عالم کو عالم وحدت الوجود کہتے ہیں۔ اس عالم کو اہل تصوف محض وحدت کا نام بھی دیتے ہیں۔ یہ وحدت، وحدت باری تعالیٰ ہرگز نہیں ہے کیونکہ باری تعالیٰ کی کسی صفت کو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ یہ وحدت ذہن انسانی کی اپنی ایک اختراع ہے جو صرف انسان کے محدود دائرۂ فکر کا مظاہرہ کرتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے کسی لامحدود وصف کو صحیح طور پر بتانے سے قطعی کوتاہ اور قاصر ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ کسی لفظ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی صفت کا مکمل اظہار ہو سکے۔
اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ’’وحدت‘‘ فکر انسانی کی اپنی ایک اختراع ہونے کی حیثیت میں زیادہ سے زیادہ فکر انسانی کے علو اور وسعت کو بیان کرتی ہے۔ جب کوئی انسان لفظ وحدت استعمال کرتا ہے تو اس کے معنی بس یہی نکلتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی یکتائی کو یہاں تک سمجھا ہے۔ بالفاظ دیگر لفظ وحدت کا مفہوم انسان کی اپنی حد فکر تک محدود ہے۔ اس محدودیت ہی کو انسان لامحدودیت کا نام دیتا ہے۔ فی الواقع اللہ تعالیٰ اس قسم کی توصیفی حدوں سے بہت ارفع و اعلیٰ ہیں۔ جب ہم وحدت کہتے ہیں تو فی الحقیقت اپنی ہی وحدت فکر کا تذکرہ کرتے ہیں۔ اس ہی مقام سے عالم وحدت الوجود کے بعد عالم وحدت الشہود کا آغاز ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ روحوں سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں:
اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ (کیا میں نہیں ہوں رب تمہارا؟)
یہاں سے انسان یا امر ربی کی نگاہ وجود میں آ جاتی ہے۔وہ دیکھتا ہے کسی نے مجھے مخاطب اور مخاطب پر اس کی نگاہ پڑتی ہے۔ وہ کہتا ہے بَلٰی۔۔۔۔۔۔جی ہاں، مجھے آپ کی ربانیت کا اعتراف ہے اور میں آپ کو پہچانتا ہوں (قرآن)۔
یہ ہے وہ مقام جہاں امر ربی نے دوسری حرکت کی۔ یا دوسری کروٹ لی۔ اس ہی مقام پر وہ کثرت سے متعارف ہوا۔ اس نے دیکھا کہ میرے سوا اور بھی مخلوق ہے کیونکہ مخلوق کے ہجوم کا شہود اسے حاصل ہو چکا تھا، اسے دیکھنے والی نگاہ مل چکی تھی۔ یہ واجب کا دوسرا تنزل ہوا۔ اس تنزل کی حدود میں انسان نے اپنے وجود کی گہرائی کا احساس اور دوسری مخلوق کی موجودگی کا شہود پیدا کیا۔ پہلے تنزل کی حیثیت علم اور علیم کی تھی یعنی انسان کو صرف اپنے ہونے کا ادراک ہوا تھا۔
میں ہوں۔۔۔۔۔۔’’میں‘‘ علیم اور ’’ہوں‘‘ علم ہے۔ دوسرے تنزل میں گم شدگی کی حد سے آگے بڑھا تو اس نے خود کو دیکھا اور دوسروں کو بھی دیکھا۔ اس ہی کو عالم وحدت الشہود کہتے ہیں۔ پہلے تنزل کو جو محض ادراک تھا جب احساس کی گہرائی حاصل ہوئی تو نگاہ وجود میں آ گئی۔ نگاہ ادراک کی گہرائی کا دوسرا نام ہے۔
========================================================================

========================================================================

خواب کی تعبیر 


چاند کی ملکہ

سید نثار علی بخاری۔ کاشانۂ بخاری،
12/2 لیاقت آباد ،کراچی
میں نے خواب میں دیکھا کہ میں چند احباب کے ساتھ ہاتھی کے بچوں کے شکار کے لئے جنگل میں پہنچا۔ وہاں قد آدم خشک گھاس دیکھی۔ یہ رائے قرار پائی کہ اس گھاس میں ایک گہرا گڑھا کھودا جائے اور اس گڑھے کو پتلی پتلی لکڑیوں سے پاٹ کہ اوپر خشک گھاس جمادی جائے۔ اس طرف جب ہاتھی معہ بچوں کے آئیں گے اور اس گڑھے پر سے گزریں گے تو وہ گڑھے میں گر جائیں گے اور ہم لوگ آسانی سے اُنہیں پکڑلیں گے۔ چنانچہ اس پر عمل کیا گیا اور بہت سے ہاتھی آنے کے بجائے ایک ہاتھی نہایت قوی البحثہ ہم لوگوں کی طرف دوڑتا ہوا آیا اور ہم لوگ خوفزدہ ہو کر جس کے جس طرف سینگ سمائے اس طرف منتشر ہوگئے۔
میں نے یہ دیکھا کہ وہ ہاتھی سب کو چھوڑ کر میرے ہی پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔ میں اس سے بچنے کے لئے کسی پناہ گاہ کو تلاش کرنے لگا اس سراسیمگی کی حالت میں مجھے ایک قلعہ نظر آیا۔ لیکن اس قلعہ کا دروازہ چاروں طرف طواف کرنے کے باوجود نظر نہیں آیا اور ہاتھی میرا تعاقب کرتا ہی رہا۔ اس بدحواسی میں، میں کیا دیکھتا ہوں کہ قلعہ کی دیوار پر کشتی نما ہلال نظر آیا اور اس کشتی نما ہلال کے اندرایک حسین دوشیزہ تاجپوش کا چہرہ دکھائی دیا۔ میں نے اس حسینہ سے درخواست کی۔۔۔۔۔ مجھے اس ہاتھی سے بچاؤ اور قلعہ کا راستہ بتاؤ تا کہ میں اندر آسکوں۔۔۔۔۔ ابھی اس حسینہ نے میری التجا کا کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ قلعہ کی دیوار شق ہوئی اور میں قلعہ کے اندر داخل ہوگیا۔ مُڑکر دیوار کو دیکھا تو جو شگاف پڑا تھا وہ بند ہوگیا اور دیوار بدستور سابق ہوگئی۔ لیکن قلعہ کے اندر کوئی عمارت نظر نہیں آئی اور میں یہ سوچنے لگا کہ اس قلعہ سے باہر کس طرح جاؤں گا۔ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ قلعہ کے ایک گوشہ میں ایک سہ دری نظر آئی اور اس سہ دری میں ایک نہایت شاندار مسہری جس پر مچھر دانی پڑی ہوئی تھی نظر آئی۔ میں اس مسہری کے قریب پہنچا تو مسہری کے اندر ایک انسانی ہیولیٰ بحالتِ خواب نظر آیا۔ اُس کے جگانے کو بے ادبی اور اپنے کو اجنبی خیال کرتے ہوئے اس خوابیدہ ہیولیٰ کے بیدار ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ ابھی انتظار کر ہی رہا تھا کہ یکایک وہ خوابیدہ ہیولیٰ خواب سے بیدار ہوا اور میری نظر کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ یہ ہیولیٰ وہی چاند کی حسینہ تھی۔ اس نے مجھ سے سوال کیا کہ تم یہاں کیوں آئے؟۔۔۔۔۔ میں نے جواب میں سارا واقعہ عرض کردیا۔ اس پر اس حسینہ نے درشت لہجہ میں کہا تو نہیں جانتا ہم ملکہ ہلال ہیں اور یہ ہمارا قلعہ ہے۔ یہاں کوئی انسان نہیں آسکتا۔ اب تو یہاں آنے کی سزا بھگتے گا اور سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوجا اور یہ کہہ کر اس حسینہ نے دستک دی جس پر اس سہ دری کے ایک گوشے میں ایک دروازہ نمو دار ہوا اور اُس دروازے سے دور بہت ہیبت ناک خونخوار آدمی برآمد ہوئے اور ملکہ ہلال نے ان کو حکم دیا کہ اس آدم زاد کو گرفتار کر کے لے جاؤ اور اس کی گردن ماردو۔ اس حکم کے سنتے ہی میرے جسم پر کپکپی طاری ہوگئی میں نے ہر چند منت و سماجت و گریہ و زاری کی مگر ملکہ ہلال کو رحم نہ آیا اور وہ دونوں جلّاد آدمی مجھے پکڑ کر کشاں کشاں کھینچتے ہوئے ایک مقتل میں لے گئے۔ ایک بڑی سی لکڑی پر جیسی کہ قصاب کی دکان پر گوشت کاٹنے کی ہوتی ہے ۔ اس پر میری گردن رکھ کر تیز دھار چوڑی تلوار مارنا ہی چاہتے تھے کہ ایک کنیز حاضر ہوئی اور اس نے میری گردن مارنے سے روک کر ملکہ ہلال کا دوسرا حکم سنایا کہ پہلے اس شخص کو کھانا کھلادیا جائے اس کے بعد اس کو قتل کیا جائے۔ چنانچہ دونوں جلّاد مجھے ایک دوسرے کمرے میں لے گئے۔ اس کمرے میں ایک پُرتکلف مخملی فرش پر دستر خوان بچھا ہوا تھا اور سامنے کی طرف ایک زربغت کا آسن اور ایک تکیہ رکھا ہوا تھا۔ مجھے کمرے میں لے جا کر کھڑا کردیا گیا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے دیکھا کہ پندرہ سالہ کنیزیں مرصع لباس پہنے ہوئے کمرے میں داخل ہوئیں اور اپنے منصب کے مطابق دستر خوان پر بیٹھ گئیں اور آخر میں وہی ملکہ ہلال تشریف لائی اور اپنی مخصوص جگہ یعنی آسن پر تکیہ لگا کر بڑے شاہانہ دبدبے کے ساتھ بیٹھ گئی۔ اس کے بعد دسترخوان انواع و اقسام کے کھانوں سے پُر کردیا گیا۔

خواب میں سونگھی ہوئی خوشبو  بیداری میں محسوس کی

ملکہ ہلال نے کھانا پہلے شروع کر کے حکم دیا کہ آپ سب بھی کھانا کھائیں اور میری طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ تم بھی ہمارے ساتھ کھانے میں شریک ہو۔ چنانچہ تعمیلاً میں نے بھی کھانا نوش کیا۔ کھانے سے فارغ ہونے پر ابھی کوئی حکم تعزیری میرے لئے ملکہ ہلال نے صادر نہیں کیا تھا کہ خواب سے میری آنکھ کھل گئی۔
بڑی حیرت کی بات ہے کہ جب میں نے اپنا ہاتھ سونگھا تو مجھے کھانے کی نہایت لطیف خوشبو اپنے ہاتھ سے محسوس ہوئی۔ اس عجیب خوشبو کو میں کسی دنیاوی خوشبو سے مثال نہیں دے سکتا۔
زندگی میں، میں نے سینکڑوں خواب دیکھے ہیں مگر وہ سب نقش بر آب ثابت ہوئے اور میرے حافظہ میں محفوظ نہ رہ سکے۔ لیکن اس خواب کو میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔ اپنی دانست میں ایسے بہت سے حضرات سے اس خواب کا ذکر کیا کہ جو تعبیر بتا سکتے تھے مگر ہر شخص نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ خواب بہت اچھا ہے۔ تعبیر آج تک معلوم نہیں ہوسکی۔ آپ ہی کچھ روشنی ڈالئے آپ میرے خواب کی تعبیر سے مطلع فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔

خواب کی تعبیر

بزرگوار جناب بخاری صاحب!۔۔۔۔۔ آپ کا نہایت دلچسپ خواب پڑھا۔ خواب میں دیکھی ہوئی کہانی نما حالت کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ جس زمانے میں آپ نے یہ خواب دیکھا وہ زمانہ آپ کی بھرپور جوانی کا زمانہ ہے۔
اس خواب میں آپ کی جوانی کے خوبصورت تصورات، زندگی کے ولولے اور اپنے لئے چاند کی شہزادی کی طرح حسین اور بلوریں جسم رفیقۂ حیات کی تلاش اور ساتھ ہی حالات کے نا مساعد ہونے کی وجہ سے جبراً محرومی کے احساسات ایک دوسرے کے ساتھ گڈمڈ ہوگئے ہیں۔
خواب کی پوری فلم میں ایک تصویر یہ بھی نظر آتی ہے (جس کو آپ لکھنا بھول گئے یا پھر آپ کے حافظہ میں محفوظ نہیں رہی) کہ اس زمانہ میں طلسم ہوشربا یا اسی قبیل کی کوئی کتاب آپ کے مطالعہ میں رہی ہے۔ عرض ہے کہ میں نے اس قسم کی کوئی کتاب نہیں پڑی ہے۔سنا ہے کہ ان کتابوں میں بڑی عجیب کہانیاں بیان کی گئی ہیں۔ بالکل قرین قیاس ہے کہ آپ کی دیکھی ہوئی کہانی جو آپ نے خواب میں دیکھی ہے، من و عن یا معمولی ردّو بدل کے ساتھ طلسم، ہوشربا یا اسی قسم و قبیل کی کتابوں میں مل جائے۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ کہانی آپ کے حافظہ میں نقش ہوگئی اور آپ کے حافظہ نے اس کو خواب میں دُہرادیا اور ذہن نے اپنے محروم تصورات کو تسکین دینے کے لئے کہانی کے ہیرو کی جگہ آپ کی صورت پیش کردی۔ اس خواب سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آپ جوانی کے تصورات کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہے ہیں اور مجرو زندگی آپ کی قسمت بن گئی ہے۔
اس خواب میں ایک بات غور طلب ہے۔ خواب سے بیدار ہونے کے بعد اپنا ہاتھ سونگھا تو کھانے کی نہایت لطیف خوشبو آپ نے محسوس کی۔

علمی توجیہہ

بیداری اور خواب میں کام کرنے والے حواس الگ الگ اور جدا گانہ حیثیت نہیں رکھتے۔ چونکہ آپ کا ذہن مسلسل ایک کیفیت میں ایک نقطہ پر مرکوز رہا ہے اس لئے لاشعوری حرکات شعور کے اندر جذب ہوگئیں۔ کیونکہ شعور کئی گھنٹے لاشعوری کیفیات میں دلچسپی لیتا رہا ہے اس لئے لاشعور کی سونگھی ہوئی خوشبو کو شعور نے محسوس کرلیا۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے۔ جیسے ایک ڈراؤنا خواب دیکھ کر کسی آدمی کے اوپر ڈر اور خوف کے اثرات اسی طرح مسلّط ہوجاتے ہیں جس طرح آدمی بیداری میں خوف زدہ ہو کر شعوری طور پر متاثر ہوجاتا ہے یا کوئی مسرور کن خواب دیکھ کر کوئی آدمی بعض اوقات پورا پورا دن اپنے اندر مسرت اور خوشی کے فوارے اُبلتے ہوئے محسوس کرتا ہے یا کسی آدمی کو خواب دیکھ کر نہانے اور غسل کرنے کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔

لوح محفوظ کا قانون

لوحِ محفوظ کا قانون یہ ہے کہ آدمی یا کوئی بھی ذی روح جب بیدار ہوجاتا ہے تو اس کے اندر لاشعوری تحریکات مغلوب ہوجاتی ہیں۔ (ختم نہیں ہوتیں) اور جب کوئی ذی روح یا آدمی سو جاتا ہے تو اس کے اندر کام کرنے والا شعور مغلوب ہوجاتا ہے (یہ بھی ختم نہیں ہوجاتا)۔۔۔۔۔ کہنا یہ ہے کہ خواب یا سونے کی حالت میں لاشعور غالب ہوتا اور شعور مغلوب ہوجاتا ہے اور بیداری کی حالت میں شعور غالب ہوتا ہے اور لاشعور مغلوب ہوجاتا ہے۔
بیداری میں کئے ہوئے اعمال اور دیکھے ہوئے واقعات میں اگر شعور کے ساتھ لاشعوری تحریکات برابر کی شریک ہوں تو یہ واقعات اور اعمال یاد رہتے ہیں ورنہ بھول کے خانے میں جاپڑتے ہیں۔ اسی طرح خواب میں دیکھے ہوئے واقعات یا کئے ہوئے اعمال میں لاشعور کے ساتھ شعور بھی برابر کی دلچسپی رکھتا ہو تو یہ خواب یاد رہتا ہے ورنہ نظر انداز ہوجاتا ہے، یا بھول بھلیاں بن کر انسان کے حافظہ میں نقش ہوجاتا ہے۔ جس کا بظاہر کوئی سر پیر نہیں ہوتا اور آدمی اس میں ترتیب نہ ہونے کی وجہ سے اس کے مفہوم سے قاصر رہ جاتا ہے۔
خواب سے بیدار ہونے کے بعد بھی کھانے کی خوشبو محسوس کرنا اس بات کی علامت ہے کہ اس خواب میں آپ کے لاشعوری کیفیات کے ساتھ آپ کا شعور برابر کا شریک رہا ہے۔ اگر کسی وجہ سے شعوری کیفیات اس خواب میں لاشعور سے مغلوب ہوجاتی ہیں۔ تو اس کے نتائج نہایت تلخ ہوتے اور خدا نخواستہ آپ کی زندگی مستقل عذاب بن کر رہ جاتی۔ دماغ اور ذہن پر دہشت اور خوف کا تہہ در تہہ دبیز پردہ پڑجاتا۔ اﷲتعالیٰ کا شکر ہے کہ اﷲتعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔خواب ہماری زندگی کا حصہ ہے جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسان کے اندر ایسے حواس بھی کام کرتے ہیں جن کے ذریعے انسان کے اوپر غیب کا انکشاف ہو جاتا ہے۔

========================================================================
یہ اس ماہ کے ڈائجسٹ کے محض چند تعارفی صفحات ہیں۔
کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت اس ڈائجسٹ کے مضامین  بلا اجازت شائع نہیں کیے جاسکتے۔
 مضمون کا کوئی حصہ کسی کتاب میں شامل یا انٹر نیٹ پر شئیر کرتے ہوئے روحانی ڈائجسٹ کا حوالہ ضرور تحریر کریں۔ 
 
========================================================================




Like us On Facebook

Powr