Breaking

جون 1979ء

Views
جون 1979ء کے شمارے کا  سرورق


جون 1979ء (بمطابق رجب 1399ھ) میں روحانی ڈائجسٹ کا ساتواں شمارہ شائع ہوا۔ سرورق پر آتشِ نمرود کے گُل گلزار ہونے کے منظر کو اس شعر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
اس شمارے کا آغاز ’’انوار الٰہی انوارِ رسالتؐ‘‘ کے سلسلہ سے ہوا جس میں اﷲتعالیٰ کے فرمان اور سیدنا حضور اکرمﷺ کے ارشادات کی روشنی میں ماں کی عظمت کا بیان اور والدین سے بھلائی کا درس دیا گیا۔ رباعیات قلندر بابا اولیائؒ کے بعد خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کا اداریہ ’’آوازدوست‘‘ شامل اشاعت ہے، جس میں محبت اور نفرت کے مابین فرق کو واضح کیا گیا اور نفرت سے پیدا ہونے والے امراض، محبت کے ذریعہ ملنے والے اطمینانِ قلب اور پُرسکون زندگی پر روشنی ڈالی گئی۔ 
اس کے بعد روحانی واردات اور کیفیات پر مبنی مقبولِ عام سلسلہ ’’واردات‘‘ پیش کیا گیا۔سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے عرس مبارک کی مناسبت سے سہیل احمد کا مضمون ’’اٹھارہ ہزار عالم اس وقت میری نگاہوں کے سامنے ہیں‘‘ شائع ہوا جس میں خواجہ غریب نوازؒ کے حالاتِ زندگی اور کرامات کو روحانی اور علمی توجیہات کے ساتھ پیش کیا گیا۔ محمد صادق قصوری نے ’’تاریخ سلسلۂ چشت‘‘ کے عنوان سے ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ کی آمد، سلسلہ چشتیہ کا شجرہ طریقت اور خواجہ معین الدین چشتی  ؒ کی بدولت اس کے فروغ کے بارے میں مختصر مضمون تحریر کیا۔ راشدہ عفت کے مضمون ’’روحانی علاج‘‘ میں خواجہ خواجگان چشت غریب نوازؒ کے بتائے ہوئے اورادو  وظائف کو مرتب کیا گیا۔ اس کے علاوہ حضرت خواجہ غریب نوازؒ  کی عقیدت میں فصیح الملک داغ دہلوی اور  راجہ رشید محمود کی مناقب بھی اس شمارے کی زینت ہیں۔
دیگر مضامین میں حیات بعد از موت کے موضوع پر لکھی گئی ڈاکٹر ریمنڈ موڈی کی مشہور کتاب لائف آفٹر لائف ''Life After Life'' کی تلخیص ’’زندگی۔ موت کے بعد‘‘ کے عنوان سے پیش کی گئی، ترجمہ رفیع نواب اصغر نے کیا۔ جس میں موت کی کیفیت سے دوچار ہونے والے مختلف افراد کے مشاہدات اور تجربات کو یکجا کیا گیا۔ قرآن میں موجود ایٹم بم کے متعلق پیشین گوئی پر محمد یوسف جبریل کا مضمون ’’ایٹم بم اور قرآن‘‘ شائع ہوا۔ انوار احمد کی تحریر کردہ سچی اور ناقابلِ فراموش آپ بیتی ’’زلزلہ اور فقیر‘‘ بھی اس شمارے کی اشاعت میں شامل تھی۔ اس کے علاوہ خربوزہ اور تربوز کی طبی افادیت کے موضوع پر حکیم عبدالحمید ہاشمی کا مضمون ’’موسمی پھل‘‘ بھی شائع ہواتھا۔
قسط وار سلسلوں میں ٹالسٹائی کے ناول ’’بڈھا شیطان ‘‘ کی دوسری اور آخری قسط شائع ہوئی۔ جس کا ترجمہ ناہید احمد نے کیا۔ قلندر بابا اولیائؒ کی تصنیف لوح و قلم اور صادق الاسرار کی تحریر کردہ پراسرار کہانی ’’پراسرار ہیولہ‘‘ کی اگلی اقساط شائع ہوئیں۔ دیگر مستقل سلسلوں میں خواب اور تعبیر، محفلِ مراقبہ، آپ کے مسائل اور ٹیلی پیتھی سیکھئے بھی اس شمارے میں شامل تھے۔ 


========================================================================
مضامینلکھاریموضوع
انوارِ الٰہی------
انوارِ رسول------
رباعیاتقلندر بابا اولیاء ---
آوازِ دوستمدیرِ اعلیٰ---
وارداتادارہ---
لوح و قلمقلندر بابا اولیاء---
اٹھارہ ہزار عالم سہیل احمدخواجہ غریب نواز ؒ
تاریخ سلسلۂ چشتمحمد صادق قسوری---
روحانی علاجراشدہ عفتخواجہ معین الدین چشتی کا فیض 
زندگی موت کے بعدرضیہ نواب اصغرریمنڈ موڈی کی کتاب لائف آفٹر ڈیتھ کی تلخیص
زلزلہ اور فقیرانوار احمدواقعہ
ایٹم بم اور قرآنمحمد یوسف جبریل---
موسمی پھلحکیم عبدالحمید ہاشمی---
خواب کی تعبیرخواجہ شمس الدین عظیمی---
محفلِ مراقبہاحمد جمال عظیمی---
بۃڈھا شیطانناہید احمدلیوٹالسٹائی ۔ عالمی ادب سے ترجمہ
پراسرار ہیولا (6)سادق الاسرار---
آپ کے مسائلخواجہ شمس الدین عظیمی---
ٹیلی پیتھیادارہ---
---------
========================================================================

رباعیات

--
جو شاہ کئی ملک سے لیتے تھے خراج
معلوم نہیں کہاں ہیں ان کے سَر و تاج
البتہ یہ افواہ ہے عالم میں عظیم
اب تک ہیں غبارِ زرَد ان کی افواج
--
تو آج خُدارا کل کے بارے میں نہ سوچ
آے گی اجل اجل کے بارے میں نہ سوچ
رشتہ تو ہمارا ہے اَزل سے لیکن
پی اور پِلا اَزل کے بارے میں نہ سوچ
--
کُل عُمر گزر گئی اس پر ناشاد
افلاک نے ہر سانس کیا ہے برباد
شاید کی وہاں خوشی میسر ہوعظیم
یہ زیرِ زمیں بھی اک دُنیا آباد
--
ہَر ذرّہ ہے ایک خاص نمو کا پابند
سبزہ ہو صنوبر ہو کہ ہو سروِ بلند
اِنسان کی مٹی کے ہر اِک ذرّہ سے
جب ملتا ہے موقع تو نکلتے ہیں پرند
--


========================================================================

واردات



جنت کے باغوں میں ایسے درخت دیکھے جو نور سے مرکب سراپا نور نظر آئے۔ ایسے طوطئی مقال رنگ برنگے پرندے دیکھے جن کے پروں سے روشنی نکل رہی تھی۔ پھول ایسے جن میں کئی کئی رنگوں کا امتزاج، پھول کی پتی کا ہر رنگ ایک قمقمہ، خوشبو کا طوفان، لگتا ہے کہ کروڑوں روشنیوں کے رنگ رنگ قندیل روشن ہیں۔ 
ہوا چلتی ہے تو پوری فضا جلترنگ ہوجاتی ہے اور اونچے نیچے اور مدھم سروں میں ساز بجنے لگتے ہیں، سازوں میں اتنا کیف و سرور کہ آدمی وجدان سے معمور ہوجاتا ہے۔ باغوں میں دودھ اور شہد کی نہریں۔ پھل اس قدر شیریں اور خوش ذائقہ کہ انسان اُن کا ذائقہ چکھ لے تو اس کے اوپر نشہ طاری ہوجائے۔ 
مجھے وہ مقام بھی دکھایا گیا جہاں حضرت آدمؑ و حوّا سکونت پذیر تھے۔ وہ درخت بھی مشاہدہ میں آیا جس کے قریب جانے سے اﷲتعالیٰ نے منع فرمایا تھا۔ دل چاہتا ہے کہ اُس درخت کی تشریح بیان ہوجائے لیکن ہاتفِ غیبی مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ یہ بات نوعِ انسانی کے شعور کی سکت سے باہر ہے۔
جنت کی مسحور ومخمور فضا میں ہر طرف ہریالی، خوشنما پھل پھول، آبشاریں، نہریں، تالاب، حوض اور حوض میں کنول کی طرح کے پھولوں کی بہتات ہے۔ سماں ایسا جیسے بارش تھمنے کے بعد سورج غروب ہونے سے ہوتا ہے۔۔۔۔۔ القصہ مختصر میں ابھی محوِ حیرت تھا کہ حضور غریب نوازؒ نے ارشاد فرمایا:
’’کیا سمجھا، یہ سب کیا ہے؟‘‘۔۔۔۔
اب میں پھر روضۂ مقدس و مطہر کے اندر حضور خواجہ صاحبؒ کے سامنے مکمل عجز و انکساربنا بیٹھا تھا۔
سلطان العارفین حضور خواجہ صاحبؒ نے فرمایا ’’جو دیکھا ، کیا سمجھا؟‘‘۔۔۔۔۔
اور پھر قرآن کریم کی سورہ المطففین تلاوت کی، جس کا ترجمہ یہ ہے:
’’خرابی ہے ڈنڈی مارنے والوں کی، جن کا یہ حال ہے جب لوگوں سے ناپ لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے اور جب ان کو ناپ یا تول کر دیتے ہیں تو انہیں گھٹا کردیتے ہیں۔ کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن اُٹھاکر لائے جانے والے ہیں؟۔۔۔۔۔ اس دن جبکہ سب لوگ اﷲ ربالعالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ ہر گز نہیں یقینا بدکاروں کا نامۂ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ قید خانہ کا دفتر کیا ہے، ایک کتاب ہے لکھی ہوئی۔ تباہی ہے اس روز ان لوگوں کے لئے جو روزِ جزا کوجھٹلاتے ہیں اور روزِ جزا کو وہی لوگ جھٹلاتے ہیں جو حد سے تجاوز کرجانے والے بدعمل ہیں۔ انہیں جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں، یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں، ہرگز نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کے دلوں پر ان کے بُرے اعمال کا زنگ لگ گیا ہے، ہرگز نہیں، یقینا اس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے۔ پھر یہ جہنم میں جاپڑیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلادیا کرتے تھے۔ 
ہرگز نہیں۔۔۔۔۔ بے شک نیک آدمیوں کا نامۂ اعمال بلند پایہ لوگوں کے دفتر میں ہے، اور تجھ کو کیا خبر ہے کیا ہیں اوپر والے؟ایک کتاب ہے لکھی ہوئی۔ اس کو دیکھتے ہیں فرشتے نزدیک والے۔ بے شک نیک لوگ ہیں آرام میں اونچی مسند اور تختوں پر بیٹھے نظارہ کر رہے ہوں گے، ان کے چہروں پر تم آرام اور تازگی محسوس کرو گے۔ ان کو نفیس ترین شراب پلائی جائے گی جس پر مشک کی مہر لگی ہوئی ہوگی۔ جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانے کی کوشش کریں۔ اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی۔ یہ ایک چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے۔ مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اُڑاتے تھے۔ جب ان کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مار مار کر ان کی طرف اشارہ کرتے تھے، اپنے گھروں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے اور جب دیکھتے تو کہتے تھے یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں حالانکہ وہ ان کے اوپر نگراں بناکر نہیں بھیجے گئے تھے۔ آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں۔ مسندوںپر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں۔ اب بدلہ پایا منکروں نے جیسا کرتے تھے‘‘۔(پارہ 30، سورئہ 83)
اﷲ کے دوست سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وارث ، اولیاء اﷲ کے سردار حضور غریب نوازؒ نے قرآن کریم کی تلاوت کے بعد کہا ’’تو کیا سمجھا؟۔۔۔۔۔ ذہن پر زور ڈال اور تفکر کر‘‘۔۔۔۔۔
خواجہ صاحبؒ  کی زبان سے تلاوت قرآن پاک سن کر میرے اوپر سکتہ کی سی کیفیت تھی۔ میں کچھ بھی تو نہیں بول سکا۔۔۔۔۔ گُم صم، خاموش بیٹھا رہا۔
حضرت خواجہ غریب نوازؒ یوں گویا ہوئے:
’’تُو یہ بات جانتا ہے کہ زندگی دوسرے معنوں میں خبر ہے، مسلسل اور متواتر خبر!۔۔۔۔۔ ایسی خبر جو علم کی حیثیت رکھتی ہے‘‘۔۔۔۔۔ اور جب انہوں نے اس آیت تلاوت کی ’’اور ہم نے آدم کو اپنے اسماء کا علم سکھایا‘‘۔۔۔۔۔
 تو میں پھر شہود کے عالم میں چلاگیا۔ 
آدم کی تخلیق کس طرح ہوئی، کھنکھناتی بجتی مٹی کا مفہوم کیا ہے!۔۔۔۔۔ یہ سب اجزا کڑی در کڑی سامنے آگئے۔۔۔۔۔ 
مختصر یہ کہ آدم ایک خلاء ہے، ایسا خلا جو بجتا ہے اور جو چیز بجتی ہے وہ خبر یا علم ہے۔ 
اﷲتعالیٰ کو منظور ہوا تو کسی موقع پر آدم کی تخلیق کے فارمولے منظرِ عام پر آجائیں گے۔
قانون یہ ہے کہ جب کوئی بات سمجھائی جاتی ہے اور کوئی علم سکھایا جاتا ہے تو وہ بات یا علم ڈسپلے ہوتا ہے۔یعنی جب کوئی صاحبِ روحانیت ’’گیہوں‘‘ کہتا ہے تو ہمارے سامنے محض گندم کا دانہ ہی نہیں ہوتا  بلکہ گندم جن انوار اور روشنیوں سے بنا ہے پہلے وہ انوار  اور  روشنیاں سامنے آتی ہیں اور اگر یہ بتایا جائے کہ گندم زمین سے اُگتا ہے تو گندم کا یہ اُگنا اس طرح ڈسپلے ہوگا کہ:
’’گندم کے اندر  روشنیاں، گندم کو ہاتھ سے چھوڑا فضا میں جو روشنیاں اور گیسز ہیں وہ روشنیاں اور گندم کے اندر کام کرنے والی روشنیاں باہم دگرمل کر کیا کیفیت پیدا کرتی ہیں۔۔۔۔۔ یہ بات سامنے آجاتی ہے اور پھر جب گندم زمین پر گرتا ہے تو زمین کی ساخت، زمین کن انوار  و  روشنیوں اور گیسز سے مرکب ہے یہ سب چیزیں مشاہدہ میں آجاتی ہیں۔ پھر یہ بات علم بن جاتی ہے کہ گندم ذخیرہ ہے اپنی مقداروں کا، فضا میں پھیلی ہوئی کھربوں روشنیوں کا اور زمین کے اندر کام کرنے والی لہروں کا‘‘۔۔۔۔۔
خالقِ کائنات کے دوست، مقدس اور برگزیدہ ہستی، قبلۂ عالم حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے ہاتھ کا اشارہ کیا اور کہا ’’واپس جا اور تفکر کو اپنا شعار بنالے‘‘۔۔۔۔۔


========================================================================

لوح و قلم


پہلا جزو تجّلی ہے جو لطیفۂ اخفیٰ کے اندر نزول کرتا ہے۔
دوسرا جزو اس تجّلی کے وصف کی تشکیل ہے جو لطیفۂ قلبی میں نزول کرتا ہے۔ اور اس ہی جزو کا نام نگاہ ہے اور اس ہی جزو کی کئی حرکات کا نام جو یکے بعد دیگرے لطیفۂ قلبی ہی میں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ گفتار و سماعت، شامہ اور مشام ہیں۔ اب یہ شامہ اور مشام ایک مزید حرکت کے ذریعے رنگوں کے نقش و نگار بن کر لطیفۂ نفسی کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ لطیفۂ قلبی اور لطیفۂ نفسی کی یہی درمیانی کشش عمل یا نتیجہ ہے۔
اسی طرح روح تین حرکتیں کرتی ہے جو بیک وقت صادر ہوتی ہیں۔ پہلی حرکت کسی چیز کا جاننا جس کا نزول لطیفۂ اخفیٰ میں ہوتا ہے۔ دوسری حرکت محسوس کرنا جس کا نزول لطیفۂ سری میں ہوتا ہے۔ تیسری حرکت خواہش اور عمل جس کا نزول لطیفۂ قلبی اور لطیفۂ نفسی میں ہوتا ہے۔ ہر حرکت ثابتہ سے شروع ہو کر جویہ پر ختم ہو جاتی ہے۔ جیسے ہی ثابتہ کے لطیفۂ اخفیٰ میں جاننا وقوع پذیر ہوا لطیفۂ خفی نے اس کو ریکارڈ کر لیا۔ پھر جیسے ہی عین کے لطیفۂ سری میں محسوس کرنا وقوع پذیر ہوا، لطیفۂ روحی نے اس کو ریکارڈکر لیا۔ پھر جویہ کے لطیفۂ قلبی میں اس کا عمل وقوع پذیر ہوا اور لطیفۂ نفسی نے اس کو ریکارڈ کر لیا۔ ثابتہ نے جانا، اعیان نے محسوس کیا اور جویہ نے عمل کیا۔ یہ تینوں حرکات بیک وقت شروع ہوئیں اور بیک وقت ختم ہو گئیں۔ اس طرح زندگی لمحہ بہ لمحہ حرکت میں آتی رہی۔
فرد کی زندگی سے متعلق علم کی تمام تجلیاں ثابتہ میں، فکر کی تمام تجلیاں اعیان میں اور عمل کے تمام نقوش جویہ میں ریکارڈ ہیں۔ عام حالات میں ہماری نظر اس طرف کبھی نہیں جاتی کہ موجودات کے تمام اجسام اور افراد میں ایک مخفی رشتہ ہے۔ اس رشتہ کی تلاش سوائے اہل روحانیت کے اور کسی قسم کے اہل علم اور اہل فن نہیں کر سکتے حالانکہ اس ہی رشتہ پر کائنات کی زندگی کا انحصار ہے۔ یہی رشتہ تمام آسمانی اجرام اور اجرام کے بسنے والے ذی روح اور غیر ذی روح افراد میں ایک دوسرے کے تعارف کا باعث ہے۔
ہماری نگاہ جب کسی ستارے پر پڑتی ہے تو ہم اپنی نگاہ کے ذریعے ستارے کے بشریٰ کو محسوس کرتے ہیں۔ ستارے کا بشریٰ کبھی ہماری نگاہ کو اپنے نظارے سے نہیں روکتا۔ وہ کبھی نہیں کہتا کہ مجھے نہ دیکھو۔ اگر کوئی مخفی رشتہ موجود نہ ہوتا تو ہر ستارہ اور ہر آسمانی نظارہ ہماری زندگی کو قبول کرنے میں کوئی نہ کوئی رکاوٹ ضرور پیدا کرتا۔ یہی مخفی رشتہ کائنات کے پورے افراد کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کئے ہوئے ہے۔
یہاں اس حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے کہ تما کائنات ایک ہی ہستی کی ملکیت ہے۔ اگر کائنات کے مختلف اجسام مختلف ہستیوں کی ملکیت ہوتے تو یقیناً ایک دوسرے کی روشناسی میں تصادم پیدا ہو جاتا۔ ایک ہستی کی ملکیت دوسری ہستی کی ملکیت سے متعارف ہونا ہرگز پسند نہ کرتی۔ قرآن پاک نے اس ہی مالک ہستی کا تعارف لفظ اللہ سے کرایا ہے۔ اسمائے مقدسہ میں یہی لفظ اللہ اسم ذات ہے۔
اسم ذات مالکانہ حقوق رکھنے والی ہستی کا نام ہے اور اسم صفات قادرانہ حقوق رکھنے والی ہستی کا نام ہے۔ اوپر کی سطروں میں اللہ تعالیٰ کی دونوں صفات رحمت اور قدرت کا تذکرہ ہوا ہے۔ ہر اسم قادرانہ صفت رکھتا ہے اور اسم ذات مالکانہ یعنی خالقیت کے حقوق کا حامل ہے۔ اس کو تصوف کی زبان میں رحمت کہتے ہیں۔ چنانچہ ہر صفت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قادرانہ اور رحیمانہ وصف لازم آتا ہے یہی دواوصاف ہیں جو موجودات کے تمام افراد کے درمیان مخفی رشتہ کی حیثیت رکھتے ہیں یعنی سورج کی روشنی اہل زمین کی خدمت گزاری سے اس لئے نہیں انکار کر سکتی کہ اہل زمین اور سورج ایک ہی ہستی کی ملکیت ہیں۔ وہ ہستی مالکانہ حقوق میں حاکمانہ قدرتوں سے متصف بھی ہے اور اس کی رحمت اور قدرت کسی وقت بھی اس بات کو گوارا نہیں کرتی کہ اس کی ملکیتیں ایک دوسرے کے وقوف سے منکر ہو جائیں کیونکہ ایسا ہونے سے اس کی قدرت پر حرف آتا ہے۔ اس طرح ہر نقطۂ تخلیق پر اللہ تعالیٰ کے دو اوصاف رحمت اور قدرت کا مسلط ہونا لازم ہے چنانچہ یہی دونوں اوصاف افراد کائنات کا باہمی رشتہ ہیں۔
اب یہ حقیقت منکشف ہو جاتی ہے کہ نظام کائنات کے قیام، ترتیب اور تدوین پر اللہ تعالیٰ کے دو اسماء کی حکمرانی ہے۔ ایک اسم اللہ اور دوسرا اسم قدیر۔ تمام اسمائے صفت میں سے ہر اسم ان دونوں اسماء کے ساتھ منسلک ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو افراد کائنات ایک دوسرے سے روشناس نہیں رہ سکتے تھے اور نہ ان سے ایک دوسرے کی خدمت گزاری ممکن تھی۔



========================================================================

ٹیلی پیتھی سیکھیے


آدمی زندگی کے تمام مراحل وقت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں طے کرتا ہے مثلاً ایک سیکنڈ کا کوئی فریکشن ، آدمی کی زندگی خواہ سو برس کی کیوں نہ ہو لیکن وہ ان ہی لمحوں میں تقسیم ہوتی رہتی ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی بسر کرنے کے لئے ذہن میں وقت کے یہ ٹکڑے جوڑتا ہے اور ان ہی ٹکڑوں سے کام لیتا ہے انہی ٹکڑوں کے گرداب میں جن کو ہم سوچنا یا فکر کرنا کہتے ہیں، ہم یا تو ایک ٹکڑے سے آگے دوسرے ٹکڑے پر آ جاتے ہیں یا وقت کے اس ٹکڑے سے پلٹتے ہیں، اس کو اس طرح سمجھنا چاہئے کہ آدمی جب یہ سوچتا ہے کہ میں کھانا کھاؤں گا لیکن اس کے پیٹ میں گرانی ہے اس لئے وہ ارادہ ترک کر دیتا ہے کب تک وہ اس ترک پر قائم رہے گا؟ اس کے بارے میں اسے کچھ نہیں معلوم۔ بیشمار افکار ہی اس کی زندگی کے اجزائے ترکیبی ہیں جو اسے ناکام یا کامیاب بناتے ہیں، ابھی وہ ایک ارادہ کرتا ہے پھر اسے ترک کر دیتا ہے، چاہے منٹوں میں کرتا ہے، چند گھنٹوں میں ترک کرتا ہے یا مہینوں اور سالوں میں ترک کرتا ہے۔
بتانا مقصود یہ ہے کہ ترک آدمی کی زندگی کا جزو اعظم ہے کیونکہ وہ بالطبع آرام طلب واقع ہوا ہے، بہ سی باتیں ہیں جن کو آدمی دشواری، مشکل، بیماری، بیزاری، بے عملی، بے چینی وغیرہ وغیرہ کہتا ہے، ان کیفیات کے بالمقابل ایک ایسی کیفیت ہے جس کا نام وہ سکون رکھتا ہے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ سب کیفیتیں حقیقی ہیں۔ درحقیقت ان میں سے زیادہ تر کیفیات مفروضات پر مبنی ہیں۔ انسان کے دماغ کی ساخت ہی ایسی ہے کہ وہ ہر آسانی کی طرف دوڑتا ہے اور محنت سے جی چراتا ہے، ظاہر ہے یہ وہ سمتیں ہیں اور ان سمتوں میں آدمی ہمیشہ افکار کے ذریعہ سفر کرتا ہے، اس کی حرکت کا منبع ان سمتوں میں سے ایک سمت ہے، ہوتا یہ ہے کہ ابھی ہم نے ایک تدبیر کی پھر اس کی تنظیم کی یہاں تک کہ وہ مکمل ہو گئی اس کی سمت بھی صحیح تھی لیکن صرف دس قدم چلنے کے بعد ہمارے ذہن میں تبدیلی ہو گئی، چنانچہ ہم جس منزل کی طرف رواں دواں تھے وہ غیب میں چلی گئی، ہمارے پاس باقی کیا رہا؟ ٹٹولنا اور ٹٹول کر قدم اٹھانا، واضح رہے کہ یہ تذکرہ یقین اور شک کی درمیانی راہوں کاہے۔



یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ہماری پوری زندگی خیال کے گرد گھومتی ہے اور یہ کہ کائنات اور ہمارے درمیان جو مخفی رشتہ ہے وہ بھی خیال پر قائم ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دماغ میں خیالات کی اس شکست و ریخت کو کم سے کم کیا جائے اور اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ دماغ میں شک اور وسوسوں کو کم سے کم جگہ دی جائے۔ یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ قوتِ ارادی میں کمزوری کی سب سے بڑی وجہ دماغ میں شک کی موجودگی ہے۔ ذہن کو شک سے نجات دلانے کے لیے یہ معلوم ہونا بہت ضروری ہے کہ آخر شک ذہنِ انسانی میں کیوں کر جنم لیتا ہے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وسوسوں اور شک کی بنا وہم اور یقین پر ہے۔ اور اسی کو مذہب میں شک اور ایمان کہا گیا ہے۔ آدمی زندگی کے تمام مراحل وقت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں طے کرتا ہے یعنی ایک سیکنڈ کا کوئی فریکشن  Fraction خواہ اس کی زندگی ۱۰۰ برس کیوں نہ ہو لیکن وہ ان ہی لمحوں میں تقسیم ہوتی رہتی ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی بسرکرنے کے لیے ذہن میں وقت کے یہ چھوٹے چھوٹے  ٹکڑے جوڑتا ہے اور ان ہی ٹکڑوں سے کام لیتا ہے۔ ہم یا تو وقت کے اس ٹکڑے سے آگے  دوسرے مسلسل ٹکڑے پر آجاتے ہیں  یا وقت کے اس ٹکڑے سے پلٹتے ہیں۔ اس کو اس طرح سمجھنا چاہیے کہ آدمی ابھی سوچتا ہے کہ میں کھانا کھاؤں گا لیکن اس کے پیٹ میں گرانی ہے۔  اس لیے وہ یہ ارادہ ترک کردیتا ہے۔ وہ کب تک اس ترک پر قائم رہے گا اس کے بارے میں اسے کچھ معلوم نہیں۔ علی ہذا القیاس اس کی زندگی کے اجزائے ترکیبی  یہی افکار ہیں جو اسے ناکام یا کامیاب بناتے ہیں۔ ابھی وہ ایک ارادہ کرتا ہے پھر اُسے ترک کردیتا ہے۔ چاہے منٹوں میں ترک کرتا ہے، چاہے گھنٹوں میں ، چاہے مہینوں میں، چاہے سالوں میں۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ ’’ترک‘‘  آدمی کی زندگی کا جزوِ اعظم ہے۔
بہت سی باتیں ہیں جن کو وہ دشواری، مشکل ، پریشانی، بیماری، بے زاری، بے عملی، بے چینی وغیرہ وغیرہ کہتا ہے۔ اب دوسری طرف وہ ایک چیز کا نام رکھتا ہے سکون۔ یہی وہ سکون ہے جس میں ہر قسم کی آسانیاں تلاش کرتا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ سب حقیقی ہیں بلکہ ان میں زیادہ تر مفروضات ہیں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو انسان کو آسان معلوم ہوتی ہیں اور یہی رجحان ہے جو آسانیوں کی طرف مائل کرتا ہے۔ دراصل  انسان کے دماغ کی ساخت ہی ایسی ہے کہ وہ آسانیوں کی طرف دوڑتا ہے اور ہر مشکل سے بھاگتا ہے ظاہر ہے کہ یہ دوسمتیں ہیں اور  ان سمتوں میں آدمی افکار کے ذریعے سفر کرتا ہے۔ اس کی ہر حرکت کا منبع ان دو سمتوں میں سے ایک سمت ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ ابھی ہم نے ایک تدبیر کی۔ اس وقت جب ہم اس تدبیر کی تنظیم کررہے تھے وہ ہر طرح مکمل تھی اور اس کی سمت بھی صحیح تھی لیکن صرف چند قدم  چلنے کے  بعد ہمارے ذہن میں تبدیلی  ہوئی۔ تدیلی ہوتے ہی اُفکار کا رُخ بدل گیا۔ نتیجہ میں سمت بھی تبدیل ہوگئی۔ اب ہم جس منزل کی طرف رواں دواں تھے وہ منزل غیب میں چلی گئی  اور ہمارے پاس باقی کیا رہا۔۔۔۔؟ ٹٹولنا اور ٹٹول کر قدم اُٹھانا۔  یہی وجہ ہے کہ ایک کروڑ آدمیوں  میں صرف ایک آدمی ایک قدم اُٹھاتا ہے جو صحیح سمت میں اُٹھتا ہے اور پیچھے نہیں ہٹتا۔ واضح رہے کہ یہ تذکرہ یقین اور شک کی درمیانی راہوں کا ہے۔ اب رہی اکثریت  کی بات، تو اس کے دماغ کا محور وہم اور شک پر ہے ۔ یہی وہ وہم اور شک ہے جو  اس کے دماغ کے خلیوں میں ہمہ وقت عمل کرتا رہتا ہے۔ جس قدر اس شک کی زیادتی ہوگی اسی قدر دماغی خلیوں (Cells) میں ٹوٹ پھوٹ واقع ہوگی۔  یہاں یہ بتانا  بہت ضروری ہے کہ یہی وہ دماغی خلیے ہیں جن کے زیرِ اثر تمام اعصاب کام کرتے ہیں اور  اعصاب کی تحریکات  ہی زندگی ہیں۔ کسی چیز پر انسان کا یقین کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ فریب کو جھٹلانا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ انسان جو کچھ ہے خود کو اس کے خلاف پیش کرتا ہے وہ ہمیشہ اپنی کمزوریوں کو چھپاتا ہے اور ان کی جگہ مفروضہ خوبیاں بیان کرتا ہے جو اس کے اندر موجود نہیں ہیں۔
آدمی جس معاشرے میں تربیت پاکر جوان ہوتا ہے وہ معاشرہ اس کا عقیدہ بن جاتا ہے۔ اس کا ذہن اس قابل نہیں رہتا کہ اس عقیدے کا تجزیہ کرسکے۔ چنانچہ وہ عقیدہ یقین کا مقام حاصل کرلیتا ہے حالانکہ وہ محض فریب ہے۔ اس کی بڑی وجہ ہم بتاچکے ہیں کہ آدمی جو کچھ خود کو ظاہر کرتا ہے حقیقتاً وہ ایسا نہیں ہے بلکہ اس کے بالکل برعکس ہے۔
اس قسم کی زندگی گزارنے میں اُسے بہت سی مشکلیں پیش آتی ہیں، ایسی مشکلات جن کا حل اس کے پاس نہیں ہے۔ اب قدم قدم پر اُسے خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کا عمل تلف ہوجائے گا اور بے نتیجہ ثابت ہوگا۔ بعض اوقات یہ شک یہاں تک بڑھ جاتا ہے کہ آدمی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کی زندگی تلف ہورہی ہے اور اگر تلف نہیں ہورہی ہے تو سخت خطرے میں ہے اور یہ سب کچھ ان دماغی خلیوں کی وجہ سے جن میں تیزی سے ٹوٹ پھوٹ واقع ہورہی ہے۔
جب آدمی کی زندگی وہ نہیں ہے جسے وہ گزاررہا ہے، جسے وہ پیش کررہا ہے، جس پر اس کا عمل ہے اور وہ اس عمل سے وہ نتائج برآمد کرنا چاہتا ہے جو اس کے حسب خواہ ہوں لیکن دماغی خلیوں کی تیزی سے ٹوٹ پھوٹ اور ردّوبدل قدم قدم پر اس کے عملی راستوں کو بدلتی رہتی ہے اور وہ یا تو بے نتیجہ ثابت ہوتے ہیں یا ان سے نقصان پہنچتا ہے۔ یا ایسا شک پیدا ہوتا ہے جو قدم اُٹھانے میں رُکاوٹ بنتا ہے۔
آدمی کے دماغ کی ساخت دراصل اس کے اختیار میں ہے۔ ساخت سے مراد دماغی خلیوں میں تیزی سے ٹوٹ پھوٹ ، اعتدال میں ٹوٹ پھوٹ یا کم ٹوٹ پھوٹ ہونا ہے۔ یہ محض اتفاقیہ امر ہے کہ دماغی خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ کم سے کم ہو۔ جس کی وجہ سے وہ شک سے محفوظ رہتا ہے۔  لیکن جس قدر شک اور بے یقینی دماغ میں کم ہو گی اسی مناسبت سے آدمی کی زندگی کامیاب گزرے گی اور جس مناسبت سے بے یقینی اور شک زیادہ ہوگا، زندگی ناکامیوں میں بسر ہوگی۔
آدمی کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے عطا کیے ہوئے علوم کو خود ساختہ اور غلط بنیادوں پر پرکھا اور ان سے انکاری ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہم علم کی بنیاد روشنی کو قرار دیا ہے۔ یہ بات قرآن پاک کی آیتوں میں تفکر کرنے سے سمجھ میں آتی ہے وہم پچھلے صفحات میں یہ بتاچکے ہیں کہ خیالات روشنی کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں ۔ آدمی کو چاہیے  یہ تھا کہ وہ زیاہ سے زیادہ روشنیوں کی قسمیں  اور روشنیوں کا طرزِ عمل معلوم کرتا  لیکن اس نے کبھی اس طرف توجہ نہیں کی اور یہ چیز ہمیشہ پردے میں رہی۔ آدمی نے اس پردے میں جھانکنے کی کوشش اس لیے نہیں کی کہ یا تو اس کے سامنے روشنیوں کا کوئی پردہ موجود ہی نہیں تھا یا اس نے روشنیوں کے پردے کی طرف کبھی توجہ  ہی نہیں کی۔ وہ یہ قاعدے معلوم کرنے کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوا جو روشنیوں کے غلط ملط سے تعلق رکھتے ہیں۔  اگر آدمی یہ طرزِ عمل اختیار کرتا تو اس کے دماغی خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ  کم سے کم ہوسکتی تھی۔ اس حالت میں وہ زیادہ سے زیادہ یقین کی طرف قدم اُٹھاتا اور شکوک سے اتنا زیادہ پریشان نہ کرتے جتنا کہ اب اسے پریشان کیے ہوئے ہیں۔ اس کی تحریکات میں جو عملی رُکاوٹیں واقع ہوتی ہیں وہ کم سے کم ہوتیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس نے روشنیوں کی قسمیں معلوم نہیں کیں نہ روشنیوں کی طبیعت کا حال معلوم کرنے کی کوشش کی۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتا کہ روشنیاں بھی طبیعت اور ماہیت رکھتی ہیں اور روشنیوں میں رجحانات بھی موجود ہیں۔ اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ روشنیاں ہی اس کی زندگی ہیں اور اس کی حفاظت کرتی ہیں۔ وہ صرف مٹی کے پتلے سے واقف ہیں۔ اس پتلے سے جس کے اندر اس کی اپنی کوئی زندگی  موجود نہیں ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ سڑی ہوئی مٹی سے بنایا گیا ہے اور دوسری جگہ فرمایا گیا ہے کہ وہ بجنی مٹی (خلائ) ہے۔ اس کے انر اپنی ذاتی کوئی حقیقت موجود نہیں ہے۔ حقیقت تو اللہ تعالیٰ نے پھونکی ہے۔
روشنیوں کے عمل سے ناواقفیت اللہ تعالیٰ کے اس بیان سے منحرف کرتی ہے۔ جہاں تک انحراف واقع ہوتا ہے وہاں تک شک اور وہم بڑھتا ہے۔ ایمان اور یقین ٹوٹ جاتے ہیں۔
یاد رکھیے روحانیت اور دیگر تمام مخفی علوم میں بشمول ٹیلی پیتھی  یقین کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کیونکہ ہر ارادے اور ہر عمل کے ساتھ یقین کی روشنیاں بھی کام کرتی ہیں۔ اگر یقین کی ان روشنیوں کو الگ کردیا جائے تو ہر عمل اور ہر حرکت  لایعنی ہوکر رہ جائے گی۔ ہم کہنا یہ چاہتے ہیں کہ جب تک ارادے میں یقین  کی روشنیاں شامل نہ ہوں اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ ماہرینِ روحانیت یقین کی تعریف اس طرح کرتے ہیں۔
’’یقین وہ عقیدہ ہے جس میں شک نہ ہو‘‘۔
ارادہ یا یقین کی کمزوری دراصل شک کی وجہ سے جنم لیتی ہے۔ جب تک خیالات میں تذبذب رہے گا یقین میں کبھی بھی پختگی نہیں آئے گی۔ مظاہر اپنے وجود کے لیے یقین کے پابند ہیںکیونکہ کوئی خیال یقین کی روشنیاں حاصل کرکے ہی مظہر بنتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات نے جو مشقیں  قوتِ ارادی کو تقویت پہنچانے کے لیے مرتب کی ہیں ان سب کا منشاء دراصل یقین کو پختہ کرنا ہوتا ہے۔
ارتکازِ توجہ:
شک اور یقین کا درمیانی فاصلہ سو سال پر مشتمل ہے اور ہر فاصلہ زیادہ سے زیادہ ایک ثانیہ کے برابر ہے۔ اللہ تعالیٰ اس معمہ کو خود حل کردیتا ہے ’’لاریب ہے یہ کتاب اور اس کو ہدایت دیتی ہے جس کا یقین غیب پر ہے‘‘۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے دو باتیں کہی ہیں۔ ’’لاریب‘‘ کہہ کر ریب یعنی شک کی نفی کردی، اب صرف غیب باقی رہ گیا جس کو یقین کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے دماغ میں شک کو جگہ دینے کی اجازت نہیں دیتے۔ صرف یقین کو اس بات کی اجازت ہے کہ آدمی کے ذہن میں داخل ہوجائے۔ اسی کا نام ایمان بالغیب ہے جو ہدایت دیتا ہے۔ ہدایت کا منشاء بہت اہم ہے۔ وہ یہ کہ کوئی چیز کسی آدمی  نے خواہ نہ دیکھی ہو، نہ سمجھی ہو، نہ جانی ، نہ پہچانی ہو مگر اس پر یقین حاصل ہو۔ یہاں ہدایت کی ایک کائنات بن جاتی ہے اور یہ سلسلہ آنکھوں کے سامنے سے آدمی کے چاروں طرف سے اُسے محیط کرلیتا ہے۔
مسلسل ارتکازِ توجہ  اور مشق سے کسی ایک نقطۂ پر خیالات کی روشنیاں اس حد تک مرکوز رہیں کہ شک اور بے یقینی  یقین کی روشنیوں کا درجہ حاصل کرلیں تو خیال اور ارادہ کے تحت اس کا مظہر بننا ضروری ہوجاتا ہے۔ حضرت غوث علی شاہ ؒ کے واقعہ میں ارتکازِ توجہ سے یقین کا عملی مظاہرہ آپ پڑھ چکے ہیں۔ اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے۔

ایک نامی گرامی تاجر کی بیٹی جب پندرہ سولہ کے سن  کو پہنچی  تو اس کے ساتھ جمعرات کی رات کو عجیب واقعہ ہوا۔ وہ سوکر اُٹھی تو اس کے ہاتھ مہندی سے رنگے ہوئے تھے۔ جیسے ہی سورج نصف النہار کو پہنچا اُس پر اچانک بے ہوشی کا دورہ پڑااور اس کے بعد سے ہر جمعرات کو وہ وقتِ مقررہ پر بے ہوش ہونے لگی۔ ڈاکٹروں نے ہسٹریا کا علاج کیا لیکن جب کوئی فائدہ نہیں ہوا تو عامل حضرات کے پا س لے جایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکے کے اوپر جن یا آسیب کا سایہ ہے۔ تعویذ گنڈوں، جھاڑ پھونک اور فلیتے جلانے سے بھی مقصد حاصل نہیں ہوا تو حاذق حکیموں  سے رجوع کیا گیا اور مسلسل چار سال تک علاج ہوتا رہا۔ پھر یہ ہونے لگا کہ جس روز لڑکی پر بے ہوشی کا دورہ پڑتا اس روز  وہ بہت خوش اور آسودہ نظر ٓتی۔ نیند سے بیدار ہوکر غسل کرتی، ریشمی جوڑا زیب تن کرتی، خوب بناؤ سنگھار کرتی، آنکھوں میں کاجل لگاتی اور چہرے پر غازہ ملتی۔ اس کے لباس سے بھینی بھینی خوشبو پھوٹتی رہتی اور حُسن ایسا نکھر آتا جو کسی نئی نویلی دلہن کے چہرے پر حیا اور آسودگی کی نشان دہی کرتا ہے۔ جب کوئی اس اہتمام کا سبب پوچھتا تو حیا کی ایک سرخی اس کے چہرے پر بکھر جاتی اور وہ زیرِ لب  صرف اتنا بتاتی ’’وہ آرہے ہیں‘‘۔  اگر میں ایسا نہ کروں تو وہ ناراض ہوجائیں گے‘‘۔ سنگھار کے بعد وہ اپنے کمرے میں جاتی اور کمرے میں ہر چیز قرینے سے سجاکر بستر پر بیٹھ جاتی جیسے کسی کے انتظار میں ہو۔ ٹھیک سورج کے زوال کے وقت اس پر بے خودی کا دورہ پڑتا جو رات گئے تک جاری رہتا۔ 
ڈاکٹروں اور حکیموں کا ایک بورڈ بیٹھا اور سب نے متفقہ فیصلہ دیا کہ لڑکی کی شادی کردی جائے تو ہسٹریا کے دورے ختم ہوجائیں گے۔ لڑکی کو جب معلوم ہوا تو اس نے شدید مخالفت کی۔ لیکن ماں نے اس کی مخالفت کی پرواہ نہیں کی اور خاندان کے ایک صحت مند نوجوان سے شادی کردی گئی۔ شادی کے دوسرے ہی روز لڑکی نے اپنے شوہر کو سخت سست کہہ کر اپنے کمرے سے باہر نکال دیا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر آئندہ اس کے پاس آنے کی جرات کی تو وہ اس کا ’’راز‘‘ فاش کردے گی اور وہ خاندان میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔ بڑے بوڑھوں نے صلح صفائی کی کوشش کی اور جب مسئلے کا کوئی حل سامنے نہیں آیا تو عزت بچانے کی خاطر عدالت سے رجوع کرنا چاہا لیکن لڑکے نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا اور بیوی کو طلاق دے دی۔ دونوں خاندانوں میں لڑائی جھگڑے کا ایک طوفان کھڑا ہوا جب خاندان کے بڑے بوڑھے اکٹھا ہوئے اور لڑکے کو بلایا گیا تو اس نے کہا ’’سچ بات یہ ہے کہ اس کے سامنے جاتے ہی میری ساری طاقت سلب ہوجاتی ہے‘‘۔ لڑکے  کے بیان کو سب نے غلط جانا اور اس پر لعن طعن کرنے لگے اور بالآخر اس نے دوسرے دن خودکشی کرلی۔
تاجر نے بہت کوشش کی کہ بیٹی کی دوسری شادی ہوجائے مگر جب کسی طرح بھی کامیابی نہیں ہوئی تو دوبارہ علاج کی طرف متوجہ ہوا۔  کسی دوست نے ایک حکیم صاحب کا تذکرہ کیا جو کئی سو میل کے فاصلے پر کسی گاؤں میں مطب کرتے تھے۔ خدا نے ان کے ہاتھ میں اتنی شفا دی تھی کہ دور دراز سے سے لوگ آتے تھے اور شفا یاب ہوکر جاتے تھے۔ وہ کسی سے کوئی معاوضہ بھی نہیں لیتے تھے۔
پروگرام یہ بنا کہ جمعہ کے دن مریضہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوں اور چار روز کے اندر مذکورہ گاؤں پہنچ جائیں تاکہ جمعرات کو بے ہوشی کا دورہ حکیم صاحب خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ اس طرح مرض کی تشخیص آسانی سے ہوگی۔
گاؤں پہنچے تو حکیم صاحب کے مطب کے سامنے مریضوں کا ہجوم تھا دریافت کرنے پر معلوم ہوا آج اور کل حکیم صاحب کمرے میں بند ہوکر عبادت کرتے ہیں اور وہ پرسوں جمعہ کے روز ملاقات کریں گے دوسرے دن لڑکی کے اوپر معمول کے مطابق دورہ پڑا اور رات گئے حالت سنبھلی۔
تاجر کو لوگوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حکیم صاحب نے ادھیر عمر ہونے کے باوجود شادی نہیں کی ہے۔ جب کوئی اُن سے شادی کا تذکرہ کرتا ہے تو وہ عموماً ٹال جاتے ہیں۔ جب زیادہ اصرار ہوتا ہے تو کہتے ہیں میری شادی ہوچکی ہے اور کمرہ میں لٹکائے ہوئے ایک فوٹو کی جانب اشارہ کرکے کہتے ہیں یہ تصویر جو آپ دیکھ رہے ہیں میری بیوی کی تصویر ہے۔ لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ بُدھ اور جمعرات کو حکیم صاحب اپنے دوسرے کمرے میں اندر سے دروازہ بند کرکے عبادت کرتے ہیں اور ان دو دنوں میں وہ کسی سے ملاقات نہیں کرتے۔ یہ بات اب ان کا معمول بن گئی ہے۔
قصہ کوتاہ، تیسرے دن جمعہ کو تاجر صبح سویرے ہی قطار میں جا بیٹھا تاکہ جلدی سے جلدی باری آجائے۔ گھڑی نے آٹھ بجائے، پھر نو بجے لیکن دروازہ نہ کھلا۔ اب لوگوں نے دروازہ پیٹنا شروع کردیا۔ لیکن کمرے کے اندر سے کوئی آواز سنائی نہیں دی۔ اس طرح انتظار کرتے کرتے شام ہوگئی۔ لیکن دروازہ نہ کھلنا تھا ، نہ کھلا۔ یہ دیکھ کر حکیم صاحب کے گاؤں کے معزز لوگ جمع ہوگئے۔ ہر شخص پریشان تھا کیونکہ آٹھ سال میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ حکیم صاحب جمعہ کے دن بھی کمرہ بند کرکے عبادت کریں۔ جمعہ کے روز تو وہ نمازِ جمعہ باجماعت ادا کرنے کا خاص اہتمام کرتے تھے۔ جب شام تک دروازہ نہ کھلا تو گاؤں والوں کو یقین ہوگیا کہ حکیم صاحب کمرے میں کسی حادثہ کا شکار ہوگئے ہیں۔ آخر دروازہ توڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پھر یہ خیال کرکے کہ شاید وہ عبادت میں مصروف ہوں ایک دن مزید انتظار کیا گیا۔ لوگ ہفتہ کے دن تالا توڑ کر اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ کمرہ خالی ہے اور کمرے کا عقبی دروازہ کھلا ہوا ہے۔ کمرے کا سامان جوں کا توں موجود  تھا۔ البتہ ان کی بیگم کی تصویر نیچے چاندنی کے فرش پر پڑی تھی ۔ جب اسے اُٹھایا گیا تو نیچے سے ایک لفافہ نکلا جس پر تحریر تھا کہ اس لفافہ کو ان صاحب کے سپرد کردیا جائے جو صوبۂ بہار سے اپنی لڑکی ساتھ لائے ہیں۔ تاجر نے جب یہ لفافہ چاک کیا تو اندر سے ایک خط برآمد ہوا جس پر لکھا ہوا تھا ’’میں نے آپ کی لڑکی کو جمعہ کے دن طلاق دے دی ہے۔ اب وہ کبھی بے ہوش نہیں ہوگی۔ بہتر ہے آپ آج ہی پٹنہ لوٹ جائیں۔ یہاں کے قیام میں آپ کو پریشانی ہوگی۔ جاتے وقت اپنی صاحب زادی کی تصویر بھی لیتے جائیں‘‘۔ تصویر دیکھی تو انہیں سخت حیرت ہوئی۔ یہ ان کی لڑکی کی تصویر تھی۔ گاؤں والے بھی حیران تھے کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ ہر شخص ایک دوسرے سے سوال کرتا مگر جواب کسی کے پاس نہ تھا۔ تاجر اپنی بیٹی کی تصویر اور بیٹی کو لے کر گھر لوٹ گئے۔ اس کے بعد ان کی بیٹی پر کبھی بے ہوشی کا دورہ نہیں پڑا۔

پہلا سبق
حضرت غوث علی شاہ ؒ اور بزرگوں سے سنے ہوئے واقعات پر تفکر کرنے سے ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ خیالات منتقل کرنے کے لیے، مسلسل کسی ایک نقطہ پر توجہ کا مرکوز ہونا ضروری ہے۔ لیکن اگر ذہنی یکسوئی  حاصل نہ ہو تو توجہ کسی ایک نقطہ پر قائم نہیں رہتی۔ ٹیلی پیتھی سیکھنے کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہمارا ذہن ہزاروں لاکھوں خیالات سے نجات حاصل کرکے صرف ایک خیال کو اپنا ہدف بنالے اور یک سو ہوجائے۔ یک سوئی حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل عمل تلقین کیا جاتا ہے۔
صبح سورج سے نکلنے سے قبل اور رات کو سوتے وقت آلتی پالتی  مار کر شمال رُخ منہ کرکے بیٹھ جائیں۔۔۔۔
-1 داہنے ہاتھ کے انگوٹھے سے دائیں نتھنے کو اوپر کی طرف سے بند کرلیں ۔
-2 بائیں نتھنے سے پانچ سیکنڈ تک سانس اندر کھینچیں۔
-3 داہنے نتھنے پر سے انگوٹھا ہٹالیں اور داہنی چھنگلی سے بائیں طرف کے نتھنے کو بند کرلیں۔
-4 پانچ سیکنڈ تک سانس کو روک لیں۔
-5 داہنے نتھنے سے سانس کو پانچ سیکنڈ تک باہر نکالیں۔
-6 دوبارہ داہنے ہی نتھنے سے سانس پانچ سیکنڈ تک اندر کھینچیں۔
-7 اب چھنگلیاں  ہٹا کر دوبارہ  داہنے انگوٹھے سے داہنا نتھنا حسبِ سابق بند کرلیں اور سانس کو پانچ سیکنڈ تک روکے رکھیں۔ پھر بائیں نتھنے سے سانس کو آہستہ آہستہ نکالیں۔
یہ ایک چکر ہوا۔ اسی طرح سے پانچ مرتبہ اس عمل کو دہرائیں۔ سانس کی مشق کرنے سے پہلے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیں۔ جسم میں کسی قسم کا تناؤ نہیں ہونا چاہیے۔ ریڑھ کی ہڈی اور گردن کو ایک سیدھ میں رکھیں۔ سانس کا عمل کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ پیٹ خالی ہو۔ جس جگہ مشق کی جائے ہواں تازہ ہواگزرتی رہے تاکہ پھیپھڑے  کافی مقدار میں آکسیجن جذب کرسکیں۔ سردی کے زمانے میں عملِ تنفس کے دوران کمرے کے دروازے اور کھڑکیاں کھلی رکھیں۔ میٹھی اور کھٹی چیزیں کم سے کم استعمال کریں۔ ایک ڈائری میں روزانہ پیش آنے والے واقعات لکھتے رہیں۔
ٹیلی پیتھی کا طالبِ علم اگر ہر وقت باوضو رہے  اور اپنا زیادہ تر وقت تاریکی میں گزارے تو اثرات بہت جلد مرتب ہوتے ہیں۔
رات کا کھانا مغرب کے وقت آدھا پیٹ کھائیں۔ کھانے کے کم سے کم ڈھائی گھنٹے بعد (زیادہ وقفہ گزر جائے تو اور اچھا ہے) سونے سے پہلے پانچ مرتبہ مندرجہ بالا یک سوئی حاصل کرنے والا عمل کریں، پھر آنکھیں بندکرلیں اور یہ تصور کریں کہ نور کا ایک  دریا ہے۔ صاحبِ مشق اور ساری دنیا اس نور میں ڈوبی ہوئی ہے۔ یہ تصور اندازہ سے آدھے گھنٹے تک قائم کریں۔ اگر اِدھر اُدھر کے خیالات آئیں  تو اس کی پرواہ نہ کریں اور نہ ہی رد کرنے کی کوشش کریں۔ خیالات آتے رہیں گے اور از خود گزرتے رہیں گے۔ آپ اپنا عمل جاری رکھیں۔ اس مراقبے کے بعد کوئی دوسرا دنیاوی  کام نہ کریں اور اسی تصور میں سوجائیں۔


========================================================================

========================================================================
یہ اس ماہ کے ڈائجسٹ کے محض چند تعارفی صفحات ہیں۔
کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت اس ڈائجسٹ کے مضامین  بلا اجازت شائع نہیں کیے جاسکتے۔
 مضمون کا کوئی حصہ کسی کتاب میں شامل یا انٹر نیٹ پر شئیر کرتے ہوئے روحانی ڈائجسٹ کا حوالہ ضرور تحریر کریں۔  
========================================================================

Like us On Facebook

Powr